warasat ka masla sat behan bhai
سوال
ہم سات بہن بھائی ہیں ،پانچ بھائی (محمد سعید ،محمد شریف ،محمد قدیر، محمد رئیس،محمد شبیر) دو بہنیں (روبینہ کنول، زرین کنول) ہمارے والدین کا تقریبا 13 سال پہلے انتقال ہوگیا ہے۔میری بڑی بہن شادی شدہ ہے اب میں اپنی بڑی بہن کے پاس تقریبا والدین کی وفات کے بعد سے رہ رہی ہوں،اس عرصہ میں کسی بھائی نے پوچھا تک نہیں کہ زندہ ہے یا مر گئی؟میرے ایک بھائی محمد شریف کا انتقال بھی ہوچکا ہے انکا انتقال والدین کی وفات کے بعد دوسال پہلے 2016 میں ہوا ہے۔انکی ایک بیوی شگفتہ، تین بیٹیاں حنا، حرا،عینی اور ایک بیٹا مصطفیٰ ہے۔
میرے والد کا ایک تین منزلہ مکان ہے، اور ایک دوکان ہے ،والد صاحب نے دوکان بڑے بھائی کو دے دی تھی کیونکہ اسکی نوکری چھوٹ گئی تھی۔اور دوکان اس وقت بھی بڑے بھائی کے انڈر میں تھی اور آج تک ان کے پاس ہے۔
ایک مکان اور بھی تھا را،وی کے علاقے میں جو کہ محمد سعید نے والدین کی وفات کے بعد ساڑھے 5 لاکھ میں بیچ کر رقم اپنے پاس ہی رکھی۔اور اب مسئلہ مکان بکنے کا آرہا ہے مجبوری یہ ہے کہ بجلی پانی کے بل اتنی بڑھ گئے ہیں کہ بھائیوں میں سے کوئی بھی اتارنے کو تیار نہیں ہے، تین منزلہ مکان میرے بڑے بھائی محمد سعید، محمد شریف کی فیملی ،محمد قدیر اور محمد رئیس رہ رہے ہیں ، مجھ سے بڑا بھائی محمد شبیر گھر سے باہر ہی رہتا ہے اسکا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے شاذ و نادر ہی گھر میں نظر آتا ہے۔میں اور میرا یہ بھائی کنوارے ہیں ،میرے والد صاحب میری اور میرے بھائی کی شادی کا خرچہ بڑے بھائی محمد سعیدکوامانت کے طور پر دے کر گئے تھے،کہ جب یہ شادی کے قابل ہوجائیں تو انکی شادی کرلینا ، انکے علاوہ سب بھائی بہن اس بات کے گواہ ہیں ،اور کچھ زیور بھی دے کر گئے تھے،اب نااتفاقیوں کی وجہ سے ان سے پیسہ مانگ رہے ہیں شادی کے لیے لیکن وہ نہیں دے رہے منکر ہوگئے ہیں، کہتے ہیں کہ میرے پاس تمہارا کچھ بھی نہیں ہے،قرآن اٹھانے کو تیار ہیں ،اب ہم کیا کریں۔
دوسری بات محمد قدیر کہہ رہا ہے کہ ہم سب بہن بھائی وکیل کرلیتے ہیں قرآن کو درمیان میں نہیں لانا چاہتے اسی لیے وکیل کرنے کا مشورہ ہورہا ہے۔وکیل کے ذریعے قبول کریں گے جو امانت ان کے پاس ہے۔
مجھے بتائیں کہ سب بہن بھائیوں کا حصہ اس تین منزلہ مکان میں ہوگا یا دوکان میں بھی ہوگا اور اس مکان میں جو سعید نے بیچ دیا اور اسکی رقم اپنے پاس رکھ لی کسی کو کچھ نہیں دیا ،جو ان کے پاس ہی ہے۔ اور یہ کہ جائیداد میں ہم بہن بھائیوں کے علاوہ مرحوم والدین کا بھی حصہ ہوگا یا نہیں ؟ فی کس کتنا حصہ ہوگا ؟ بھائیوں کا کتنا ؟ بہنوں کا کتنا؟ اور بل کی صورت میں جو خرچہ ہے وہ نکالا جائے گا یانہیں؟
برائے کرم شریعت کے مطابق اسکا حل بتادیں ،رقم کی تقسیم کے متعلق بھی بتادیں کہ کس کو کتنا کتنا ملے گا؟
محمد قدیر کہہ رہا ہے کہ تیرا یعنی زرین کنول اور شبیر کا سب شادی وغیرہ کا خرچہ اور اسکے علاوہ کا خرچہ سب محمد سعید ہی دے گا ،ہم بھائیوں کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے،تو کیا بہنوں کا بھائیوں پر کوئی حق نہیں ہے، یہ طریقہ حق مارنے کے برابر ہےکہ نہیں ؟ اس کے متعلق بھی کچھ بتادیں تاکہ اسکو آئینہ دکھا یا جائے۔
سائلہ: زرین کنول
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں اگر معاملات ایسے ہی ہیں جیسے کہ سوال میں مذکور ہوئے تو جو دوکان آپکے والد نے اپنی زندگی میں محمد سعید کو چلانے کے لیے دی اور اسکے علاوہ جو تین منزلہ مکان اور ایک وہ مکان جسکو محمد سعید نے والدین کی وفات کے بعد بیچ دیا اور اسکی رقم اپنے پاس رکھ لی ان سب میں سب بہن بھائیوں کا حصہ ہوگا ،اسکی تقسیم اس طرح کی جائے گی کہ کل جائیداد کی قیمت لگواکر اسکے 480 حصے کیے جائیں گے جس میں سے ہر بھائی کو بہنوں سے دوگنا ملے گا یعنی ہر بھائی(محمد سعید ،محمد شریف ،محمد قدیر، محمد رئیس،محمد شبیر) کو 80 حصے اور ہر بہن (روبینہ کنول، زرین کنول)کو 40 حصے ملیں گے ،۔
قال اﷲ تعالیٰللذکر مثل حظ لانثیین(النساء : 11)ترجمہ : مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔
سراجی فی المیراث ص25پر ہے ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبہن:ترجمہ: اور بیٹی کو بیٹے کے ہوتے ہوئے للذکر مثل حظ لانثیین( یعنی مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔) کے تحت بیٹی سے دگناحصہ ملے گا۔کیونکہ بیٹا بیٹیوں کو عصبہ بنا دے گا۔
محمد شریف جن کا انتقال 2016 میں ہوا انکا حصہ انکے ورثاء میں اسطرح تقسیم ہوگاکہ انکی زوجہ شگفتہ کو انکی وراثت یعنی 80 حصوں میں سے جو انکو انکے والد کی وراثت سے ملے 10 حصے ملیں گے ہر بیٹی یعنی حنا، حرا،اورعینی کو 14،14 حصے اور بیٹے مصطفیٰ کو 28 حصے ملیں گے۔
آپکے والدین جو وفات پاچکے انکا اس وراثت میں حصہ نہیں ہے ،البتہ اگر انہوں نے ورثاء کے علاوہ کسی کے لیے کوئی وصیت کی ہے تو انکی وراثت کے ایک تہائی مال سے انکی وصیت پوری کی جائے گی ۔
بدائع اکصنائع کتاب الوصایا جلد 7ص 330میں ہےوَالْوَصِيَّةُ تَصَرُّفٌ فِي ثُلُثِ الْمَالِ فِي آخِرِ الْعُمْرِ زِيَادَةٌ فِي الْعَمَلِ :ترجمہ:وصیت عمر کے آخری حصے میں ایک تہائی مال میں تصرف کرنے کا نام ہے تاکہ اس سے اعمال میں اضافہ ہو، اور اگر کوئی وصیت بھی نہیں کی تو آپ سب اپنی طرف سے انکی وراثت سے انکےلیے صدقہ جاریہ وغیرہ بھی کرسکتے ہیں۔یہ حدیث سے ثابت ہے،
چناچہ ابو داؤد باب فضل سقی الماء حدیث نمبر1681 میں ہےعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «الْمَاءُ» ، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ:ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ اُمّ سعد(یعنی میری ماں) کا انتقال ہو گیا ہے ان کیلئے کونسا صدقہ افضل ہے؟ اللہ کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پانی(بہترین صدقہ ہے تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے کہنے کے مطابق) حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے کنواں کھدوایا اور (اسے اپنی ماں کیطرف منسوب کرتے ہوئے) کہا یہ کنواں سعد کی ماں کیلئے ہے۔(یعنی اس کا ثوا ب ان کو پہنچے۔)
اور اگر آپ کے والد محمد سعید کے پاس آپکی اور آپکے بھائی کی شادی کے لیےکچھ رقم اور زیور رکھوا کرگئے تھے اور آپکے پاس اس بات کے گواہ بھی موجود ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ پیسے اور زیور واپس کریں اور ان پیسوں کو مال وراثت میں شامل کیا جائے گا کیونکہ والدین کی وفات کے بعد اسکی حیثیت وصیت کی سی ہے اور ورثاء کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337 میں ہے(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»:ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔
اگر محمد سعید یہ پیسے واپس نہیں کرے گا تو دوسروں کا نا حق مال کھانے والا شمار ہوگا اور ایسے کرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥):ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔
اور آپ کے آخری سوال کا جواب یہ ہے کہ مالی طور پر کمزور بھائی بہنوں کانقفہ بھی قریبی رشتے داروں پر انکی حیثیت کے مطابق لازم ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی