سوال
ہم نے مکان لینے کی نیت سے سارا سونا بیچ کر سونے کے بسکٹ لے لیے ہیں کہ جب مکان کی ڈیل ہو گی تو بسکٹ بیچ کر پیمنٹ دے دیں گے مکان دیکھ رہے تھے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کوئی مکان نہ خریدسکے ،تو اب پوچھنا یہ تھا کہ ہمارے پاس رکھے ہوئے بسکٹ پر زکوۃ ہو گی یا نہیں ؟
سائل:عبد اللہ :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سونا بیچنے سے پہلے اگر آپکے پاس کوئی نصاب (سونا چاندی،مالِ تجارت یا روپوں پیسوں کا)پہلے سے چل رہا تھا تو ان سونے کے بسکٹس کو اس کے ساتھ شامل کریں گے ۔ اور اس نصاب کا سال مکمل ہونے پر سب کی زکوۃ ایک ساتھ نکالی جائے گی ،الگ سے ان(بسکٹس )کا سال شمار نہیں ہو گا ۔اور اگر پہلے سے کوئی نصاب نہیں تھا،بلکہ وہی سونا تھا جسے بیچ کر بسکٹ لے لیے گئے تو آخر الذکر صورت میں سونے کا نصاب (ساڑھے سات تولے)مکمل تھا تو سال گزرنے کی شرط کے ساتھ زکاۃ واجب ہو گی ۔
اور اگر نصاب سے کم تھا لیکن اسکے ساتھ چاندی، یا حاجت و ضرورت سے زائد روپے پیسے وغیرہ موجود تھے یا مالِ تجارت تھا تو یقیناً ان سب کے مجموعہ کی قیمت ساڑے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنتی ہے بلکہ اس سے بھی کئی گنا بڑھ جائے گی تونصاب پر سال مکمل ہونے پر زکاۃ واجب ہو گی ،وگرنہ نہیں ۔
وجوبِ زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط مال کا بقدرِ نصاب ملک میں ہونا ہے۔سونے کا نصاب ساڑے سات تولہ اورچاندی کا نصاب ساڑے باون تولہ ہے،یوں ہی کرنسی نوٹ ،پرائز بانڈ اور مال تجارت کا نصاب بھی چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی )کے حساب سے ہو گا ۔اور اگر نصاب سے کم مختلف چیزیں ملکیت میں ہوں ،مثلاً،سونا ،چاندی دونوں ہیں ،یا دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ حاجت سے زائد کچھ کرنسی ہے،یا مال تجارت ہے جو کہ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوۃ ہو گی ۔
تنویر الابصار میں ہے:نصاب الذھب عشرون مثقالاوالفضۃمائتادرھم۔۔۔۔وعرض تجارۃ قیمتہ نصاب من ذھب او ورق مقوماباحدھما ربع عشر۔ترجمہ:سونے کا نصاب بیس مثقال(ساڑھے سات تولے)اور چاندی کا نصاب دو سو درھم (ساڑھے باون تولے چاندی)ہے اور تجارت کا سامان جس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر ہو تو اس کے چالیسویں حصہ(یعنی اڑھائی فیصد )پر زکوۃ واجب ہو گی۔(ملخصا)(تنویر الابصار جلد3،صفحہ267تا 272دار المعرفۃ)
اسی طرح زکاۃ کی ایک شرط حولانِ حول ہے،جسکا معنی ہے کہ نصاب پر ایک قمری سال گزر جائے ۔مثلاً یکم رمضان چودہ سو چالیس سنہ ہجری کوئی شخص صاحبِ نصاب ہوا تو سال مکمل ہونے کی آخری تاریخ ( یکم رمضان چودہ اکتالیس سنہ ہجری) کو جائزہ لیاجائے کہ ابتدائے سال (یکم رمضان چودہ سو چالیس سنہ ہجری )اور انتہائے سال (یکم رمضان چودہ سو اکتالیس سنہ ہجری) میں نصاب کامل رہا ہے تو زکاۃ واجب ہو گی اگرچہ کہ اثنائے ِسال نصاب میں کمی واقع ہوئی ہو ۔ کیونکہ اس کمی کا اثر نصاب پر نہیں پڑے گا۔البتہ نصاب بالکل ختم نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے سال باطل ہو جائے گا۔
علامہ علاؤ االدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وشرط کمال ولونصاب الو سائمۃ فی طرقی الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتہاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما فلو ھلک کلہ بطل الحول ترجمہ: سال کی دونوں جانب (شروع اورآخرمیں )نصاب کا کامل ہونا شرط ہے اگرچہ چرائی کے جانور ہی کیوں نہ ہوں۔ابتدا میں انعقاد کے لیے اور انتہا میں وجوب کے لیے ۔ان دونوں(ابتدا و انتہا )کے مابین نصاب کا کم ہو جانا باعثِ ضرر نہیں ۔اگر سارا مال ہلاک ہو گیا تو پھر سال باطل ہو جائے گا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،جلد3،صفحہ 278 دار المعرفہ)
عالمگیری میں ہے :’’ولو استبدل مال التجارة أو النقدين بجنسها أو بغير جنسها لا ينقطع حكم الحول، ولو استبدل السائمة بجنسها أو بغير جنسها ينقطع حكم الحول كذا في محيط السرخسي‘‘ ترجمہ:اور اگر کسی نے مالِ تجارت یا نقدین کو اس کی اپنی جنس یاغیر جنس سے تبدیل کیا تو حول(سال )کا حکم منقطع نہیں ہو گا ۔اور اگر سائمہ(چرائی کے جانور وں)کو اپنی جنس یا غیر جنس سے بدل ڈالا تو سال کا حکم منقطع ہو گا، جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ کتاب الزکاۃ باب الاول جلد 1 صفحہ 175 دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :جو(مال )راساً نصاب کو نہیں پہنچا بنفسہٖ سببیتِ وجوب کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر جب اس نوع کے ساتھ دوسری نوع بھی ہو یعنی زر و سیم مخلط ہوں تو از انجا کہ وجہ سببیت ثمنیت تھی اور وُہ دونوں میں یکساں،تو اس حیثیت سے ذھب و فضّہ جنسِ واحد لہذا ہمارے نزدیک جو ایک نوع میں موجب زکوٰۃ نہ ہوسکتا تھا خواہ اس لیے کہ نصاب ہی نہ تھا یا اس لیے کہ نصاب کے بعد عفو تھا اس مقدار کو دوسری نوع سے تقویم کرکے ملادیں گے کہ شاید اب اس کا موجب زکوٰۃ ہونا ظاہر ہو پس اگر اس ضم سے کچھ مقدار زکوٰۃ بڑھے گی(بایں معنی کہ نوع ثانی قبل ضم نصاب نہ تھی اسکے ملنے سے نصاب ہوگئی یا اگلی نصاب خمس کی تکمیل ہوگئی)تو اسی قدر زکوٰۃ بڑھا دیں گے اور اب اگر کچھ عفو بچا تو وہ حقیقۃً عفو ہوگا ورنہ کچھ نہیں اور اگر ضم کے بعد بھی کوئی مقدار زکوٰۃ زائد نہ ہو تو ظاہر ہوجائے گا کہ یہ اصلاً موجبِ زکوٰۃ نہ تھا۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 114 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ علم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد یونس انسالقادری عفی عنہ
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 رمضان 1441 ھ/25 اپریل 2020