وراثت كا مسئله مناسخہ تین بطون

    warasat ka masla manasikha teen batoon

    تاریخ: 28 اپریل، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1243

    سوال

    مفتی صاحب جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے مسئلہ پوچھنا ہے جائیداد پگڑی کی ہے جو کہ میرے داد کی ہے میں نے پگڑی پر لی تھی اور اس میں انیس سال رہائش پذیر رہا ۔ گزشتہ مہینے میں نے یہ پگڑی انکے ورثاء کو تیس لاکھ کے عوض واپس کردی ہے ۔ میرے مرحوم داد کی آٹھ اولاد ہے جس میں پانچ بیٹیاں مریم،مہرالنساء،زیب النساء،جمیلہ بانو،آمنہ حیات ہیں اور تین بیٹے انوار،نثاراور عبدالکریم ہیں۔دادا کے بیٹوں میں سے عبدالکریم کا وصال داد کی حیات میں ہی ہوگیا تھا ، پھر داد کا انتقال ہوا ۔ اسکے بعد میرے والد صاحب نثار احمد کا انتقال ہوا ہم والد صاحب کی پانچ اولادیں ہیں جس میں انکی بیوی زبیدہ خاتون ،تین بیٹے حنیف، ایوب،الطاف اور دو بیٹیاں طاہرہ اور سلمی ہیں ۔ جس میں سے طاہرہ کا انتقال والد سے پہلے ہی ہوگیا تھا ، اسکے بعد میرے تایا محمد انوار کا انتقال ہوا انکی ایک زوجہ خیرون، اور پانچ بیٹے یوسف ،آصف،عارف،عاطف اور اشرف ہیں ۔

    اس صورت حال میں میرے آپ سے چند سوالات ہیں ۔

    کیا پگڑی کے گھر میں میرے تایا اور پھوپھیوں کا حصہ ہوگا؟

    میرے چاچا جوکہ داد کے انتقال سے پہلے انتقال کرگئے تھے انکی بیوی کا اس جائیداد میں حصہ ہوگا انکی کوئی اولاد نہیں ہے۔

    اگر پگڑی کی جائیداد میں حصہ بنتا ہے تو تو وہ کس حساب سے ہوگا یعنی بیٹوں کا کتنا اور بیٹیوں کا کتنا؟

    شریعت کی رو سے جواب عنائت فرمائیں ۔

    سائل: محمد حنیف ولد نثار احمد : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں جبکہ پگڑی کا مکان واپس کردیا ہے تو اس مکان میں وراثت جاری ہوگی اور تمام ورثاء کو انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی ، جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل جائیدادکی قیمت لگواکر اس کو 180 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔جس میں سے مریم ،مہرالنساء،زیب النساء،جمیلہ ،اور آمنہ کو بیس بیس حصے دیئے جائیں گے۔جبکہ زبیدہ اور سلمٰی کو پانچ پانچ حصے دیئے جائیں گے۔اور حنیف، ایوب،الطاف کو دس دس حصے دیئے جائیں گے۔اور خیرون کو پانچ حصے اور یوسف، آصف ،عارف،عاطف،اشرف کو سات سات حصے دیئے جائیں گے۔

    آپکے چچا عبدالکریم اور اور نثار احمد کی بیٹی فاطمہ کو وراثت سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ وراثت صرف ان میں تقسیم ہوتی ہے جو وارث کے وصال کے وقت زندہ ہوں۔

    ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه:ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے۔ (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت: أي وقت الحكم بالموت:ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    لیکن اگر آپ چاہیں تو اپنے بھائی کے بچوں کو وراثت سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ آپ کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ،اور احسان کرنے والوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین

    ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔(البقرہ:195)

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ:ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 رمضان المبارک 1440 ھ/30 مئی 2019 ء