سوال
کہ ایک مسجد جوکہ ایک غریب علاقے میں واقع ہے اور مسجد کی ماہانہ آمدنی سے امام صاحب کی تنخواہ نکالنا ممکن نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں امام صاحب زکوۃ کی رقم لے کر ایک اسکول وین خریدنا چاہتے ہیں ،جس سے وہ اپنا خرچہ نکالیں گے ،اور مسجد سے تنخواہ نہیں لیں گے۔ کیا اس طرح کرنے کی شریعت میں اجازت ہے؟
سائل: محمد احمد : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر امام صاحب فقیر شرعی ہیں تو وہ زکوۃ لے سکتے ہیں جسکے بعد وہ مال زکوۃ سے اپنی سہولت کے اعتبار سے خرچ کرسکتے ہیں، کیوں کہ زکوۃ کی ادائیگی کے صحیح ہو نے کے لیئے تملیک (یعنی مالک بنادینا)ضروری ہے لہذا ہر وہ مصرف جس میں تملیک ممکن ہو اس میں زکوۃ دینا جائز ہے اور جہاں تملیک کی شرط مفقود ہو(یعنی جس کو مالک نہیں بنیا جا سکتا )تو وہ زکوۃ کامصرف نہیں بن سکتا ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے : وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الصَّرْفُ تَمْلِيكًا لَا إبَاحَةً كَمَا مَرَّ لَايُصْرَفُ إلَى بِنَاءِنَحْوِ مَسْجِدٍ وَ لَا إلَى كَفَنِ مَيِّتٍ وَقَضَاءِ دَيْنِهِ۔ترجمہ:اور زکاۃ کی ادا ئیگی کے لیئے ایک شرط یہ ہے کہ ادائیگی تملیک کے طور پر ہو نہ کہ اباحت(کہ اس کو نفع حاصل کرنے کی اجازت ہو ) کے طور پر ، جیسا کہ پہلے یہ بات گزری کہ تعمیراتی کاموں میں زکاۃ کا پیسہ نہیں لگایا جا سکتا جیسے مساجد وغیرہ کی تعمیر میں ،اور نہ ہی میت کے کفن اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار باب مصرف الزکاۃ ،ج:۲،ص:۳۴۴،دارالفکر،بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 رمضان المبارک 1440 ھ/21 مئی 2019 ء