warasat ka masla walida teen bhai aur teen behnein
سوال
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے ، انکے ورثاء میں ہماری والدہ اورہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں ،والد صاحب نے ترکہ میں ایک گھر اورایک دکان چھوڑی ۔ والد صاحب پر کچھ قرض بھی ہے،ہم میں سے ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا ،؟
سائل: محمد عامر رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے ترکہ سے اسکی تجہیز و تکفین کی جاتی ہے اسکے بعد اگر اس کے ذمہ کسی کا قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی کی جاتی ہے پھر اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہو یا وارث کے لیے کی ہو اور ورثاء اس وصیت کو جائز قرار دیں تو اس کے کل مال کے تہائی سے اس وصیت کو پورا کیا جاتا ہے اسکے بعد جومال بچے وہ ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق شرعی طور پر تقسیم کیا جاتا ہے ۔
السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔
آپ کے والد پر جو قرضہ اسکی ادائیگی کے بعد جو مال بچے اسکو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ جس میں سے میت کی زوجہ کو کل مال کا ثمن یعنی آٹھواں حصہ دیا جائے گا ،
السراجی فی المیراث ص18 میں ہے:اما للزوجات الثمن مع الولد او ولد الابن:ترجمہ: بیویوں کے لیے اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ ہے۔
اور ہر بیٹے کو ہر بیٹی سے دگنا ملے گا۔ اس طرح کل وراثت کی تقسیم ہوگی۔قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
اسی میں ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ کل وراثت کو 72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے زوجہ کو 9حصے جبکہ ہربیٹے کو 14،14اور ہر بیٹی کو 7،7 حصے ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی