یارن ویونگ کےلیے فیکٹری میں آیا اور جل گیا تو اس کا حکم
    تاریخ: 4 فروری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 735

    سوال

    زید کی towel weavingکی مشین ہے ۔کسٹمر سے زید یارن(yarn) خریدتا نہیں ہے ۔بلکہ کسٹمر اسے صرف ویونگ کے لیے یارن(yarn) دیتا ہے اور towel ویو کرکے اس سے لیبر چارجز لے لیتاہے۔ کچھ مہینے پہلے رات کے وقت اس کی فیکٹری میں آگ لگنے کا حادثہ ہوگیا جس میں کسٹمر کے یارن (yarn)جل گئے ۔اب سوال یہ ہے کہ جو کسٹمر کے یارن جل گئے کیا اس کا زید پر کوئی ضمان لازم ہے؟نیز مارکیٹ میں لوگوں کا یہ طریقۂ کار ہے کہ کبھی کبھار خود ہی گھٹیا صفت کے مال میں آگ لگوادیتے ہیں تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل ہو اور وہ پیسوں کا تقاضہ نہ کریں؟ ایسا کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

    سائل:علامہ بلال قادری :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں جو کام کی نوعیت بیا ن کی گئی ہے اس میں زید کی حیثیت اجیر مشترک کی ہے اور اجیر مشترک سے کوئی چیز اس کی تعدی کے بغیر ہلاک ہوجائے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق نصف قیمت کا ضامن ہوگا۔لہذا زید پر لازم ہے کہ چیز کی جو مارکیٹ ویلیو ہے اس کی نصف قیمت کسٹمر کو ادا کرے

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اجیر کی دو قسمیں ہیں: (1) اجیر مشترک (2) اجیر خاص ۔ اجیر مشترک وہ اجیر ہوتا ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں کا اجیر ہوسکتا ہے ، اور یہ کام کرکے دینے کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے ، تسلیم نفس کی وجہ سے اجرت کا مستحق نہیں ہوتا۔اور اجیر واحد جس کو اجیر خاص بھی کہتے ہیں ،یہ وہ اجیر ہے جو ایک وقت میں ایک شخص کا اجیر ہوسکتا ہے ،اس کے اجارہ کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اجارہ کا وقت معلوم ہو مثلا گھنٹوں کے حساب سے یا دنوں کے یا مہینوں کے حساب سے معلوم ہو۔ اجارہ کی اس قسم میں کام معلوم ہونا ضروری نہیں ،البتہ عرف میں اس سے جو کام لیا جاسکتا سے وہی لیا جائے گا اسکے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں لیا جاسکتا۔

    اور اجیر مشترک سے کوئی چیز یا تو اس کے فعل سے ہلاک ہوئی ہوگی یا نہیں ۔اگراس کے فعل سے ہلاک ہوئی ہے تو اجیر کی اس میں تعدی ہے یا نہیں ۔بہر صورت اس پر ضمان ہوگا ۔اور اگر اس کے فعل سے ہلاک نہیں ہوئی تو دیکھیں گے کہ اس سے بچنا ممکن تھا یا نہیں ۔اگر بچنا ممکن نہیں تھا تو سب کا اتفاق ہے کہ وہ ضامن نہیں ہوگا ۔اور اگر بچنا ممکن تھا تو امام صاحب کے نزدیک وہ ضامن نہیں ہوگا اور صاحبین کے نزدیک وہ ضامن ہوگا۔لیکن متاخرین کا اس پر فتوٰی ہے کہ دوسری صورت میں مطلقاً (چاہے بچنا ممکن ہو یا نہ ہو) چیز کی نصف قیمت پر صلح کی جائے گی۔اور صورتِ مسئولہ میں برتقدیر ِ صدق ِ زید اس کے فعل کے بغیر یہ آگ لگی۔لہذا متاخرین کے قول کے مطابق اسےصلح کرکے نصف قیمت اداکرنی ہوگی۔

    امام فخر الدين عثمان بن علی بن محجن، زيلعی حنفی المتوفى: 743 ھ فرماتے ہیں : قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الْكَرْخِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ الْقَصَّارُ وَالصَّبَّاغُ وَالْخَيَّاطُ وَالصَّائِغُ وَكُلُّ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ لِعَمَلِهِ دُونَ تَسْلِيمِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ الْكَرْخِيُّ الْأَجِيرُ الْخَاصُّ مَنْ اسْتَحَقَّ الْأَجْرَ بِالْوَقْتِ دُونَ الْعَمَلِ وَذَلِكَ كَرَجُلٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا لِيَخْدُمَهُ شَهْرًا بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ أَوْ كُلَّ شَهْرٍ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ۔۔۔۔لِيَعْمَلَ عَمَلًا مِنْ الْأَعْمَالِ سَمَّاهُ كُلُّ شَهْرٍ بِكَذَا كَذَا أَوْ كُلُّ يَوْمٍ بِكَذَا أَوْ كُلُّ سَنَةٍ بِكَذَا أَوْ كَذَا فَهَذَا هُوَ الْخَاصُّ. إلَى هُنَا لَفْظُ الْكَرْخِيِّ فِي مُخْتَصَرِهِ،وَقَالَ فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ هُوَ أَنْ يَتَقَبَّلَ الْعَمَلَ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، وَأَجِيرُ الْوَحَدِ أَنْ يَتَقَبَّلَ الْعَمَلَ مِنْ الْوَاحِدِ، وَفِي الْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ الْعَقْدُ إنَّمَا يَقَعُ عَلَى تَسْلِيمِ الْعَمَلِ لَا عَلَى تَسْلِيمِ النَّفْسِ وَالْعَقْدُ فِي أَجِيرِ الْوَحَدِ يَقَعُ عَلَى تَسْلِيمِ النَّفْسِ إلَيْهِ فِي الْمُدَّةِ لَا عَلَى تَسْلِيمِ الْعَمَلِ. إلَى هُنَا لَفْظُ شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ، وَقَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ عَلَاءُ الدِّينِ الْإِسْبِيجَابِيُّ فِي شَرْحِ الْكَافِي وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ كُلَّ مَنْ يَنْتَهِي عَمَلُهُ بِانْتِهَاءِ مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ فَهُوَ أَجِيرٌ وَحَدٌ، وَكُلُّ مَنْ لَا يَنْتَهِي عَمَلُهُ بِانْتِهَاءِ مُدَّةٍ مُقَدَّرَةٍ فَهُوَ أَجِيرٌ مُشْتَرَكٌ۔ترجمہ:شیخ ابوالحسن کرخی نے اپنی مختصر میں فرمایا اجیر مشترک دھوبی، رنگریز،درزی،کاریگر اور ہر وہ شخص ہے جو اپنے کام سے اجرت کا مستحق ہو نہ کہ تسلیم نفس سے۔ پھر امام کرخی فرماتے ہیں اجیر خاص وہ ہے جو وقت کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ عمل سےاسکی مثال یہ ہے مثلا کسی شخص نے دوسرے کو ایک ماہ اجارہ پر رکھا تاکہ وہ (مثلا ) پانچ درہم کے عوض اسکی خدمت کرے گا یا پورا ماہ پانچ درہم کے عوض اسکی خدمت کرے گا یا کوئی بھی کام کرے گا اور ہرماہ یا ہر دن یا ہر سال کے پیسے مقرر کرلئے تو یہ اجیر خاص ہے۔یہاں امام کرخی کا وہ کلام ختم ہوا جو انہوں نے اپنی مختصر میں کیا ہے۔ پھر شرح الطحاوی میں فرمایا اجیر مشترک وہ ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں سے کام لے سکتا ہے ، اور اجیر واحد وہ اجیر ہے جو ایک وقت میں ایک شخص کا کام لےسکتا ہے ۔ اجیر مشترک میں عقد تسلیم عمل پر وارد ہوتا ہے جبکہ اجیر واحد میں عقد طے شدہ مدت تک تسلیم نفس پر وارد ہوتا ہےنہ کہ تسلیم عمل پر یہاں شرح الطحاوی کے الفاظ ختم ہوئے۔شیخ الاسلام علاء الدین اسبیجابی نے شرح الکافی میں فرمایا اس میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ شخص اجیر واحد ہے جسکا عمل مدت کے احتتام سے ختم ہوجائے۔اور جس کا عمل مدت کے اختتام سے ختم نہ ہو وہ اجیر مشترک ہے۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق مع حاشیہ چلپی،کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر جلد 5 ص 135 ملخصا و ملتقطا)

    اجیر مشترک پر ضمان کی بابت فتاوی شامی میں ہے:اعلم أن الهلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا، ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا وفي أوله لا يضمن عند الإمام مطلقا ويضمن عندهما مطلقا. وأفتى المتأخرون بالصلح على نصف القيمة مطلقا۔ ترجمہ:یہ جان لو اگر ہلاکت یا تو اجیر کے فعل سے ہوگی یا اجیر کے فعل سے نہیں ہوگی ۔پہلی صورت میں یا تو تعدی کے ساتھ ہوگی یا تعدی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔دوسری صورت میں یا تو اس سے بچنا ممکن ہوگا یا بچنا ممکن نہ ہوگا۔پہلی صورت میں دونوں قسموں میں ضامن ہوگا اور دوسری قسم میں دوسری صورت میں وہ بالاتفاق ضامن نہیں ہوگا۔ اور اس کی پہلی صورت میں وہ امام صاحب کے نزدیک ضامن نہیں ہوگا اور صاحبین کے نزدیک مطلقاً ضامن ہوگا۔متاخرین نے مطلقاً نصف قیمت پر صلح کا فتوی دیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،جلد:6،صفحہ:65،دارالفکر بیروت)

    البتہ جس بات کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے اگر واقعی ایسا ہوتا ہے اور کوئی شخص جان بوجھ کر مال کو آگ لگوا دیتا ہے تو ایسی صورت میں وہ دو طرح سے مجر م ہے ۔ایک تو دوسروں کا مال ناحق ہلاک کرکے اور دوسرا لوگوں کو دھوکہ دے کر انکی ہمدردی حاصل کرکے ۔اور کسی مسلمان کا مال ضائع کرنا سخت گناہ کا کام ہے نیز اس کی معافی بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بندہ معاف نہ کردے اور اگر ایسی حالت میں وہ بند ہ فوت ہوجائے تو قیامت کے دن تین پیسے کے عوض 700مقبول نمازیں اپنے نامۂ اعمال سے دینی ہونگی اور اگر نامۂ اعمال میں نیکیاں نہ ہوئیں تو اس شخص کے گناہ اپنے سر لینے ہونگے۔

    مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)

    اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن سے فتاوٰی رضویہ شریف میں ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا جو لوگوں کے قرض (حق)ادا نہیں کرتا آپ علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: صورت مستفسرہ میں زیدفاسق وفاجر، مرتکب کبائر، ظالم، کذّاب، مستحق عذاب ہے۔ اس سے زیادہ اورکیا القاب اپنے لئے چاہتاہے، اگراس حالت میں مرگیا اوردین لوگوں کا اس پرباقی رہا اس کی نیکیاں ان کے مطالبہ میں دی جائیں گی اور کیونکردی جائیں گی تقریباً تین پیسہ دین کے عوض سات سو نمازیں باجماعت کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار والعیاذباﷲ العزیز الغفار(جیساکہ درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔ اﷲ عزیز غفار کی پناہ۔ت) جب اس کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان کے گناہ ان کے سرپر رکھے جائیں گے ویلقی فی النّار اور آگ میں پھینک دیاجائے گا، یہ حکم عدل ہے، اور اﷲ تعالٰی حقوق العباد معاف نہیں کرتا جب تک بندے خود معاف نہ کریں۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:25،صفحہ:69،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    دھوکے کے بارے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اسحٰق بغدادی حَرْبی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی لکھتے ہیں :فَالغِشُّ أَنْ یُظْہِرَ شَیْئًا وَیَخْفِیَ خِلاَفَہُ أَوْ یَقُولَ قَوْلاً ویَخْفِیَ خِلاَفَہُ ترجمہ: دھوکا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کو ظاہر کرے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقت) کو چھپائے یا کوئی بات کہے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقی بات) کو چھپائے۔(غریب الحدیث للحربی،جلد:2،ص:658)

    ترمذی شریف میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ، مَا هَذَا؟» ، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا»ترجمہ:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے ،توآپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کردیا،آپ کی انگلیاں ترہوگئیں توآپ ﷺنے فرمایا:غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟اس نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ!بارش سے بھیگ گیا ہے، آپﷺ نے فرمایا:اسے اوپرکیوں نہیں کردیاتا کہ لوگ دیکھ سکیں، پھر آپﷺ نے فرمایا: جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔(سنن الترمذی،رقم:1315)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14ربیع الآخر 1444ھ/10نومبر2022 ء