سودی پیسوں سے حج کروانے کا حکم
    تاریخ: 30 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 147
    حوالہ: 53

    سوال

    ہم تین افراد نے 2010 میں حج کیا تھا ۔اس حج کی رقم والدہ کے سیونگ سودی اکاونٹ سے اداکی تھی ۔ اب اتنے پیسے نہیں کہ دوبارہ حج ادا کریں ۔ تو اس صورت حال میں کیا کیا جائے۔ سائلہ:ثویبہ:گلستان جوہرکراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں آپکا فرض حج ادا ہوگیا البتہ حج کے اجر و ثواب سے محرومی رہے گی۔

    شامی میں ہے: قَالَ فِي الْبَحْرِ وَيَجْتَهِدُ فِي تَحْصِيلِ نَفَقَةٍ حَلَالٍ، فَإِنَّهُ لَا يُقْبَلُ بِالنَّفَقَةِ الْحَرَامِ كَمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ، مَعَ أَنَّهُ يَسْقُطُ الْفَرْضُ عَنْهُ مَعَهَا ترجمہ: بحر میں فرمایا کہ حج کی ادائیگی کے لئے حلال مال حاصل کرنے کی کوشش کرے ، کیونکہ حرام مال سے کیا گیا حج قبول نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔لیکن اس کے باوجود فرض حج ساقط ہوجائے گا۔(ردالمحتار مع الدر المختار ،کتاب الحج جلد 2ص456)

    صدر الطریقہ ،بدرالطریقہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قبولِ حج کی امید نہیں اگرچہ فرض اُتر جائے گا۔(بہار شریعت،کتاب الحج،حصہ ششم ص 1051)

    بہتر یہ ہے کہ آپ دوبارہ حج فرمالیں اگر اس وقت حج کی استطاعت نہیں ہے تو کسی سے قرض لے کر ادا کرلیں بعد میں اپنے مال سے ادا کردیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب صحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء :13 ذوالقعدہ 1440 ھ/17 جولائی 2019 ء