وراثت کا مسئلہ تین بھائی چار بہنیں

    warasat ka masla teen bhai chaar behnen

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 1317

    سوال

    السلام علیکم

    جناب تقسیم وراثت کے بارے میں ایک سوال ہے شرعی رہنمائی فرمادیں ،سید عبدالرؤف وارثی کا انتقال جون2014میں ہوا ، انکے 3بھائی( محفوظ اللہ،شمس القمروارثی، حیات وارثی) اور 4 بہنیں(اقبال بانو،انوربانو، ابرار بانو،نشاط سیمی) ہیں۔عبدالرؤف وارثی کے انتقال سے پہلے محفوظ اللہ کا (نومبر 1992) حیات وارثی کا( 2002) اقبال بانو کا( 2012)انتقال ہوگیا تھا ، انکی وفات کے وقت ایک بھائی سید شمس القمر اور تین بہنیں انوربانو، ابرار بانو،نشاط سیمی زندہ تھیں ، پھر سید عبدالرؤف وارثی کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ےعنی نومبر 2014میں ابرار بانو کا انتقال ہوگیا ،اور یہ غیر شادی شدہ تھیں ، اور پھر جنوری 2015میں سید شمس القمروارثی کا انتقال ہوگیا، سید شمس القمر وارثی کے ورثاء میں ایک بیوی (منورجہاں) ایک بیٹا (سید شمائل وارثی) ایک بیٹی ( حناء عرفان) ہیں میرا سوال یہ ہے کہ سید عبدالرؤف وارثی کے انتقال سے پہلے جن کا انتقال ہوا انکا اور انکی اولاد کا سید عبدالرؤف کی وراثت میں حصہ ہے یانہیں؟اگر ہے تو کتنا کیونکہ فوت شدگان کی اولاد اپنے حصے کا مطالبہ کررہی ہے اور جن کا انتقال سید عبد الرؤف کے انتقال کے بعد ہوا انکا اور انکی اولاد کا کتنا حصہ ہوگا ؟ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمادیں؟

    سائلہ: نشاط سیمی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہے اور ان ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تو آپکے سوال کا براہ راست جواب یہ ہے کہ جن ورثاء کا انتقال سید عبدالرؤف کے انتقال سے پہلے ہوا انکا اور انکی اولاد کا سید عبدالرؤف کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ وراثت کی تقسیم کا اصول ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے۔ لھذا جب اس میت یعنی سید عبدالرؤف وارثی کے قریبی رشتے دار یعنی اس کے سگے بھائی بہن موجود ہیں ان کی موجودگی میںانکے بھتیجا ، بھتیجی یا بھانجا ،بھانجی کو اسکی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ سید عبدالرؤف وارثی کے بہن بھائی رشتے کے اعتبار سے انکے بھتیجا ، بھتیجی یا بھانجا ،بھانجی سے زیادہ قریبی رشتے دار ہیں۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ'':ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک سلسلہ ہوگا۔

    اور بقیہ ایک بھائی سید شمس القمر اور تین بہنیں انوربانو، ابرار بانو،نشاط سیمی جو انکی وفات کے وقت زندہ تھے ان میں اور امکی وفات کے بعد انکے جو ورثاء ہیں ان میں کل جائیداد اس طرح تقسیم ہوگی کہ کل وراثت کو 240 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے بھائی کوبہنوں کے مقابلے میں دگنا ملے گا ،قال اﷲ تعالیٰ للذکر مثل حظ لانثیین(النساء : 11) ترجمہ : مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔

    سراجی فی المیراث ص25پر ہے :ومع الاخ لاب وام للذکر مثل حظ الانثیین یصرن بہ عصبۃ لاستوائہم فی القرابۃ الی المیت :ترجمہ: اور سگی بہنوں کو سگے بھائی کے ہوتے ہوئے ٰ للذکر مثل حظ لانثیین( یعنی مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔) کے تحت حصہ ملے گا او ر یہ بہنیں اس بھائی کی وجہ سے عصبہ بن جائیں گی کیونکہ میت سے رشتہ داری دونوں کی برابر ہے۔

    سید عبدالرؤف وارثی کے بعد انکی بہن ابرار بانو کا انتقال(نومبر2014) ہوگیا تھااور اس وقت وہ غیر شادی شدہ تھیں اور کے ورثاء بھی وہی ہیں جو میت اول کے ورثاء ہیں لہذا انہیں کالعدم مانا جائے گا،پھر چونکہ بعد میں 2015میں سید شمس القمر وارثی کا انتقال ہوگیاتھا اور انکے ورثاء میں ایک بیوی (منورجہاں) ایک بیٹا (سید شمائل وارثی) ایک بیٹی ( حناء عرفان) ہیں تو انکا حصہ ان کے ورثاء میں تقسیم ہوجائے گا لہذا اب جو لوگ موجود ہیں انکے حصے اس طرح ہیں ، کل وراثت کو 240 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، سید شمس القمر وارثی کے 120حصے اور انوربانو،نشاط سیمی میں سے ہر ایک کے 60,60حصے ہونگے ، یہ کل 240حصے ہوگئے پھرسید شمس القمر وارثی کے120حصے اس کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہونگے کہ انکی زوجہ کو 120حصوں میں سے 15حصے ملیں گے اور انکے بیٹے کو 70حصے ملیں گے اور بیٹی کو 35حصے ملیں گے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی