وراثت کا مسئلہ والدہ تین بھائی اوربہنیں

    warasat ka masla walida teen bhai aur behnein

    تاریخ: 12 مئی، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 1329

    سوال

    میرے والد صاحب کا انتقال 2010 میں ہوا ،جبکہ دادا کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہوچکا تھا، اب چچا اور تایا وغیرہ نے دادا کی وراثت میں سے ہمارے والد صاحب کا جو حصہ بنتا تھا وہ ہمیں دیا ہے جو کہ 470،000 ہے ،اور والد صاحب کے ترکے میں ایک پلاٹ ہے جسکی مالیت اس وقت تقریبا ساڑھے تین لاکھ ہے،اور اسکے علاوہ انہوں نے کچھ رقم نقد بھی چھوڑی تھی جس کو ہم سب نے اور والدہ نے اپنی خوشی سے گھر خریدنے میں شامل کرلی تھی ، اور اب ہم سب ساتھ رہتے ہیں ۔ہم تین بہنیں اور تین بھائی ہیں ، اور ایک والدہ ہے ۔ ان کے درمیان جو وراثت ہے وہ کیسے تقسیم ہوگی۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل: سعد حسین


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا اور ان کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے تو کلوراثت کے 72 حصے کیے جائیں گے ، جس میں سے آٹھواں حصہ یعنی 9حصے زوجہ کو ملیں گے ،

    قال اللہ تعالیٰ ولہن الربع مماترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم( النساء:12):ترجمہ: اورتم نے جو کچھ چھوڑا اس میں بیویوں کا چوتھا حصہ ہے جبکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو ،اور اگر تمہاری اولاد ہو توجو تم نے چھوڑا اس میں سے انکا آٹھواں حصہ ہے ۔

    یوں ہی سراجیہ ص 18 میں ہےاما للزوجات فحالتان الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد والثمن مع الولد:ترجمہ: بیویوں کو وراثت میں حصہ کی دو صورتیں ہیں ،ایک ہوں یا ایک ہے زائد ان کو ایک چوتھا ئی حصہ ملے گا، جبکہ کوئی اولاد نہ ہو، اور اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ ملے گا۔اور ہر بیٹی کو 7,7حصے ملیں گے اور ہر بیٹے کو بیٹیوں سے دگنا ملے گا۔

    قال اﷲ تعالیٰ للذکر مثل حظ لانثیین(النساء : 11) ترجمہ : مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔

    سراجی فی المیراث ص25پر ہے ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبہن:ترجمہ: اور بیٹی کو بیٹے کے ہوتے ہوئے ٰ للذکر مثل حظ لانثیین( یعنی مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔) کے تحت بیٹی سے دگناحصہ ملے گا۔

    خلاصہ یہ ہے کہ کہ کل وراثت کے 72حصے کئے جائیں گے جس میں سے میت کی زوجہ (آپکی والدہ )کو 9حصے ملیں گے ،اور ہر بیٹی کو 7,7حصے ملیں گے اور ہر بیٹے کو بیٹیوں سے دگنایعنی 14,14حصے ملیں گے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی