جھوٹا طلاق نامہ بنوانے کا حکم
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 653

    سوال

    میرے شوہر امریکہ میں رہتے ہیں اور وہ وہاں کی شہریت کے حصول کے لئے پیپر میرج کرناچاہتے ہیں ، وہاں کے قانون کے مطابق ایک شخص ایک وقت میں ایک بیوی رکھ سکتا ہے ، اس کے لئے انہیں مجھے طلاق شو کرنی ہوگی جس کے لئے طلاق کے ییپرز بنوانے ہونگے ۔ کیا اس سے طلاق ہوجاتی ہے کیونکہ وہ مجھے طلاق نہیں دینا چاہتے اس پر میری رہنمائی فرمائیں۔

    سائلہ:بنت عبداللہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر طلاق نامہ میں ایسے الفاظ موجود ہوں جو مفید طلاق ہوں مثلاً ''میں فلانی بنت فلاں کو طلاق دیتا ہوں '' تو اس سے عدد کے اعتبار سے طلاق واقع ہوجائے گی، یعنی اگر ایک بار لکھا ہو تو ایک طلاق، دو بار ہو تو دو، تین بار ہو تو تین۔ کیونکہ طلاق ہر حال میں واقع ہوجاتی ہے خواہ سنجیدگی میں دی جائے یا مزاح میں ، غصہ کی حالت میں دی جائے یا برضا و رغبت دی جائے، فی الواقع دی جائے یا جھوٹ کے ذریعے۔ اس لئےاس صورتحال میں بلاشبہ طلاق واقع ہوجائے گی کہ یہ طلاق لہو و لعب اور ہزل کی قبیل سے ہی ہے کہ اسکا مقصد صرف بیرون ملک شہریت کا حصول ہے جو انہیں طلاق نامہ دکھا نے کے بعد وہاں کسی سے پیپر میرج کرنے کے بعد حاصل کی جائے

    البتہ اگر اس طلاق نامہ میں ماضی میں وقوعِ طلاق کا اقرار ہو مثلاً میں نے دو ماہ پہلے طلاق دے دی ہے تو اس صورت میں قضاءً طلاق واقع ہوجائے گی جبکہ دیانۃً طلاق واقع نہیں ہوگی۔

    حدیث مبارک میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ثلاث جدھن جد، وھزلھن جد، النکاح والطلاق الرجعۃ۔ترجمہ:تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی ہے نکاح ، طلاق اور رجوع ۔ (ترمذی ، حدیث نمبر :1184 )

    عالمگیری میں ہے : و طلاق اللاعب و الھازل بہ واقع ۔ترجمہ: لہو و لعب کرنے والے اور ہنسی مذاق کرنے والی کی طلاق واقع ہوجائے گی۔(عالمگیری جلد اول کتاب الطلاق فصل فیما یقع الطلاق، ج 1 ص 353)

    یاد رہے جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد9ص 675)

    حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)

    طلاق نامہ بھی مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔شامی میں ہے : وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً لَادِيَانَةً۔ ترجمہ:اور اگر شوہر طلاق کا اقرار کرے خواہ جھوٹ میں کرے یا مذاق میں کرے قضاءََ طلاق واقع ہوجائے گی دیانۃ واقع نہیں ہوگی۔ (رد المحتار مع الدر المختار کتاب الطلاق جلد 3 ص 236،بیروت لبنان۔)

    پیپر میرج کے حکم کی تفصیل یہ ہے کہ اگر عد الت میں حاضر ہوکر دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کیا گیا اگرچہ مقصد پیپر میرج کرنا ہو، تو اس عمل سے شرعًا نکاح منعقد ہوجائے گا البتہ اگر ایجاب و قبول کیے بغیراور بغیر گواہان کے صرف نکاح نامہ پر دستخظ کئے اور نکاح کی دستاویزات تیار کرلی تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، کہ صرف دستخط کردینا ایجاب و قبول کے قائم مقام نہیں ہوسکتایونہی بغیر گواہوں کے بھی نکاح نہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14 رمضان المبارک 1445ھ/ 25 مارچ 2024 ء