وراثت کے مال سے کاروبار
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 39
    حوالہ: 292

    سوال

    میرے دادا کا2001 میں انتقال ہوا۔تمام فیملی کی رہائش ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے دادامرحوم کا ترکہ تقسیم نہیں ہوا۔ ترکے میں ایک مکان، کچھ دوکانیں ،کارخانہ اور کچھ کیش تھا۔دادا مرحوم کے کاروبار کو تمام بیٹیوں نے مل کر آگے چلایا اورپھر کچھ عرصے بعد یہ کاروبار بند کردیا۔اس کے بعد اسی کاربار سے دوسرے کاروبار شروع کئے اور بیٹوں نے اپنی کوئی رقم نہیں لگائی بلکہ دادا مرحوم کےہی کاروبار کو بیچ کر نیا کاروبار کیا گیا۔ہم دادا مرحوم کا ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔زندہ ورثاء میں 6بیٹے،3بیٹیاں اور زوجہ ہیں۔ایک بیٹا 2019 میں انتقال کرگیا جس کے اپنے ورثاء میں زوجہ،2 بیٹے،3 بیٹیاں،6بھائی ،3 بہنیں اور والدہ ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ دادا مرحوم کے انتقال کے بعد بیٹوں نے ترکہ کے علاوہ جو کاروبار کیا اس میں بھی بیٹیوں اور زوجہ کا حصہ ہوگا؟ یا بیٹیوں اور زوجہ کو اسی ترکہ میں سے حصہ ملے گا جو دادا مرحوم کے وفات کے وقت موجود تھا؟

    نوٹ: تقسیم ترکہ سے پہلے ہی تمام ورثاء نے اپنی رضامندی سے ترکے میں موجود کیش بہنوں کو بطور تحفہ تقسیم کیا۔نیز بیٹوں کے نئے کاروبار میں بھی تمام ورثاء راضی تھے۔

    سائل: محمد سعید(پوتا) ، نیو کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں دو مسئلے ہیں:(۱)ترکے کی تقسیم۔(۲)بعدِ وفاتِ مورث نئے کاروبار میں ورثاء کا حصہ۔ان کے جوابات ملاحظہ ہوں:

    (۱)اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 1632 حصے کئے جائیں گےجن میں سے دادا مرحوم کی زوجہ کو 232، ہر ایک بیٹے کو 168،ہر ایک بیٹی کو 84،مرحوم بیٹے کی زوجہ کو 21، مرحوم بیٹے کے ہر ایک بیٹے کو 34 اور مرحوم بیٹے کی ہر ایک بیٹی کو 17 حصے تقسیم ہونگے۔

    ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 1632 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    اصول ہے کہ وراثت مورث (جسکی وراثت تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے وقت زندہ وارثوں میں تقسیم ہوتی ہے، اگرچہ وہ بعد میں خود انتقال کر جائیں۔نیز ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان،مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    (۲)اگر واقعی بیٹوں نے یہ کاروبار بقیہ ورثاء کی اجازت اور رضامندی سے کیا ہے تو اس نئے کاروبار کے نفع و نقصان میں دیگر ورثاء بھی برابر کے شریک ہوں گے۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ:

    8×17=136×12=1632

    میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    زوجہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا 3بیٹیاں

    ثمن عصـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ

    1×17=17 7×17=119

    ×12=204 14 14 14 14 14 14 14 7/21

    ×12=168 ×12=168 ×12=168 ×12=168 ×12=168 ×12=168 ×12=252/84


    24×7=168/12 14/1 :مافی الید

    میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت بیٹا

    والدہ زوجہ 2بیٹے 3بیٹیاں 6بھائی 3بہنیں

    سدس ثمن عصــــــــــــــــــــــــبہ محروم

    4 3 17×7=119

    ×7=28 ×7=21 34/68 17/51

    1632

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    والدہ 6بیٹے 3بیٹیاں مرحوم بیٹے کی زوجہ مرحوم بیٹےکے 2بیٹے مرحوم بیٹے کی3بیٹیاں

    232 168/1008 84/252 21 34/68 17/51


    دلائل وجزئیات:

    قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    اولاد کی موجودگی میں والدہ کا کل ترکے میں سے چھٹا حصہ ہے، فرمان باری تعالی ہے: وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ. ترجمہ:اور میت کے ماں باپ (میں سے) ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ملے گا) اگر میت کے اولاد ہو۔(النساء: 11)

    بیٹے کی موجودگی میں بھائی بہن محروم ہوتے ہیں کہ بیٹا ان کے مقابلہ میں قریبی وراث ہے،چنانچہ عصبہ بنفسہ کے متعلق علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"ثُمَّ الْعَصَبَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ أَرْبَعَةُ أَصْنَافٍ جُزْءُ الْمَيِّتِ ثُمَّ أَصْلُهُ ثُمَّ جُزْءُ أَبِيهِ ثُمَّ جُزْءُ جَدِّهِ (وَيُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْهُمْ) بِهَذَا التَّرْتِيبِ فَيُقَدَّمُ جُزْءُ الْمَيِّتِ (كَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِهِ وَإِنْ سَفَلَ ثُمَّ أَصْلُهُ الْأَبُ وَيَكُونُ مَعَ الْبِنْتِ) بِأَكْثَرَ (عَصَبَةً وَذَا سَهْمٍ) كَمَا مَرَّ (ثُمَّ الْجَدُّ الصَّحِيحُ) وَهُوَ أَبُو الْأَبِ (وَإِنْ عَلَا) وَأَمَّا أَبُو الْأُمِّ فَفَاسِدٌ مِنْ ذَوِي الْأَرْحَامِ (ثُمَّ جُزْءُ أَبِيهِ الْأَخُ) لِأَبَوَيْنِ (ثُمَّ) لِأَبٍ ثُمَّ (ابْنُهُ) لِأَبَوَيْنِ ثُمَّ لِأَبٍ (وَإِنْ سَفَلَ)". ترجمہ:پھر عصبہ بنفسہ کی چار اقسام ہیں: میت کا جز پھر میت کی اصل ، پھر اس کے باپ کا جز اور پھر اس کے دادا کا جز اور ان میں سے زیادہ قریبی کو مقدم کیا جائے گا اور پھر اسے جو اس کے بعد زیادہ قریبی ہو گا اسی ترتیب کے مطابق۔(الدر المختار،کتاب الفرائض،فصل فی العصبات،6/774،دار الفکر)

    اسکے تحت علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"فَيُقَدَّمُ جُزْؤُهُ كَالِابْنِ وَابْنِهِ عَلَى أَصْلِهِ كَالْأَبِ وَأَبِيهِ وَيُقَدَّمُ أَصْلُهُ عَلَى جُزْءِ أَبِيهِ كَالْإِخْوَةِ لِغَيْرِ أُمٍّ وَأَبْنَائِهِمْ، وَيُقَدَّمُ جُزْءُ أَبِيهِ عَلَى جُزْءِ جَدِّهِ كَالْأَعْمَامِ لِغَيْرِ أُمٍّ وَأَبْنَائِهِمْ". ترجمہ:میت کے جز جیسا کہ بیٹا اور پوتا کو اس کی اصل جیسا کہ باپ اور دادا پر مقدم کیا جائے گا۔ اور میت کی اصل کو اس کے باپ کے جز پر مقدم کیا جائے گا جیسا کہ بھائی اور ان کے بیٹے جو کہ اخیافی نہ ہوں ، اور میت کے باپ کے جز کو دادا کے جز پر مقدم کیا جائے گا جیسا کہ بچے اور ان کے بیٹے جو کہ اخیافی نہ ہوں۔(رد المحتار،کتاب الفرائض،فصل فی العصبات،6/774،دار الفکر)

    خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لَوْ اجْتَمَعَ إخْوَةٌ يَعْمَلُونَ فِي تَرِكَةِ أَبِيهِمْ وَنَمَا الْمَالُ فَهُوَ بَيْنَهُمْ سَوِيَّةً، وَلَوْ اخْتَلَفُوا فِي الْعَمَلِ وَالرَّأْيِ".ترجمہ:اگر بھائی اپنے والد کے ترکے میں اکٹھے ہوئے،( تجارت کی وجہ سے) مال میں اضافہ ہوگیا تو اب یہ سب کے سب برابرکے حصہ دار ہوں گے، اگرچہ عمل اور عقل میں مختلف ہی کیوں نہ ہوں ۔(رد المحتار،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،4/325،دار الفکر)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:3 محرم الحرام 1445 ھ/9 جون 2024ء