سوال
میرا نام صائمہ ہے میرے شوہر نے مجھے آج سے تقریباََ ڈھائی مہینے پہلے ایک طلاق دی تھی اور پھر فوراََ رجوع کر لیا تھا ، لیکن 31مارچ کو میری اور انکی بحث ہوئی تو انہوں نے غصے میں مجھے دو اور طلاقیں دے دیں مگر یہ بول کر '' جا میں نے تجھے چھوڑا'' تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور اگر میں اس دوران پیٹ سے ہوجاؤں توکیا اس صورت میں ہمارا رشتہ قائم رہا ، اور اگر واپسی کرنا چاہیں تو اس صورت میں حلالہ کا کیا طریقہ کار ہوگا، برائے مہربانی جلد از جلد رہنمائی فرمادیں۔ اور ویسے عدت کتنے دن کی ہوگی ، اور میں نوکری کرتی ہوں تو اس سلسلے میں بھی رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ : صائمہ رشید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہے کہ آپ کے شوہر آپکو پہلے ایک طلاق دے چکے ہیں ،(جس کی تفصیل نہیں لکھی گئی)اور اس کے بعد انہوں نے رجوع بھی کرلیا تھاتو اس ایک طلاق کے بعد ان کے پاس صرف بقیہ دو طلاقوں کا اختیار تھا ، لیکن جب انہوں نے یہ الفاظ '' جا میں نے تجھے چھوڑا'' دو بار کہے تو آپکو دو طلاقیں اور واقع ہوگئیں ، اب آپ ان پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئیں ہیں کیونکہ اردو زبان میں '' جا میں نے تجھے چھوڑا'' صریح کے حکم میں ہیں۔
سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی قسم کا ایک سوال کیا گیا کہ مرد نے یہ کلمات کہے کہ ''میرے کام کی نہ رہی، میں نے چھوڑ دی، اگر آئے گی تو ناک کاٹ لُوں گا، جہاں چاہے چلی جائے، جو چاہے سوکرے''۔ اور اس کو عرصہ سال بھر سے زیادہ گزرگیا، آیا طلاق پڑی یا نہیں؟
آپ جواباََ ارشاد فرماتے ہیں''عورت کو چھوڑدینا عرفاً طلاق میں صریح ہے، خلاصہ وہندیہ میں ہے: لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترافھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ : ترجمہ :اگر کوئی شخص بیوی کو کہے''میں نے تیرا چنگل باز رکھا، تجھے چھوڑا، تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں، تویہ تمام الفاظ عرفاً''تجھے طلاق دی'' کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی''۔حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت حصہ 8جلد 2ص 116میں فرماتے ہیں '' اردو میں یہ لفظ کہ '' میں نے تجھے چھوڑا''، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو''۔
اب جبکہ آپکو تین طلاقیں واقع ہوچکیں اب آپ اپنے شوہر کے لئے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئیں آپ پر عدت گزارنا لازم ہے ، لہذا اگر حیض والی عورت ہے تو عدت تین حیض ہے یعنی تین حیض گزارنا لازم ہیں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ: (البقرۃ: ۲۲۸.)
ترجمہ: طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں اور اُنھیں یہ حلال نہیں کہ جو کچھ خدا نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا اُسے چھپائیں، اگر وہ اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں۔اور اگر حیض والی نہیں مثلا پچپن سال سے زائد عمر ہے یا نو سال سے کم عمر بچی ہے تو اسکی عدت تین ماہ ہے اور اگر پیٹ سے ہو تو اسکی عدت وضع حمل یعنی جب تک بچہ پیدا نہ ہو تب تک عدت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ(الطلاق 4) ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جو حیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔
اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے،فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ:ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بےان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں ،'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 صفر المظفر 1440 ھ/22اکتوبر 2018 ء