سوال
لڑائی کے دوران میری بیوی نے مجھ سے تین مرتبہ کہا ' ' میں تمہیں طلاق دیتی ہوں ''میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ عورت کے طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے کہ نہیں؟ تو جواباً میں نے بھی غصے میں کہہ دیا کہ جب تونے مجھے طلاق دے دی ہے تو میں بھی دے دیتا ہوں، طلاق ،طلاق،طلاق۔ آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟ ہم رجوع کرسکتے ہیں یا نہیں؟
سائل:محمد رضوان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔ جسکے بعد عورت مرد کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ۔حلالہ شرعی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔
عورت کے طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں اس بات کا علم ہونا یا نہ ہونا کچھ معنٰی نہیں رکھتا،اصل یہ ہے کہ مرد جب عورت کوایسے الفاظ بول دے جو صراحتا ً یا دلالتاً مفیدِ طلاق ہوں تو عورت کو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ سو صورتِ مسئولہ میں مرد کےالفاظ '' جب تونے مجھے طلاق دے دی ہے تو میں بھی دے دیتا ہوں، طلاق ،طلاق،طلاق۔'' صراحتاً وقوعِ طلاق کا افادہ کررہے ہیں،کیونکہ کلامِ سابق میں طلاق سے ہی متعلق گفتگوہورہی ہے، لہذا بلا شک و شبہ ان الفاظ سے عورت کو طلاقِ ثلاثہ مغلظہ واقع ہوجائیں گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے :''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔ ( فتاوی عالمگیری ج1ص390)
نیز طلاق واقع ہوتے ہی عدت شروع ہو چکی ہے جسکی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ، اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ: 228)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:30 صفر المظفر ا1444 ھ/27 ستمبر 2022 ء