سوال
کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کے با رے میں کہ غصے میں طلاق دینے کا شرعی حکم کیا ہے ؟ بعض اوقات غصے میں انسان کی عقل سلامت نہیں ہوتی اس کا کیا مطلب ہے؟ اور وہ کونسا غصہ ہے جس میں طلاق نہیں ہوتی؟ فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عطا فرمادیں۔
سائل: مفتی سید صدام حسین، پیر جوگوٹھ، سندھ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طلاق کےوقوع کے لئےیہ شرط ہے کہ شوہر طلاق دینے کے وقت عا قل, بالغ اور بیدار ہو لہذا مجنون ،نابالغ اور سونے والا کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث شریف میں ہے :« أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ». ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شا د فرمایا کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:(1): ایسا مجنو ن جس کا جنون اس کی عقل پر غالب ہو گیا ہو یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے۔ (2): سونے والےسے جب تک وہ بیدارنہ ہو جائے۔ (3): نا بالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ۔[ سنن ابی داؤد ، باب فی المجنون، حدیث(4401), ج:4, ص:140, المكتبۃ العصريۃ بیروت لبنان]۔
بخاری شریف میں ہے :« وَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ القَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلاَثَةٍ: عَنِ المَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَقَالَ عَلِيٌّ: وَكُلُّ الطَّلاَقِ جَائِزٌ، إِلَّا طَلاَقَ الْمَعْتُوهِ».
ترجمہ :’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیاآپ نہیں جانتے کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:(1): مجنو ن سے یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے۔ (2): نابالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ۔(3): سونے والےسے یہاں تک وہ بیدار ہو جا ئے۔ او ر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:معتو ہ کی طلاق کے علاوہ ہر طلاق جائز ہے ۔ (صحیح بخاری، باب الطلاق فی الإغلاق والكره، ج:7، ص:45، دار طو ق النجاہ )۔
مجنون کی تعریف :" قَالَ فِي التَّلْوِيحِ: الْجُنُونُ اخْتِلَالُ الْقُوَّةِ الْمُمَيِّزَةِ بَيْنَ الْأُمُورِ الْحَسَنَةِ وَالْقَبِيحَةِ الْمُدْرِكَةِ لِلْعَوَاقِبِ، بِأَنْ لَا تَظْهَرَ آثَارُهُ وَتَتَعَطَّلُ أَفْعَالُهَا، إمَّا لِنُقْصَانِ جُبِلَ عَلَيْهِ دِمَاغُهُ فِي أَصْلِ الْخِلْقَةِ، وَإِمَّا لِخُرُوجِ مِزَاجِ الدِّمَاغِ عَنْ الِاعْتِدَالِ بِسَبَبِ خَلْطٍ أَوْ آفَةٍ، وَإِمَّا لِاسْتِيلَاءِ الشَّيْطَانِ عَلَيْهِ وَإِلْقَاءِ الْخَيَالَاتِ الْفَاسِدَةِ إلَيْهِ بِحَيْثُ يَفْرَحُ وَيَفْزَعُ مِنْ غَيْرِ مَا يَصْلُحُ سَبَبًا. اهـ". ترجمہ :تلویح میں ہے:امو ر حسنہ اور امو ر قبیحہ کے درمیا ن فر ق اور نتا ئج کا ادراک کرنے والی قوت کے خراب ہو جانے کا نا م جنو ن ہے ،اس طور پر کہ اس قوت کے آثار ظا ہر نہ ہوں اور اس کے افعا ل معطل ہو جا ئیں ۔یہ خرابی کسی ایسی کمی کی وجہ سے ہو جو پیدائش کے وقت سے ہی دماغ میں مو جو د ہو یا کسی حادثہ یا عا رضہ کی وجہ سے دماغ اپنی اعتدال کی روش کھو بیٹھے یا یہ خرابی شیطا ن کے اس پر غلبے اور فا سد خیا لا ت کے وسوسوں کی وجہ سے ہو اس طر ح کہ وہ بغیر کسی معقول وجہ کے خو ش یا خو ف زدہ ہو جاتاہو ۔ [ردالمحتار،کتاب الطلاق، ج:4،ص:437،مطبوعہ رحمانیہ لاہور ]۔
مجنون کی اقسام
مجنون کی دو اقسام ہیں :
(1): جو کلیۃ ً مجنو ن ہویعنی جسکی عقل مکمل زائل ہوگئی ہو ،اس کو اردو میں پاگل کہا جاتاہے ـ
(2):جس کی عقل مکمل زائل نہ ہوئی ہو بلکہ اس کی عقل میں خلل واقع ہو گیا ہو جیسے معتو ہ (جس میں سمجھ کی صلاحیت کم ہو او ر وہ کلام صحیح کو کلام فا سد کے سا تھ ملا دیتا ہو لیکن وہ ما رتا نہیں اور نہ ہی وہ گالی گلوچ کرتاہے )جس کو اردو میں باؤلا کہا جا تا ہے۔ ایسا شخص اپنے فعل کا ارادہ بھی کرتاہے اور اپنے کلام کو سمجھتا بھی ہے لیکن عقل میں خلل کی وجہ سے وہ درست فیصلہ کرنے پر قا در نہیں ہوتا ۔
ان دونوں قسم میں مبتلا افراد کی عقل سلامت اور کا مل نہ ہو نے کی وجہ سے ان کا ہر وہ فعل جو ضر ر ِمحض ہو یعنی اس میں نفع کا کوئی پہلو نہ ہو، ان پر نا فذ نہیں ہوتا، طلا ق بھی ضر ر ِمحض ہے اس لئے مجنو ن او رمعتو ہ کی طلاق بھی واقع نہیں ہو تی ۔اسی طر ح وہ افراد جن کی عقل عا رضی طو ر پر زائل ہو جا ئےیا اس میں خلل آجائے مثلا ً:
(1): دہشت زدہ کہ حیا ء یا خوف کی شدت کی وجہ سے اس کے حواس معطل ہو جائیں او روہ اپنی سُدھ بُدھ کھو بیٹھے۔
(2): مغمی علیہ یعنی ایسی بیما ری میں مبتلا ہو نا جس کی وجہ سے حواس اور قویٰ اپنے افعال سے رک جا تے ہو ں، اس میں عقل مکمل زائل نہیں ہوتی بلکہ مغلوب ہو تی ہے۔
(3): مبرسم سرسا م کی بیما ری میں مبتلا شخص جس کی وجہ سے اس کی عقل بھی مغلوب ہو جاتی ہے اور ادراک صحیح ختم ہو جا تا ہے ۔
ان تما م افراد کی طلا ق بھی با لاتفاق واقع نہیں ہو تی کیونکہ جو علت (عقل کا زوال یا اس میں خلل آنا )مجنو ن یا معتو ہ میں طلاق کے وقوع سے ما نع ہے وہ ہی علت ان تما م افراد میں بھی پا ئی جاتی ہے ۔
اس تمہید کے بعد اب ہم غصے کی طر ف آتےہیں ۔
غصہ کی تین اقسام ہیں
(1):عمومی حالت جیسا کہ ہر انسان کو ناپسندیدہ بات پر غصہ آتا ہے لیکن اس کی عقل پر اس کاکوئی اثر نہیں ہوتا اور اس کی سمجھ بوجھ اپنی اصلی حالت پر رہتی ہیں ۔
(2):دوسری وہ حالت جس میں انسان اپنا ارادہ واختیار کھو بیٹھتا ہے اور اس کی حالت مجنونوں والی ہو جاتی ہے اور اس کو اپنے افعال وگفتار پر کوئی قابو نہیں رہتا۔
(3):تیسری وہ حالت جو پہلی حالت سے شدید اور دوسری سے کم ہوتی ہے جس کو ہم شدید غصہ کہتے ہیں، اس میں انسان کی عقل زائل نہیں ہو تی اور اس کو اپنے افعال وکردار پر اختیار بھی ہو تا ہے،لیکن اس کی عقل میں خلل واقع ہو جائے اور عا م انسانوں سے ہٹ کر اس سے اقوال وافعال صا در ہو نےلگیں ۔
پہلی حالت میں اگر کسی نے طلاق دی تو وہ با لاتفاق واقع ہو جائے گی۔بلکہ عام طو ر پر ایسا غصہ ہی طلا ق دینے کا سبب ہو تا ہے ۔جبکہ غصہ کی دوسری حالت جس میں انسان مجنون کی طرح ہو جائے اور اس کواپنے افعال واقوال پر قابو نہ رہے توبالاتفاق اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اس طرح کا غصہ آنا بہت نادر ہے ۔
تیسری قسم میں اختلاف ہے اور علامہ ابن عا بدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ہے کہ اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ؛ کیونکہ مجنو ن او رمعتو ہ جن کی طلاق واقع نہیں ہو تی ان میں بھی یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اس حالت میں ہو ں کہ اپنا ارادہ اور اختیا ر کھو بیٹھیں اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہو ں ان کو معلوم نہ ہو، جس کو زوال عقل کہتےہیں بلکہ ان کی طلاق واقع نہ ہو نے کے لئے اتنا ہی کا فی ہے کہ ان پر ہذیان (پاگل پن )کا غلبہ ہو ،جس کو اختلا ل عقل کہا جاتاہے ۔
فی زمانہ شہر ی زندگی میں بہت زیادہ تناؤ آگیا ہے اور بہت سے لوگ ہا ئی بلڈ پریشر اور ٹینشن کے مریض ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت جلد شدید غصے میں آجاتے ہیں اور اس حالت میں ان سے ایسے افعال اور گفتار صادر ہوتے ہیں جو ایک عا م انسا ن غصے میں نہیں کرتا ،مثلاً: مدمقابل کو شدید زد و کو ب کرنا ، اپنے آپ کو یا دوسرے کو جسمانی نقصا ن پہچا نے کی کو شش کرنا ، چیز وں کی تو ڑ پھوڑ کرنا، مغلظات بکنا،اپنے ماں باپ سے بد سلوکی وبد کلامی کرنا اور معمولی سی بات پر بھڑک کر اپنی بیوی کو یکدم تین طلاقیں دے دینا وغیرہ ۔ اور جب غصہ اترتا ہے اور وہ اپنی عمومی حالت میں آتے ہیں تو وہ اپنے ان افعا ل پر شدید نا دم بھی ہو تے ہیں۔ یہ سا رے افعال اس با ت پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کی عقل زائل تو نہیں ہوئی ہے، لیکن اس میں خلل ضرور آگیا ہے اگر چہ وہ ان افعا ل کو جانتے بھی ہیں اور ان کا ارادہ بھی کرتے ہیں، لیکن عقل میں خلل کی وجہ سے عا م انسا نو ں سے ہٹ کر وہ اس طر ح کا رویہ اختیا ر کرتے ہیں، اس لئے مجنو ن اور معتو ہ کی طرح ان کی بھی طلاق واقع نہیں ہو نی چاہیے۔
لیکن اس با رے میں فتو ی دینے سے قبل مفتی کو چاہیے کہ خو ب تحقیق اور تفتیش کر لے اور اگر احوال وقرائن یا گو اہوں کی شہادت یا وقوعہ سے قبل کی میڈیکل رپورٹ دیکھنے کے بعد وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص اختلالِ عقل کا شکا ر ہے تو پھر اس کی طلاق واقع نہ ہو نے کا فتو ی دے ، محض سا ئل کے اس قول کے میں شدید غصے میں تھا کی بنا پر طلاق کے عدم وقو ع کا فتو ی نہ دے کیونکہ آج کل جھو ٹ عا م ہے اور اکثر لو گ طلاق سے بچنے کے لئے جھوٹے بہانے گھڑتےہیں۔
علامہ ابن عا بدین شا می علیہ الرحمہ ردالمحتار میں تحریر فرماتےہیں:" قُلْتُ: وَلِلْحَافِظِ ابْنِ الْقَيِّمِ الْحَنْبَلِيِّ رِسَالَةٌ فِي طَلَاقِ الْغَضْبَانِ قَالَ فِيهَا: إنَّهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: أَحَدُهَا أَنْ يَحْصُلَ لَهُ مَبَادِئُ الْغَضَبِ بِحَيْثُ لَا يَتَغَيَّرُ عَقْلُهُ وَيَعْلَمُ مَا يَقُولُ وَيَقْصِدُهُ، وَهَذَا لَا إشْكَالَ فِيهِ. وَالثَّانِي أَنْ يَبْلُغَ النِّهَايَةَ فَلَا يَعْلَمُ مَا يَقُولُ وَلَا يُرِيدُهُ، فَهَذَا لَا رَيْبَ أَنَّهُ لَا يَنْفُذُ شَيْءٌ مِنْ أَقْوَالِهِ.الثَّالِثُ مَنْ تَوَسَّطَ بَيْنَ الْمَرْتَبَتَيْنِ بِحَيْثُ لَمْ يَصِرْ كَالْمَجْنُونِ فَهَذَا مَحَلُّ النَّظَرِ، وَالْأَدِلَّةُ تَدُلُّ عَلَى عَدَمِ نُفُوذِ أَقْوَالِهِ. اهـ. مُلَخَّصًا مِنْ شَرْحِ الْغَايَةِ الْحَنْبَلِيَّةِ، لَكِنْ أَشَارَ فِي الْغَايَةِ إلَى مُخَالَفَتِهِ فِي الثَّالِثِ حَيْثُ قَالَ: وَيَقَعُ الطَّلَاقُ مِنْ غَضَبٍ خِلَافًا لِابْنِ الْقَيِّمِ اهـ وَهَذَا الْمُوَافِقُ عِنْدَنَا لِمَا مَرَّ فِي الْمَدْهُوشِ، لَكِنْ يَرِدُ عَلَيْهِ أَنَّا لَمْ نَعْتَبِرْ أَقْوَالَ الْمَعْتُوهِ مَعَ أَنَّهُ لَا يَلْزَمُ فِيهِ أَنْ يَصِلَ إلَى حَالَةٍ لَا يَعْلَمُ فِيهَا مَا يَقُولُ وَلَا يُرِيدُهُ وَقَدْ يُجَابُ بِأَنَّ الْمَعْتُوهَ لَمَّا كَانَ مُسْتَمِرًّا عَلَى حَالَةٍ وَاحِدَةٍ يُمْكِنُ ضَبْطُهَا اُعْتُبِرَتْ فِيهِ وَاكْتُفِيَ فِيهِ بِمُجَرَّدِ نَقْصِ الْعَقْلِ، بِخِلَافِ الْغَضَبِ فَإِنَّهُ عَارِضٌ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ، لَكِنْ يَرِدُ عَلَيْهِ الدَّهَشُ فَإِنَّهُ كَذَلِكَ. وَاَلَّذِي يَظْهَرُ لِي أَنَّ كُلًّا مِنْ الْمَدْهُوشِ وَالْغَضْبَانِ لَا يَلْزَمُ فِيهِ أَنْ يَكُونَ بِحَيْثُ لَا يَعْلَمُ مَا يَقُولُ بَلْ يُكْتَفَى فِيهِ بِغَلَبَةِ الْهَذَيَانِ وَاخْتِلَاطِ الْجَدِّ بِالْهَزْلِ كَمَا هُوَ الْمُفْتَى بِهِ فِي السَّكْرَانِ عَلَى مَا مَرَّ، وَلَا يُنَافِيهِ تَعْرِيفُ الدَّهَشِ بِذَهَابِ الْعَقْلِ فَإِنَّ الْجُنُونَ فُنُونٌ، وَلِذَا فَسَّرَهُ فِي الْبَحْرِ بِاخْتِلَالِ الْعَقْلِ وَأَدْخَلَ فِيهِ الْعَتَهَ وَالْبِرْسَامَ وَالْإِغْمَاءَ وَالدَّهَشَ. وَيُؤَيِّدُهُ مَا قُلْنَا قَوْلُ بَعْضِهِمْ: الْعَاقِلُ مَنْ يَسْتَقِيمُ كَلَامُهُ وَأَفْعَالُهُ إلَّا نَادِرًا، وَالْمَجْنُونُ ضِدُّهُ. وَأَيْضًا فَإِنَّ بَعْضَ الْمَجَانِينِ يَعْرِفُ مَا يَقُولُ وَيُرِيدُهُ وَيَذْكُرُ مَا يَشْهَدُ الْجَاهِلُ بِهِ بِأَنَّهُ عَاقِلٌ ثُمَّ يَظْهَرُ مِنْهُ فِي مَجْلِسِهِ مَا يُنَافِيهِ، فَإِذَا كَانَ الْمَجْنُونُ حَقِيقَةً قَدْ يَعْرِفُ مَا يَقُولُ وَيَقْصِدُهُ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى، فَاَلَّذِي يَنْبَغِي التَّعْوِيلُ عَلَيْهِ فِي الْمَدْهُوشِ وَنَحْوِهِ إنَاطَةُ الْحُكْمِ بِغَلَبَةِ الْخَلَلِ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ الْخَارِجَةِ عَنْ عَادَتِهِ، وَكَذَا يُقَالُ فِيمَنْ اخْتَلَّ عَقْلُهُ لِكِبَرٍ أَوْ لِمَرَضٍ أَوْ لِمُصِيبَةٍ فَاجَأَتْهُ: فَمَا دَامَ فِي حَالِ غَلَبَةِ الْخَلَلِ فِي الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ لَا تُعْتَبَرُ أَقْوَالُهُ وَإِنْ كَانَ يَعْلَمُهَا وَيُرِيدُهَا لِأَنَّ هَذِهِ الْمَعْرِفَةَ وَالْإِرَادَةَ غَيْرُ مُعْتَبَرَةٍ لِعَدَمِ حُصُولِهَا عَنْ إِدْرَاكٍ صَحِيحٍ كَمَا لَا تُعْتَبَرُ مِنْ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ". ترجمہ : حا فظ ابن قیم حنبلی کاغصے میں طلاق کے با رےمیں ایک رسالہ ہے جس میں اس نے لکھا ہے: غصہ کی تین اقسام ہیں ۔ان میں پہلی قسم ابتدائی غصہ کی ہے جس سے عقل متغیرنہیں ہوتی اور وہ جانتا ہے جو کچھ کہہ رہا ہےاوراس کا قصدبھی کرتاہے،اس قسم میں(طلاق واقع ہونے میں) کوئی اشکال نہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ غصہ اپنی انتہا پرہواوروہ جو کچھ کہہ رہاہےنہ ہی اس کوجانتاہواورنہ ہی اس کاارادہ کرتا ہو(جیسے مجنون ،معتوہ)تواس قسم میں کوئی شک نہیں کہ ایسےشخص کےاقوال نافذ نہیں ہوں گے۔
غصہ کی تیسری قسم جو ان دونوں کی درمیانی حالت ہے کہ غصہ تو شدید ہے لیکن مجنون کی مثل نہ ہو تو اس میں اختلاف ہے اور دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایسے شخص کے اقوال نافذ نہ ہوں۔ یہ شرح الغایہ حنبلیہ سے ملخص ہے ۔لیکن غایہ میں اس تیسری قسم کے حکم کی مخالفت کی طرف اشارہ کیا کہ وہ لکھتے ہیں: غصہ میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، ابن قیم اس کے خلاف ہیں۔ اور یہ قول ہمارے موافق ہےاس تفسیر کی وجہ سے جو مدہو ش کے معنی میں ذکر کی گئی ہے۔لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ہم نے معتو ہ کے اقوال کو معتبر نہیں جانا حالانکہ معتوہ کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ جو وہ کہہ رہا ہے وہ اس کو نہ تو معلو م ہو او رنہ ہی اس نے اس کا ارادہ کیا ہو ۔ اس اعتراض کا جواب یہ دیا جا سکتاہے کہ کیونکہ معتوہ ایک ہی حالت پر رہتا ہے تو اس کی حالت کو ضبط کرنا ممکن ہے لہذا اس کی اس حالت کا اعتبا ر کیا گیا اور صرف اس کی عقل میں کمی پر ہی اکتفاء کیا گیا ہے بخلاف غضب کے کیونکہ یہ مختلف احوال میں در پیش ہوتاہے (جس کی وجہ سے اس کا ضبط دشوار ہوتا ہے اس لئے اس کی اس حا لت کا اعتبا ر نہیں کیا گیا )لیکن اس جو اب پر یہ اعتراض وارد ہو تا ہے کہ مدہوش بھی تو اسی طرح ہو تا ہے (دہشت زدہ ہونا بھی ہمیشہ نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھا رعا رض ہوتاہے حالانکہ اس کی اس حا لت کا اعتبا ر کیا گیا ہے )۔
(تمام اعتراضات سے بچنے کے لئے ) جو با ت مجھ پر ظاہر ہو ئی ہے وہ یہ ہے کہ غضبا ن اور مدہوش ان دونوں میں یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جا ئیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہو ں وہ ان کو معلوم نہ ہو بلکہ( ان کی طلاق واقع نہ ہو نے کے لئے)ان کی ایسی حالت ہی کا فی ہے کہ جس میں ان پر ہذیان (لا یعنی باتوں) کا غلبہ ہواور ان کے مقصودی کلام میں غیر مقصودی کلام کی آمیزش ہوجائے جیسا کہ نشئ کی تعریف میں ماقبل اسی با ت پر فتوی دیا گیا ہے۔
ہما ر ی اس توجیہ پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ مدہوش کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ مدہوش وہ شخص ہے جس کی عقل چلی گئی ہو (نہ کہ وہ شخص جس کی عقل میں خلل آیا ہو جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں ) کیونکہ جنون کی کئی اقسام ہیں اسی وجہ سے البحرالرائق میں جنو ن کی تعریف اختلا ل عقل کے سا تھ کی ہے اور معتو ہ اور مبرسم او ر مغمی علیہ اور مدہوش کو اسی تعر یف میں داخل کیا ہے ۔ اور جو ہم نے کہا اس کی تائیداس با ت سے بھی ہو تی ہے کہ بعض علماء نے کہا کہ عاقل وہ شخص ہے جس کا کلا م اور افعال درست ہو ں مگر کبھی کبھی ان میں خلل ہواور مجنو ن اس کی ضد ہے اور ہما ر ی با ت کی تا ئید اس سے بھی ہو تی ہے کہ بعض مجنون ایسے ہو تے ہیں کہ جوکچھ وہ کہہ رہے ہوتےہیں اس کووہ جانتے بھی ہیں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں اور ایسی با ت کرتےہیں کہ جن کواس کی حالت کا پتا نہیں ہو تا وہ گواہی دینے لگے کہ یہ شخص عاقل ہے لیکن اسی مجلس میں اس سے ایسی با ت صا در ہوجاتی ہے جو اس کی سابقہ ہو ش مندی کی با توں کے منا فی ہو تی ہے ، تو جو حقیقی مجنون ہے کبھی وہ بھی اپنی کہی ہو ئی با توں کو جانتے بھی ہیں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں تو جو حقیقی مجنو ن نہیں ہیں وہ تو بدرجہ اولی ایسے ہو سکتےہیں(کہ دماغی خلل کے با وجود وہ اپنی با ت کو جانتے بھی ہوں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہوں)۔ اس تما م بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مدہوش اور ان جیسے دیگر افراد (غصے والا وغیرہ )کے با رے میں جس با ت پر اعتما د کرنا چا ہیے وہ یہ ہے کہ خلاف عا دت واقع ہو نے والے اقوال وافعال میں حکم کا مدارغلبہ خلل پر ہے، اسی طرح کہا جائے گا اس شخص کے بارےمیں جس کی عقل میں بڑھاپے ،مرض یا اچانک مصیبت کے صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہو گیا ہو،جب تک اس کے اقوال وافعا ل میں خلل کا غلبہ رہے گا اس کے اقوال معتبر نہیں ہو نگے،اگر چہ وہ ان اقوا ل کو جانتا ہو اور ان کا قصد بھی کرتاہو؛ کیونکہ یہ معرفت اور ارادہ ادراک صحیح کی وجہ سے حا صل نہیں ہوتے اس لئےان کا اعتبا ر نہیں ہے جس طر ح عاقل نا با لغ بچے کی معرفت اور ارادہ کا اعتبا ر نہیں ہوتا۔[ردالمحتار،کتاب الطلاق،مطلب فی طلا ق المدہوش، ج:4،ص:439،مطبوعہ رحمانیہ لاہور ]۔
علامہ ابن عا بدین شا می رحمۃ اللہ علیہ کی اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ شدید غصے میں اگر عقل میں خلل واقع ہو جائے تو اس کی طلاق واقع نہیں ہو گی اور عقل میں خلل کی پہچان یہ ہے کہ بکثرت اس کے اقوال وافعال ہو ش مند افراد کے برخلاف ہوں اور وہ یا وہ کوئی اور لا یعنی باتیں زیادہ کرنے لگے، اس حالت میں اگرچہ اس کو تما م باتیں یا د ہوں اور وہ اپنی بیوی کو پہچان کر اس کو طلاق دینے کا قصد کرتا ہو لیکن عقل میں خلل کی وجہ سے اس کی یہ معرفت وقصد معتبر نہیں ہے اس لئےاس کی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ اگر کوئی ایسے غصے کا دعوی کرتاہے تو اگر اس کی یہ حالت پہلے بھی ہو چکی ہے تو قسم کے سا تھ اس کی با ت مان لی جا ئے گی ورنہ گواہوں یا قرائن کے ذریعے اس کی اس حالت کا تعین کیا جائے گا۔
علامہ ابن عا بدین شا می رحمۃ اللہ علیہ کی اس تحقیق کو علا مہ رافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریرات رافعی میں اور اما م اہل سنت اما م احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے جد الممتا ر میں بر قرار رکھا اور اس پر کو ئی کلام نہیں کیا۔ صد ر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے بہا ر شریعت میں غصے کی پہلی اور دوسر ی قسم کو بیا ن کیا اور تیسری قسم کے بیان سے سکوت فرمایا ،جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہو ں نے یہ کتا ب عو ام کے لئے لکھی تھی اور اگر تیسر ی قسم بھی بیان کر دی جاتی تو یہ خد شہ تھا کہ ہر شخص تین طلاق دینے کے بعد اسی غصے کی حالت کا جھو ٹا دعو ی کر کے طلاق سے بچنے کی کو شش کرتا ۔
عصر حا ضر کے محقق ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے بھی علامہ ابن عا بدین شا می علیہ الرحمہ کی اس تحقیق کا خلاصہ اپنی مشہور کتاب الفقہ الاسلامی وادلتہ میں بیان کر کے برقرار رکھا ہے۔
آپ لکھتے ہیں:" لا يصح طلاق المجنون، ومثله المغمى عليه، والمدهوش: وهو الذي اعترته حال انفعال لا يدري فيها ما يقول أو يفعل، أو يصل به الانفعال إلى درجة يغلب معها الخلل في أقواله وأفعاله، بسبب فرط الخوف أو الحزن أو الغضب، لقوله صلّى الله عليه وسلم:« لا طلاق في إغلاق» والإغلاق: كل ما يسد باب الإدراك والقصد والوعي، لجنون أو شدة غضب أو شدة حزن ونحوها. ودليل اشتراط البلوغ والعقل: حديث «كل طلاق جائز إلا طلاق الصبي والمجنون» وحديث «رفع القلم عن ثلاثة: عن الصبي حتى يحتلم وعن النائم حتى يستيقظ، وعن المجنون حتى يُفيق»،ولأن الطلاق تصرف يحتاج إلى إدراك كامل وعقل وافر، وهذا لا يتوافر في الصبي والمجنون،الخثم قال: طلاق الغضبان: يفهم مما ذكر أن طلاق الغضبان لا يقع إذا اشتد الغضب، بأن وصل إلى درجة لا يدري فيها ما يقول ويفعل ولا يقصده,أو وصل به الغضب إلى درجة يغلب عليه فيها الخلل والاضطراب في أقواله وأفعاله، وهذه حالة نادرة. فإن ظل الشخص في حالة وعي وإدراك لما يقول فيقع طلاقه، وهذا هو الغالب في كل طلاق يصدر عن الرجل". ترجمہ : مجنو ن کی طلاق صحیح نہیں ہے اور اسی کی مثل مغمی علیہ اور مدہوش ہے ، مدہو ش وہ شخص ہے جس پر ایسی حالت طاری ہوجس کی وجہ سے اس کو معلو م نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہاہے اور کیا کررہا ہے یا خو شی ، غمی ، خو ف یا غصہ کی شدت کی وجہ سے اس کے اقوال اور افعا ل میں غا لب طو ر پر خلل واقع ہو جا ئے ،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اغلاق میں طلاق نہیں ہے۔ اغلاق ہر اس حالت کو کہتےہیں جس میں جنو ن یا شدید غصے ،شدید غم وغیرہ کی وجہ سے سوچنے سمجھنے اور قصد وارادہ کا دروازہ بند ہو جائے ۔
طلاق کے وقوع میں بلو غ وعقل شرط ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے :بچے اور مجنو ن کی طلاق کے علاوہ ہرشخص کی طلاق جا ئز ہے ۔دوسری حدیث : تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے (1) نا بالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ،(2) نا ئم (سونے والا)سے جب تک وہ بیدارنہ ہو جا ئے ،(3) مجنو ن سے یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے ۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ طلاق ایک ایسا تصرف ہے کہ جس میں ادراک کامل اور مکمل عقل کی ضرورت ہو تی ہے اور یہ چیزیں بچے اور مجنون میں وافر طور پر نہیں پائی جاتیں ۔
جب شدید غصہ اس طور پر ہو کہ وہ شخص ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ اس کو معلو م نہ ہو وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ اس کا ارادہ کرتا ہو،یا ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ اس کے اقوال وافعال میں خلل اور اضطراب غالب ہو جا ئے تو اس وقت طلاق غضبان واقع نہیں ہو تی اور یہ حالت نا در (بہت کم )ہے ۔ اور اگر غصہ اتنا ہو کہ اس کو مکمل ادراک ہو کہ وہ کیا کہہ رہاہے تو اس کی طلاق واقع ہو جائے گی اور عام طو ر پر یہی غصہ پا یا جاتاہے جب کو ئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے ۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ البا ب الثانی ، فصل اول ج 7 ص351 مکتبہ رشدیہ )۔
ہما رے کراچی شہر کے علمائے اہل سنت میں سے جید وممتا ز مفتی محمد رفیق الحسنی صاحب مدظلہ العالی نے بھی علامہ ابن عا بدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کی اس تحقیق کواپنی کتا ب میں مفصل ذکر فرمایا ہے اور اسی تحقیق کو اپنا مختا ر قرار دیا ہے ۔ آپ لکھتے ہیں :"جب غصہ میں دی گئی طلاق کا حا دثہ پیش ہو تو دیکھا جا ئے کہ اس کا غصہ کس درجے کا تھا ؟ اگر اس کے کلام میں ہذیان اور بے مقصد لغو کلام صحیح کلام سے زیا دہ ہے اور صحیح اور با مقصد کلام کا بے مقصد کلام کے سا تھ اختلاط ہے اور اسی حالت کے مو جو د ہو تے وقت اس نے طلاق دی ہے تو طلاق واقع نہیں ہو گی اگر چہ وہ طلاق کے الفاظ بیان کرسکتا ہے اور کہتاہے کہ میں نے ان الفاظ کو ارادہ سے بولا تھا اور اگر غصہ اس مرتبہ سے کم تھا تو طلاق ہو جا ئے گی"۔(رفیق الزوجین الحزینین من اجل الفر قۃ والفسخ والطلاق البین ، غضبان کی طلاق کا حکم ص 133)۔
دماغی توازن صحیح نہ ہونے کی حالت میں طلاق دینے کا حکم
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں میری بیوی اور گھر والوں نے ایک طلاق نامہ بنوایا اور ان کے کہنے کے مطابق میں نے اس پر دستخط کیے تھے لیکن مجھے اس کا کوئی علم نہیں ۔ اس وقت میری بیوی نے علماء کرام سے دریافت کیا اس کا سوال درج ذیل ہے: میرا نکاح علی اکبر ولد سلطان کے ساتھ 1996ء میں ہوا تھا، رخصتی کے بعد ایک سال ان کے پاس رہی ہوں جس میں میرے شوہراور سسرال والوں کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک نہیں تھا، اس کے بعد ہمارے درمیان ناچاقی ہو گئی جس کی بنا پر میں میکے چلی آئی۔ کچھ دنوں کے بعد سسرال والوں کی طرف سے خبر ملی کہ علی اکبر پاگل ہو گیا ہے، میں پھر بھی میکے ہی رہی۔ نہ سسرال والوں نے دلچسپی لی اور نہ میری خبر لی، سات آٹھ سال بعدسسرال والوں نے میرے میکے والوں کو یہ کہا کہ آپ روبینہ کو ہمارے ساتھ روانہ کردیں شاید اس کا شوہر ٹھیک ہو جائے۔ میرے میکے والوں نے مجھے سسرال بھیج دیا، میں نے ڈیڑھ ماہ گزارہ لیکن میرے شوہرکی طبیعت ٹھیک نہ ہوئی ۔ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق علی اکبر کا ذہنی توازن صحیح نہیں ہے۔ ڈیڑھ ماہ رہنے کے بعد میں دوبارہ میکے چلی آئی پھر سسرال والوں نے کہا کہ ہم تمہیں آزاد یعنی طلاق دینا چاہتے ہیں اس طرح دونوں فریق سسرال اور میکہ نے آپس میں طے کر کے اسٹام پیپر پر علی اکبر سے طلاق کے سائن کرالئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یانہیں؟ کیونکہ مقامی مولوی حضرات سے پوچھا گیا تو انہوں نے یہ بتایا کہ جب تک انسان زبان سے طلاق کا لفظ نہیں بولتا تو طلاق واقع نہیں ہوتی حالانکہ منسلکہ طلاق نامہ جس میں تین طلاق کا ذکر ہے لکھنے کے بعد علی اکبر کو چار مرتبہ پڑھ کر سنایا گیا اس کے بعد علی اکبر نے طلاق نامہ پر خود ستخط کیے۔ اب آپ سے التماس ہے اس کا شرعی حکم بیا ن فرمائیں۔
سائل: علی اکبر، نیوبلدیہ ٹاؤن کراچی۔5-3-2013
ہم نے شوہر سے مکمل تفتیش کی اور اس کے دماغی مرض کے علاج کے کاغذات بھی دیکھے تو اس نتیجے پر پہنچے کہ صورت مسئولہ میں شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی روبینہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے جس طرح ہو سکے وہ اس کو راضی کر کے اپنے گھر لاسکتا ہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سوال میں سائلہ نے خود اقرار کیا کہ علی اکبر یعنی شوہر پاگل اور ذہنی مریض تھا۔ میکے اورسسرال والوں نے طلاق کی کاروائی کی ہے اور علی اکبر جو ذہنی توازن کھو چکا تھا اس کو چار مرتبہ سنایا گیا اور اس کے بعد اس سے سائن کرائے گئے ۔جو شخص پاگل اور ذہنی توازن کھو چکا ہے اس کو چار کیا ہزار مرتبہ بھی سنا کر دستخط کرائے جائیں تب بھی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
حدیث شریف میں ہے :« أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ». ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شا د فرمایا کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:(1): ایسا مجنو ن جس کا جنون اس کی عقل پر غالب ہو گیا ہو یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے۔ (2): سونے والےسے جب تک وہ بیدارنہ ہو جائے۔ (3): نا بالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ۔[ سنن ابی داؤد ، باب فی المجنون، حدیث(4401), ج:4, ص:140, المكتبۃ العصريۃ بیروت لبنان]۔
بخاری شریف میں ہے :« وَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ القَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلاَثَةٍ: عَنِ المَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَقَالَ عَلِيٌّ: وَكُلُّ الطَّلاَقِ جَائِزٌ، إِلَّا طَلاَقَ الْمَعْتُوهِ».
ترجمہ :’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیاآپ نہیں جانتے کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:(1): مجنو ن سے یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے۔ (2): نابالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ۔(3): سونے والےسے یہاں تک وہ بیدار ہو جا ئے۔ او ر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:معتو ہ کی طلاق کے علاوہ ہر طلاق جائز ہے ۔ (صحیح بخاری، باب الطلاق فی الإغلاق والكره، ج:7، ص:45، دار طو ق النجاہ)۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:" فَإِنَّ بَعْضَ الْمَجَانِينِ يَعْرِفُ مَا يَقُولُ وَيُرِيدُهُ وَيَذْكُرُ مَا يَشْهَدُ الْجَاهِلُ بِهِ بِأَنَّهُ عَاقِلٌ ثُمَّ يَظْهَرُ مِنْهُ فِي مَجْلِسِهِ مَا يُنَافِيهِ، فَإِذَا كَانَ الْمَجْنُونُ حَقِيقَةً قَدْ يَعْرِفُ مَا يَقُولُ وَيَقْصِدُهُ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى، فَاَلَّذِي يَنْبَغِي التَّعْوِيلُ عَلَيْهِ فِي الْمَدْهُوشِ وَنَحْوِهِ إنَاطَةُ الْحُكْمِ بِغَلَبَةِ الْخَلَلِ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ الْخَارِجَةِ عَنْ عَادَتِهِ، وَكَذَا يُقَالُ فِيمَنْ اخْتَلَّ عَقْلُهُ لِكِبَرٍ أَوْ لِمَرَضٍ أَوْ لِمُصِيبَةٍ فَاجَأَتْهُ: فَمَا دَامَ فِي حَالِ غَلَبَةِ الْخَلَلِ فِي الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ لَا تُعْتَبَرُ أَقْوَالُهُ وَإِنْ كَانَ يَعْلَمُهَا وَيُرِيدُهَا لِأَنَّ هَذِهِ الْمَعْرِفَةَ وَالْإِرَادَةَ غَيْرُ مُعْتَبَرَةٍ لِعَدَمِ حُصُولِهَا عَنْ إِدْرَاكٍ صَحِيحٍ كَمَا لَا تُعْتَبَرُ مِنْ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ".ترجمہ: بعض مجنون ایسے ہو تے ہیں کہ جوکچھ وہ کہہ رہے ہوتےہیں اس کووہ جانتے بھی ہیں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں اور ایسی با ت کرتےہیں کہ جن کواس کی حالت کا پتا نہیں ہو تا وہ گواہی دینے لگے کہ یہ شخص عاقل ہے لیکن اسی مجلس میں اس سے ایسی با ت صا در ہوجاتی ہے جو اس کی سابقہ ہو ش مندی کی با توں کے منا فی ہو تی ہے ، تو جو حقیقی مجنون ہے کبھی وہ بھی اپنی کہی ہو ئی با توں کو جانتے بھی ہیں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں تو جو حقیقی مجنو ن نہیں ہیں وہ تو بدرجہ اولی ایسے ہو سکتےہیں(کہ دماغی خلل کے با وجود وہ اپنی با ت کو جانتے بھی ہوں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہوں)۔ اس تما م بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مدہوش اور ان جیسے دیگر افراد کے با رے میں جس با ت پر اعتما د کرنا چا ہیے وہ یہ ہے کہ خلاف عا دت واقع ہو نے والے اقوال وافعال میں حکم کا مدارغلبہ خلل پر ہے، اسی طرح کہا جائے گا اس شخص کے بارےمیں جس کی عقل میں بڑھاپے ،مرض یا اچانک مصیبت کے صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہو گیا ہو،جب تک اس کے اقوال وافعا ل میں خلل کا غلبہ رہے گا اس کے اقوال معتبر نہیں ہو نگے،اگر چہ وہ ان اقوا ل کو جانتا ہو اور ان کا قصد بھی کرتاہو؛ کیونکہ یہ معرفت اور ارادہ ادراک صحیح کی وجہ سے حا صل نہیں ہوتے اس لئےان کا اعتبا ر نہیں ہے جس طر ح عاقل نا با لغ بچے کی معرفت اور ارادہ کا اعتبا ر نہیں ہوتا۔ [ردالمحتار، ج:4، ص:452، مکتبہ امدادیہ ملتان ] ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ روبینہ پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی وہ بدستوراپنے شوہر کے نکاح میں ہے جس طرح ممکن ہو اس کو راضی کر کے اپنے گھر بساسکتے ہیں ۔ اور سوال کے ساتھ منسلک دیوبندی مولوی کا فتوی شرعاً باطل ہے۔ سوال میں واضح الفاظ میں موجود ہے کہ" ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق علی اکبر کا ذہنی توازن صحیح نہیں ہے" اس کے باجود اس نے تین طلاق کا فتوی جاری کیا۔ایسے نام نہاد مفتی کا فتوى دینا حرام ہے۔ اور روبینہ کے بھائیوں اور گھر والوں پر لازم ہے کہ اس کو اس کے شوہر کے حوالے کریں اوران پر ظلم کرنے سے بچیں۔
واللہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 صفر المظفر 1440 ھ/22اکتوبر 2018 ء