تین طلاق کے بعد عدت میں رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 648

    سوال

    میری چھوٹی بہن کی11 سال پہلے شادی ہوئی تھی، بعض وجوہات کی بناء پر طلاق واقع ہوگئی ۔اب وہ تین طلاقوں کے بعد عدت گزار رہی ہیں ۔ لیکن اب دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا کوئی صورت ایسی ہوسکتی ہے کہ عدت کے دوران رجوع کرکے آپس میں ازدواجی حیثیت سے رہ سکیں ۔ تفصیلا آگاہ فرمادیں۔

    سائلہ: مسز ساجدہ:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے،عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جسکے بعد عورت مرد پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اب دونوں کا آپس میں بغیر حلالہ کے رہنا ناجائز و حرام ہے۔

    طلاق دینے کے فورا بعد ہی عورت کی عدت شروع ہوگئی ہے، عدت کی تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ نہیں ہے تو مکمل تین حیض عدت گذارنا ضروری ہے، اس کے بعد ہی نکاح ثانی ہوسکتا ہے، اور اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، یعنی طلاق کے بعد جب بچہ پیدا ہوجائے جب اس کی عدت پوری ہوگی۔

    تین طلاق کے بعداگر میاں ،بیوی دوبارہ رہنے پر راضی ہوں توبغیر حلالہ شرعی کے نہیں رہ سکتے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَالِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ'ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ، پھر وہ دوسرا اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''۔( البقرۃ:آیت نمبر: 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریمﷺکےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیر سےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔ ( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12ص84رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    نوٹ: یہ بات یاد رکھیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شریعت میں سخت گناہ ہے،قرآنِ پاک کےبتائےہوئےطریقےکےخلاف،بلکہ قرآن پاک کےساتھ ایک طرح کا کھیل اور مذاق ہے،جیساکہ ایک حدیث اس بات کی غمازی کرتی ہے أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟ترجمہ: رسول اللہﷺکوایک شخص کےمتعلق یہ اطلاع ملی کہ اس نےاپنی بیوی کوایک ساتھ تین طلاق دےدی ہیں،تو آپﷺسخت غصہ کی حالت میں کھڑےہوگئےاورارشادفرمایا کہ:ابھی جب کہ میں تمہارےدرمیان موجودہوں،کیا کتاب اللہ سےکھیلاجائےگا؟ (یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینا قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے طریقہٴ طلاق سے کھیل ہے)اس وقت ایک صحابی کھڑےہوگئے،اورعرض کیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس آدمی کوقتل ہی نہ کردوں،جس نےیہ حرکت کی ہے۔(سنن نسائی، کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعۃ ومافیھا حدیث نمبر،3401)

    لیکن اگر کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی تو وہ باتفاق ائمہ اربعہ کے واقع ہوجائیگی ۔ طلاق دینے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔لیکن یاد رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاق دینے کی صورت عدت گزرنے کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 جمادی الاول1441 ھ/31 دسمبر2019ء