پانچ بیٹے تین بیٹی اور ایک بیوی کا حصہ
    تاریخ: 18 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 804

    سوال

    والد محترم کی کل ملکیت سات لاکھ ہے۔ مرحوم کی چار بیٹیاں اور پانچ بیٹے اور ان کی زوجہ ہے ۔چار بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا انتقال ہو گیا ہےاس کے دو بچے ہیں اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے ،بچے بھی انہی کے پاس ہیں کیا اس بہن کا حصہ بنتا ہے ؟ نیز مرحوم کی تمام اولادوں میں کتنا حصہ بنتا ہے۔مہربانی فرما کر اصلا کیجیے شکریہ ۔

    نوٹ : بہن کا انتقال والد سے پہلے ہو گیا تھا ،دادا ،دادی کا انتقال بھی والدے سے پہلے ہو گیا تھا ۔

    سائل:سمیر :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہے تو ان ورثاء کے مابین شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اُمورِ متَقَدِّمَہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے) کے بعد 7 لاکھ کے 104 حصے کیے جائیں گے ،جن میں سے بیوی کے 13 حصے87500 روپے ،5 بیٹوں میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ 14 حصے 94230 روپے ، تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ 7 حصے47115 روپے ہونگے ۔ انتقال کر جانے والی بہن کا والد کی میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا، کیونکہ وارث اسی وقت میراث کا مستحق ہوتا ہے جب وہ مورِث کے انتقال کے وقت حیات ہو۔ چونکہ یہ بہن اپنے والد سے پہلے انتقال کر چکی تھی، اس لیے وہ والد کی میراث کی حق دار نہیں ہے۔

    المسئلة بهذہ الصورة:

    مسئلہ :8104=13x

    المیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی

    ثمن عصــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ

    1 7

    13 14 14 14 14 14 7 7 7

    شوہر اور بیوی کے حصے کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان مبارک ” وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ ‘‘ترجمہ : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کاکا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے متعلق اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ في اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ۔ ترجمہ : اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے ،بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ،پھر اگر صرف لڑکیا ں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کیلیے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور ایک لڑکی ہو تو اس کیلیے آدھا حصہ ہے ۔(النساء : 11 )

    السراجی فی المیراث میں ہے :"و اما للبنات الصلب فاحول ثلاث : النصف للواحدة ،و الثلثان للاثنین فصاعدة ،و مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین و ھو یعصبھن . ترجمہ :حقیقی بیٹیوں کے تین احوال ہیں :ایک ہو تو نصف ،دو یا دو سے زیادہ ہو تو دو ثلث ،اور بیتے کے ساتھ تو لڑکے کیلیے دو لڑکیوں کا حصہ اور وہ لڑکا ان کو عصبہ بنا دیتا ہے :( السراجی فی المیراث ، فصل فی النساء ،صفحہ : 21 ،المدینةالعلمیة)

    عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال. ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    وارث مُورِث کے انتقال کے وقت حیات ہو وگرنہ میراث کا مستحق نہ ہوگا اس بارے علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، أَوْ تَقْدِيرًا كَجَنِينٍ فِيهِ غُرَّةٌ وَوُجُودُ وَارِثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ حَيًّا حَقِيقَةً أَوْ تَقْدِيرًا كَالْحَمْلِ وَالْعِلْمِ بِجِهَةِ إرْثِهِ‘ ‘. ترجمہ: وراثت کی شرائط تین ہیں:مورِّث کا وفات پاجانا حقیقتاً ، یا حکماً، یا تقدیراًجیسے کہ وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو اور اس کے سبب دیت میں غُرَّہ لازم ہوا ہو.وارث کا وجود(یعنی زندہ ہونا ) مورِّث کی موت کے وقت حقیقتاً یا تقدیراً جیسے کہ حمل، یعنی ماں کے پیٹ میں موجود بچہ۔ وارث کے حقِ وراثت کی جہت معلوم ہونا۔ (ردالمحتار ،كتاب الفرائض،ج:6،ص:758،در الفکر بیروت)

    فائدہ:مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ کہ کل رقم کو مبلغ یعنی 104پر تقسیم (Divide (کردیں جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں ،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واﷲ تعالٰی اَعلم بالصواب

    کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 رجب المرجب 1447ھ/09جنوری 2026