ایک بیوی،ایک بیٹی، چار بھائی، پانچ بہنیں
    تاریخ: 14 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1033

    سوال

    ایک شخص سید حیدر علی کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی زہراء ،ایک بیٹی سندس ،چار بھائی(صدیق، مشتاق،عبدالقادر ،عبدالرزاق)تھے جن میں سے دو حیات ہیں اور دو (عبدالقادر ،عبدالرزاق )کا انکی وفات کے بعد انتقال ہوگیا اور دو زندہ ہیں اسی طرح انکی پانچ بہنیں ہیں جس میں سے ایک کا انکی وفات سے پہلے انتقال ہوا اور چار (آمنہ،مہرالنساء،سلمٰی،محمودہ)ابھی زندہ ہیں ۔

    وفات پانے والے بھائیوں میں سے عبدالقادر کا انتقال پہلے ہوا ، انکے ورثاء میں بیوی(زہراء)بیٹا(محبوب)تین بیٹیاں(شمع،صغرٰی،ریحانہ) ہیں۔

    اور عبدالرزاق کے ورثاء میں بیوی (حسن بانو)دو بیٹیاں (زبیدہ،اسماء)ہیں ۔ان سب کے درمیان وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ شرعی اعتبار سے بتادیں۔

    سائلہ: زوجہ سید حیدر علی قادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو کل وراثت کے 15360 حصے کیئے جائیں گے جس میں سے زہراء(زوجہ حیدر علی )کو 1920 حصے اور سندس کو 7680 حصے،صدیق اور مشتاق میں سے ہر ایک کو 1010 حصے ملیں گے آمنہ،مہرالنساء،سلمٰی ،محمودہ میں سے ہر ایک کو 505 حصے ملیں گے۔ عبدالقادر کے ورثاء میں سے انکی بیوی زہراء کو 120 حصے،محبوب کو 336 حصے،شمع، صغرٰی،ریحانہ میں سے ہر ایک کو 168 حصے ملیں گے، جبکہ عبد الرزاق کے ورثاء میں سے حسن بانو کو 120 حصے، زبیدہ اور اسماء میں سے ہر ایک کو 320 حصے ملیں گے۔

    نوٹ: مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 جمادی الاول 1440 ھ/21 جنوری 2019 ء