سوال
محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم
میں نے اپنی بہن کی بیٹی انکے انتقال کے بعد پالی ہے۔اب اس کی شادی اکتوبر میں کر رہا ہوں تو کیا اس کی نکاح میں ، میں اپنی ولدیت دےسکتا ہوں شرعا اس بات کی اجازت ہے؟
سائل:۔ محمد جمیل راولپنڈی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جی نہیں آپ ان کی ولدیت میں اپنا نام نہیں دے سکتے بلکہ ان کے والد ہی کا نام دیا جا ئے گا۔ قال اللہ تبارک و تعالی :ادْعُوهُمْ لِآبائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ (سورۃالاحزاب :5)ترجمہ: انہیں انکے پاپ ہی کا کہہ کر پکا رویہ اللہ کے نز دیک زیادہ ٹھیک ہے ۔
اس آیت مبارکہ کے تحت احکا م القرآن للجصاص قدیمی کتب خانہ ،ج:3 ص:521میں ہے: فیہ حظر اطلاق اسم الابوۃ من غیر جہۃ النسب:ترجمہ :اس آیت مبارکہ میں ولدیت کی نسبت نسبی والد کے علاوہ کی طرف کر نے کی ممانعت ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد