استحقاق زکوۃ كا شرعی حکم
    تاریخ: 19 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 807

    سوال

    میرا کاروبار تھا نقصان کے سبب جسے بند کرنا پڑا ، اب میں ایک کمپنی میں جاب کررہا ہوں مجھ پر لوگوں کا قرض ہے لیکن میری اتنی آمدنی نہیں کہ انکا قرض ادا کرسکوں اس صورتحال میں اگر میں اپنے کسی رشتہ دار سے مدد کے لئے کہوں تو کہہ سکتا ہوں یا نہیں ؟یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟

    سائل: بندہ خدا : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر آپ غیر سید ہیں اور قرضدار ہیں (جیساکہ سوال سے ظاہر ہے) اپنے رشتہ داروں سے زکوۃ یا دیگر صدقات کے ذریعےمدد کا کہیں تو حرج نہیں بلاشبہ انکا آپکو مذکورہ صدقات دینا اور آپکا لینا بلاکراہت جائز ہے۔اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے،جس میں قرضدار بھی شامل ہے ۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ۔ترجمہ کنزالایمان : زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللّٰہ کا اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے ۔(سورۃ التوبہ آیت نمبر 09)

    تنویر الابصارمیں ہے:وَمَدْيُونٌ لَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ وَفِي الظَّهِيرِيَّةِ: الدَّفْعُ لِلْمَدْيُونِ أَوْلَى مِنْهُ لِلْفَقِيرِ.ترجمہ:اور (زکوۃ کاایک مصرف )قرض دار ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ وہ قرض نکالنے کے بعد وہ نصاب کا مالک نہ رہے ، اور ظہیریہ میں ہے کہ فقیر کو زکوۃ دینے سے بہتر ہے کہ قرضدار کو زکوۃ دے۔( تنویر الابصار کتاب الزکوۃ باب المصرف جلد 3 ص 289)

    نیز یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص آپ کی اجازت سے آپ کی طرف سے زکوۃ ،قرض کی ادائیگی کی مد میں ادا کردے ۔جیسا کہ تنویرالابصار مع الدرالمختارمیں ہے:أَمَّا دَيْنُ الْحَيِّ الْفَقِيرِ فَيَجُوزُ لَوْ بِأَمْرِهِ، وَلَوْ أَذِنَ فَمَاتَ فَإِطْلَاقُ الْكِتَابِ يُفِيدُ عَدَمَ الْجَوَازِ وَهُوَ الْوَجْهُ۔ترجمہ:۔حاجت مند شخص کا قرض اسکی اجازت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے،اور اگر وہ اجازت دے دے پھر مر جائے تو کتاب کا اطلاق اس کے عدم جواز کا فائدہ کرتا ہے اور یہی درست ہے۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الزکوۃ باب المصرف ج3ص 291،292)

    نوٹ: یاد رہے کہ رشتے داروں میں اصول و فروع اور زوجین باہمی طور پر زکوۃ نہیں دے سکتے یعنی اولاد ، والدین اور زوجین ایک دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتے اسکے علاوہ دیگر رشتے دار بہن بھائی ماموں چاچا پھوپھا خالہ خالو وغیرہ کو زکوۃ دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں ۔ بلکہ دوسروں کو دینے کی بجائے رشتے داروں کو زکوۃ دی جائے کیونکہ انکو زکوۃ دینے میں دگنا ثواب ہے ایک زکوۃ دینے کا اور دوسرا صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے) کا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب