سوال
عرض یہ ہیکہ میرے بیٹے نے تین سال پہلے کورٹ میں شادی کی تھی،شادی کے بعدسےدو سال تک وہ ہمارے پاس ہی رہتے تھے اس کے بعد کچھ مسائل کی وجہ سے وہ الگ ہوگئے۔آٹھ ماہ بعد پتا چلا کہ جس آفس میں میرا بیٹا اور میری بہو جاب کرتے ہیں وہاں کسی لڑکے سے میری بہو کے نا جائز تعلقات ہیں اور اس کی گواہی آفس کے دیگر ملازمین دی ،اس کے بعد میرے بیٹے نے خود اپنی بیوی سے پوچھاتو اس نے تصدیق کی اور کہا میں اس لڑکے4،3مرتبہ تمہاری غیر موجودگی میں گھر بلا چکی ہوں ۔اس کے بعد میرا بیٹا اس کو لیکر واپس ہمارے آگیا ہے اوربیٹےنے اب اس کو دوسروں کے کہنے اور اس کی معافی مانگنے پر رکہا ہوا ہے لیکن اب ان کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں اور میرا بیٹا اس پر ہاتھ بھی اٹھا تا ہے ۔
آپ مہربانی کرکے بتائیں میرا بیٹا اس کو اگر طلاق دینا چاہے تو گنہگار تو نہیں ہوگا ۔
سائلہ:روشن پروین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
"نکاح "ایک عظیم سنت ہے،اس کے ذریعہ آدمی عفت وعصمت اور پاکدامنی حاصل کرتا ہے، زنا جیسی قبیح حرکت سے محفوظ رہتا ہے، اسی پاکیزہ رشتہ کی برکت سے نسلِ انسانی کی بقا ہے، یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ"(سنن ابن ماجہ،باب ماجاء فی فضل النکاح،رقم:1846)ترجمہ:نکاح میری سنت ہے پس جو (جان بوجھ )کر میری سنت پر عمل نہ کرے وہ میرا نہیں ہے ،تم نکاح کرو بیشک میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گایہ رشتہ جب قائم ہوجاتاہے تو اس میں پائداری اور ہمیشگی مقصود ہوتی ہے تاکہ مرد وعورت باہم وابستہ رہ کر عفت وپاکبازی کے ساتھ مسرت وشادمانی کی زندگی گذارسکیں، جس طرح وہ کسی کی اولاد ہیں، اسی طرح ان سے بھی اولاد کا سلسلہ چلے اور اولاد اُن کے لیے دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور اور آخرت میں حصولِ جنت کا وسیلہ بنیں، گویا نکاح کے مقاصد پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ رشتہ باقی رہے، اسے باقی رکھنے کی ساری اور آخری کوشش کرنی چاہیے ۔
شریعت مطہرہ میں رشتہٴ نکاح کو بلا وجہ شرعی ختم کرنا سخت نا پسند ہے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے "أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ"(سنن ابو داؤد،بابفی کراہیۃ الطلاق،رقم2178)ترجمہ:جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ( دارقطنی ،کتاب الطلاق ،رقم:3984)ترجمہ: روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسندچیز کو پیدا نہیں فرمایا۔
لیکن نکاح کے مذکورہ تمام فضائل اور طلاق کی کراہیت ونقصانات کے باوجود شریعت مطہرہ میں بعض اوقات طلاق دینا مباح ،بعض اوقات مستحب، بعض اوقات واجب اور بعض اوقات مکروہ ہو تا ہے
تنویر الابصار مع الدر لمختار (کتاب الطلاق،ج:۳،ص:۲۲۹،طبع:دارالفکر ،بیروت)میں ہے :وإيقاعه مباح وقيل الأصح حظره أي منعه إلا لحاجةكريبة وكبر بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة ويجب لو فات الإمساك بالمعروف :ترجمہ:طلاق دینا مباح ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی اصل ممانعت ہے مگر حاجت کے وقت( مباح ہے)جیسے عورت کے فاحشہ ہونے کے گمان کی وجہ کی وجہ سے یا عورت کے زیادہ بوڑھی ہونے کی وجہ سے بلکہ عورت کے اذیت دینے یا نماز چھوڑنے کی وجہ سےطلاق دینا مستحب ہے اوراگر مرد عورت کے حقوق پورا نہیں کر سکتا ہو تو طلاق دینا واجب ہے ۔
اورالبحر الرائق (کتاب الطلاق ،ج:۳،ص:۲۵۵،طبع:دار الکتاب الاسلامی،بیروت)میں غایۃ البیان کے حوالے سے ہے :يُسْتَحَبُّ طَلَاقُهَا إذَا كَانَتْ سَلِيطَةً مُؤْذِيَةً أَوْ تَارِكَةً لِلصَّلَاةِ لَا تُقِيمُ حُدُودَ اللَّهِ تَعَالَى:ترجمہ:عورت کو طلاق دینا مستحب ہے جب وہ زبان دراز یا بے نمازی ہو کہ اللہ تعا لی کی حدود کو قائم نہیں کرتی ہو ۔
خلاصہ:
اگرواقعتا آپ کی بہو ویسی ہے جیسے آپ نے بیان کیا تو اس کو طلاق دینے کی وجہ سے آپ بیٹا گنہگارنہیں ہوگا لیکن اگر اس کی بیوی اللہ کی بارگاہ میں مذکورہ تمام گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرتی ہے اور آئندہ مذکورہ گناہ نہ کر نےاور اپنے شوہر اوراس کے گھر والوں کو تکلیف نہ دینے پر اقرار کرتی ہےتو اس کو طلاق نہ دینا زیادہ بہتر ہے ۔لیکن اگر معاملات درست نہ ہو طلاق دیا جا سکتا ہے اور طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے ۔
طلاق دینے کا طریقہ :
اگر شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو سب سے پہلے اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی بیوی ایامِ حیض میں تو نہیں؟ اگر بیوی ایامِ حیض میں ہے تو حیض کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔ ایامِ حیض کے خاتمے کے بعد ایامِ طُہر (پاکیزگی کے دنوں) میں جنسی تعلق قائم کیے بغیر ایک دفعہ طلاق دے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًاO
اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب اللّٰہ سے ڈرو عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں اور یہ اللّٰہ کی حدّیں ہیں اور جو اللّٰہ کی حدّوں سے آ گے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تمہیں نہیں معلوم شاید اللّٰہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے (الطَّلاَق، 1)
حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ:وَجْهُ الطَّلَاقِ لِقُبُلِ عِدَّتِهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، ثُمَّ يَتْرُكُهَا حَتَّى تَخْلُوَ عِدَّتُهَا، فَإِنْ شَاءَ
رَاجَعَهَا قَبْلَ ذَلِكَ رَاجَعَهَا.عدت کے لحاظ سے طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو طُہر (پاکیزگی) کے ایام میں چھوئے بغیر ایک طلاق دے، پھر اس کو چھوڑ دے یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے یا عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کرنا چاہے تو کر لے۔
المصنف عبدالرزاق، 6: 301، رقم: 10920طبع:المکتب الاسلامی، بیروت:
طلاق کے بعد بیوی ایامِ عدت شوہر کے گھر میں ہی گزارے گی۔ حائضہ (جسے حیض آتا ہو) کی عدت تین حیض، آئسہ (جسے بیماری، کم عمری یا سن رسیدگی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو) کی عدت تین مہینے اور حاملہ (جسے حمل ہو) کی عدّت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش)ہے
ایک طلاق دینے سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے جس کے بعد ایامِ عدت میں میاں بیوی کے پاس صلح و رجوع کا حق ہوتا ہے۔ اگر رجوع کی کوئی صورت بن جائے تو درست ورنہ عدت کی مدت پوری ہونے تک مزید کوئی طلاق نہ دی جائے۔ عدت پوری ہونے پر نکاح ختم ہو جائے گا‘ بیوی نئے نکاح کے لیے آزاد ہوگی، چاہے سابقہ شوہر کے ساتھ نیا نکاح کرلے یا چاہے کسی اور مرد سے دستور کے مطابق شادی کر لے۔ عدت پوری ہونے پر دوسری اور تیسری طلاق دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
عدت کے دوران مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے
۱۔شوہر بیوی کو گھر سے باہر نہیں نکال سکتا، اور نہ ہی بیوی کو خود گھر چھوڑ کر جانا چاہیے۔
۲۔ اگر عورت حمل سے ہے تو اسے اپنے حمل کو چھپانا نہیں چاہیے۔
۳۔شوہر کو عدت کے دوران بیوی کو نان ونفقہ مہیا کرتے رہنا ہوگا ۔
۴۔شوہرکی سوچ میں اگر تبدیلی واقع ہوتی ہے تو وہ اپنا ارادہ منسوخ کرسکتا ہے۔ قرآن کی رو سے اس کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہوگی اور وہ یہ ہے کہ وہ دوثقہ آدمیوں کو اپنے فیصلے پر گواہ بنائے۔
اگر عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد شوہر اپنے ارادے پر قائم رہتا ہے تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجائے گی۔ وہ اب ایک آزاد عورت ہے اور اگر وہ چاہے تو کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کا پورا حق رکھتی ہے اور کسی صورت میں بھی سابقہ شوہر کو اس کی شادی میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر حالات بدل جاتے ہیں اور دونوں رضامند ہوجاتے ہیں تو دونوں دوبارہ آپس میں شادی کرسکتے ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مہر واپس نہیں لیا جائیگا اگر ادائیگی ہو چکی ہے اور اگر ادئیگی نہیں ہوئی تو اداکرنا واجب ہے ۔
واللہ تعالی اعلم با الصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:18ذوالحجہ 1439 ھ/30اگست 2018 ء