سوال
اقبال مارکیٹ میں میری ایک دوکان ہے جو میں نے اپنے اور اپنی بیوی کے نام کروائی تھی اب میں وہ دوکان بیچنے جا رہا ہوں، میری بیوی کا چونکہ انتقال ہو چکا ہے لہذا بیچنے کے لیے مجھ سمیت چار ورثاء راضی ہیں جبکہ میرے دو بچے (زوجہ کے حصہ میں سے) سائن کرنے پر راضی نہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر ہم یہ دوکان بیچتے ہیں تو ورثاء کا حصہ کس طور پر تقسیم ہوگا۔جبکہ میری زوجہ نے یہ وصیت کی تھی کہ انتقال کے بعد اس کی مالیت میں سے ٪10 اللہ کی راہ میں دیا جائے گا۔اس دوکان کا سودا 1کروڑ80لاکھ میں ہوا ہے، بَروکری کی فیس علیحدہ سے ہے، مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ وصیت کی رقم اور تقسیم وراثت کے اعتبار سے ورثاء کو حاصل شدہ مال بیان کر دیں،ورثاء :شوہر، ایک بیٹا، چار بیٹیاں۔
نوٹ:دکان کو خریدتے وقت اپنے اور بیوی کے نام کروادیا ۔
سائل: محمد امین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ اقبال مارکیٹ میں واقع مذکورہ دکان آپ اور آپ کی زوجہ کی مشترکہ ملکیت تھی، یعنی آدھی دکان آپ کی اور آدھی آپ کی زوجہ کی ، لہٰذا زوجہ کے انتقال کے بعد دکان کا نصف حصہ ان کا ترکہ شمار ہوگا، جس کی مالیت کل سودا 1کروڑ 80 لاکھ روپے کے اعتبار سے 90 لاکھ روپے بنتی ہے، اور ترکہ کی تقسیم سے پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات ،اگر واجب الادا قرض ہوتو اس کی ادئیگی ،اور وصیت کا نفاذ ضروری ہے؛ چونکہ آپ کی زوجہ نے اپنے مال میں سے ٪10 اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی تھی اور وصیت شرعی اعتبار سے کل مال کے تہائی حصے تک ہی نافذ ہوتی ہے،یہ 10٪ تہائی سے کم ہے تو یہ 10٪ یعنی 9 لاکھ بطور وصیت اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے، اس کے بعد باقی 81 لاکھ روپے ورثاء یعنی شوہر، ایک بیٹا اور چار بیٹیوں میں ان شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوں گے، تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر ترکہ میں شامل دکان کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں،ہاں اگر سب راضی ہوں تو اس ترکے کی تقسیم کچھ اس طرح کی جائے گی کہ81لاکھ کے 24 حصے کیے جائیں گے جس میں شوہر کے 6 حصے 20لاکھ 25ہزارروپےبیٹے کے 6 حصے20لاکھ 25ہزارروپے اور ہر بیٹی کے علیحدہ علیحدہ 10 لاکھ 12ہزار5سو روپے ہوں گے ۔
المسئلة بهذه الصورة:
مسئلہ:424=6x
المیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
شوہر بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
ربع عصـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
1 18=6x3
6 6 3 3 3 3
دلائل و جزئیات:
مال شرکت کی تقسیم کے متعلق 'درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام 'میں ہے:’’إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما۔ترجمہ: جب دو شریکوں کے حصے مساوی ہوں یعنی مشترکہ نصف نصف ہو تو برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔اور جب متساوی نہ ہو بایں طور کہ ان میں سے ایک کا ثلث اور دوسرے کے دو ثلث ہوں تو حاصلات اسی نسبت سے تقسیم کیے جائیں گے کیونکہ ان اموال کے نفقات انکے حصوں کے نسبت سے ہیں۔ (مجلۃ الاحکام ،الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف، ج:۱،ص:۲۶ ، مادہ نمبر ً مادہ 1077)
ایک شریک دوسرے کے حصے میں مثل اجنبی کے ہے اس بارے 'البدائع الصنائع' میں ہے ’’فأما شركة الأملاك، فحكمها في النوعين جميعاً واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ ترجمہ :شرکت املاک تو دونوں قسموں میں اس کا حکم یکساں ہے، اور وہ یہ کہ ہر شریک دوسرے شریک کے حصے میں ایسے ہی ہے جیسے کوئی اجنبی ہو، اور وہ دوسرے کے حصے میں بغیر اس کی اجازت کے کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الشركة۔ فصل في حكم الشركة،جلد:6،صفحة:65،دار الکتب العلمیة)
وصیت کرنا جائز ہےبلکہ مستحب ہے اس بارے الجوہرة النیرة میں ہے : ’’الوصية مشروعة بالكتاب والسنة ۔۔ الوصية غير واجبة وهي مستحبة أي للأجنبي دون الوارث ولا تجوز الوصية للوارث إلا أن يجيزها الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون لأن الامتناع لحقهم فيجوز بإجازتهم ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون ملخصاً ‘‘. ترجمہ : وصیت قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے ۔غیرِ وارث کے لیے وصیت کرنا واجب نہیں ، مستحب ہے ۔ وارث کے لیے وصیت درست نہیں ، ہاں اگر وصیت کرنے والے شخص کی وفات کے بعد ورثاء اس کی اجازت دیں ، جبکہ وہ تندرست ( یعنی شرعی طور پر ذہنی مریض نہ ہوں ) اور بالغ ہوں ( تو وارث کے لیے کی گئی وصیت بھی قابلِ عمل ہوگی) ، کیونکہ ( وارث کے لیے وصیت کی ) ممانعت ورثاء کے حق کی وجہ سے تھی ، تو ان کی اجازت کے ساتھ جائز ہوجائے گی اور ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت بھی درست نہیں ، مگر یہ کہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد ورثاء اس کی اجازت دے دیں ، جبکہ وہ تندرست ( یعنی شرعی طور پر ذہنی توازن درست ہو ) اور بالغ ہوں ( تو یہ بھی قابلِ عمل ہوگی) ۔ ( الجوھرۃ النیرۃ ، کتاب الوصایا ، جلد 2 ، صفحہ 366 ، 367 ، مطبوعہ کراچی )
کل مال کے تہائی میں یا اس سے کم میں وصیت جائز ہے زیادہ میں نہیں اس بارے سنن ترمذی میں ہے :’’ ’ عادني رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وأنا مريض فقال أوصيت قلت نعم قال بكم قلت بمالي كله في سبيل اللہ قال فما تركت لولدك قلت هم أغنياء بخير قال أوص بالعشر فما زلت أناقصه حتى قال أوص بالثلث والثلث كثير ‘‘. ترجمہ : میں بیمار تھا کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تو ارشاد فرمایا : کیا تم نے وصیت کر دی ہے ؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں ! آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:کتنے مال کی وصیّت کی؟ میں نے عرض کیا:راہ خدا میں اپنے تمام مال کی وصیت کی ہے ۔ آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کیا: وہ لوگ اغنیا یعنی صاحب مال ہیں، آپ نے فرمایا:دسویں حصہ کی وصیّت کرو۔ تو میں مسلسل کمی کرتا رہا ( یعنی بار بار پوچھتا رہا کہ اتنے مال کی وصیت کر دوں ۔۔۔ ؟ ) یہاں تک کہ آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:ثلث مال کی وصیّت کرو اور ثلث مال بہت ہے۔ ( سنن الترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلث ، جلد 1 ، صفحہ 316 ، مطبوعہ لاھور )
وراثت میں شوہر کے حصے کے متعلق ارشادباری تعالی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ.ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : 11)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
والله تعالى اعلم بالصواب
کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 شعبان المعظم 1447ھ/06فروری 2026