تین طلاقوں کے بعد شوہر کی ذمہ داریاں
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 649

    سوال

    میں نے اپنی بیوی کو اپنے ہوش و حواس میں تین طلاقیں دی ہیں ۔ جسکے الفاظ یہ ہیں ۔ میں طلحہ ولد نفیس احمد اللہ کو حاضر ناظر جان کر تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں۔ میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی۔ اب شریعت کے کیا کیا حکامات ہیں ۔دو سال کی بچی ہے ۔ کیابچی کا خرچہ میرے ذمے ہے ۔ بیوی نے عدت کے اخراجات کی مد میں 50 ہزار کا مطالبہ کیا ہے۔

    سائل:محمد طلحہ: کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں آپکی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جسکے بعد وہ آپ پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ، انکے ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : ''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔ ( فتاوی عالمگیری ج1ص390)

    طلاق واقع ہوتے ہی ان پر عدت لازم ہوچکی۔عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)

    دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)

    بچی کا مکمل خرچہ اورعورت جب تک عدت میں ہے،اسکا خرچہ،رہائش،اور پہننے کے کپڑے آپ پر لازم ہے۔عدت کے خرچہ کی تفصیل یہ ہے کہ یاتو جس مقدار پر دونوں راضی ہوجائے وہ دے یا طلاق سے پہلے عورت کو جتنا دیتا تھا اتنا دے دے۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَ تَجِبُ لِمُطَلَّقَةِ الرَّجْعِيِّ وَالْبَائِنِ، وَالْفُرْقَةُ بِلَا مَعْصِيَةٍ وَتَفْرِيقٍ بِعَدَمِ كَفَاءَةِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى وَالْكُسْوَةُ۔ترجمہ:اور وہ عورت جس کو طلاق رجعی یا بائن دی گئی ہو یا اس عورت سے مرد کی فرقت (جدائی)ہوجائے یا کفو نہ ہونے کی وجہ سے علیحدگی ہوجائے تو اسکا خرچہ ،رہائش اور کپڑے مرد کے ذمے واجب ہیں۔

    علامہ شامی اسکے تحت لکھتے ہیں:قَالَ فِي الْبَحْرِ: فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْفُرْقَةَ إمَّا مِنْ قِبَلِهِ أَوْ مِنْ قِبَلِهَا، فَلَوْ مِنْ قِبَلِهِ فَلَهَا النَّفَقَةُ مُطْلَقًا سَوَاءٌ كَانَتْ بِمَعْصِيَةٍ أَوْ لَا طَلَاقًا أَوْ فَسْخًا،ترجمہ:بحر میں( علامہ ابن نجیم ) فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ ہے کہ فرقت(علیحد گی(یا عورت کی طرف سے ہوگی یا مرد کی طرف سے،اگر مرد کی جانب سے فرقت ہو تو اس کے لیے نفقہ (خرچہ وغیرہ)مرد پر ہوگا۔ خواہ فرقت طلاق سے ہو یا فسخ سے ۔(ردالمحتار مع الدر المختار علٰی تنویر الابصار باب العدۃ مطلب فی مسکن الزوج جلد 3ص 599)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07 ربیع الاول 1441 ھ/05 نومبر 2019 ء