جا میں تجھے چھوڑتا ہوں
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 650

    سوال

    میرا نام فائزہ ہے ، میرے شوہر نے مجھے ایک بار طلاق دی تھی اسکے بعد رجوع کر لیا تھا ۔پھر اسکے تین مہینے بعد لڑائی ہوئی تو میرے شوہر نے تین بار بولا '' جا میں تجھے چھوڑتا ہوں، جا میں تجھے چھوڑتا ہوں، جا میں تجھے چھوڑتا ہوں''کیا اس طرح بولنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ جب اس نے مجھے یہ الفاظ بولے تھے تو اس وقت میری ساس اور جیٹھ بھی وہاں موجود تھے ، لیکن طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا تو اس طرح سے طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں میرے دوچھوٹے چھوٹے بچے ہیں میرے سوال کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دے دیں۔

    سائلہ : فائزہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہے کہ آپ کے شوہر آپکو پہلے ایک طلاق دے چکے ہیں ،(جس کی تفصیل نہیں لکھی گئی)اور اس کے بعد انہوں نے رجوع بھی کرلیا تھاتو اس ایک طلاق کے بعد ان کے پاس صرف بقیہ دو طلاقوں کا اختیار تھا ، لیکن جب انہوں نے تین بار یہ الفاظ '' جا میں تجھے چھوڑتا ہوں ''کہے تو آپکو دو طلاقیں اورواقع ہوگئیں اور تین کا عدد مکمل ہوگیا ،کیونکہ یہ الفاظ زمانہ حال کے ہیں جو انشاء طلاق پر دلالت کرتے ہیں ۔اور تیسری بار بولنا بے کار گیا۔اب آپ ان پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئیں ہیں کیونکہ اردو زبان میں یہ الفاظ طلاق صریح حکم میں ہیں۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی قسم کا ایک سوال کیا گیا کہ مرد نے یہ کلمات کہے کہ ''میرے کام کی نہ رہی، میں نےچھوڑدی، اگر آئے گی تو ناک کاٹ لُوں گاجہاں چاہے چلی جائے، جو چاہے سوکرے، اور اس کو عرصہ سال بھرسے زیادہ گزرگیا، آیا طلاق پڑی یا نہیں؟

    آپ جواباََ ارشاد فرماتے ہیں:''عورت کو چھوڑدینا عرفاً طلاق میں صریح ہے، خلاصہ وہندیہ میں ہے: لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترافھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ :ترجمہ: ترجمہ :اگر کوئی شخص بیوی کو کہے''میں نے تیرا چنگل باز رکھا، تجھے چھوڑا، تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں، تویہ تمام الفاظ عرفاً''تجھے طلاق دی'' کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔(فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 13 ص 582)

    حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی میں فرماتے ہیں :'' اردو میں یہ لفظ کہ '' میں نے تجھے چھوڑا''، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔''(بہار شریعت حصہ 8جلد 2ص 116)

    اب جبکہ آپکو تین طلاقیں واقع ہوچکیں اب آپ اپنے شوہر کے لئے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئیں آپ پر عدت گزارنا لازم ہے ، لہذا اگر حیض والی عورت ہے تو عدت تین حیض ہے یعنی تین حیض گزارنا لازم ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ با للَّه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ :ترجمہ: طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں اور اُنھیں یہ حلال نہیں کہ جو کچھ خدا نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا اُسے چھپائیں، اگر وہ اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں۔(البقرۃ: 228)

    اور اگر حیض والی نہیں مثلا پچپن سال سے زائد عمر ہے یا نو سال سے کم عمر بچی ہے تو اسکی عدت تین ماہ ہے اور اگرحاملہ ہو تو اسکی عدت وضع حمل یعنی جب تک بچہ پیدا نہ ہو تب تک عدت ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الاحمال أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ۔(الطلاق 4) ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جو حیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔

    اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالیٰ ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیما حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ:ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوندکے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بےان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''۔( البقرہ 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزرجائیں یاگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔(فتاویٰ رضویہ ، کتاب النکاح،جلد 12 ص 229)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحيح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:13 صفر المظفر 1440 ھ/22اکتوبر 2018 ء


    :