سوال
میرے والد صاحب کو کسی نے زکوۃ کے پیسے دیئے کہ غریبوں کو دے دینا۔ اس وقت ابو کے مالی حالات خراب تھے ، اس لیے کچھ پیسے وہ غریبوں کو نہ دے سکے ۔بلکہ خود رکھ لیے اب اسکا کیا کفارہ ہے؟کیونکہ میرے ابو کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے ہمارے گھر میں پریشانیاں آرہی ہیں۔
سائلہ: بنت حوا : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں جبکہ آپکے والد کو اس بات کا وکیل بنایا تھا کہ وہ زکوۃ کے پیسے غریبوں میں دے دیں اور انہوں نےاسکی مخالفت کی یعنی انہوں نے اپنے اوپر بھی خرچ کیے لہذا وہ خیانت کے مرتکب ہوئےاور امانت میں خیانت کرنا گناہ کا کام ہے جس کی توبہ لازم و ضروری ہے اور اسکا ضمان بھی لازم ہے یعنی جتنے پیسے اپنے لیے خرچ کیے وہ سب اس شخص کو واپس دے جس نے زکوۃ کے پیسے تقسیم کرنے کے لیے دیے تھے اور وہ شخص پھر سے وہ اپنی زکوۃ ادا کرے۔اور اگر وہ اپنی مستحق بیوی یا بالغ اولاد کو دے دیتے تو یہ جائز تھا۔اسی طرح اگر آپکے والد سے یہ کہا جاتا کہ زکوۃ کے پیسے ہیں جہاں چاہو دے دو تو اس صورت میں اگر یہ خود بھی فقیر شرعی ہوتے اور خود رکھ لیتے تو یہ بھی جائز ہوتا،لیکن جب انکو وکیل صرف اس بات کا بنایا گیا تھا کہ وہ زکوۃ کے پیسے غریبوں کو دے دیں تو ان کو یہ پیسے اپنے لیے استعمال کرنا جائز نہیں تھا۔تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے: وَلِلْوَكِيلِ أَنْ يَدْفَعَ لِوَلَدِهِ الْفَقِيرِ وَزَوْجَتِهِ لَا لِنَفْسِهِ إلَّا إذَا قَالَ: رَبُّهَا ضَعْهَا حَيْثُ شِئْت۔ترجمہ:اور وکیل (زکوۃ)کے لیے جائز ہے کہ زکوۃ کے پیسے اپنے (بالغ )فقیر بیٹے اور بیوی کو دے دے لیکن اپنےلیے (استعمال )جائز نہیں ہے۔مگر جب زکوۃ دینے والا(مؤکل)کہے کہ یہ جسے چاہو دے دو۔(اس وقت خود اپنے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔)اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں :(قَوْلُهُ: لِوَلَدِهِ الْفَقِيرِ) وَإِذَا كَانَ وَلَدًا صَغِيرًا فَلَا بُدَّ مِنْ كَوْنِهِ فَقِيرًا أَيْضًا لِأَنَّ الصَّغِيرَ يُعَدُّ غَنِيًّا بِغِنَى أَبِيهِ أَفَادَهُ ط عَنْ أَبِي السُّعُودِ وَهَذَا حَيْثُ لَمْ يَأْمُرْهُ بِالدَّفْعِ إلَى مُعَيَّنٍ؛ إذْ لَوْ خَالَفَ فَفِيهِ قَوْلَانِ حَكَاهُمَا فِي الْقُنْيَةِ. وَذَكَرَ فِي الْبَحْرِ أَنَّ الْقَوَاعِدَ تَشْهَدُ لِلْقَوْلِ بِأَنَّهُ لَا يَضْمَنُ لِقَوْلِهِمْ: لَوْ نَذَرَ التَّصَدُّقَ عَلَى فُلَانٍ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَلَى غَيْرِهِ. ترجمہ: جب بچہ نابالغ ہوتو اسکا بھی فقیر ہونا ضروری ہے کیونکہ نابالغ بچہ اپنے پاب کی وجہ سے غنی مانا جاتا ہے ،علامہ طحاوی نے ابو السعود سے اس بات کا افادہ کیا ہے ۔ یہ اس وقت ہے کہ جب اسکو کسی معین شخص کو دینے کا وکیل نہ بنایا ہوکیونکہ اگر وہ اس (مؤکل)کی مخالفت کرے تو اس میں (ضمان و عدم ضمان)دو قول ہیں ، دونوں کو قنیہ میں حکایت کیا ہے ۔اور بحر میں ذکر ہے کہ قواعد کی رو سے اس پر ضمان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فقہاء کا یہ قول موجود ہے کہ اگر کسی متعین شخص کو صدقہ دینے کی نذر مانی تو اس کے علاوہ کسی اور بھی دے سکتا ہے۔( رد المحتا علی الدر المختارمع تنویرالابصار ،کتاب الزکوۃ ، جلد 2 ص 269 الشاملہ)
سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :اگر مالک نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا اور مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیک نہ پائی گئی اور اس پر روپے کا تاوان آئے گا۔(فتاویٰ رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 267 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:آپ کے وکیل نوجوان نے قصدا جو خیانت کی ہے، اس پر وہ گنہ گار ہے اور اس پر توبہ لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ وہ ساری رقم آپکو واپس لوٹائے ،اورآپ پھر سے زکوۃ ادا کریں۔(تفہیم المسائل ، جلد 5،ص 201 ضیاء القرآن )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07 ربیع الثانی 1440 ھ/15 دسمبر2018 ء