بچہ گود لینے کے احکام
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 120

    سوال

    میں بے اولاد ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے بھانجے کو گود لے لوں از روئے شرع رہنمائی فرمائیں کہ نوزائیدہ بچہ گود لینےجائز ہے یا نہیں؟

    سائلہ: طلعت:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کسی غریب ،نادار ماں باپ کی اولاد یا کسی عزیز کے بچے یا بچی کو حصول اجر وثواب کی نیت سے یاانسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت گود لینا ، پالنا ایک اچھا عمل ہے ۔ ایسا کرنے والا اللہ کریم کی بارگاہ میں اجر و ثواب کا مستحق ہوگا،لہذا آپ کا اپنے بھانجے کو گود لینا جائزہے ۔لیکن خود کو اس بچے یا بچی کا والد قرار دینا، اور اسکو اپنا حقیقی بیٹا یا بیٹی قرار دینا ،اسکی ولدیت تبدیل کرنا، یہ سب ناجائز و حرام امور ہیں ۔نیز گود لیا جانے والا بچہ ،گود لینے والے کا شرعا اور قانونا وارث نہیں بن سکے گا ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآئَکُمْ اَبْنَآئَکُمْ ط ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاهِکُمْ ط وَاﷲُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِی السَّبِيْلَ ترجمہ: اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی)بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے منہ کی اپنی باتیں ہیں اور اللہ حق بات فرماتاہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔(الاحزاب:آیت : 4)

    یوں ہی دوسری آیت میں ارشاد ہے :ادْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِج فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ هُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّيْنِ وَمَوَالِيْکُمْ ط ترجمہ:تم اُن (مُنہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام)سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ)دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔(الاحزاب:آیت : 5)

    حدیث پاک میں بھی اس کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے:عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ يَقُولُ: مَنِ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ.ترجمہ:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے متعلق دعویٰ کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔( بخاري، الصحيح، 6: 2485، رقم: 6385، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة، مسلم، الصحيح، 1: 80، رقم: 63، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي)۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تارخ اجراء:25ذو القعدہ 1441 ھ/17جولائی 2020 ء