تکافل سے متعلق شرعی حکم
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 122

    سوال

    میں Hamaya Takaful EFU کا ایک Modul لینا چاہتا ہوں ، جسکی بنیاد وکالہ وقف کی ہے اس Moduleپر مفتی منیب الرحمان نے داؤد فیلمی تکافل کو جواز کا فتوٰی دیا ہوا ہے تو کیا میں EFU کا یہ Module لے سکتا ہوں یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:محمد زاہد : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تکافل مروّجہ غیر اسلامی انشورنس کا ایک ایسا جائز متبادل نظام ہےجس کی بنیاد وقف پر رکھی گئی ہے،جہاں ایک وقف فنڈ بنایا جاتا ہے جس میں شرکاء ِ تکافل روپیہ وقف کرتے ہیں اور حادثہ پیش آنے کی صورت میں یہ وقف مقررہ شرعی اصول و ضوابط کےمطابق صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس وقف پول کے ڈونر ہوتے ہیں ۔ اورمروّجہ انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مروجہ انشورنس ایک ایسا عقدِ معاوضہ ہے جس میں سود قمارgambling اورغرر پایا جاتا ہے جن کی بناء پر اس کو ناجائز قرار دیا گیا ہے جبکہ تکافل کے نظام میں کوئی شرعی خرابی نہیں پائی جاتی ، لہذا تکافل کی پالیسیز لینا جائز ہے۔ نیزتکافل کا نظام عقدِ تبرع (وقف)پر مبنی ہے اور انشورنس عقدِ تبرع نہیں ہےبلکہ عقدِ معاوضہ ہے۔مزید معلومات کے لئے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب کے فتاوٰی کا مجموعہ بنام تفہیم المسائل جلد 7 ص 259 تا 269 کا مطالعہ فرمائیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخاجراء:10 ربیع الاول 1445ھ/ 27 ستمبر 2023 ء