سوال
ہماری مسجد کا صحن بڑا کشادہ ہے جس میں نماز عصر کے بعد بہترین ہوا اور خوشگوار ماحول ہوتا ہے مسجد انتظامیہ یہ چاہ رہی ہے کہ ہم مغرب اور عشاء کی نماز صحن میں کروائیں اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایک تو بجلی کا بوجھ مسجد پر کم ہوگا اور بجلی کا بل بھی کم آئے گا اور مسجد کے اخراجات پر فرق پڑے گا جو اخراجات میں کمی آئے گی اس سے ہم مسجد کے دیگر معاملات کو حل کریں گے ہماری مسجد کے اندر بہت سا تعمیراتی کام یعنی کہ فنشنگ کلر اندر اور باہر دونوں حصوں میں اور ٹائلز وغیر کا کام باقی ہے اسی طرح بجٹ بجنے کی صورت میں امام و موذن اور خادم کے وظیفے میں بھی مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے اضافہ کرنے میں مددگار ہوگا اور ساتھ میں مسجد کے دیگر معاملات میں آسانی ہوگی برائے مہربانی شریعت مطہرہ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل :محمد فیض بمعرفت مولانا فیصل صاحب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسجد کا صحن شرعاً مسجد ہی کا حصہ شمار ہوتا ہے، جیسے گھر کا صحن گھر ہی کے حکم میں ہوتا ہے۔ فقہاء کرام نے جس حصے پر چھت ہو اُسے "مسجدِ شتوی" (یعنی جاڑے کی مسجد) اور جس حصے پر چھت نہ ہو، اُسے "مسجدِ صیفی" (یعنی گرمی کی مسجد) قرار دیا ہے۔ لہٰذا مسجد کے صحن میں فرض نماز باجماعت ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے، اور اس کا ثواب مسجد کے اندرونی حصے میں نماز پڑھنے کے برابر ہے، کیونکہ صحن مسجد کا مستقل اور مکمل حصہ ہے۔ اسی وجہ سے نہ تو اس میں نماز پڑھنے سے فضیلت میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے اور نہ ہی یہ مسجد سے باہر شمار ہوتا ہے۔البتہ امام کو مسجد کے ٹھیک بیچ میں کھڑا ہونا اور مقتدیوں کا اس کے دونوں طرف (دائیں اور بائیں) برابر کھڑا ہونا سنت متوارثہ ہے۔
دلائل و جزئیات :
صیفی (یعنی گرمی کی مسجد) اور شتوی (جاڑے کی مسجد ) کو مسجد کہا گیا جیسا کہ رد المحتارميں ہے :"وَالْحَاصِلُ أَنَّ السُّنَّةَ فِي سُنَّةِ الْفَجْرِ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا فِي بَيْتِهِ، وَإِلَّا فَإِنْ كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ مَكَانٌ صَلَّاهَا فِيهِ، وَإِلَّا صَلَّاهَا فِي الشِّتْوِيِّ أَوْ الصَّيْفِيِّ إنْ كَانَ لِلْمَسْجِدِ مَوْضِعَانِ، وَإِلَّا فَخَلْفَ الصُّفُوفِ عِنْدَ سَارِيَةٍ، لَكِنْ فِيمَا إذَا كَانَ لِلْمَسْجِدِ مَوْضِعَانِ وَالْإِمَامُ فِي أَحَدِهِمَا، ذَكَرَ فِي الْمُحِيطِ أَنَّهُ قِيلَ لَا يُكْرَهُ لِعَدَمِ مُخَالَفَةِ الْقَوْمِ، وَقِيلَ يُكْرَهُ لِأَنَّهُمَا كَمَكَانٍ وَاحِدٍ. قَالَ: فَإِذَا اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ فَالْأَفْضَلُ أَنْ لَا يَفْعَلَ.ترجمہ : خلاصہ یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بارے میں سنت یہ ہے کہ انہیں اپنے گھر میں ادا کرے۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو اگر مسجد کے دروازے کے پاس کوئی جگہ ہو تو وہاں ادا کرے، ورنہ مسجد کے دو حصے ہوں (یعنی) جاڑے کی مسجد (مسجد شتوی) اور گرمی کی مسجد (مسجد صیفی) تو ان میں سے کسی میں ادا کرے۔ اگر وہ بھی نہ ہو تو صفوں کے پیچھے کسی ستون کے پاس ادا کرے۔ لیکن اگر مسجد کے دو حصے ہوں اور امام ان میں سے کسی ایک میں ہو تو محیط میں یہ ذکر ہے کہ بعض نے کہا: ایسی صورت میں فجر کی سنت وہاں پڑھنا مکروہ نہیں، کیونکہ جماعت کی مخالفت لازم نہیں آتی، اور بعض نے کہا: مکروہ ہے، کیونکہ دونوں حصے گویا ایک ہی جگہ کی طرح ہیں ۔ مصنف فرماتے ہیں: جب اس میں مشائخ کا اختلاف ہو تو بہتر یہی ہے کہ ایسا نہ کرے ۔( رد المحتار ،كتاب الصلاة،باب إدراك الفريضة،ج:2،ص:57،دار الفکر بیروت )
اسی طرح خزانۃ المفتین میں ہے :" رجل انتهى إلى الإمام والناس في صلاة الفجر إن رجى أن يدرك ركعة في الجماعة يأتي بركعتي الفجر عند باب المسجد. وإن لم يمكن يأتي بهما في المسجد الشتوي إن كان الإمام في الصيفي، أو على العكس، وإن كان المسجد واحدا يقف في ناحية المسجد ولا يصليها مخالطا للصف مخالفا للجماعة، فإن فعل ذلك يكره أشد الكراهة. ترجمہ : ایک آدمی مسجد پہنچا امام اور لوگ نماز فجر اداکررہے تھے اب اگر آنے والا شخص امید رکھتا ہے کہ اسے ایک رکعت جماعت کے ساتھ مل جائے گی تو وہ مسجد کے دروازہ کے پاس د وسنتیں ادا کرے جب امام صیفی مسجد یعنی سردیوں والے حصہ میں دو رکعات ادا کرے جب امام صیفی مسجد یعنی گرمیوں والے حصہ میں ہو اوراگر اس کا عکس ہو (یعنی امام شتوی مسجد میں ہو تو یہ صیفی میں پڑھے )اگر مسجد واحد ہی ہو تو مسجد کے ایک گوشے میں ادا کرے اور ان دو رکعتوں کی ادائیگی کے لیے صف کے متصل کھڑا نہ ہو کیونکہ یہ جماعت کی مخالفت ہے اگر ایسا کیا تو یہ شدید مکروہ ہے ۔(خزانة المفتین ،كتاب الصلاة،فصل في السنن،ص:563،64)
صیفی اور شتوی کو کتب فقہ میں مسجد خارج اور مسجد داخل سے تعبیر کیا گیا اس بارے علامہ زین بن نجیم المصري فرماتے ہیں :" السُّنَّةُ فِي السُّنَنِ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا فِي بَيْتِهِ أَوْ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ وَإِنْ لَمْ يُمْكِنُ فَفِي الْمَسْجِدِ الْخَارِجِ. ترجمہ : سنتوں کے لیے سنت یہ ہے کہ انہیں گھر میں ادا کرے یا مسجد کے دروازے کے پاس ،اور اگر وہاں ممکن نہ ہو تو پھر صحن مسجد میں ادا کرے ۔( البحر الرائق ،كتاب الصلاة،باب إدراك فريضة الصلاة،قضاء سنة الفجر،ج:2،ص:80، دار الكتاب الإسلامي)
خارج مسجد سے مراد صحن مسجد ہے اس بارے امام ابن امیر الحاج حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں:" ففي المسجد الخارج يعني صحن المسجد. ترجمہ :خارج مسجد میں اس سے مراد صحن مسجد ہے ۔(التعلیق المجلی لما فی منیة المصلی ،فصل فی السنن ،ص:394،ضیا القرآن پبلی کیشنز )
ان ساری جزئیات کو اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :" دیکھو اول کی سات کتابوں میں صیفی و شتوی دونوں کو مسجد فرمایا اور آٹھ سے گیارہ تک چار کتابوں میں انھیں مسجد داخل ومسجد خارج سے تعبیر کیا ۔ صغیری نے ان عبارات شتی کا مصداق واحد ہونا ظاہر کردیا، اور حلیہ میں تصریح فرمادی کہ مسجد بیرونی صحنِ مسجد کا نام ہے ، تو صاف واضح ہوگیا کہ صحنِ مسجد قطعاً مسجد ہے جسے علماء کبھی مسجد صیفی اور کبھی مسجد الخارج سے تعبیر فرماتے ہیں والحمدﷲعلٰی وضوح الحق (حق کے واضح ہو جانے پر اﷲ کی حمد ہے)۔(فتاوی رضویہ ،ج:8،ص:70،رضا فاؤنڈیشن )
صحن مسجد جزء مسجد ہے اس بارے اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اپنے رسالے بنام "التبصیر المنجد بان صحن المسجد مسجد" میں فرماتے ہیں:" صحنِ مسجد قطعاًجزء مسجد ہے جس طرح صحنِ دار جزءِ دار ، یہا ں تک کہ اگر قسم کھائی زیدکے گھر نہ جاؤں گا، اور صحن میں گیا بیشک حانث ہو گا۔(فتاوی رضویہ ،ج:8،ص:60،رضا فاؤنڈیشن )
ایک اور مقام پہ اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن :" صحن مسجد یقینا مسجد ہے، فقہائے کرام اُسے مسجد صیفی یعنی گرمیوں کی اور مسقف درجہ کو مسجد شتوی یعنی جاڑوں کی مسجد کہتے ہیں۔( فتاوی رضویہ ،کتاب الجنائز،ص:49،رضا فاؤنڈیشن )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتـــــــــــــــــــــــــــــبه:محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 ذو الحجہ 1446ھ/26جون 2025ء