سوال
عام گھریلو چھپکلی مارنا کیسا ہے۔پاکستان میں 35 چھپکلیاں رپورٹ ہوئیہیں جن میں سے ایک بھی زہریلی نہیں ،ایمازون جنگل کی چھپکلیاں زہریلی ہیں ان کا کیا حکم ہے۔احادیث میں گوہ ( بگ چھپکلی ) کا ذکر ملا ہے اور بعض کا کہنا ہے چھپکلی مارنا ثواب ہے ۔
اس میں چند امور ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :
- چھپکلی کو مارنے کا حکم
- چھپکلی کو مارنے کا سبب و حکمت
- احادیث میں گھریلوں چھپکلی مراد ہے یا گوہ ؟
- کیا گھریلوں چھپکلیاں زہریلی ہیں ؟ سائل : طیب صدیق حویلی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا جواب بالترتیب مندرجہ ذیل ہے :
1۔چھپکلی کو مارنے کا حکم :
چھپکلی کو مارنے کی اجازت ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے، اور اسے مارنے میں ثواب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو ''فويسق '' یعنی فاسق یا ناپاک جانور فرمايا جيسا کہ صحيح بخاری میں ہے ’’عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ لِلْوَزَغِ: فُوَيْسِقٌ. وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ. ترجمہ :زوجہ نبی سیدتنا امّا عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اآلہ وسلم نے چھپکلیکو چھوٹی فاسق کہا اور فرماتی ہیں کہ میں نے چھپکلی کو مارنے کے متعلق نہیں سنا ۔( صحیح البخاری ، باب جزاء الصيد ونحوه، باب ما يقتل المحرم من الدواب،ج:3،ص:14، السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا بھی حکم دیا جیساکہ ’’ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ أن النبي ﷺ أمر بقتل الوزغ. وسماه فويسقا.ترجمہ: حضرت عامر بن سعد اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا اور اس کو چھوٹی فاسق کا نام دیا ۔(صحیح مسلم ، كتاب السلام،باب استحباب قتل الوزغ،ج:4،ص:1758، دار إحياء التراث العربي بيروت)
علامہ کمال الدین محمد بن الدمیری رحمہ اللہ نے چھپکلی کو ’’فویسق ‘‘ کہنے کی وجہ بیان فرمائی ‘‘ واما تسمية الوزع فويسقا ,فنظير هالفواسق الخمس التي تقتل في الحل و الحرم و اصل الفسق الخروج و هذه الخروجو هذه المذكورات خرجت عمن خلق معظمالحشرات و نحوها بزيادة الضرروالا ذي . ترجمہ : جہاں تک "چھپکلی " کوچھوٹی فاسق کہنے کا تعلق ہے، تو اس کا موازنہ ان پانچ فاسقوں سے کیا جا سکتا ہے جو حل اور حرم میں قتل کیے جاتے ہیں۔ اور فسق کا اصل مفہوم ہے 'خروج' (یعنی نکلنا) اور یہ مذکورہ جانور اور حشرات ایسے ہیں جو اپنی تخلیق کردہ خصوصیات میں زیادہ ضرر پہنچاتی ہیں ۔(حیاة الحیوان الکبري ،ج:2،ص:546،دارا لکتب العلمیة )
بخاری شریف میں ایک اور مقام پہ ذکر کیا گیا جیسا کہ ’’ عن أم شريك رضي الله عنها «أن رسول الله ﷺ أمر بقتل الوزغ. وقال: كان ينفخ على إبراهيم۔ ترجمہ :حضرت ام شریک رضی اللہ تعالٰی عنها سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا اور فرمایا یہ حضرت ابراہیم پر پھونک مارتی تھی ۔(صحیح البخاری ،كتاب أحاديث الأنبيا، باب قول الله تعالى واتخذ الله إبراهيم خليلا،ج:4،ص:141، السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)۔
مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان کو مارنے میں ثواب ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے ’’ عن أبي هريرة. قال:قال رسول الله ﷺ «من قتل وزغة في أول ضربة فله كذا وكذا حسنة. ومن قتلها في الضربة الثانية فله كذا وكذا حسنة. لدون الأولى. وإن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة. لدون الثانية۔ ترجمہ : جو شخص پہلی ضرب میں چھپکلی کو مارے گا، اُسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی ۔ اگر وہ دوسری ضرب میں مارے گا، تو اُسے پہلے سے کم نیکیاں ملیں گی ملے گا۔ اور اگر تیسری ضرب میں مارے گا، تو اُسے دوسرے سے کم نیکیاں ملے گی ۔(صحیح مسلم ، كتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ،ج:4،ص:1758، دار إحياء التراث العربي ببيروت)
لہٰذا ان احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلیوں کو مارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ چھوٹی فاسقہ ہے، اور اسے مارنے میں ثواب بھی ہے۔
2۔چھپکلی کو مارنے کا سبب
چھپکلیوں کو صرف اس وجہ سے نہیں مارا جاتا کہ ان میں سے کسی ایک نے زمانۂ گزشتہ میں کوئی جرم کیا تھا، بلکہ انہیں مارنے کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے نقصان دہ اور ایذا دینے والی مخلوق ہیں۔ یہ کھانے کو خراب کرتی ہیں اور انسان کو زہر دیتی ہیں۔ اسی لیے شریعت میں ان کو مارنے کا حکم دیا گیا، جیسے دیگر نقصان دہ اور زہریلی چیزوں، مثلاً سانپ اور بچھو وغیرہ کو مارنے کا حکم ہے۔ بعض روایات میں بعض چھپکلیوں کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا ذکر آتا ہے، جو ان کی خباثت، ضرر رسانی، شیطان کے ان پر تسلط اور انسان سے ان کی دشمنی کی دلیل ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نار نمرود میں آگ پر پھونک مارنے والی چھپکلی کی حدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’قَالَ الْقَاضِي: بَيَانٌ لِخُبْثِ هَذَا النَّوْعِ وَفَسَادِهِ، وَأَنَّهُ بَلَغَ فِي ذَلِكَ مَبْلَغًا اسْتَعْمَلَهُ الشَّيْطَانُ، فَحَمَلَهُ عَلَى أَنْ نَفَخَ فِي النَّارِ الَّتِي أُلْقِيَ فِيهَا خَلِيلُ اللَّهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَسَعَى فِي اشْتِعَالِهَا، وَهُوَ فِي الْجُمْلَةِ مِنْ ذَوَاتِ السُّمُومِ الْمُؤْذِيَةِ. ترجمہ : قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ نے فرمایا:یہ اس قسم (چھپکلی) کی خباثت اور فساد کی وضاحت ہے، اور یہ کہ اس کی بدطینتی اس حد تک پہنچ گئی کہ شیطان نے اسے استعمال کیا ۔ چنانچہ اس نے جناب خلیل اللہ (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا، تو یہ (چھپکلی) آگ کو پھونکیں مارنے لگی تاکہ وہ اور زیادہ بھڑک جائے۔ اور مجموعی طور پر یہ زہریلی اور نقصان دہ مخلوقات میں سے ہے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الصيد والذبائح،باب ما يحل أكله وما يحرم،ج:7،ص:2671،دار الفكر، بيروت – لبنان)۔
اسی حدیث کی شرح کے تحت ابن ملک کہتا ہے ’’ قَالَ ابْنُ الْمَلَكِ: وَمِنْ شَغَفِهَا إِفْسَادُ الطَّعَامِ خُصُوصًا الْمِلْحَ، فَإِنَّهَا إِذَا لَمْ تَجِدْ طَرِيقًا إِلَى إِفْسَادِهِ ارْتَقَتِ السَّقْفَ وَأَلْقَتْ خَرَأَهَا فِي مَوْضِعٍ يُحَاذِيهِ. وَفِي الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ جِبِلَّتَهَا عَلَى الْإِسَاءَةِ۔ ترجمہ : ابن الملک نے فرمایا: چھپکلی کی طبیعت ہی فساد پر مبنی ہے، اور اسے خاص طور پر کھانے، خصوصاً نمک کو خراب کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر اسے کھانے تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہ ملے تو وہ دیوار پر چڑھ کر چھت پر چلی جاتی ہے اور وہاں سے اپنا فضلہ (گندگی) اس جگہ گرا دیتی ہے جو کھانے کے عین اوپر واقع ہو۔ حدیث میں اسی بات کی وضاحت ہے کہ اس کی جبلّت ہی برائی اور نقصان دہی پر مبنی ہے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الصيد والذبائح،باب ما يحل أكله وما يحرم،ج:7،ص:2671،دار الفكر، بيروت – لبنان)۔
حضرت شاه ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اس بارے فرماتے ہیں ’’ أقول: بعض الحيوان جبل بحيث يصدر منه أفعال وهيآت شيطانية وهو أقرب الحيوان شبها بالشيطان وأطوعه لوسوسته، وقد علم النبيﷺ أن منه الوزغ ونبه على ذلك بأنه كان ينفخ على إبراهيم لانقياده بحسب الطبيعة لوسوسة الشيطان وإن لم ينفع نفخه فيالنار شيئا، وإنما رغب في قتله لمعنيين: أحدهما أن فيه دفع ما يؤذي نوع الإنسان فمثله كمثل قطع أشجار السموم من البلدان ونحو ذلك مما فيه جمع شملهم.والثاني أن فيه كسر جند الشيطان ونقص وكر وسوسته، وذلك محبوب عند الله وملائكته المقربين، وإنما كان القتل في أول ضربة أفضل من قتله في الثانية لما فيه من الحذاقة والسرعة إلى الخير، والله أعلم. ترجمہ : میں کہتا ہوں:بعض جانور فطرتی اعتبار سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے شیطانی افعال اور شکلیں ظاہر ہوتی ہیں، اور وہ جانور شیطان سے سب سے زیادہ مشابہ اور اس کے وسوسوں کے سب سے زیادہ تابع ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے وحی کے ذریعے جان لیا کہ ان میں سے ایک چھپکلی بھی ہے۔ آپ ﷺ نے اس پر متنبہ فرمایا کیونکہ وہ فطرتی طور پر شیطان کے وسوسے کے تابع ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف جلتی ہوئی آگ میں پھونک مار رہی تھی، اگرچہ اس کا پھونک مارنا آگ پر کچھ اثرانداز نہ ہوا۔آپ ﷺ نے اسے مارنے کی ترغیب دو وجہوں سے دی:پہلی وجہ: اس میں انسانوں کو نقصان پہنچانے والی چیز کو دور کرنے کا پہلو ہے، جیسے شہروں سے زہریلے درختوں کو کاٹنا، یا ایسی چیزوں کو ہٹانا جو انسانی اجتماع اور بھلائی میں رکاوٹ ہوں ۔دوسری وجہ: اس میں شیطان کے لشکر کو توڑنے اور اس کے وسوسوں کے اڈے کو کمزور کرنے کا عمل ہے، اور یہ چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے مقرب فرشتوں کو محبوب ہے۔اور اس کو پہلی ضرب میں مارنے کا ثواب زیادہ اس لیے ہے کہ اس میں مہارت، چستی اور خیر کی طرف جلدی کرنے کا پہلو پایا جاتا ہےاو ر اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۔(حجۃ اللہ البالغۃ، الأطعمة والأشربة،ج:2،ص:282، دار الجيل، بيروت – لبنان)
3۔احاديث میں گھریلوں چھپکلیاں مراد ہیں یا گوہ؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مذکورہ بالا احادیث میں جو قتل کرنے کا حکم اور اس کی فضیلت بیان فرمائی گئی یہ صرف گرگٹ یا گوہ کے لیے ہیں چھپکلی اس میں داخل نہیں تو یہ بات واضح رہے کہ اہل علم نے اس بات کی صراحت کی کہ مذکورہ بالا احادیث میں جو قتل کرنے کا حکم بیا ن کیا گیا اور ثواب ذکر کیا گیا یہ گوہ اور چھپکلی دونوکو شامل ہے ۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے ''الوزغ '' کے متعلق لکھتے ہیں ’’ قال أهل اللغة : الوزغ وسام أبرص جنس فسام أبرص هو كباره، واتفقوا على أن الوزغ من الحشرات المؤذيات وجمعه أوزاغ ووزغان، وأمر النبي ﷺ بقتله وحث عليه ورغب فيه لكونه من المؤذيات. ترجمہ : ’’اہلِ لغت نے کہا ہے کہ وزغ (چھپکلی) اور سام أبرص (سفید داغ والی چھپکلی) ایک ہی جنس سے ہیں، اور سام أبرص وزغ کی بڑی قسم ہے۔ تمام اہلِ لغت اس بات پر متفق ہیں کہ وزغ (چھپکلی) ایذاء دینے والے حشرات) میں سے ہے، اس کی جمع أوزاغ اور وزغان آتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا، اس پر بر انگیختہ فرمایا اور اس پر رغبت دلائی، کیونکہ یہ ایذاء دینے والوں میں سے ہے۔(صحيح مسلم بشرح النووي،کتاب قتل الحیات و غیرها ،باب :2،ص:198،دار الکتب العلمیہ )۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق فرماتے ہیں ’’و الوزغات بالفتحجمع وزغة۔۔۔یقال لکبارهاسام ابرص و ہو بتشدید المیم ۔ ترجمہ :الوزغات فتحہ کےساتھ وزغة کی جمع ہے ۔۔سام ابرص چھپکلی کی بڑی قسم کو کہا جاتا ہے اور سام کا لفظ میم کی تشدید کے ساتھ ہے ۔(فتح الباري بشرح صحيح البخاري،ج:6،ص:454).
اور علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امر بقتل الوزغ ۔۔وهی دویبة مؤذیة و سام ابرص کبیرها ذکره ابن الملک و فی النهایة الوزع جمع وزغة بالتحریک و هی التی یقال لها : سام ابرص ۔ ترجمہ : ’بے شک رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا۔۔۔ اور یہ ایک ایذاء پہنچانے والا چھوٹا سا جانور ہے، اور سام أبرص اسی کا بڑا (یعنی بڑی قسم کی چھپکلی) ہے، جیسا کہ ابن الملک نے ذکر کیا ہے۔ اور کتاب النہایہ میں آیا ہے کہ الوزع، وزغہ (زبر کے ساتھ) کی جمع ہے، اور یہی وہ (چھپکلی) ہے جسے سام أبرص کہا جاتا ہے۔(مرقاة المفاتیح ، كتاب الصيد والذبائح،باب ما يحل أكله وما يحرم،ج:7،ص:2671، دار الفكر، بيروت - لبنان)
ایک حدیث مبارکہ ہے حضرت امّ المؤ منین سیدتنا عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ عنها کے متعلق’’ عن سائبة مولاة للفاكه بن المغيرة: انها دخلت على عائشة ، فرات في بيتها رمحا موضوعا، فقالت: يا ام المؤمنين، ما تصنعين بهذا الرمح؟ قالت: نقتل به الاوزاغ، فإن نبي الله صلى الله عليه وسلم اخبرنا: " ان إبراهيم عليه السلام حين القي في النار لم تكن دابة إلا تطفئ النار عنه، غير الوزغ، فإنه كان ينفخ عليه، فامر عليه الصلاوالسلام بقتله۔ ترجمہ : سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندی تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنها کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔(مسند احمد ،ج:41،ص:294)
تو اس حدیثِ مبارکہ میں واضح طور پر ذکر ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا تھا۔ جب آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ چھپکلیوں کو مارنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مراد گھریلو چھپکلیاں ہیں، کیونکہ "گوہ" عام طور پر گھروں میں نہیں آتی۔
مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد گھریلو چھپکلیاں بھی ہو سکتی ہیں اور گوہ بھی، دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
4۔کیا چھپکلیاں زہریلی ہیں
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں وائلڈ لائف ایکولوجسٹ ڈاکٹر وسیم احمد خان نے شرکت کی اور اس حوالے سے معلومات دیں، وسیم احمد خان چھپکلیوں پر تحقیق کرتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گھریلو چھپکلیاں جنہیں گیکو کہا جاتا ہے بے ضرر ہوتی ہیں۔ ان کے کاٹنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ زہریلی ہوتی ہیں تاہم ان کا کھانے پینے کی اشیا سے دور رہنا ضروری ہے کیونکہ ان کے جسم میں موجود زہریلے اجزا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔Salmonella ایک ایسا بیکٹیریا ہے جو گھریلوں چھپکلیوں کی جلد اور فضلے میں پا یا جاتا ہے ۔ جب یہ کسی کھانے یا باورچی خانے کے برتنوں یا سطحوں پر چلتے ہیں تو یہ بیکٹیریا وہاں منتقل ہو سکتا ہے۔اگر ایسا آلودہ کھانا انسان کھا لے تو اسے فوڈ پوائزنگ ہو سکتی ہے۔
چھپکلیاں خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں اس کے متعلق ایک ریسرچ پیپر ہے جس کا نا م ''The house Gecko (Hemidactylus frenatus) and Parasitaemia’’ہے ۔ اس کے آخر میں انہوں اس کا نتیجہ(Conclusion): پیش کیا کہ '' Geckos in human habitations, though they check insect pests by feeding on them, have been found to be harmful to man. This therefore, calls for health awareness campaign for war against geckos in human habitation. Furthermore, more studies on geckoman association is advocated to find out the measures for their control۔
گیکوز (گھریلو چھپکلیاں) انسانی رہائش گاہوں میں اگرچہ کیڑے مکوڑوں کو کھا کر ان کی تعداد کو قابو میں رکھتی ہیں، لیکن یہ انسان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس لیے انسانوں کی رہائش گاہوں میں گیکوز کے خلاف جنگ کے لیے صحت کی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، گیکوز کی موجودگی سے متعلق مزید مطالعات کی تجویز دی جاتی ہے تاکہ ان کی روک تھام کے لیے تدابیر دریافت کی جا سکیں۔
جورجیا یونیورسٹی (امریکا) کے سائنس دانوں نے 2015 میں چھپکلی سے متعلق ایک تحقیق کی ہے جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس جانور میں ایسے بہت سےطاقت ور قسم کے مہلک جراثیم اور بکٹیریاز پائے جاتےہیں کہ کسی بھی طرح کی جراثیم کش دوا یااینٹی بائیوٹک مواد ان جراثیم کے سامنے ناکارہ، بے فائدہ اور بے اثر ھوجاتاہےیعنی اگر آپ اینٹی بائیوٹک یاجراثیم کش دوا کھابھی لیں تو اس کے جراثیم سے نہیں بچ سکتےاور اسی تحقیق میں یہ بات بھی معلوم ھوئی ہے کہ اس جانور کے یہ ہلاکت خیز جراثیم دیگر حیوانات کو بھی منتقل ہوجاتے ہیں اس اعتبار سے یہ جانور نہ صرف انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ کائنات کے ماحول اور کرہ ارض پر بسنے والے ہزاروں مخلوقات کے لیے بھی مضرہےاسی لیے حدیث میں اسے مارنے کاحکم دیاگیا ہے۔
لہٰذا ان تمام تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ گھریلو چھپکلیاں زہریلی نہیں ہوتیں، لیکن ان کے جسم میں بعض ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں، جیسے Salmonella، جو انسان کے لیے ضرر رساں اور ایذا کا باعث بن سکتے ہیں اوکچھ ایسی ہیں جو زہریلی ہوتی ہیں ۔ چنانچہ ہر اُس چیز کو مارنے کا حکم ہے جو ایذا دینے والی ہو۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا، بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اسے مارنے پر ثواب ملتا ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتـــــــــــــــــــــــــــــبه:محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدہ 1446ھ/09مئی 2025ء