warasat ka masla paanch bhai aik behan aur walida
سوال
ہمارے والد صاحب کا انتقال 1986ء میں ہوا ،تو ہم اپنے دادا کے گھر میں رہتے تھے والد کی اپنی کوئی جائیداد نہیں تھی انتقال کے وقت ایک عدد سوزوکی تھی جسکو بڑے بھائی نے 11000میں فروخت کیا اسکے بعد بڑے بھائی نے یہ 11000اور اپنے پاس سے باقی ملا کر سرجانی ٹاؤن میں 45000کا ایک مکان لیا ۔ اس وقت دادا دادی حیات تھے۔ دادا دادی کے انتقال کے بعد چچا نے ہمیں دادا کے مکان سے 80000روپے دئے اور ہمیں الگ کر دیا ۔بڑے بھائی نے پھر سرجانی والا مکان 143000کا بیچا یہ رقم اور حصہ کی رقم80000 جو دادا سے ملی اور کچھ اپنے پاس سے ملا کر ایک مکان 275000کا والدہ کے نام سے خریدا ۔
ہماری فیملی 5بھائیوں ایک بہن اور والدہ پر مشتمل ہے۔اسکے بعد 2بھائیوں نے مزید 2فلور بنائے ایک بھائی نے اپنے پیسوں سے بناےا اور دوسرے بھائی نے دوسرے دو بھائیوں کے ساتھ مل کر بناےا ۔اب مکان تین فلور کا ہے۔اب اس مکان کو دو بھائی لینا چاہتے ہیں اور باقی سب کو اس سے حصہ دینا چاہتے ہیں ایک بھائی وہ ہے جس نے ایک فلور بناےا لیکن دوسرے دو بھائیوں نے بھی اسکو رقم دی تھی۔اب جائیداد کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی۔
ایک بھائی کہتا ہے کہ میری جو رقم لگی ہے اسکو منہا کرکے اسی طرح دوسرے بھائی کی رقم منہا کرکے اور ایک فلور کے حساب سے تقسیم کرو۔اور جو پیسہ میں نے لگاےا مجھے حصہ کے ساتھ واپس کرو۔
شرعی طور پر جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی اس کے لئے فتوی درکار ہے۔بھائیوں بہن اور والدہ کا کتنا حصہ ہوگا؟
سائل: سلمان احمد، عمران احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہے تو آپکے والد صاحب کے ترکے اور جو آپکے چچا نے انکے نام پر دیا اسکو کل 88حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جس میں سے آپکی والدہ کو 11حصے ،آپکی بہن کو 7حصے جبکہ آپ سمیت ہر بھائی کو 14,14حصے ملیں گے۔اس طرح کل جائیداد کی تقسیم ہوگی۔
آپکے جس بھائی نے پہلے سرجانی ٹاؤن والا پھر دوسرے مکان میں اپنے پاس سے جو پیسے ملا ئے ےا تو وہ بطورِقرض ملائے ہوں گے ۔ کہ میں بعد میں وصول کرلوں گا،ےا بطور ہبہ ےعنی تحفہ کے طور پر ملائے ہوں گے (جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے)اگر قرض کی صورت ہے تو مکان کی قیمت لگواکر انکے پیسے ادا کئے جائیں گے جو انہوں نے لگائے تھے ۔
تنویرالابصار مع الدر المختار باب القرض ج5ص161پر ہےالْقَرْضِ (ہُوَ) لُغَۃً: مَا تُعْطِیہِ لِتَتَقَاضَاہُ، وَشَرْعًا: مَا تُعْطِیہِ مِنْ مِثْلِیٍّ لِتَتَقَاضَاہُ:ترجمہ: لغت میں قرض کہتے ہیں وہ چیز جو اس لئے دی جائے تا کہ بعد میں اس کا تقاضا کیا جائے۔ اور شریعت میں قرض کہتے ہیں وہ مثلی (جیسے پیسے ،اناج وغیرہ) چیز جو اس لئے دی جائے تا کہ بعد میں اس کا تقاضا کیا جائے۔
لہذا جب پیسے لگائے تھے اگر انہوں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ یہ میں قرض کے طورپر لگا رہا ہوں تو اب انکوواپس دینا واجب ہے۔اور اگر بطور ہبہ یعنی تحفہ کے طور پر ملائے ہوں گے جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ اس طرح کے لگائے جانے والے پیسے عموما واپس نہیں لئے جاتے تو ان کا مانگنا درست نہیں ہے ۔حدیث پاک میں ہبہ کے بعد رجوع کرنے والے کے بارے میں ارشاد ہے ۔
صحیح بخاری کِتَابُ الہِبَۃِ وَفَضْلِہَا وَالتَّحْرِیضِ عَلَیْہَا بَابٌ: لاَ یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یَرْجِعَ فِی ہِبَتِہِ وَصَدَقَتِہِ حدیث نمبر 2589ج3ص164پر ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: العَائِدُ فِی ہِبَتِہِ کَالعَائِدِ فِی قَیْئِہِ:ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا '' اپنا ہبہ واپس لینے والا اسی طرح ہے جس طرح کتا قئے(الٹی) کر کے اسے چاٹ لے۔
سو جو صورت ہوگی حکم اس کے مطابق ہوگا ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12 جمادی الثانی 1439ھ1 مارچ 2018