انسولین سے روزہ ٹوٹنے کا حکم
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 72
    حوالہ: 645

    سوال

    کیا انسولین لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ سائل:قاری خلیل الرحمن صاحب

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    محققین فقہاء کے نزدیک انسولین سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔اس لیے کہ باہر سے جسم میں داخل ہونے والی چیز سے روزہ اس وقت فاسد ہو تا ہے جب وہ چیز منافذ اصلیہ (Primary Passages) سے دماغ(Brain )یا جوفِ معدہ (Cavity of the Stomach)تک پہنچ جائے جبکہ انسولین یا دیگر انجیکشن کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا کہ یہ عام طور پر رگ یا گوشت میں لگائے جاتے ہیں۔

    علامہ کاسانی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:”ما ‌وصل ‌إلى ‌الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه وأما ما ‌وصل ‌إلى ‌الجوف أو إلى الدماغ عن غير المخارق الأصلية بأن داوى الجائفة، والآمة، فإن داواها بدواء يابس لا يفسد لأنه لم يصل إلى الجوف ولا إلى الدماغ ولو علم أنه وصل يفسد “ ترجمہ: جو چیز اصل داخلی راستوں، جیسے ناک، کان یا دبر کے ذریعے جوف (معدہ) یا دماغ تک پہنچے، تو وہ روزہ توڑ دے گی۔ مثلاً اگر کسی نے ناک میں دوا ڈالی، یا حقنہ لیا، یا کان میں قطرے ڈالے اور وہ جوف یا دماغ تک پہنچ گئے، تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔البتہ، اگر کوئی چیز غیر اصل داخلی راستوں کے ذریعے جوف یا دماغ تک پہنچے، جیسے کسی نے پیٹ میں گہرے زخم (جائفة) یا کھوپڑی میں زخم (آمة) کا علاج کیا، تو اگر یہ علاج خشک دوا سے کیا گیا ہو، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، کیونکہ وہ جوف یا دماغ تک نہیں پہنچی۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو کہ دوا جوف یا دماغ تک پہنچ گئی ہے، تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔" ۔ (بدا ئع الصنائع، کتاب الصیام،فصل فی ارکان الصیام ، جلد2، صفحہ603 ، مطبوعہ کوئٹہ )

    فتح القدیر میں ہے:والمفطر ،الداخل من المنافذ کالمدخل و المخرج لامن المسام،الذي هوخلل البدن للاتفاق فی من شرع فی الماء ،یجد برده فی باطنه، ولا یفطر وإنما كره أبو حنيفة الدخول في الماء والتلفف بالثوب المبلول لما فيه من إظهار الضجر في إقامة العبادة لالأنه قريب من الإفطار۔ترجمہ: روزہ توڑنے والی چیز وہ ہے جو جسم کے داخلی منافذ، جیسے دہانوں اور اخراج کے راستوں سے داخل ہو، نہ کہ مساموں کے ذریعے، جو جسم کے باریک خلیے ہیں اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص پانی میں داخل ہو اور اس کی ٹھنڈک اپنے باطن میں محسوس کرے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ امام ابو حنیفہؒ نے پانی میں داخل ہونے اور گیلا کپڑا لپیٹنے کو ناپسند کیا ہے، کیونکہ اس میں عبادت کی ادائیگی میں بے قراری کے اظہار کا پہلو ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ روزہ ٹوٹنے کے قریب ہے روزہ توڑنے والی چیز وہ ہے جو جسم کے داخلی منافذ، جیسے دہانوں اور اخراج کے راستوں سے داخل ہو، نہ کہ مساموں کے ذریعے، جو جسم کی چھوٹی درزیں ہیں۔ اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص پانی میں داخل ہو اور اس کی ٹھنڈک اپنے باطن میں محسوس کرے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ امام ابو حنیفہؒ نے پانی میں داخل ہونے اور گیلا کپڑا لپیٹنے کو ناپسند کیا ہے، کیونکہ اس میں عبادت کی ادائیگی میں بے قراری کے اظہار کا پہلو ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ روزہ ٹوٹنے کے قریب ہے ( فتح القدير ، كتاب الصوم ، باب ما يوجب القضاء والكفارة ، ج:2 ، ص:330 )

    رد المحتار میں ہے:والمفطر ‌إنما هو الداخل من المنافذ للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر۔ترجمہ: روزہ توڑنے والی چیز وہی ہے جو منافذ سے اندر داخل ہو، کیونکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی پانی میں غسل کرے اور اس کی ٹھنڈک اپنے باطن میں محسوس کرے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصوم ، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده ، مطلب:يكره السهر إذا خاف فوت الصبح ، جلد:3 ، صفحہ:367 )

    مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:” ہر ایک ٹیکہ( انجیکشن) مُفْسِد روزہ نہیں کہ اشیائے مستعملہ میں صرف اکل و شرب اور جماع ہی سے روزہ ٹوٹ سکتا ہے ، کیونکہ ان کے استعمال سے رکنِ روزہ ( الامساک عن الاکل وا لشرب والجماع ) فوت ہو جاتاہے …… کوئی عام ٹیکہ یقینا اکل و شرب بھی نہیں ، تو مفسد بھی نہیں ، ٹیکہ کا حقیقی اکل وشرب (صورتِ کاملہ اور معنی کے لحاظ سے )نہ ہونا تو روزِ روشن سے بھی روشن ہے ، فقہائے کرام کے نزدیک اکل و شرب یہ ہے : (ایصال ما یقصد بہ التغذی او التدوای الی الجوف عن الفم یعنی منہ کے راستے پیٹ تک ایسی چیز کا پہنچانا جس سے کھانا یا پینا یا دواکرنا مقصود ہو ) اور چونکہ ٹیکہ میں منہ والا اصلی راستہ استعمال نہیں ہوتا ، بلکہ سوئی کے مصنوعی راستہ سے ایصال ہو تا ہے اور وہ بھی پیٹ تک نہیں ، بلکہ جسم کے کسی بالا ئی یا زیریں حصہ میں ، تو واضح ہوا کہ ٹیکہ حقیقی اکل و شرب قطعاً نہیں اور یونہی صرف صورۃ بھی اکل و شرب نہیں کہ اکل و شرب کی صورت ہے (الابتلاع یعنی منہ سے کسی چیز کو پیٹ تک پہنچانا ) ……تو عام ٹیکہ جو جسم کے بالائی حصہ یا زیریں حصوں میں کیا(لگایا ) جاتاہے اس میں یہ صورت اکل و شرب دونوں طرح ہی نہیں پائی جاتی کہ سوئی پیٹ سے بہت دور دوائی ڈالتی ہے اور یونہی ایسا ٹیکہ معنیً بھی اکل و شرب نہیں کہ اکل و شرب کا معنی ہے : (وصول ما فیہ صلاح البدن الی الجوف یعنی پیٹ تک ایسی چیز کا پہنچنا جس میں بدن کا فائدہ ہو ) …… تو عام ٹیکوں میں یہ معنی بھی قطعاً نہیں پایا جاتا کہ وہ واصل الی الجوف نہیں ہوتے ، لہٰذا ایسے ٹیکے حقیقت یا صورت یا معنی کسی لحاظ سے بھی مفسد صوم نہیں ، البتہ اگر کوئی ٹیکہ " جوف" میں کیا (لگایا) جائے ، یعنی سوئی جوف تک پہنچا کردوائی جوف میں ڈالی جائے ، تو ایسا ٹیکہ ضرور مفسد ہو گا…… یونہی جوف تک پہنچنے والے کسی اصلی راستے (حلق ، کان ، ناک وغیرہ ) کے اندرونی حصہ میں یا دماغ میں حسبِ دستور سوئی کے خود ساختہ راستہ سے دوائی پہنچانا بھی مفسد ہے ، کیونکہ دماغ اور اصلی راستوں کے اندرونی حصے بھی جوف ہی کے حکم میں ہیں ، اس لیے کہ ان راستوں کے خلا، خلاءِ پیٹ سے ملے ہوئے ہیں اور دماغ و جوف کے مابین بھی چونکہ قدرتی راستہ ہے ، توجو چیز دماغ میں پہنچے وہ جوف میں پہنچ جاتی ہے ، لہٰذا دماغ اور اصلی راستوں کے اندرونی حصے جوف کے کونوں کی طرح ہیں ۔“ (فتاویٰ نوریہ ،جلد2،صفحہ217 ، 219،مطبوعہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)

    فتاویٰ فیض الرسول میں ہے :’’تحقیق یہ ہے کہ انجیکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے رَگ میں لگایا جائے چاہے گوشت میں۔(فتاویٰ فیض الرسول ، کتاب الصوم ، جلد 1 ، صفحہ 514 ، شبیر برادرز ، لاھور)واللہ اعلم بالصواب