مسجد میں دوسر ی جماعت کرانے کا حکم
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 119

    سوال

    مسجد میں جماعت ثانیہ کا کیا حکم ہے؟ سائل:عبد القدوس عطاری:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جماعت ثانیہ کے حکم کی درج ذیل تفصیل ہے:

    1: مسجد ایسی ہے جس کے کوئی اہل(امام اور باجماعت نماز پڑھنے والے) مقرر نہیں جیسے ہائی وے اور ایئر پورٹ وغیرہ کی مساجد ہوتی ہیں تو اس میں دوسری جماعت اذان اور اقامت کی تکرار کے ساتھ نہ صرف جائز بلکہ شریعت کی طرف سے یہی حکم ہے کہ ایسی مساجد میں ہر آنے والے نئےلوگ نمازباجماعت اذا ن و اقامت کی تکرار کے ساتھ کروائیں۔

    2:مسجد تو ایسی ہے کہ جسکے اہل مقرر ہیں جیسے شہروں کے اندر محلّے وغیرہ میں مساجد ہوتی ہیں تو اس میں اگر پہلی جماعت غیر محلّہ والوں نے پڑھا دی تو اس صورت میں محلّے والوں کا دوسری جماعت کروانا جائز ہے۔

    3:مسجد بھی محلّے کی ہے اور جماعت بھی اہل محلّہ نے کروائی لیکن اذان نہیں دی یا اذان سنّت طریقے سے (بلند آوازسے) نہیں دی گئی تو اس صورت میں بھی دوسری جماعت کروانا جائز ہے ۔

    4:مسجد محلّے کی ہے اور جماعت بھی اہل محلّہ نے کروائی لیکن امام سے قراءت کی غلطی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جماعت مطلقا مکروہ یا فاسد ہوئی تو اس صورت میں بھی جماعت ثانیہ کروانا جائزہے۔ 5:مسجد محلّے کی ہے اور جماعت بھی اہل محلّہ نے کروائی اور جماعت بھی درست اذان کے ساتھ ازروئے شرع تام ہوئی تو اس صورت میں بغیر تکرار اذان اور محراب سے ہٹ کر دوسری جماعت کروانا بلا کراہت جائز ہے اور اگر اذان کی تکرار کے ساتھ دوسری جماعت کروائی تو مکروہ تحریمی اور محراب میں جماعت کروائی تو مکروہ تنزیہی ہوگی۔

    اعلحٰضرت امام اہلسنت مجّدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن جماعت ثانیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

    (۱) مسجد اگرشارع عام یا بازار کی ہے جس کے لئے اہل معین نہیں جب توبالاجماع اس میں تکرارجماعت باذان جدید وتکبیر جدید جائز بلکہ یہی شرعاً مطلوب ہے کہ نوبت بہ نوبت جولوگ آئیں نئی اذان واقامت سے جماعت کرتے جائیں۔

    (۲) اور اگرمسجد محلہ ہے تو اگر اس کے غیراہل جماعت کر گئے ہیں تواہل محلہ کوتکرار جماعت بلاشبہ جائز۔

    (۳) یااول اہل محلہ ہی نے جماعت کی مگربے اذان پڑھ گئے۔

    (۴) یااذان آہستہ دی تو ان کے بعد آنے والے باذان جدید بروجہ سنت اعادہ جماعت کریں۔

    (۵) یااگرامام میں کسی نقص قرأت وغیرہ یافسق یامخالفت مذہب کے باعث جماعت اولٰی فاسد یا مطلقا مکروہہ یاباقی ماندہ لوگوں کے حق میں غیراکمل واقع ہوئی جب بھی انہیں اعادہ جماعت سے مانع نہیں۔

    یہ سب صورتیں توقطعی یقینی ہیں اب رہی ایک صورت کہ مسجد مسجدِ محلہ ہے اور اس کے اہل بروجہ مسنون اذان دے کرامام نظیف موافق المذہب کے پیچھے جماعت کرچکے اب غیرلوگ یااہل محلہ ہی سے جوباقی رہ گئے تھے آئے، انہیں بھی اس مسجد میں جماعت ثانیہ جائز ہے یانہیں؟ یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے ظاہرالروایہ سے حکم کراہت نقل کیاگیااور علامہ محقق اجل مولی خسرو نے درر و غرر اور مدقق اکمل علامہ محمد بن علی دمشقی حصکفی نے خزائن الاسرار میں فرمایا کہ اس کراہت کامحل صرف اس صورت میں ہے جب یہ لوگ باذان جدید جماعت ثانیہ کریں ورنہ بالاجماع مکروہ نہیں، اور اسی طرف درمختار میں اشارہ فرمایا اور ایسے ہی منبع وغیرہ میں تصریح کی، اور قول محقق منقح یہ ہے کہ اگریہ لوگ اذان جدید کے ساتھ اعادہ جماعت کریں تومکروہ تحریمی، ورنہ اگرمحراب نہ بدلیں تومکروہ تنزیہی ورنہ اصلا کسی طرح کی کراہت نہیں، یہی صحیح ہے اور یہی ماخوذ للفتوی۔

    درمختار میں ہے: یکرہ تکرار الجماعۃ باذان واقامۃ فی مسجد محلۃ لافی مسجد طریق او مسجد لاامام لہ ولامؤذن۔ محلہ کی مسجد میں اذان وتکبیر کے ساتھ جماعت کاتکرار مکروہ ہے البتہ راستہ کی مسجد اور ایسی مسجد میں مکروہ نہیں جہاں امام اور مؤذن نہ ہو۔(رد المختار علی الدر المختار،جلد:1،ص:552،دارالفکر بیروت)

    ردالمحتارمیں ہے:عبارتہ فی الخزائن اجمع مماھنا ونصھا یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ الااذاصلی بھما فیہ اولا غیراھلہ اواھلہ لکن بمخافتۃ الاذان ولوکرراھلہ بدونھمااوکان مسجد طریق جاز اجماعاکما فی مسجد لیس لہ امام ولامؤذن ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فان الافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ علیحدۃ کما فی امالی قاضی خاں ۱؎ ۱ھ ونحوہ فی الدرر والمراد بمسجد المحلۃ مالہ امام وجماعۃ معلومون کما فی الدرر وغیرھا قال فی المنبع والتقید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز من الشارع وبالاذان الثانی احتراز عما اذ اصلی فی مسجد المحلۃ جماعۃ بغیراذان حیث یباح اجماعا.ترجمہ: اس کی عبارت خزائن میں یہاں سے زیادہ جامع ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں کہ مسجد محلہ میں جدید اذان واقامت کے ساتھ تکرار جماعت مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب یہاں پہلے کسی غیراہل محلہ اذان واقامت کے بغیرتکرار جماعت کریں یامسجد راستہ کی ہو تو بالاتفاق جماعت جائز ہوگی جیسا کہ اس مسجد کاحکم ہے جس کا امام اور مؤذن مقرر نہیں اور لوگ گروہ درگروہ اس میں نماز اداکرتے ہوں، تویہاں افضل یہی ہے کہ ہرفریق علیحدہ اذان واقامت کے ساتھ نماز اداکرے جیسا کہ امالی قاضی خاں میں ہے اور اسی کی مثل درر میں ہے محلہ کی مسجد سے مراد وہ مسجد ہے جس کا امام اور جماعت معلوم ہو جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے، منبع میں ہے مسجد کومحلہ کے ساتھ مقید کرنا شارع عام کی مسجد سے احتراز ہے اور اذان ثانی کے ساتھ مقید کرنا اس صورت سے احتراز ہے جب مسجد محلہ میں بغیراذان کے جماعت ہوگئی ہو کیونکہ اب بالاتفاق(تکرار جماعت)مباح ہے۔ (رد المختار علی الدر المختار،جلد:1،ص:553،552،دارالفکر بیروت)

    ثم قال اعنی الشامی بعد مانقل الدلیل علی الکراھۃ،مقتضی ھذا الاستدلال کراھۃ التکرار فی مسجد المحلۃ ولو بدون اذان ویؤیدہ ما فی الظھیریۃ لودخل جماعۃ المسجد بعدماصلی فیہ اھلہ یصلون وحدانا وھوظاہر الروایۃ ۱ھ وھذا مخالف لحکایۃ الاجماع المارۃ الخ.ترجمہ: پھرکراہت پردلیل نقل کرنے کے بعد شامی نے فرمایا اس استدلال کاتقاضا یہ ہے کہ مسجد محلہ میں تکرار جماعت مکروہ ہے اگرچہ تکرار بغیراذان کے ہو اور اس کی تائید ظہیریہ کی یہ عبار ت بھی کرتی ہے کہ اگر کچھ لوگ مسجد میں اس وقت آئے جب اہل محلہ اس میں جماعت کرواچکے تھے تو وہ اکیلے اکیلے نماز اداکریں اور یہی ظاہر روایت ہے۱ھ اور یہ گزشتہ منقول اجماع کے مخالف ہے الخ۔(رد المختار علی الدر المختار،جلد:1،ص:553،552،دارالفکر بیروت)

    وقال قبل ھذا فی باب الاذان بعد نقل عبارۃ الظہیریۃ،وفی آخر شرح المنیۃ وعن ابی حنیفۃ لوکانت الجماعۃ اکثر من ثلثۃ یکرہ التکرار والافلا وعن ابی یوسف اذالم تکن علی الھیأۃ الا ولی لاتکرہ والاتکرہ وھو الصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیأۃ کذا فی البزازیۃ ۱ھ وفی التاترخانیۃ عن الولوالجیۃ وبہ ناخذ۔ترجمہ:اوراس سے پہلے باب الاذان میں عبارت ظہیریہ کے نقل کرنے کے بعد شامی نے کہا اور شرح منیہ کے آخر میں ہے اور امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ اگر افراد جماعت تین سے زیادہ ہوں توتکرار مکروہ ہوگا ورنہ نہیں اور امام یوسف سے مروی ہے جب ہیئت اولٰی پرنہ ہو مکروہ نہیں ورنہ مکروہ، اور یہی صحیح ہے اور محراب سے اعراض کرلینے سے ہیئت مختلف ہوجاتی ہے، بزازیہ میں یونہی ہے۱ھ اور تاتارخانیہ میں ولوالجیہ کے حوالے سے ہے کہ ہم اس پرعامل ہیں۔(رد المختار علی الدر المختار،جلد:1،ص:395دارالفکر بیروت)

    اسی میں ہے: قد علمت ان الصحیح انہ لایکرہ تکرارالجماعۃ اذا لم تکن علی الھیأۃ الاولٰی۔ ترجمہ :آپ جان چکے کہ صحیح یہی ہے کہ تکرار جماعت مکروہ نہیں جبکہ وہ ہیئت اولٰی پرنہ ہو۔(رد المختار علی الدر المختار،جلد:1،ص:396دارالفکر بیروت)

    بالجملہ جماعت ثانیہ جس طرح عامہ بلاد میں رائج ومعمول درر ومنبع و خزائن شروح معتمدہ کے طور پر تو بالاجماع اور عند التحقق قول صحیح مفتی بہ پربلاکراہت جائز ہے کہ دوسری جماعت والے تجدید اذان نہیں کرتے اور محراب سے ہٹ ہی کرکھڑے ہوتے ہیں اور ہم پرلازم کہ ائمہ فتوٰی جس امر کی ترجیح وتصحیح فرما گئے اس کا اتباع کریں۔

    درمختارمیں ہے: اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ وماصححوہ کما لوافتونافی حیاتھم ترجمہ: رہا ہمارامعاملہ تو ہم پراس قول کی اتباع لازم ہے جسے علماء نے ترجیح دی اور جس کی انہوں نے تصحیح فرمائی، جیسے اس صورت میں ہم پر ان کی پیروی لازم تھی کہ اگر وہ ہمارے زمانہ میں زندہ ہوتے اور فتوٰی دیتے۔(رد المختار علی الدر المختار،جلد:1،ص:77دارالفکر بیروت)(فتاوی رضویہ ،جلد:7،ص:56،55،54-رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 24جمادی الاولی 1442 ھ/9جنوری 2021 ء