خوبصورتی کے لیے سرجری کروانا کیسا
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 46
    حوالہ: 641

    سوال

    میں پیشے کے اعتبار سے ڈیجیٹل مارکیٹر ہوں اور مختلف کمپنیوں کے لیے فیس بک پر اشتہارات چلاتا ہوں۔ حال ہی میں میری ملازمت ایک ایسی ایجنسی میں ہوئی ہے جو MedSpa کے شعبے سے متعلق ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، MedSpa میں مختلف اقسام کے جلد اور خوبصورتی سے متعلق علاج شامل ہوتے ہیں، جیسے:

    HydraFacial)چہرے کی صفائی اور جلد کو ہائیڈریٹ کرنا)

    Lip Fillers )ہونٹوں کو موٹا اور نمایاں بنانا)

    Botox )چہرے کی جھریاں کم کرنے کے لیے)

    Mono Threads )چہرے یا جلد کو سخت کرنے والے دھاگے)

    Anti-Aging Treatments )عمر رسیدگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقے)

    ابھی تک مجھے نہیں معلوم کہ مستقبل میں مجھے کس کس علاج کی مارکیٹنگ کرنی ہوگی۔ البتہ اس وقت تک جو کام مجھے دیا گیا ہے، وہ ایک lip treatment کا اشتہار تیار کرنا ہے، جس میں کسی قسم کا filler استعمال نہیں ہوتا بلکہ ایک خاص قسم کا gel لگایا جاتا ہے، جس سے ہونٹ قدرتی طور پر collagen پیدا کرتے ہیں اور وہ حجم اور ساخت میں وقتی بہتری لاتے ہیں۔

    میری گزارش ہے:

    1. کیا شریعت کی روشنی میں ایسے MedSpa علاج کے اشتہارات بنانا اور پروموٹ کرنا جائز ہے، خاص طور پر جب بعض علاج محض خوبصورتی اور جسمانی ساخت میں تبدیلی کے لیے ہوتے ہیں؟

    2. اگر میں ان خدمات پر بھی کام کروں جو جائز ہیں اور ان پر بھی جو ناجائز یا مشتبہ ہوں، تو کیا میری پوری آمدنی مشتبہ یا ناجائز شمار ہوگی؟ یا صرف ناجائز حصے کا حکم ہوگا؟

    3. اگر کمپنی مجھے کسی ایسے علاج پر کام کرنے کا کہے جس کے بارے میں شریعت میں اختلاف پایا جاتا ہو یا واضح حکم معلوم نہ ہو، تو کیا ایسے معاملے میں کام کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی درست ہوگی؟

    4. موجودہ lip treatment (جس میں filler نہیں بلکہ collagen boosting gel استعمال ہوتا ہے)، کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اور یہ چھ ماہ یا ایک سال کی میعاد کے لیے ہوتا ہے مستقل طور پر یہ ٹریٹمنٹ نہیں ہوتا۔

    5. ان میں سے کچھ طریقے جیسے ہائیڈرا فیشل عام اور غیر مضر معلوم ہوتے ہیں جبکہ بعض جیسے فلرز، بوٹوکس جسم کی ساخت بدلنے جیسے معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ کیا ان سب کا شرعی حکم ایک جیسا ہے؟

    براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اپنے روزگار کے بارے میں واضح اطمینان حاصل کر سکوں اور شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام جاری رکھ سکوں۔؟ سائلہ:ٖفیاض بیگم /برطانیہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    درج بالا صورتوں میں وہ امور جن کی شرعاً اجازت و رخصت ہے ان امور کی تشہیر کرنا جائز ہے اور جن کاموں کی اجازت نہیں ان کی تشہیر بھی جائز نہیں ۔ آپ صرف حلال امور کی تشہیر کے لیے اپنی خدمات دے سکتے ہیں ،اس کی اجرت آپ کے لیے حلال ہو گی ۔اور اگراس ملازمت میں آپ کو حلال و حرام دونوں طرح کے کام کرنے پڑیں گے تو پھر آپ کے لیے یہ نوکری ناجائز و حرام ہے ۔اور حرام چیز کی تشہیر سے ابھی تک جتنی کمائی حاصل ہوئی اسے بلا نیتِ ثواب تصدق کر دیں!!

    اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدونہ دو۔ (المائدہ:2)

    امام ابو بكر احمد الجصاص علیہ الرحمہ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : نهي عَنْ مَعَاوَلَةِ غَيْرِنَا عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ تعالی، ترجمہ: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں دوسروں کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 381 دار الكتب العلمية بيروت)

    بدائع الصنائع میں ہے : وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ مَقْدُورَ الِاسْتِيفَاءِ حَقِيقَةً وَشَرْعًا ترجمہ : معقود علیہ کی شرائط میں سے ہے کہ وہ حقیقی و شرعی لحاظ سے مقدور الاستيقاء ہو۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد 4 صفحه 187 دار الكتب العلمية)

    محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: الاجارہ علی ما ھو طاعۃ او معصیۃ، لا تجوز‘‘ ترجمہ: طاعت یا گناہ کے کام کی نوکری جائز نہیں۔(فتح القدیر، فصل فی البیع، جلد 10، صفحہ 60، مطبوعہ کوئٹہ)

    اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے، ۔۔۔ ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مالِ حلال سے دی جائے۔(فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    سوال میں مذکورہ صورتوں کا حکم شرعی :

    سوال نامہ میں مذکورہ تمام شقوں کا تعلق تزئین و آرائش سے ہے۔اس آرائش و زیبائش کے لیے ادویات کا بھیاستعمال کی جاتی ہیں اور عملِ جراحت کا بھی سہارا لیا جاتا ہے ،اور کبھی کبھار کوئی دوا لگا کر مقصود حاصل کیا جاتا ہے جیسے کریم یا جل وغیرہا ۔

    ذیل میں ان تینوں کا حکم بیان کیا جارہا ہے :

    1:۔اگر ادویات کے ذریعے جسم کوخوبصورت بنایا جائے جیسا کہ رنگ گورا کرنے کے لیے گولیوں کا استعمال کرنا وغیرہا تو اگر صحت پر اس کے مضر اثرات نہ پڑیں تو شرعاً حرج نہیں ، اس لیے کہ اس پر نہ تغییر لخلق اللہ کا اطلاق ہوتا ہے نہ ہی اس میں کسی کو دھوکہ دینا ہے جیسا کہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں،دوا کھانے سے سپید (سفید) بال سیاہ نہ ہو جائیں گے،بلکہ قوت وہ پیدا ہوگی کہ آئندہ سیاہ نکلیں گے،تو کوئی دھوکہ نہ دیا گیا نہ خلق اللہ کی تبدیل کی گئی۔(ملفوظات اعلی حضرت،حصہ دوم،ص:311،مکتبۃ المدینۃ کراچ)

    2:۔ اگر یہ خوبصورتی عملِ جراحت( Surgery) کے ذریعے ہو تو جائز نہیں اس لیے کہ اس میں تغییر لخلق اللہ ہے ۔

    ارشادِ باری تعالی ہے:فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا ، لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ.ترجمہ:(یہ)اللہ کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) ، جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا ، اللہ کے بنائے ہوئے میں تبدیلی نہ کرنا۔( الروم:30)

    2:۔اللہ جل شانہ نے شیطان مردود کا مقولہ ذکر فرمایا: وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا۔ترجمہ: اور میں انہیں ضرور حکم دوں گا تو یہ ضرور جانوروں کے کان چیریں گے اور میں انہیں ضرور حکم دوں گا تویہ اللہ کی تخلیق کو بدل دیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے تووہ کھلے نقصان میں جاپڑا۔(النساء:119)

    چہرے کو خوبصورت بنانے کے کئی طریقے زمانہ قدیم سے رائج تھے جیسے چہرے کو مختلف جگہوں سے گدوانا ،عورتو ں کا دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا جس سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ کم عمر نظر آئیں ، اسی طرح ابرو ،باریک کر ناوغیرہا ،یہ تمام کام ایسے ہیں کہ جن کے کرنے ،کروانے والیوں پر حدیث پاک میں لعنت فرمائی گئی ہے ۔اور ان چیزوں کو تغییر لخلق اللہ میں شمار کیا گیا:

    عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال: لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات والناصمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ مروی ہے فرمایا: اللہ تعالٰی ان عورتوں پر لعنت کرے جو ''خال'' گود نے والی اور خال گدوانے والی ہیں، چہرہ کے بال نوچنے اور نچوانے والی ہیں۔ اور خوبصورتی کے پیش نظر دانتوں کے درمیان کشادگی بنانے والی ہیں۔ اللہ تعالٰی کی تخلیق میں تبدیل کرنے والی ہیں۔

    حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے :"عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی» مَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، وَھُوَ فِي كِتَابِ اللَّہِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ}".ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر ، اورپیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی عورتوں پر ،اور دانتوں کے درمیان خوبصورتی کےلیے فاصلہ کروانے والی عورتوں پر جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی ہیں ۔اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کیوں نہ میں لعنت کروں اس شخص پر جس پر اللہ کے نبی نے لعنت فرمائی،اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے ’’ اور جو تمہیں رسول عطا کریں پس اس کو لے لو ‘‘۔ (صحیح البخاری ،رقم :5931،دارطوق النجاۃ )

    حدیث ابن عباس:"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لُعِنَتِ الْوَاصِلَۃُ، وَالْمُسْتَوْصِلَۃُ، وَالنَّامِصَۃُ، وَالْمُتَنَمِّصَۃُ، وَالْوَاشِمَۃُ، وَالْمُسْتَوْشِمَۃُ، مِنْ غَيْرِ دَاءٍ".ترجمہ:ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا: بالوں میں دوسرے بال ملانے والی اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی عورت پت ،اور ابروؤں کو باریک کر نے والی اور کروانے والی عورت ، اور جسم کو گودنے والی اور گدوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے ( جب یہ افعال) بیماری کے علاوہ کیے جائیں ۔ (سنن ابی داود، رقم :4170،المکتبۃ العصریۃ،بیروت)


    اسی منشاء و مقتضائے شرعیت کو دیکھتے ہوئے فقہائے اسلا م نے جسم میں ہر ایسی تراش خراش جو بر بنائے خوبصورتی ہو اس سے منع فرمایا کہ بلا ضرورت یہ تغییر لخلق اللہ میں آتا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔

    3:۔اگر یہ تغییر و تبدیلی دوا کھا کر نہ ہو نہ ہی سرجری کے ذریعے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ : . lip treatmentجس میں filler نہیں بلکہ collagen boosting gel استعمال ہوتا ہے ، کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اور یہ چھ ماہ یا ایک سال کی میعاد کے لیے ہوتا ہے مستقل طور پر یہ ٹریٹمنٹ نہیں ہوتا۔

    تو اس کے حکم کے حوالے سے تفصیل ہے:

    وہ جگہیں جن کی حرمت پر نص آ چکی جیسے ابرو بنانا ،دانت کشادہ کرنا،جسم گودوانا وغیرہا یہ کام کسی بھی طریقے سے کیے جائیں ناجائز ہی ہوں گے مثلاً ابرو کے ارد گرد کے بالوں کو خواہ دھاگے سے ہٹائیں یا ٹیوزر اور لیزر مشین،کریم وغیرہا کے ذریعے،اسی طرح دانتوں میں کشادگی بریسز کے ذریعے ہو یا سرجری کے ذریعے بہر طور ناجائز ہے

    وہ مقام جہاں تغییر پر نص موجود ہے جیسے ناخن تراشنا،ختنہ کروانا، موئے زیر ِ ناف کا کٹوانا، ،عورت کا کان چھدوانا،چور کا ہاتھ کاٹنا ،شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا ،ان پر کلام نہیں بلکہ ملاحظہ فرمایا جا سکتا ہے کہ ان میں بعض تغییر مستحب ،سنت ،بعض مباح،اور بعض تو فرض کے درجے کو پہنچی ہوئی ہیں۔

    صحیح بخاری میں ہے:"عن ابن عباس، رضي اللہ عنهما أن النبي صلى اللہ عليه وسلم صلی يوم العيد ركعتين، لم يصل قبلها ولا بعدها، ثم أتى النساء ومعه بلال، فأمرهن بالصدقة، فجعلت المرأة تلقي قرطها".ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عید کے روز دو رکعتیں پڑھیں،اس سے پہلے یا بعد کبھی نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائےاور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، آپ نے ان عورتوں کو صدقہ کرنے کاحکم دیا،تو عورت اپنے کان سے بالیاں نکال کر (حضرت بلال کے کپڑے)میں ڈالتی تھی۔(صحيح البخاري،کتاب اللباس،باب القرط للنساء،ج07،ص158،مطبوعہ دارطوق النجاۃ)

    مذکورہ بالا حدیث کے تحت فتح الباری میں ہے:"واستدل به على جواز ثقب أذن المرأة لتجعل فيها القرط وغيره مما يجوز لهن التزين به".ترجمہ:اوراس روایت سے عورت کے کان میں سوراخ نکالنے کے جواز پر استدلال کیا گیا ہےتاکہ وہ ان میں بالیاں اور اس کے علاوہ وہ چیزیں ڈال سکے جو ان کے لیے بطورِ زینت جائز ہے۔ (فتح الباري لابن حجر،ج10،ص221، مطبوعہ دارالمعرفہ ،بیروت)

    فتاوی خانیہ میں ہے:"و لا بأس بثقب أذن الطفل لأنهم كانوا يفعلون ذلك في الجاهلية و لم ينكر عليهم رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم".ترجمہ:بچی کے کان میں سوراخ نکالنے میں کوئی حرج نہیں ،کیونکہ لوگ زمانہ جاہلیت میں یہ عمل کرتے تھے اورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع نہ فرمایا۔(فتاوی قاضی خان،ج03،ص251،مطبوعہ بیروت)

    وہ مقام جہاں تغییر کے جواز و عدم جواز پر نص موجود نہیں جیسے عورت کا پنڈلیوں کے بال ہٹانا، ناک چھدوانا ، تووہاں پر عورت کے لیے زینت کی خاطر ایسا کرناجائز ہے ۔

    ردالمحتار میں ہے:"لا بأس بثقب أذن الطفل من البنات وزاد في الحاوي القدسي: ولا يجوز ثقب آذان البنين ……. قلت: إن كان مما يتزين النساء به كما هو في بعض البلاد فهو فيها كثقب القرط وقد نص الشافعية على جوازه".ترجمہ:بچیوں کے کان میں سوراخ کرنے میں حرج نہیں اورحاوی قدسی میں یہ زیادہ کیاکہ لڑکوں کے کانوں میں سوراخ نکالناجائز نہیں۔ میں (علامہ شامی علیہ الرحمۃ) کہتاہوں:اگر ناک میں سوراخ نکالنا عورتیں بطورِ زینت کرتی ہیں جیساکہ بعض شہروں میں رائج ہے،تو وہ کان میں سوراخ نکالنے کی طرح جائز ہے اوراس کے جائز ہونے پر شوافع نے صراحت بیان فرمائی ہے۔(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،ج06،ص420،مطبوعہ دارالفکر،بیروت)

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:”اقول: و لا شک ان ثقب الاذن کان شائعا فی زمن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وقد اطلع صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ولم ینکرہ ثم لم یکن الا ایلاما للزینۃ فکذا ھذا بحکم المساواۃ فثبت جوازہ بدلالۃ النص المشترک فی العلم بھا المجتھدون وغیرھم کما تقرر فی مقررہ“ ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ کان چھیدنا، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں متعارف اور مشہور تھا اور حضور پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس پر اطلاع پائی، مگر ممانعت نہیں فرمائی، پھر یہ (کان چھیدنے کی ) تکلیف پہنچانا، صرف زیب وزینت کے لیے ہو گا اور اسی طرح یہ (ناک چھیدنا)بھی ہے کہ دونوں کا حکم مساوی ہو گا۔ پس اس کا جائز ہونا، دلالتِ نص کی بنیاد پر ثابت ہو گیا، اس علم سے جس میں مجتہد وغیر مجتہد مشترک ہیں، جیسا کہ یہ بات اپنے محل میں ثابت ہو چکی ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد 23،صفحہ 482، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    آخر الذکرصورت میں جواز کی توجیہ :

    حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو تعلیل لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی ہوئی ،فقہائے کرام نےاس علت کا علی الاطلاق تعدیہ نہیں فرمایا ،کیوں کہ مقیس کا حکم خلافِ قیاس ہے،خلاف ِقیاس یوں کہ عورت میں زیب و زینت مقصود ہے ۔نیز مقیس میں موجود علت ،علت ِ قیاسی بھی نہیں کہ اس کو ہر جگہ متعدی کیا جا سکے ۔رہے وہ بعض مقامات جہاں پر فقہائے کرام نے ممانعت کی علت تغییر بیان کی تو وہ دلالۃ النص کے طورپر ہے قیاس کے طور پر نہیں ۔

    خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "مَا وَرَدَ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ يُقْتَصَرُ فِيهِ عَلَى الْوَارِدِ".ترجمہ: جو خلافِ قیاس ثابت ہو اسے اپنے مورد پر ہی روکا جائے گا۔(رد المحتار، باب الانجاس، فصل فی الاستنجاء، 1/336، دار الفکر)

    اسی طرح امام عبد العلی محمد بن نظام الدین سہالوی لکھنوی (المتوفی: 1225ھ) فرماتے ہیں: "فصل: في شرائط القياس... وكذا الإخراج عن قاعدة عامة ... ومنه ترخص المسافر، فإن العلة المرخصة الشقة، و لم تعتبر في غيره و إن كان فوقه في المشقة كالأعمال الشاقة، فإذا لم تعتبر في غيره كان الحكم مختصاً به".ترجمہ: فصل قیاس کے شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی قاعدہ عامہ سے کسی چیز کو خارج کرنا۔ مثال کے طور پر، مسافر کے لیے رخصت کا مسئلہ: یہاں رخصت کی علت’’سفر کی مشقت‘‘ ہے۔ لیکن یہ علت دیگر مشقت والے امور میں معتبر نہیں کی گئی، چاہے وہ سفر سے زیادہ مشقت والے ہوں، جیسے مشقت والے کام۔چونکہ یہ علت دیگر حالات میں معتبر نہیں ، اس لیے یہ حکم صرف سفر کے ساتھ خاص ہے اور اس سے قیاس کے ذریعے دیگر مشقت والے امور پر حکم کو نہیں بڑھایا جا سکتا۔ (فواتح الرحموت، الاصل الرابع القیاس،2/302، ط: دار الکتب العلمیۃ)

    درج بالا حکم سے مستثنیٰ صورتیں :

    ایسا تغیر و تبدل جو ضرورت و حاجت کے پیشِ نظر ہو جیسے کسی عضو کا خراب ہوجانا ،تکلیف دہ ہونا ،عیب ذدہ ہونا ،تو اس کی اصلاح و درستی کے لیے،دوا کھانا ،دوا لگانا، سرجری کروانا،سب جائز ہے۔ اس لیے کہ عبد اللہ ابن مسعود کی حدیث میں وجہ ممانعت للحسن اور ابن عباس کی روایت میں من غیر داء سے معلوم ہوتا ہےکہ اگر ایسا کرنا حسن کے علاوہ کسی اور غرض سے ہو جیسے بیماری یا دفع ِ عیب وغیرہ تو جائز ہے۔

    علامہ بدرالدین عینی علیئہ الرحمہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تحت لکھتےہیں:’’اللام فیہ للتعلیل احترازاعمالوکان للمعالجۃ ومثلھا ‘‘ ترجمہ:(حدیث مبارک میں) ”للحسن“ پر آنے والا ”لام“ تعلیل کا ہے اور اِس مسئلہ سے احتراز کرنے کے لیے ہے کہ اگر دانت گھسوانا، علاج وغیرہ کے لیے ہو، تو جائز ہے۔(عمدۃ القاری، جلد 22، صفحہ 63، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)

    عالَمگیری میں ہے:’’لا بأس ‌بقطع ‌العضو إن وقعت فيه الآكلة لئلا تسري كذا في السراجيةولا بأس بقطع اليد من الآكلة وشق البطن لما فيه‘‘ ترجمہ:اگر کسی عضو میں آکلہ ظاہر ہو جائے، تو اُس عضو کو کاٹنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، تا کہ وہ مرض دیگر اعضا میں سرایت نہ کرے،جیسا کہ ”السراجیۃ“ میں ہے۔ آکلہ کے سبب ہاتھ کاٹنے یا پیٹ میں کسی چیز کے سبب پیٹ چیرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔(الفتاوى الھندیۃ، جلد05، صفحہ360،مطبوعہ کوئٹہ)

    ”الجوھرۃ النیرۃ“میں ہے:’’إذا قال لرجل اقطع يدی وذلك ‌لعلاج كما إذا وقعت فيها أكلة فلا بأس به وإن كان من غير علاج لا يحل له قطعها‘‘ ترجمہ:جب ایک شخص نے دوسرے سے کہا: میرے ہاتھ کو کاٹ دو اور یہ کٹوانا علاج کے لیے ہو، جیسا کہ ہاتھ میں آکلہ پیدا ہو جائے ،تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر یہ کٹوانا بغرضِ علاج نہ ہو، تو کٹوانا حلال نہیں، بلکہ حرام ہے۔(الجوھرۃ النیرہ، جلد02، صفحہ337، مطبوعہ ملتان)

    فتاوی قاضی خان میں ہے:’’إذا أراد أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال أبو نصر رحمه اللہ تعالى إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل لأنه تعريض النفس للهلاك و إن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك‘‘ ترجمہ:جب کوئی شخص اپنی زائد انگلی یا کسی دوسرے زائد عضو کو کٹوانے کا ارادہ رکھے،تو ایسے فرد کے متعلق امام ابو نصر رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:اگر انگلی وغیرہ کٹنے سے ہلاکت غالب ہو ،تو وہ شخص اپنی زائد انگلی نہیں کٹوا سکتا، کیونکہ اِس صورت میں اپنی جان کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے اور اگر سرجری کا کامیاب ہونا اور صحت مل جانا غالب ہو ،تو انگلی یا کسی بھی زائد عضو کے کٹوانے کی گنجائش موجود ہے۔(فتاویٰ قاضی خان، جلد3، صفحہ 313، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:”بھنووں کے بال اگر بڑے ہوگئے،تو ان کو ترشوا سکتے ہیں۔(بھار شریعت ،ج3،ص585،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، )واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:20 ذو الحجۃ 1446 ھ/17جون 2025ھ