سوال
حجِ بدل کرنے والے کے لئے حج افراد کرنا ضروری ہے یا تمتع بھی کرسکتا ہے؟حکم ارشاد فرمائیں؟ سائل:علی شاہ : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اس بارے میں مشائخ سے دو قول منقول ہیں:
1:بعض مشائخِ کرام رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ فرمایا کہ مامور(حجِ بدل کرنے والا) حجِ افراد یا قران تو کر سکتا ہے ، لیکن حجِ تمتع نہیں کر سکتا ۔
2: مگر بیشتر فقہائے کرام نے اپنی عبارات سے حجِ بدل والے کے لئے تمتع کا جواز ثابت کیا ہے ، اور انہوں نے فرمایا کہ آمر کی اجازت سے حجِ بدل کرنے والا تمتع کرسکتا ہے اور اس میں یہ قید کچھ ضروری نہیں کہ حجِ بدل کرنے والا محض میقات سے ہی احرام کا پابند ہو بلکہ مکہ اور حدودِ حرم میں سے جہاں سے چاہے حج کا احرام باندھ سکتا ہے۔مگر حجِ قران و تمتع کی صورت میں جو دمِ شکر اور دمِ جنایت کی ادائیگی مامور پر لازم ہوگی، نہ کہ آمر پر۔ اور یہی موقف صحیح ہے اور اسی میں لوگوں کے لئے آسانی ہے۔
قولِ اول کے فقہاءِ کرام نے ممانعت کی درج ذیل دو علتیں ذکر فرمائی ہیں :
1: پہلی علت یہ کہ آمر (جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جارہا ہے ) کی جانب سے مامور (حجِ بدل کرنے والے )کو محض سفرِ حج میں اسکا مال خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ تمتع کی صورت میں حج کے علاوہ عمرہ میں بھی اسکا مال خرچ ہوتا ہے جسکی اجازت آمر کی جانب سے نہیں ہوتی۔ لٰہذا حج بدل کرنے والا، آمر کی جانب سے عمرہِ تمتع کے اخراجات کا مامور نہ ہونے کی وجہ سے حجِ تمتع کرنے کا مُجاز نہیں ہے۔
2: دوسری علت یہ ہے کہ مامور( حجِ بدل کرنے والے) کے لئے آمر (جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جارہا ہے ) کی جانب سے یہ بات لازم ہوتی ہے کہ وہ میقات سے ہی حج کا احرام باندھے گااور اس کا حج، حجِ میقاتی ہوگا اور یہ افراد اور قران کی صورت میں ہی ممکن ہے جبکہ تمتع کی صورت میں اسکا حجِ ، حجِ مکی ہوگا نہ کہ میقاتی۔کیونکہ تمتع میں آفاقی شخص پہلےمیقات سے عمرہ کا احرام باندھتاہے اور افعالِ عمرہ ادا کرنے کے بعد حلق یا قصر کرکے اس احرام سے نکل جاتا ہے اور پھر آٹھ ذی الحج یا اس سے پہلے حدودِ حرم سے حج کا احرام باندھتا ہے۔سو اس طرح اب اسکے حج کا احرام حدودِ حرم سے ہوا نہ کہ میقات سے۔ لٰہذا حجِ بدل کرنے والا، آمر کی جانب سے حجِ مکی کا مامور نہ ہونے کی وجہ سے حجِ تمتع کرنے کا مُجاز نہیں ہے۔
مزید براں یہ ہے کہ اگر آمر کی اجازت نہ ہو تو اس صورت میں مامور نے حجِ تمتع کرلیا تو آمر کی مخالفت کے سبب حج نہ ہوا اور اس پرآمر کے لئے ضمان لازم ہوگا۔ تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ حج کرنے والے تین طرح کے لوگ ہیں : مُفرِد:وہ شخص جو صرف حج کا احرام باندھے، عموما اہلِ مکہ اور حلی ( میقات اور حدودِ حرم کے اندر رہنے والا) حج اِفراد ہی کرتے ہیں ،لیکن انکے علاوہ دوسرے ملکوں سے آنے والے افراد بھی حج افراد کرسکتے ہیں ۔ مُتَمَتِّع:وہ شخص جو حج اور عمرہ دونوں کا الگ الگ احرام باندھے ،بایں طور کہ پہلے عمرہ کا احرام باندھےاور افعالِ عمرہ ادا کرنے کے بعد حلق یا قصر کرکے اس احرام سے نکل جائےاور پھر آٹھ ذی الحج یا اس سے پہلے حج کا احرام باندھے ۔ قارِن:وہ شخص جو حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھے ،اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلق یا قصر کرکے احرام نہیں کھولتا بلکہ وہ بدستور حالت ِ احرام میں ہی رہتا ہے اور مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد احرام کھولتا ہے۔ حجِ بدل کیا ہے؟ جس شخص پر استطاعت کی سبب حج فرض ہوگیا اور اس نے حج کا زمانہ پایا مگر کسی وجہ سے حج نہ کر سکا، پھر کوئی ایسا عذر پیش آگیا جس کی وجہ سے خود حج کرنے پر قدرت نہ رہی مثلاً ایسا بیمار ہوگیا جس سے شفا کی امید نہیں یا نابینا ہوگیا یا اپاہج ہو گیا یا فالج ہوگیا یا بڑھاپے کی وجہ سے ایسا کمزور ہوگیا کہ خود سفر کرنے پر قدرت نہیں رہی، تو اس کے لیے اپنی طرف سے کسی دوسرے شخص کو بھیج کر حج بدل کروانا یا اپنے مرنے کے بعد اپنے ترکے سے اپنی طرف سے حج کروانے کی وصیت کرنا فرض ہے،جسکو حجِ بدل کہا جاتا ہے ، وصیت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’میرے مرنے کے بعد میری طرف سے میرے مال سے حج بدل کرادیا جائے‘‘۔
دلائل و جزئیات:
حج بدل کرنے والا شخص اصلاً تو حجِ افراد ہی کرے گا کیونکہ اگر اس نے افراد کے بجائے تمتع کیا تو دو وجہوں سے آمر کی مخالفت پائی جانے کی سےاسکا حجِ بدل معتبر نہ ہوگا، (کما مر) پہلی یہ کہ آمر کی جانب سے اسکو محض سفرِ حج اور اسکے اخراجات کی اجازت تھی جبکہ اسکا سفر تو ابتداءً ہی عمرہ کا ہوا نہ کہ حج کا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ آمر کی جانب سے اسکا حج آفاقی کا حج ہونا چاہیے تھاجبکہ اس نے تمتع کیا تو اسکا حج مکی کا حج ہوا نہ کہ آفاقی کا۔ علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی اس مسئلے کی تنقیح میں لکھتے ہیں : إن المأمور بالحج ليس له أن يحرم بالعمرة أي لأنه إذا اعتمر ثم أحرم بالحج من مكة يصير مخالفا في قولهم جمیعاً كما في التتارخانية عن المحيط، وهل مخالفته لكونه جعل سفره لغير الحج المأمور به، أو لكونه لم يجعل حجته آفاقية وعلى الثاني لو اعتمر أو فعل الحيلة بأن قصد البندر، ثم دخل مكة ثم خرج وقت الحج إلى الميقات فأحرم منه لم يكن مخالفا لأن حجته صارت آفاقية أما على الأول فهو مخالف ويحتمل أن المخالفة لكل من العلتين كما يفيده أول عبارة البحر ۔ترجمہ: جس شخص کو(آمر کی طرف سے ) حج کا امر ہو تو اس کے لئے عمرہ کا احرام باندھنا جائز نہیں ہے کیونکہ جب اس نے عمرہ کیا پھر مکہ (حدودِ حرم )سے حج کا احرام باندھا توتمام فقہاء کے نزدیک یہ شخص آمر کی مخالفت کرنے والا ہوگیاجیساکہ تاتارخانیہ میں محیط سے ہے تو کیا اسکی مخالفت اس وجہ سے ہے کہ اس نے اپنے سفر کواس حج کے غیر کے لئے طے کیاہے جو کہ مامور بہ ہے۔ یا اس لئے کہ اس نے اپنے حج کو حجِ آفاقی نہیں بنایا۔ اگر دوسری بات تسلیم کی جائے تو اگر اس نے عمرہ کیا یا حیلہ کرلیا بایں طور کہ اس نے بندر(جدہ) کا اردہ کیا پھر مکہ داخل ہوا پھر حج کے وقت میقات کی طرف نکلا اور وہاں سے احرام باندھا تو اس صورت میں (آمر کی )مخالفت نہ ہوگی کیونکہ اب اسکا حج، حجِ آفاقی ہوگیا بہرحال اب بھی پہلی علت کی بناء پر یہ (آمر کی )مخالفت کرنے والا ضرور ہے۔ اور احتمال ہے کہ یہاں مخالفت کا اعتبار دونوں علتوں میں سے ہر ایک کی وجہ سے ہے جیساکہ بحر کی عبارت کا مفاد ہے ۔ (شامی ، کتاب الحج، باب المواقیت، جلد 2 ص 477)
بحر کی عبارت یہ ہے:وينبغي أن لا تجوز هذه الحيلة للمأمور بالحج؛ لأنه حينئذ لم يكن سفره للحج ولأنه مأمور بحجة آفاقية وإذا دخل مكة بغير إحرام صارت حجته مكية فكان مخالفا۔ترجمہ: اور چاہیے کہ مامور بالحج کے لئے یہ حیلہ جائز نہ ہو کیونکہ اس وقت اسکا سفر حج کے لئے نہ ہوگااور اس لئے بھی کہ یہ شخص مامور بحجِ آفاقی ہے اور جب یہ مکہ میں بغیر احرام داخل ہوا تو اسکا حج مکی ہوگیا تو یہ مخالفت کرنے والا ہوا۔(البحر الرائق، باب مواقیت الاحرام ، جلد 2 ص 342)
البحر العمیق میں ہے: لان في التمتع یصیر مخالفاً بالإجماع وإن نوی العمرۃ عن الآمر؛ لأنہ أمر بالإنفاق في سفر الحج، وقد انفق في سفر العمرۃ؛ ولأنہ أمر بحجۃ میقاتیۃ وقد أتی بحجۃ مکیۃ۔ترجمہ:کیونکہ تمتع میں (مامور)بالاجماع مخالفت کرنے والا ہوجاتا ہےاگرچہ آمر کی جانب سے عمرہ کی نیت کرے۔ کیونکہ اس (آمر) نے اسے سفرِ حج میں خرچ کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اس نے سفرِ عمرہ میں خرچ کیا ہے اور اس لئے بھی اس آمر نے اسے حجِ میقاتی کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس نے تو حجِ مکی ادا کیا ہے۔( البحر العمیق فی مناسک المعتمر والحاج الی البیت العتیق، جلد 4 ص 2330 ، مطبوعہ موسسۃ الریان)
مامور کے لئے میقات سے احرام لازم ہے جیساکہ شامی میں ہے: الثاني عشر أن يحرم من الميقات، فلو اعتمر وقد أمره بالحج ثم حج من مكة لا يجوز ويضمن۔ترجمہ:بارہویں شرط یہ ہے کہ (حج بدل کرنے والا) میقات سے احرام باندھے، پس اگراس نے عمرہ کیا حالانکہ اسے صرف حج کا حکم تھا پھر مکہ سے حج کیا تو جائز نہیں اور ضامن ہوگا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ، جلد 2 ص 600) مناسک ملاعلی میں ہے: ان من شرط الحج عن الغیر ان یکون میقاتیاً آفاقیاً ، وتقرر ان بالعمرۃ ینتھی سفرہ الیھا، ویکون حجہ مکیا۔ ترجمہ:غیر کی جانب سے حج کی شرط یہ ہے کہ وہ میقاتی آفاقی ہو، اور گزرا کہ عمرے کے ذریعے اسکا سفر ختم ہوچکا اور اسکا حج مکی کا حج ہوا۔ (نہ کہ آفاقی کا) (مناسک ملا علی القاری، ص ، 460)
اسی میں ہے :( ولو امرہ بالحج فاعتمر ضمن ) ای لانہ مخالف حیث صرف سفر الحج الی العمرۃ ، سواء نوی العمرۃ للآمر او مغیرہ، ولاتقع الحجۃ عن حجۃ الاسلام ۔ ترجمہ: اور اگر اسکو حج کا حکم دیا اور اس نے عمرہ کرلیا تو ضامن ہوگا۔کیونکہ یہ (آمر)مخالفت کرنے والا ہوگیا۔کیونکہ اس نے حج کے سفر کو معرہ کے سفر کی طرف پھیر دیا خواہ اب آمر کی جانب سے عمرہ کی نیت کرے یا اسکے علاوہ کسی اور کیجانب سے کرے۔ اور اسکا حج(بدل) ادا نہ ہوگا۔(ایضاً ص 445)
البحر الرائق میں ہے:أن المأمور في كل موضع يصير مخالفا فإنه يضمن النفقة فمنها ما إذا أمره بالإفراد بحجة أو عمرة فقرن، فهو ضامن للنفقة عنده خلافا لهما ومنها ما إذا أمره بالحج فاعتمر ثم حج من مكة؛ لأنه مأمور بحج ميقاتي، وما أتى به مكي ۔ترجمہ: مامور جس مقام پر آمر کی مخالفت کرے وہاں نفقہ کا ضامن ہوگا ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ جب اسے صرف حج یا صرف عمرہ کا حکم دیا پھر اس نے ملادیا تو امام صاحب کے نزدیک وہ نفقہ کا ضامن ہوگا،بر خلاف صاحبین کے اور ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ یہ ہے کہ جب آمر نے اسے حج کا حکم دیا اور اس نے پہلے عمرہ کرلیا بعد ازاں حج کیا (تو بھی مخالفت کی وجہ سے ضامن ہوگا) کیونکہ اسے حج میقاتی(میقات سے حج کا احرام باندھنے ) کا حکم تھا جبکہ مکی (مکہ میں رہنے والا ) میقات سے احرام نہیں باندھتا۔ (البحر الرائق چرح کنز الدقائق، جلد 3 ص 68)
قولِ ثانی کے فقہاءِ کرام نے حج بدل میں تمتع کے جواز پر درج ذیل عباراتِ فقہاء سے استدلال فرمایا ہے: چناچہ کنزالدقائق میں ہے: ودم القران ودم الجناية على المأمور۔ ترجمہ: اور قران اورجنایت کا دم مامور پرہوگا۔ اسکے تحت البحر الرائق میں ہے: وأراد بالقران دم الجمع بين النسكين قرانا كان أو تمتعا كما صرح به في غاية البيان لكن بالإذن المتقدم۔ ترجمہ:مصنف نے قران نے مراد یہ لیا کہ دو نُسُک کو جمع کرنے سے جو دم لازم ہوتا ہے خواہ قران ہو یا تمتع جیساکہ اسکی تصریح غایۃ البیان میں کی گئی ہے لیکن جبکہ پہلے اجازت لی گئی ہو۔( البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 3 ص 70)
درمختار میں ہے: ودم القران والتمتع والجنایۃ علی الحاج إن اذن لہ الآمربالقران والتمتع وإلا فيصير مخالفا فيضمن ۔ ترجمہ: قران، تمتع اور جنایت کا دم حاجی (مامور ) پر ہے جبکہ اسے آمر نے تمتع اور قران اجازت دی ہو، وگرنہ وہ مخالفت کرنے والا ہوگیا تو ضامن ہوگا۔ (تنویر الابصار مع الدرالمختار، جلد 2 ص 610)
جد الممتار میں سیدی اعلٰی حضرت اس عبارت کے تحت لکھتے ہیں: الحمدللہ ھذا نص صریح فی جواز التمتع فی حج البدل، وانہ اذا کان باذن الآمر لایکون خلافاً وان النسکین یقعان عن الآمر والا لزم الخلاف۔ ترجمہ: الحمدللہ یہ حجِ بدل میں تمتع کے جواز میں نصِ صریح ہے اور جب یہ آمر کی اجازت سے ہو تو اس میں آمر کی کچھ مخالفت نہ ہوگی اور دونوں افعال(حج و عمرہ) آمر کی طرف سے ہی ادا ہونگے۔ وگرنہ(یعنی اگر اجازت نہ ہو ) تو مخالفت لازم آئے گی اورضامن ہوگا۔ (جد الممتار علی رد المحتار، جلد 4 ص 210، دار اہل السنہ)
مذکورہ فقہاءِ کرام کی عبارات سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر آمر ، مامور کو حجِ بدل میں تمتع کی اجازت سے دو تو بلاشبہ اسکا تمتع جائز ہوگا اس میں کسی طرف کی کراہت لازم نہیں آئے گی ۔ دمِ شکر و دم جنایت مامور پر ہے آمر پر نہیں۔ جیساکہ تبیین میں ہے: لأن دم القران وجب شكرا لما وفقه الله من الجمع بين النسكين،والمأمور هو المختص بهذه النعمة لأن حقيقة الفعل منه ولأنه نسك ابتداء، وسائر المناسك عليه، فكذا هذا ودم الجناية ؛ لأنه الجاني عليه كفارته۔ ترجمہ:کیونکہ دمِ قران اس بات کے شکر کے طور پر لازم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے اسے دونوں نُسُک (حج و عمرہ ) جمع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس نعمت کے ساتھ مامور ہی مختص ہے کیونکہ حقیقتِ فعل اسکی جانب سے ہے ۔ اور اس لئے کہ ابتداءً اس نے ہی نسک ادا کئے اور تمام افعال حج اسی پر لازم ہیں تو یونہی دم بھی اسی پر لازم ہوگا،اور دمِ جنایت اس لئے کہ اس جنایت کا کفارہ ، جنایت کرنے والے پرہے۔(اور وہ تو مامور ہے) (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد 2 ص 68 ملخصاً مگر فقہِ حنفی کے مشہورو متداول عالم ،محدث ، فقیہ،علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالٰی نے جو کہ اس باب میں امام کا مقام رکھتے ہیں اس مسئلے میں یہ موقف اختیار فرمایا ہے کہ آمر کی تفویض و اجازت کے باوجود مامور تمتع نہیں کرسکتا۔ چناچہ علامہ سندھی لباب المناسک میں لکھتے ہیں : (وینبغی للآمر ان یفوض الامر الی المامور فیقول : حج عنی ) ای بھذا(کیف شئت مفردا او قارنا او متمتعاً )۔ترجمہ: آمر کو چاہیے کہ مامور کو معاملہ سپرد کردے پس یوں کہے میری طرف سے حج کرلو یعنی اس نفقہ کا ذریعہ جیسے چاہو کرو مفرد یا قارن یا متمتع بنو۔ لباب کی اس عبارت پر معارضہ فرماتے ہوئے علامہ ملا علی قاری لکھتے ہیں : فیہ ان ھذا القید سھو ظاہر اذ التفویض المذکور فی کلام المشائخ مقید بالافراد والقران لا غیر ۔ ترجمہ: اس عبارت میں یہ(تمتع کی ) قید واضح بھول ہے کیونکہ وہ تفویض جو مشائخ کے کلام میں مذکور ہے وہ افراد و قران کے ساتھ مقید ہے نہ کہ اس کے علاوہ (تمتع) کے ساتھ۔ سو ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالٰی نے ماتن کی عبارت میں تمتع کی قید کو سھوِ ظاہر قرار یتے ہوئے تفویض کو افراد و قران کے ساتھ مقید فرمایاہے جسکا مفاد یہ ہے کہ مامور کو تمتع ممنوع ہے۔ لیکن صاحب ارشاد الساری ، ملا علی قاری کی اس عبارت کا جواب دیتے ہوئےفرماتے ہیں :قولہ فیہ ان ھذا القید سھو ظاہر ، قال القاضی عید فی شرحہ لہذا الکتاب : ولا یخفی ان ھذا سھو منہ، لان المیت لو امرہ بالتمتع فتمتع المامور صح، ولایکون مخالفاً بلاخلاف بین الائمۃ الاسلاف فتدبر کذا فی الحباب۔ ترجمہ: علامہ ملا علی قاری کا قول: اس عبارت میں یہ(تمتع کی ) قید واضح بھول ہے، قا ضی عید نے اس کتاب کی شرح میں فرمایا اور مخفی نہیں کہ یہ ان (علامہ ملا علی قاری ) کا سھو ہے کیونکہ میت نے اگر مامور کو تمتع کا امر دیا تو مامور کا تمتع کرنا صحیح ہے اور تمام ائمہ اسلاف کے نزدیک وہ (آمرکی ) مخالفت کرنے والا نہیں ہوگا تو غور کرلو ، اسی طرح حباب میں ہے ۔(مناسک ملا علی قاری ، ص 459)
ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے تمتع کے عدمِ جواز پر جو دو دلیلیں پیش کی ہیں ان کا مفصل جواب سیدی اعلٰی حضرت ، عظیم المرتبت نے بھی اپنی کتاب جد الممتار میں مفصلاً ذکر فرمایا ہے ۔ نیز فرمایا کہ صاحبِ لباب کا وہ قول(جو ابھی اوپر گزرا) جس پر علامہ علی قاری رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے معارضہ فرمایا اس باب (حج بدل میں جواز تمتع)میں سب سے بڑی نص ہے۔
علامہ ملا علی قاری کی دونوں دلیلوں کے جواب میں اعلٰی حضرت کا محققانہ کلام مختصراً درج ذیل ہے:
علامہ ملا علی قاری کی پہلی دلیل ، فرماتے ہیں: فیہ ان ھذا القید سھو ظاہر اذ التفویض المذکور فی کلام المشائخ مقید بالافراد والقران لا غیر۔ ترجمہ: اس عبارت میں یہ(تمتع کی ) قید واضح بھول ہے کیونکہ وہ تفویض جو مشائخ کے کلام میں مذکور ہے وہ افراد و قران کے ساتھ مقید ہے نہ کہ اس کے علاوہ (تمتع) کے ساتھ۔(مناسک ملا علی قاری ، ص 459)
سیدی اعلٰی حضرت کا جواب،فرماتے ہیں: اما اقتصار المشائخ علی الافراد والقران،فربما یریدون بالقران ما ھو اعم من التمتع لان فی کیلھما الجمع بین النسکین وقد نقل العلامۃ الشارح عن الامام قاضی خان اول باب العمرۃ ص 255 ان وقتھا جمیع السنۃ الا خمسۃ ایام یکرہ فیھا العمرۃ لغیر القارن فقال العلامۃ نفسہ '' یعنی فی معناہ التمتع'' وعبا رۃ الخانیۃ ظاہرۃ فی وفاق اللباب۔ترجمہ: بہرحال مشائخ کا افراد و قران پر اقتصار تو وہ اس لئے ہے کہ بسا اوقات وہ قران سےما ھو اعم یعنی تمتع مراد لے لیتے ہیں کیونکہ ان دونوں (قران و تمتع ) میں دونوں افعال(حج و عمرہ) کو جمع کیا جاتا ہے اور خود علامہ شارح ملا علی قاری نے امام قاضی خان سے با ب العمرۃ کی ابتداء میں نقل فرمایا ہے کہ عمرہ کا وقت پورا سال ہے ما سوائے پانچ دن کے کہ ان ایام میں غیر قارن کے لئے عمرہ مکروہ ہے تو علامہ نے وہاں خود فرمایا یہاں قران کے معنٰی میں تمتع بھی شامل ہے اور خانیہ کی عبارت لباب کے ساتھ متفق ہونے میں واضح ہے۔
(جد الممتار علی رد المحتار، جلد 4 ص 211،212، دار اہل السنہ)
علامہ ملا علی قاری کی دوسری دلیل ، فرماتے ہیں: ان من شرط الحج عن الغیر ان یکون میقاتیاً آفاقیاً ، وتقرر ان بالعمرۃ ینتھی سفرہ الیھا، ویکون حجہ مکیا۔ ترجمہ:غیر کی جانب سے حج کی شرط یہ ہے کہ وہ میقاتی آفاقی ہو، اور گزرا کہ عمرے کے ذریعے اسکا سفر ختم ہوچکا اور اسکا حج مکی کا حج ہوا۔ (نہ کہ آفاقی کا) (مناسک ملا علی القاری، ص ، 460)
سیدی اعلٰی حضرت کا جواب، فرماتے ہیں : واشتراط كون الحج عن الغير ميقاتيا مسلم بالمعنى الاعم الشامل لميقات المكي وغيره،و اما اشتراط كونه من الميقات الافاقي فغير مسلم مطلقا ولذا لما قال في اللباب في شرائط الحج عن الغير العاشر ان يحرم من الميقات قال القارئ اي من الميقات الاٰمر ليشمل المكي وغيره ولا شك ان الاٰمر لو تمتع بنفسه لكان ميقاته للحج الحرم فکذا نائبہ باذنه ۔ ولما فرع عليه في اللباب بقوله فلو اعتمر وقد امره بالحج ثم حج من مكۃ لا يجوز و يضمن قال في الكبير ولا يجوز ذلك عن حجه الاسلام لانه مامور بحجة ميقاتية قال القارئ فيه انه ان اراد بالميقاتيه المواقيت الافاقيۃ وفي اطلاقه نظر ظاهر اذ تقدم بان المكي اذا اوصى بالراي ان يحج عنه يحج عنه من مكۃ وكذا سبق ان من اوصى ان يحج عنه من غير بلده يحج كما ما اوصی قرب من مكۃ او بعد فكيف يجعل الافاقيۃ شرطا هنا؟ بل هو في شك ها هنا من نفس شرط الميقاتيه فضلا عن الافاقيۃ حيث قال بعده وايضا فيه اشكال اخر حيث ان الميقات من اصله ليس شرطا لمطلق الحج واصالته بل انه من واجباته فكيف يكون شرطا وقت نيابته فان وجد نقل صريح او دليل صحيح فالامر مسلم والا فلا۔ ولا نسلم ان سفره هذا يتجرد للعمرۃ ولا يكون للحج كمن سعى الى الجمعۃ وصلی قبلها السنه لا يكون سعیه مصروفا عن الجمعه كما نص على التنظير به في الهدايۃ ثم ان اللباب نص في باب التمتع في فصل منه انه لا يشترط لصحۃ التمتع ان یکون النسکان عن شخص واحد حتى لو امره شخص بالعمرۃ واخر بالحج جاز وقد اقرہ عليه القار ئ ثمه قائلا اي واذنا له في التمتع (جاز) لكن دم المتعۃ عليه في ماله فهذا اذعان منه لما في اللباب فاذن الجواز هو الجواب والله تعالٰی اعلم بالصواب۔ ترجمہ: اور غیر کی جانب سے حج کی کرنے والے کے لئے میقاتی ہونے کی شرط لگانا اس معنٰی اعم کے اعتبار سے تو مسلم ہے جو مکہ و غیر مکی کی میقات کو شامل ہو مگر اسکے لئے میقاتِ آفاقی لازم ہونے کی شرط لگانا مطلقاً مسلم نہیں ، اس لئے جب لباب میں شرائظ الحج عن الغیر میں فرمایا کہ دسویں شرط یہ ہے کہ وہ(مامور) میقات سے احرام باندھے تو علامہ ملا علی قاری نے فرمایا یعنی آمر کی میقات سے احرام تاکہ یہ مکی و غیر مکی کو شامل ہوجائے(اس میں میقاتی ہونے کی قید خود ہٹادی ) ۔ اور شک نہیں کہ اگر آمر خود تمتع کرتا تو اسکی میقات ِ حج حرم ہوتی تو یونہی اسکے نائب کے لئے بھی اسکی اجازت کے ساتھ ( اسکی میقاتِ حج بھی حرم ہوسکتی ہے) ۔اور جب انہوں نے لباب میں اپنے قول '' تو اگر اس نے عمرہ کیا حالانکہ اسے حج کا حکم تھا پھر اس نے مکہ سے حج کیا تو جائز نہیں اور وہ جامن ہوگا '' تفریع ذکر فرمائی تو کبیر میں فرمایا اور یہ اسکا حجۃ الاسلام سے ادا نہ ہوگا۔ کیونکہ اسے حجِ میقاتی کا حکم تھا تو علامہ علی قاری نے فرمایا اس میں یہ بات اس وقت ہے جب میقات سے مراد میقات آفاقی ہو اور اسکے اطلاق میں نظرِ ظاہر ہے کیونکہ گزرا کہ مکی نے جب اپنی رائے سے وصیت کی کہ اسکی طرف سے حج کیا جائے تو اسکی طرف سے مکہ سے ہی حج کیا جائے گا اور اسی طرح گزرا کہ جس شخص نے وصیت کی کہ اسکی طرف سے اسکے علاوہ کسی اور شھر سے حج کیا جائے تو اسکی طرف سے حج ایسے ہی کیا جائے گا جیساکہ اس نے وصیت کی خواہ مکہ اس شھر سے قریب ہو یا بعید۔ تو یہاں آفاقی ہونا کس طرح یہاں آفاقی ہونا شرط قرار دیا گیا۔ ؟ بلکہ محض نفسِ میقاتی ہونے کی شرط ہی محلِ شک میں ہے چہ جائیکہ آفاقی ہونا شرط قرار دیا جائے کیونکہ انہوں نے اسکے بعد فرمایا اور اس میں ایک اور اشکال ہے کہ میقات اپنی اصل کے اعتبار سے ہی مطلق حج اور اصلِ حج کے لئے شرط نہیں ہے بلکہ وہ تو اسکے واجبات میں سے ہے تو نیابت کے وقت کیسے شرط ہوسکتی ہے سو اگر اس بات پر کوئی صریح نقل یا صریح دلیل پائی جائے تو یہ بات مسلم ہے وگرنہ نہیں۔ اور ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اسکا یہ سفر محض عمرہ کے لئے ہوگیا اور حج کے لئے نہ رہا جیساکہ جس شخص نے جمعہ کے لئے سعی کی اور اس سے پہلے ہی سنت پڑھ لی تو اسکی سعی جمعہ سے مصروف نہ ہوئی جیساکہ اس کی نظیر پر ہدایہ میں نص موجود ہے۔ پھر لباب میں باب التمتع کی ایک فصل میں نص موجود ہے کہ کہ تمتع کی صحت کے لئے شرط نہیں کہ دونوں افعال(عمرہ و حج ) ایک ہی شخص سے صادر ہوں ۔ حتٰی کہ ایک کو اس نے عمرہ کا حکم دیا اور دوسرے کو حج کا تو جائز ہے علامہ ملاعلی قاری نےاس مقام پر اس بات کو برقرار رکھتے ہوئے فرمایا اور وہ دونوں اسے تمتع کی اجازت دے دیں تو جائز ہے، لیکن تمتع کا دم اس پر اسکے مال میں ہوگا تو یہ اسی بات کی تایید ہے جو لباب میں ہے تو وہاں جواز کی اجازت ہی جواب ہے۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جاننے والا ہے۔ (جد الممتار علی رد المحتار، جلد 4 ص 212 تا 214دار اہل السنہ)
اب یہاں محض ایک سوال باقی رہا وہ یہ کہ اگر آمر نے مامور کو اجازت و عدمِ اجازت کسی بات کی صراحت نہ کی اور یوں ہی حج کے لئے بھیج دیا اور جانے والے نے تمتع کرلیا تو حج کس کی طرف سے ادا ہوگا ؟ آمر کی طرف سے یا مامور کی طرف سے؟ نیز کیا مامور ضامن ہوگا یا نہیں ؟
تو اس اسلسلے میں انڈیا کی مجلسِ شرعی کے فیصلوں میں مذکور ہے:
ایسا عموما جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے کہ آمر و مامور اقسام حج کا علم نہیں رکھتے اور آمر یہ خیال کرتا ہے کہ جیسے حج ہوتا ہے ویسے ہی میرا مامور میری جانب سے حج ادا کرے گا اب اکثر لوگ حج تمتع کرتے ہیں کرتے ہیں کیونکہ اس میں ان کے لئے راحت بھی ہے اور حج اِفراد کی بنسبت ثواب بھی زیادہ ہے قران اگرچہ سب سے افضل ہیں مگر اس میں عمرہ ادا کرنے کے بعد حلال نہیں ہوتا اور احکام کی پابندی اتمام حج تک حج افراد کی طرح برقرار رہتی ہیں تو یہ مانا جائے گا کہ عموما جیسا ہوتا ہے وہ حج تمتع ہے اس لیے آمر کی اجازت اور مامور کی بجا آوری بربنائے عرف اس پر محمول ہوگی البتہ مامور کو یہ چاہیے کہ آمر سے مطلقاً اجازت لے لے اسی طرح آمر بھی اسے عام اجازت دے دے کہ تم (افراد، قران، تمتع)جیسے چاہو میری جانب سے حج ادا کرو۔ (مجلسِ شرعی کے فیصلے ص 275) اقول: یہاں عرف کے ساتھ ساتھ ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ ہے مشقت ۔ بایں طور کہ قران میں ایک ہی احرام سے عمرہ و حج ہوتا ہے اس لئے اس میں مشقت زیادہ ہے کہ حاجی کئی روز تک حالتِ احرام میں گزارتا ہے ، اور طوالتِ احرام کے سبب کئی مشکلات کا سامنا کرنے پڑتا ہے جو کہ اسکے لئے جنایتِ احرام کے لزوم کا سبب بن جاتی ہیں ۔ لہذا احرام میں طوالت اور جنایات احرام کے ارتکاب کے خطرہ کی جہ سے مامور کو تمتع کی اجازت ہونی چاہیے ۔
اور پھر افراد یا قران کی صورت میں جب آفاقی میقات سے ہی احرام کی نیت کرلے گا تو لا محالہ اسے اتمامِ حج تک احرام میں رہنا لازم ہوگا ، کم سے کم دن احرام میں رہنے کی صورت یہ ہے کہ قریب کے دنوں میں آخری فلائٹس میں حج کے لئے نکلے مگر یہ بات بھی عیاں ہے کہ جوں جوں حج کا وقت قریب آتا ہے فلائٹس کے ریٹ بڑھتے جاتے ہیں حتیٰ کہ ان فلائٹس میں جانا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کی بساط سے باہر ہوجاتا ہےجسکے سبب مشقت و حرج میں پڑنے کا واقع اندیشہ ہوجاتا ہے لہذا ان وجوہات کی بناء پر بھی حجِ بدل میں تمتع کی اجازت ہونی چاہیے۔ جبکہ قوعدِ شرعیہ اس کی گواہی بھی دیتے ہیں ۔ جیساکہ رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ،ترجمہ: نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے۔( رد المحتار علی الدرالمختار، باب التیمم جلد 1 ص234)
اور اشباہ میں ہے :أَنَّ الْأَمْرَ إذَا ضَاقَ اتَّسِعَ۔ ترجمہ: جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔ اسی میں ہے : المشقۃ تجلب التیسیر۔ ترجمہ: مشقت ، آسانی لاتی ہے۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 72)
خلاصہ کلام: اس باب میں فقہاءِ کرام کے اقوال و ابحاث میں غور و خوض کرنے کے بعد حجِ بدل میں تمتع کے جواز و عدمِ جواز کے سلسلے میں درج ذیل تین صورتیں مستفاد ہوتی ہیں :
1: اگر آمر نے محض حجِ افراد کی صراحت کردی ہے تو اب مامور کے لئے اسکا خلاف جائز نہیں ہے ، خلاف ورزی کی صورت میں ضمان وغیرہ کے تمام احکام لاگو ہوں گے ۔
2: اگر آمر نے مامور کو تمتع وغیرہ کی صراحتاً اجازت دے دی ہے تو اس صورت میں مامور کے لئے بلاشبہ تمتع کرنا جائز ہے۔
3: اگر کہ اگر آمر نے مامور کو اجازت و عدمِ اجازت کسی بات کی صراحت نہ کی اور یوں ہی حج کے لئے بھیج دیا تو عرف اور یگر قواعدِ شرعیہ کی وجہ سے تمتع کی اجازت ہوگی تاہم اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ مامور کو یہ چاہیے کہ آمر سے مطلقاً اجازت لے لے اسی طرح آمر بھی اسے عام اجازت دے دے کہ تم (افراد، قران، تمتع)جیسے چاہو میری جانب سے حج ادا کرو۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:26 رمضان المبارک 1443 ھ/28 اپریل 2022 ء