شرعی فقیر کا قرض زکوة سے ادا کرنا
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 646

    سوال

    ہمارا ایک دوست ہے جو کہ شخص شرعی فقیر ہے ،اس پر قرض بہت چڑھ گیاہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس کا قرض زکوۃ کی رقم سے ادا کر یں لیکن یہ رقم اس کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے ۔اس کے ہاتھ میں دی تو وہ خرچ کر دے گاتو اس کا کوئی حل بتائیں کہ اس کا قرض بھی اتر جائے اور زکوۃ بھی ادا ہو جائے ؟

    سائل:عبد الجواد ترابی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں اس شرعی فقیر دوست سے اجازت لیں کہ ہم تمہارا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں ،جب وہ اجازت دے دے تو اس کے بعد زکوۃ کی رقم سے اس کا قرض ادا کر دیں یوں اس کا قرض ادا ہو جائے گااور آپ کی زکوۃ ادا ہو جائے گا۔

    رد المحتار میں ہے:"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره،۔ترجمہ: اور شرط یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مصرف تملیک (ملکیت کی منتقلی) ہو، محض اباحت (استعمال کی اجازت) نہ ہو، جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ مسجد کی تعمیر پر خرچ نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی میت کے کفن یا اس کے قرض کی ادائیگی پر۔ البتہ، اگر کسی زندہ فقیر کا قرض اس کی اجازت سے ادا کیا جائے تو جائز ہوگا۔(رد المحتار ،‌‌كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر: جلد 02،صفحہ:345،دار الفکر بیروت)

    فتح القدیر میں ہے:"وفي الغاية نقلا من المحيط والمفيد: لو قضى بها دين حي أو ميت بأمره جاز، ومعلوم إرادة قيد فقر المديون، وظاهر فتاوى قاضي خان يوافقه، لكن ظاهر إطلاق الكتاب وكذا عبارة الخلاصة حيث قال: لو بنى مسجدا بنية الزكاة أو حج أو أعتق أو ‌قضى ‌دين ‌حي أو ميت بغير إذن الحي لا يجوز عدم الجواز في الميت مطلقا؛ ألا ترى إلى تخصيص الحي في حكم عدم الجواز بعدم الإذن وإطلاقه في الميت وقد يوجه بأنه لا بد من كونه تمليكا للمديون والتمليك لا يقع عند أمره بل عند أداء المأمور وقبض النائب، وحينئذ لم يكن المديون أهلا للتمليك لموته."۔ترجمہ: لغاية" میں "المحيط" اور "المفيد" سے منقول ہے کہ اگر کسی زندہ یا مردہ شخص کے قرض کو زکوٰۃ سے اس کے حکم پر ادا کیا جائے تو جائز ہوگا، اور یہ معلوم ہے کہ اس سے مقروض کے فقیر ہونے کی قید مراد ہے۔ "فتاویٰ قاضی خان" کا ظاہر بھی اس سے موافق ہے، لیکن کتاب کے ظاہر اطلاق اور "الخلاصة" کی عبارت اس کے خلاف معلوم ہوتی ہے، جہاں یہ کہا گیا ہے: اگر کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے مسجد بنائی، حج کیا، غلام آزاد کیا، یا کسی زندہ یا مردہ شخص کا قرض اس کی اجازت کے بغیر ادا کیا تو جائز نہیں ہوگا۔ یہاں مردہ کے معاملے میں مطلق عدم جواز ذکر کیا گیا ہے، جبکہ زندہ شخص کے بارے میں عدم جواز کو اس کی اجازت نہ ہونے کے ساتھ مقید کیا گیا ہے، اور مردہ کے بارے میں مطلق رکھا گیا ہے۔ اس کی توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ زکوٰۃ میں تملیک ضروری ہے، اور تملیک مقروض کے حکم سے نہیں، بلکہ جب مکلّف (مأمور) قرض ادا کرے اور نائب قبضہ کرے، اس وقت واقع ہوتی ہے، اور اس وقت مردہ تملیک کا اہل نہیں ہوتا، کیونکہ وہ وفات پا چکا ہے۔(‌‌كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز: 2/ 268، ط: دار الفكر، لبنان)

    بدائع الصنائع میں ہے:ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في ‌القبض ‌فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم."۔ترجمہ: اگر کسی زندہ فقیر کا قرض ادا کیا جائے، تو اگر وہ اس کے حکم کے بغیر ادا کیا گیا ہو تو جائز نہیں ہوگا، کیونکہ فقیر کے قبضہ نہ کرنے کی وجہ سے ا سکی طرف سے تملیک نہیں پائی گئی ۔ لیکن اگر یہ فقیر کے حکم سے کیا جائے تو زکوٰۃ میں شمار ہوگا، کیونکہ فقیر کی طرف سے تملیک پائی گئی، کیونکہ جب اس نے اسے حکم دیا تو وہ اس کا وکیل بن گیا قبضہ میں، پس یہ ایسا ہی ہوگا جیسے فقیر نے خود صدقہ پر قبضہ کیا اور پھر قرض خواہ کو اس کا مالک بنا دیا ۔(كتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة:جلد: 2صفحہ: 39، دار الكتب العلمية)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 4رمضان المبارک 1446 ھ/05مارچ 2025ھ