سوال
ہمارا علاقہ کچی آبادی پر مشتمل ہے اور اس میں ہمارے پاس کوئی میدان نہیں ہے جہاں نماز جنازہ پڑھا جاسکے اور کافی دور ایک میدان ہے جس تک پہنچنے کیلئے کافی آزمائش ہوتی ہے۔تنگ گلیاں اس میں کھڑا سیوریج کا پانی اور راستہ طویل ہونے کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد بھی کم ہوجاتی ہے نیز اس میدان میں موجود مسجد غیر مسلک کی ہے ۔اورجب جنازہ ان سے نہیں پڑھایا جاتا تو پھر وہ لوگ وضو وغیرہ کرنے کے لیے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں ۔میری عرض یہ ہےکہ ہماری جامع مسجد مدینہ منورہ جوکہ اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہے اسمیں نمازیوں کیلئے جگہ کافی ہے اور لیکن وہاں کوئی ایسا انتظام نہیں کہ جہاں مسجد سے باہر جنازہ اداکیاجاسکے ،اور مسجد بھی تنگ گلیوں کے درمیاں موجود ہے۔البتہ مسجد کے محراب کے آگے جنازہ رکھنے کی جگہ ہے ہم نے یہ سوچا ہےکہ محراب کے آگے جنازہ رکھ کر محراب میں دروازہ نکال کراس طرح جنازہ ادا کیا جائے کہ جنازہ محراب کے سامنے ہو اور امام اور مقتدی سب مسجد میں ہوں ۔آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ شریعت اس مسئلہ میں کیا حکم دیتی ہے جواب عنایت فرمائیں ؟
سائل:عرفان رضا قادری :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بیان کیا گیاتو ایسی صورت میں نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہے اور جو جنازہ رکھنے کی ہیئت بیان کی گئی اسی طرح جنازہ مسجد سے باہر محراب کے سامنے رکھا جائےاور یہی طریقہ درست ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ عام حالات میں نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنا مطلقاً مکروہ تحریمی ہے۔خواہ سب لوگ مسجد میں ہوں یا بعض لوگ،جنازہ مسجد میں ہو یا باہر اورنماز ِ جنازہ پڑھنے والے کو ثواب بھی نہیں ملے گا۔ لیکن صاحب ِ فتح القدیر نے اسے مکروہ تنزیہی قرار دیا ہے اور اسی قول کی بنیاد پر علامہ ابن عابدین شامی نے عذر کی وجہ سے مسجد میں نماز ِجنازہ کو جائز کہا ہے ۔مثلاً اگر مسجد سےمتصل کوئی جنازہ گاہ ، میدان وغیرہ نہ ہو کہ جہاں نماز جنازہ ادا کیا جاسکے تو ایسے اعذار کے سبب مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا جائزہے لیکن اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ جنازہ مسجد سے باہر محراب کے سامنے رکھا جائےاور پھر اگر محراب کے آگے جگہ ہو تو امام اورکچھ مقتدی جنازہ کے سامنے باہر کھڑے ہوجائیں اور اگر جگہ نہ ہو تو امام ومقتدی مسجد میں نماز ادا کریں ۔اور سوال ِمذکورہ میں بھی معاملہ اسی طرح ہے کہ جنازہ پڑھنے کی کوئی جگہ مسجد کے ارد گرد نہیں ہے بلکہ ایسی جگہ ہے جہاں غیر مسلک کی مسجد ہے لہذااس ضرورت کے تحت مسجد میں جنازہ پڑھنے کی اجازت ہوگی۔
الھدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:لَا يُصَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً) لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا أَجْرَ لَهُ ۔ترجمہ:جامع مسجد(جماعت والی مسجد ) میں نماز جنازہ نہ پڑھی جائے، بسبب فرمان ِمصطفی ٰ ﷺ کے:جس نے مسجد میں جنازہ پڑھا تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔
اس کے تحت محقق ابن الھمام صاحبِ فتح القدیر لکھتے ہیں:فِي الْخُلَاصَةِ مَكْرُوهٌ وَسَوَاءٌ كَانَ الْمَيِّتُ وَالْقَوْمُ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ كَانَ الْمَيِّتُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ وَالْقَوْمُ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ كَانَ الْإِمَامُ مَعَ بَعْضِ الْقَوْمِ خَارِجَ الْمَسْجِدِ وَالْقَوْمُ الْبَاقُونَ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ الْمَيِّتُ فِي الْمَسْجِدِ وَالْإِمَامُ وَالْقَوْمُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ. هَذَا فِي الْفَتَاوَى الصُّغْرَى. قَالَ: هُوَ الْمُخْتَارُ۔ترجمہ:خلاصۃ الفتاوی میں ہےکہ (نماز ِ جنازہ )مکروہ تحریمی ہےاور برابر ہےکہ میت اورامام ومقتدی مسجد میں ہو،یا میت مسجد سے باہر ہو اور امام ومقتدی مسجد میں ہو ،یا امام و بعض مقتدی مسجد سے باہر ہو اور باقی مقتدی مسجد میں ہوں یا میت مسجد میں ہو اور امام و مقتدی مسجد سے باہر ہوں۔یہ فتاوی صغری میں ہے ،انھوں نے کہا: یہی مختار ہے۔(فتح القدیر للکمال ابن الھمام،جلد:2،صفحہ:128،دار الفکر بیروت )
پھر محقق علی الاطلاق مکروہ کی بابت گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:ثُمَّ هِيَ كَرَاهَةُ تَحْرِيمٍ أَوْ تَنْزِيهٍ؟ رِوَايَتَانِ، وَيَظْهَرُ لِي أَنَّ الْأَوْلَى كَوْنُهَا تَنْزِيهِيَّةً، إذْ الْحَدِيثُ لَيْسَ هُوَ نَهْيًا غَيْرَ مَصْرُوفٍ وَلَا قَرَنَ الْفِعْلَ بِوَعِيدٍ بِظَنِّيٍّ بَلْ سَلَبَ الْأَجْرَ، وَسَلْبُ الْأَجْرِ لَا يَسْتَلْزِمُ ثُبُوتَ اسْتِحْقَاقِ الْعِقَابِ لِجَوَازِ الْإِبَاحَةِ. ترجمہ:پھر یہ کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی اس پر دو روایتیں ہیں ۔اور جو مجھ پر ظاہر ہوا کہ اولی یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہونا چاہئے۔ اس لیے کہ حدیث میں نہی ایسی نہیں کہ ناقابل ِ تصریف ہو۔اور ظنی ہونے کی بنیاد پر فعل کو وعیدسے نہیں ملاتی ،بلکہ اجر کی نفی کرتی ہے اور بسببِ جواز ِ مباح ثواب کی نفی استحقاق ِ سزا کے ثبوت کو مستلزم نہیں۔(فتح القدیر للکمال ابن الھمام،جلد:2،صفحہ:128،دار الفکر بیروت )
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:کرھت تحریما وقیل تنزیھافی مسجد جماعۃ ھوای المیت فیہ وحدہ او مع القوم واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم والمختارالکرھۃ مطلقا ترجمہ: مسجدِجماعت میں(نمازِ جنازہ) مکروہ تحریمی-اورکہا گیا کہ تنزیہی ہے جس میں تنہامیّت ہویا پڑھنے والوں کے ساتھ ہو،اوراس جنازہ کے بارے میں اختلاف ہے جو تنہا یا بعض لوگوں کے ساتھ بیرونِ مسجد ہو،اور مختاریہ ہے کہ مطقاً مکروہ ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار ،جلد:2،صفحہ:224،225،دارالفکر بیروت)
اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:صحیح یہ ہے کہ مسجد میں نہ جنازہ ہو نہ امامِ جنازہ ،نہ صفِ جنازہ۔یہ سب مکروہ ہے ۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:9،صفحہ:264،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور ضرورت کے وقت نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا جائز ہے اس کی بابت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:إنما تكره في المسجد بلا عذر، فإن كان فلا، ومن الأعذار المطر كما في الخانية والاعتكاف كما في المبسوط، كذا في الحلبة وغيرها. والظاهر أن المراد اعتكاف الولي ونحوه ممن له حق التقدم، ولغيره الصلاة معه تبعا له وإلا لزم أن لا يصليها غيره وهو بعيد لأن إثم الإدخال والصلاة ارتفع بالعذر تأمل، وانظر هل يقال: إن من العذر ما جرت به العادة في بلادنا من الصلاة عليها في المسجد لتعذر غيره أو تعسره بسبب اندراس المواضع التي كان يصلي عليها فيها، فمن حضرها في المسجد إن لم يصل عليها مع الناس لا يمكنه الصلاة عليها في غيره، ولزم أن لا يصلي في عمره على جنازة، نعم قد توضع في بعض المواضع خارج المسجد في الشارع فيصلى عليها، ويلزم منه فسادها من كثير من المصلين لعموم النجاسة وعدم خلعهم نعالهم المتنجسة مع أنا قدمنا كراهتها في الشارع. وإذا ضاق الأمر اتسع، فينبغي الإفتاء بالقول بكراهة التنزيه الذي هو خلاف الأولى كما اختاره المحقق ابن الهمام، وإذا كان ما ذكرناه عذرا فلا كراهة أصلا ۔ترجمہ:مسجد میں عذر کے بغیر یہ(نماز جنازہ پڑھنا)مکروہ ہے اگر عذر ہو تو مکروہ نہیں ۔عذروں میں سے بارش ہےجس طرح "الخانیہ" میں ہے۔اور اعتکاف ہے جس طرح "المبسوط" میں ہے۔ "الحلبہ" وغیرھا میں یہ اسی طرح ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ مراد ولی وغیرہ کا اعتکاف ہے جسے تقدم کا حق ہے ۔اور ولی کے علاوہ کے لیے عذر کے ساتھ اس کی تبع میں نماز ہے ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ولی کے علاوہ اس کی نماز جنازہ کوئی نہ پڑھے جبکہ یہ قول بعید ہے ۔کیونکہ مسجد میں داخل کرنے اور مسجد میں نماز جنازہ کا گناہ عذر کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔غور وفکر کرو۔
اس میں غور کرو کیا یہ کہا جاسکتا ہے : عذر میں سے یہ بھی ہے جو ہمارے ممالک میں معمول بن چکا ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے کیونکہ کسی اور جگہ نماز جنازہ پڑھنا ممکن نہیں یا نماز جنازہ پڑھنا مشکل ہے۔اس کا سبب یہ ہے وہ جگہیں ناپید ہوچکی ہیں جن میں نماز جنازہ پڑھی جاتی تھی۔ جو مسجد میں نماز جنازہ پر حاضر ہوا اگر وہ لوگوں کے ساتھ اس پر نماز جنازہ نہ پڑھے تو کسی اور جگہ اس پر نماز جنازہ پڑھنا ممکن نہیں اور یہ لازم آئے گا کہ وہ اپنی عمر میں نماز جنازہ نہ پڑھے ۔ہاں بعض جگہوں میں مسجد سے باہر سڑک پر میت رکھ دی جاتی ہے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے نمازیوں کی نماز کا فاسد ہونا لازم آتا ہے ۔کیونکہ نجاست عام ہوتی ہے اور وہ اپنے ناپاک جوتے نہیں اتارتے ،جبکہ ہم سڑک پر اس کے مکروہ ہونے کو پہلے بیان کرچکے ہیں ۔جب امر تنگ ہوتا ہے تو اس میں وسعت آجاتی ہے ۔ پس مکروہ تنزیہی کے قول پر فتوی ہوناچاہئے جو خلاف اولی ہے ۔جس طرح محقق ابن ہمام نے اختیار کیا ہے ۔وہ جو ہم نے ذکر کیا جب وہ عذر ہے تو اصلاً کراہت نہ ہوگی ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 جمادی الثانی 1444 ھ/12 جنوری 2023 ء