فرسٹ فلور پر جگہ پر ہونے سے قبل گراؤنڈ فلور پر نماز پڑھنے کا حکم جبکہ جماعت فرسٹ فلور سے ہورہی ہو
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 121

    سوال

    بعض مساجد ایسی ہوتی ہیں جہاں پر گراؤنڈ فلور ہوتے ہوئے بھی محراب فرسٹ فلور پر ہونے کی وجہ سے جماعت فرسٹ فلورسے ہی کراوئی جاتی ہے۔اور اس صورت میں ضعیف افراد جو سیٹرھیاں نہیں چڑھ سکتے وہ گراؤنڈ فلور پر ہی نماز پڑھنا شروع کردیتے ہیں اوربعض اوقات کچھ صحت مند افراد بھی رکعت حاصل کرنے کے لیے جماعت میں گراؤنڈ فلور سے ہی شامل ہوجاتے ہیں۔اور ابھی فرسٹ فلور پر جگہ باقی ہوتی ہے۔کبھی تو نماز کے اختتام تک فرسٹ فلور کی جگہ فل ہوجاتی ہے اور کبھی جگہ فل نہیں ہو پاتی ۔بہر صورت وہ حضرات جو گراؤنڈ فلور پر نماز شروع کردیتے ہیں انکی نماز کا کیا حکم ہوگا؟ سائل:عبد اللہ :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں اگر فرسٹ فلور پر جگہ پُر ہوجاتی ہو یا پھرجماعت کے اختتام تک جگہ کے پُرہونے کا غالب گمان ہو تو اس صورت میں گراؤنڈ فلور پر نماز پڑھنا بلاکراہت درست ہوگا۔لیکن اگر فرسٹ فلور پر جگہ مکمل نہیں ہو تی تو پھر گراؤنڈ فلور پر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔لیکن اس کراہت کے باوجود نماز درست ہوجائے گی کہ اس کا تعلق نماز کے مکروہات سے نہیں ہے ۔مگر مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے سبب ایسا کرنے والے گناہ گار ہونگے۔

    لہذا مسجد کی انتظامیہ کو چاہئے کہ اگر عام نمازوں میں فرسٹ فلورپر جگہ پُر نہیں ہوتی تو جماعت گراؤنڈ فلور سے ہی کروائی جائے تاکہ جو لوگ گراؤنڈ فلور پر ضعیفی کی وجہ سے یا رکعت پانے کی وجہ سے نماز شروع کردیتے ہیں وہ مکروہ تحریمی کے ارتکاب سے بچ سکیں۔اور جمعہ و عیدین کے اجتماعات یا وہ نمازیں جس میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے تو پھر فرسٹ فلور سے جماعت کرائی جائے ۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ صفوں میں اتصال واجب ہے ۔یعنی اگر آگے کی صفوں میں جگہ ہو اور پیچھے صف میں نماز شروع کی جائے تو ایساکرنا مکروہ تحریمی ہے ۔اور مکروہ تحریمی کا مرتکب گناہ گار اورمستحق عذاب ہے۔لیکن اگرجماعت کے مکمل ہونے تک خالی جگہ پُر ہوجائے تو پھر کراہت باقی نہ رہے گی۔ لہذا اگر فرسٹ فلور میں صفیں پُر نہیں ہوئیں اورجماعت کے اختتام تک یہی صورت ِحال رہی تو گراؤنڈ فلور پر نماز پڑھنے والے صف مکمل نہ کرنے کےسبب مکروہ تحریمی کے مرتکب ہونگے۔

    سنن النسائی میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ،بے شک نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو صف کو ملائےگا ،اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جو صف قطع کرےگا اللہ تعالی اسے قطع کردے گا۔(سنن النسائی،رقم:819)

    مسند امام احمد بن حنبل میں ہے :عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ۔ترجمہ:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے بے شک نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: آگے والی صف کو مکمل کروپھر اس کے بعد والی کو،پس جو کمی ہو ،وہ آخری صف میں ہو۔(مسند امام احمد بن حنبل،رقم :13439)

    دررالحکام شرح غرر الاحکام میں ہے: الْمُصَلِّي عَلَى رُفُوفِ الْمَسْجِدِ إنْ وَجَدَ فِي صَحْنِهِ مَكَانًا كُرِهَ وَإِلَّا فَلَا .ترجمہ:مسجد کے صحن میں جگہ ہوتے ہوئے مسجد کے بالاخانہ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اگر جگہ نہ ہو(جگہ پُر ہوجائے ) تو پھر مکروہ نہیں ہے۔(درر الحکام شرح غرر الاحکام،جلد:1،ص:91،داراحیاءالکتب العربیۃ)

    علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله - صلى الله عليه وسلم - " ومن قطعه قطعه الله "ترجمہ:کیا اس میں کراہت تنزیہی ہے یا تحریمی اورنبی کریم ﷺ کا فرمان" اور جو صف قطع کرےگا اللہ تعالی اسے قطع کردے گا"دوسرے(تحریمی )کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:1،ص:570،دارالفکر بیروت)

    اور مکروہ کے حوالے سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی لکھتے ہیں: علماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے والعیاذباﷲ تعالٰی۔(فتاوی رضویہ،جلد:23،ص:501،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    بخاری شریف کی حدیث ہے:عَنْ أنَسِ بنِ مالِكٍ أنَّهُ قَدِمَ المَدِينَةَ فَقِيلَ لَهُ مَا أنْكَرْتَ مِنَّا مُنْذُ يوْمِ عَهِدْتَ رسولَ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ مَا انْكَرْتُ شَيئا إلاّ أنَّكُمْ لاَ تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ.ترجمہ: حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بے شک وہ مدینہ طیبہ تشریف لائے،تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ہمارے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے خلاف کون سی بات دیکھی ہے؟تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی،سوائے اس بات کے کہ تم صفوں کو سیدھا نہیں کرتے۔

    اس حدیث کے تحت علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں: ومع القول بوجوب التسوية فتركها لا يضر صلاته لانها خارجة عن حقيقة الصلاة الا ترى ان انسا(رضی اللہ عنہ) مع انكاره عليهم لم يامرهم باعادة الصلاة.ترجمہ: اور صف سیدھی رکھنے کے وجوب والے قول کے مطابق بھی اس کا ترک نماز میں نقصان پیدا نہیں کرے گا،کیونکہ یہ نماز کی حقیقت سے خارج ہے ،کیا دیکھتے نہیں کہ حضرت سیدنا انسرضی اللہ عنہ نے ان کے اس فعل کو ناپسند کرنے کے باوجود انہیں نماز کے اعادے کا حکم نہیں دیا۔(عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری،جلد:5،ص:258،داراحیاء التراث العربی۔بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    الجـــــواب صحــــیـح:محمد احمد امین قادری نوری

    تاریخ اجراء: 17جمادی الثانی1443 ھ/21جنوری2022 ء