سوال
میں حج پہ جاناچاہتا ہوں لیکن میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلےمیرے خصیتین پر چوٹ لگی جس وجہ سے میرے لیے زیرِ جامہ لباس پہنناضروری ہو گیا ہے ، اس کے بغیر میں چل پھر نہیں سکتا ۔سوال یہ ہے کہ کیا میں احرام کے نیچے مخصوص لباس پہن سکتا ہوں؟اور اگر اسی حالت میں حج کرتا ہوں تو کیا مجھ پر کیا کفارہ آئے گا ؟
سائل:سفیان،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب محرم احرام کی نیت کے ساتھ احرام میں داخل ہو جائے تو شریعت کی جانب سے اس پر کچھ چیزوں کی پابندی عائد ہو جاتی ہے جن کا خیال رکھنا واجب ہوتا ہے۔جب محرم ان پابندیوں میں سے کسی پابندی کو توڑتے ہوئے جنایت(جرم) کر دے تو اس پر جنایت(جرم) کے مطابق کفارہ(صدقہ/دم) لازم ہو گا۔محرم کی جانب سے جنایت کسی بھی حالت(اختیاری،اضطررای،خوشی،غمی، جان کر ،بھولے سے)میں ہو ہر حالت میں جنایت کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
چنانچہ لباب المناسک میں ہے:المحرم اذا جنی عمدا بلا عذر یجب علیہ الجزاء و الاثم وان جنی بغیر عمد او بعذر فعلیہ الجزاء دون الاثم۔ترجمہ:محرم جب کوئی جنایت جان بوجھ کر بلا عذر کرے تو اس پر کفارہ اور توبہ واجب ہو جاتی ہے اور اگر جنایت جان بوجھ کر نہ کرے یا یہ کہ کسی عذر کی وجہ سے کرے تو اس پر کفارہ ہے گناہ نہیں۔ (لباب المناسک جلد 01،صفحہ 298)
ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس کے بعد اختصار کے ساتھ فرماتے ہیں کہ: فلا بد من الجزاء علی کل الحال والتوبة فی بعض الافعال۔ترجمہ:جزاء یعنی کفارہ تو ہر حال میں ہے اور توبہ بعض افعال(صورتوں )میں ہے ۔(المسلک المتقسط جلد 01،صفحہ298)
جس جرم پر دَم کا حکم ہے اگر محرم نےکسی بیماری کی وجہ سے کیا تو گنہگار نہیں ہو گا نیز اسے اختیار ہو گا کہ دَم یعنی بکرا یا دنبہ دے یا دَم کا عوض یعنی چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے دے یا مساکین کو دو وقت کا پیٹ بھر کے کھانا کھلا دے یا پھر تین روزے رکھ لے۔اور اگر اس جرم پر صدقہ کا حکم ہو تو اختیار ہو گا کہ صدقہ دے یا صدقہ کا عوض یعنی ایک روزہ رکھ لے ۔
صاحب ِبہار شریعت مفتی امجد علیاعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں؛ جہاں دَم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جُوؤں کی سخت ایذا کے باعث ہوگا تو اُسے جُرمِ غیر اختیاری کہتے ہیں۔ اس میں اختیار ہو گا کہ دَم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے دے یا دونوں وقت پیٹ بھر کھلائے یا تین روزے رکھ لے، اگر چھ صدقے ایک مسکین کو دیدیے یا تین یا سات مساکین پر تقسیم کر دیے تو کفارہ ادا نہ ہوگابلکہ شرط یہ ہے کہ چھ مسکینوں کو دے اور افضل یہ ہے کہ حرم کے مساکین ہوں اور اگر اس میں صدقہ کا حکم ہے اور بمجبور ی کیا تو اختیار ہوگا کہ صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھ لے ۔(۔(بہار شریعت حصہ 06، صفحہ 1162 مکتبۃ المدینہ)
حکم شرعی:
سوال میں ذکر کردہ عذر کی بناء پر پیمپر یا انڈرویئر ،12یا 12سے زیادہ گھنٹے باندھے رکھنے پر جنایت تو ہو گی لیکن آپ گنہگار نہیں ہوں گے نیز آپ کو اختیار ہے کہ جنایت کی وجہ سے دم (یعنی بکرا یا دنبہ) دیں یا دم کا عوض دیں ۔
دم کے عوض سے مراد حسبِ توفیق درج ذیل تین امور سے ایک امر پر عمل کرنا ۔
1:۔یعنی چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ ادا کرنا
2:۔یا چھ مساکین کو دو وقت کا پیٹ بھر کے کھانا کھلا نا
3:۔ یا پھرتین روزے رکھنا ۔
اگر بارہ گھنٹے سے کم وقت باندھا تو اس صورت میں صدقہ یا صدقہ کا عوض ادا کر دیں۔
صدقہ کے عوض سے مراد ایک روزہ رکھنے ہیں۔
دلائل وجزئیات
احرام کی پابندیوں میں سے یہ ہے کہ محرم حالت احرام میں عادت کے مطابق سلا ہوا لباس(مثلا شلوار قمیص،دستانے جرابیں،زیرِ جامہ مخصوص کپڑے وغیرہ) نہ پہنے۔
بخاری شریف میں ہے:عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَ لَا يَلْبَسْ الْقَمِيصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ۔ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: محرم آدمی کون سے کپڑےپہنے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’وہ قمیص، عمامہ، شلوار اور ٹوپی نہ پہنے اور نہ ہی ایسا کپڑاپہنے جسے زعفران اور ورس لگی ہوئی ہو۔ اگرجوتے نہ پائے تو موزے پہن لے لیکن انھیں کاٹ لے یہاں تک کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں ۔(البخاری،رقم الحدیث:1842)
مشکوة شریف کی حدیث پاک ہے: عن يَعْلى عن بن أُمَيَّة قال: كُنّا عِنْدَ النَّبيِّ - ﷺ - بالجعْرانَةِ إذْ جاءَهُ رجُلٌ أعْرابيٌّ عَلَيهِ جُبَّةً وهو مُتَضَمِّخٌ بِالخَلُوقِ، فقال: يا رسُولَ الله، إنِّي أحْرَمْتُ بالعمرةِ وهذِهِ عليَّ، فقال: «أمّا الطَّيبُ الذي بِكَ فاغْسِلْهُ ثَلاثَ مَرّاتٍ، وأمّا الجُبَّةُ فانْزِعْها، ثمَّ اصْنَعْ في عُمْرَتِكَ كما تَصْنعُ في حَجِّتِكَ»۔ترجمہ:یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم جعرانہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک اعرابی آپ کے پاس حاضر ہوااس حال میں کہ اس نے جبہ پہن رکھا تھا اور زعفران کی بنی ہوئی خوشبو خوب لگا رکھی تھی، اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میں نے یہ (جبہ) پہن رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رہی خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو دو، اور یہ جبہ تو اسے اتار دو، اور پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کر جیسے تو اپنے حج میں کرتا ہے۔ (مشکوة شریف،رقم الحدیث : 2680)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:إذا لبس المحرم المخيط فَإن كانَ يَوْمًا كامِلا فَعَلَيهِ دم فَأما إذا كانَ فِي بعض اليَوْم فَإنَّهُ يجب عَلَيْهِ صَدَقَة۔ترجمہ:جب محرم سلا ہوا لباس پہنے تو یہ پہننا مکمل ایک دن تک ہو تو اس پر دم ہو گا اور اگر دن کا کچھ حصہ پہنا تو اس پر صدقہ واجب ہو گا ۔ (تحفة الفقہاء،جلد 1 صفحہ 419)
لبس مخیط کی توضیح و تشریح :
1: لبس مخیط سے مراد تمام بدن کا لباس (شلوار، قمیص) یا بدن کے کسی عضو کالباس (جیسے جرابیں ،دستانے) جسے باقاعدہ دھاگے وغیرہ کے ذریعہ سی کر بنایا گیا ہو ۔ یا ہاتھ سے بُنا ہو یا پھر اس کے بعض حصوں کو دوسرے حصوں کے ساتھ چپکادیا گیا ہو تو یہ بھی حکماً لبس ِ مخیطہے۔
اسی طرح وہ کپڑا جس میں مذکورہ بالا تینوں اوصاف (سلاہونا،بنا ہونا،چپکانا )نہ ہوں لیکن اس سے لبسِ مخیط کی طرح استفادہ کیا گیا ہو جیسے محرم کا چادر میں کاج کروا کراس میں بٹن لگا نا،اور اور بٹنوں کے ذریعے چادر کوجسم کے ساتھ روکنا اس سے بھی کفارہ لازم آئے گا۔
صاحبِ بحر ،ابن امیر حاج حلبی سے لبس مخیطکا ضابطہ نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: أَنَّ ضَابِطَهُ لُبْسُ كُلِّ شَيْءٍ مَعْمُولٍ عَلَى قَدْرِ الْبَدَنِ أَوْ بَعْضِهِ بِحَيْثُ يُحِيطُ بِهِ بِخِيَاطَةٍ أَوْ تَلْزِيقِ بَعْضِهِ بِبَعْضٍ أَوْ غَيْرِهِمَا وَيَسْتَمْسِكُ عَلَيْهِ بِنَفْسِ لُبْسِ مِثْلِهِ ۔ترجمہ:لبس مخیط کا ضابطہ یہ ہے کہ معمول کے مطابق بدن یا جزو بدن پر ہر ایسی چیز کا پہننا جوبد ن یا جزو ِبدن کو گھیر لےبایں طور کہ یہ گھیرنا خیاطت کے زریعے ہو یا اس کے بعض حصے کو دوسرے بعض سے چپکا دیا ہو یا کسی اور طریقے سے ہو۔اور وہ پہننے سےخود بخود بدن پر ٹھہر جائے ۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق،جلد 2 صفحہ ،348 دار الكتاب الإسلامي)
لباب المناسک میں ہے:اذا لبس المحرم المحیط ای الملبوس المعمول علی قدر البدن او قدر عضو منہ بحیث یحیط بہ سواء کان بخیاطة او نسج او لصق او غیر ذالک۔ترجمہ:جب محرم محیط پہنے محیط سے مراد وہ معمول کا لباس جو انسانی بدن کے برابر ہو یا بدن کے کسی ایک عضو کا لباس ہو جس کے ذریعے جسمیا جسم کے كسی عضو کو چھپایا جاسکے خواہ وہ لباس سلا ہوا ہو ،یا بُنا ہوا ہو،یا چپکایا گیا ہو یا اس کے علاوہ کسی اور ذریعے سے ہو۔ (المسلک المتقسط جلد 01،صفحہ300)
ملا علی قاری لبس مخیط کے تحت ایک اعتراض وارد کرتے ہوئےلکھتے ہیں کہ :وفیہ انہ یرد علیہ اللباد المشتغل باللصق ،فانہ لیس فیہ خیاطۃ مع انہ عد من المخیط ؟ ترجمہ:اس پر لباد(چادر کی طرح کا مخصوص عربی لباس جسے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے )جسے چپکا کر کام میں لایا گیا ہو ،اس سے اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس میں خیاطت نہ ہونے کے باوجود اسے لبسِ مخیط میں شامل کیا گیا ہے ۔
اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ:اللھم الا ان یراد بالخیاطۃ انضمام بعض الاجزاء ببعضھا ۔ترجمہ: خیاطت سے مراد بعض اجزاء کا بعض میں شامل ہونا ہے (خواہ وہ کسیبھی طریقے سے ہو)۔
پھر فرماتےہیں یہ مسئلہ توپہیلی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ کون سا کپڑا ہے جو مخیط تو نہیں لیکن اس کے پہننے سے محرمپر کفارہ لازم آتا ہے :فیصلح ان یکون لغزا،بان یقال ماثوب یحرم لبسہ للمحرم مع انہ لیس بمخیط اتفاقا۔ (المسلک المتقسط جلد 01،صفحہ300)
حاشیہ شلبی میں ہے: لا باس بان یلبس المحرم الطیلسان و لایزرہ علیہ فان زرہ یوما فعلیہ دم لانہ صار منتفعا بہ انتفاع المخیط۔ترجمہ: اس میں کوئی حرج نہیں کہ محرم بڑی چادر پہنے لیکن اسے بٹن نہ لگائے اور اگر پورا دن اسے بٹن لگا کرباندھے رکھا تو اس پر دم (جانور ذبح کرنا) لازم ہوگا اس لئے کہ اس نے پہنے ہوئے کپڑے کی طرح اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ (حاشیہ شلبی علی التبیینجلد 02 صفحہ54 المطبعة الكبرى الأميرية)
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ کی عبارت ملاحظ فرمائیں: وَلَا بَأْسَ أَنْ يَلْبَسَ الطَّيْلَسَانَ؛ لِأَنَّ الطَّيْلَسَانَ لَيْسَ بِمَخِيطٍ، وَلَا يَزُرُّهُ، كَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ، وَالصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لِأَنَّ الزِّرَةَ مَخِيطٌ فِي نَفْسِهَا، فَإِذَا زَرَّهُ فَقَدْ اشْتَمَلَ الْمَخِيطُ عَلَيْهِ فَيُمْنَعُ مِنْهُ؛ وَلِأَنَّهُ إذَا زَرَّهُ لَا يَحْتَاجُ فِي حِفْظِهِ إلَى تَكَلُّفِ فَأَشْبَهَ لُبْسَ الْمَخِيطِ ۔ترجمہ:طیلسان پہننے میں کوئی حرج نہیںاس لیے کہ طیلسان مخیط نہیںلیکن طیلسان کو بٹن نہ لگائے جیسا کہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہے۔اور عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ (بٹن لگا کر باندھنے) میں کوئی حرج نہیں اور صحیحابن عمر کا ہی قول ہے اس لیے کہ بٹن لگانا فی نفسہ مخیط ہےپس جب محرم نے طیلسان پر بٹن لگائے تو اس پر مخیط کا اطلاق ہو گا لہذا محرم کو اس سے روکا جائے گاکیوں جب بٹن لگا لیے تو اب وہ اس کی حفاظت میں کسی تکلف کا محتاج نہیں رہے گاپس یہ لبس مخیط کے زیادہ مشابہ ہو گا ۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،جلد02،صفحہ 185،دار الكتب العلمية)
در مختار میں ہے: ولولم ید خل ید یہ فی کمیہ جاز الا ان یزررہ اویخللہ ۔ترجمہ: اگر محرم قبا کی دونوں آستینوں میں اپنے ہاتھ نہ ڈالے تو جائز ہے مگر یہ کہ اسے گھنڈی یا کانٹے سے اٹکادے توجائز نہیں۔ (الدر المختار ،کتاب الحج جلد2 صفحہ 489،دار الفکر بیروت)
2: اس ممنوع لباس کو اس طرح پہنے جیسے عام طور پر پہنا جاتا ہے۔لہذا شلوار کو تہبند کی طرح پہن لیا یا قمیص ویسے ہی کندھے پر ڈال دی یعنی بازوں آستینوں میں داخل نہیں کیے تو کفارہ نہیں ہو گا۔
رد المحتار میں ہے :الْمَمْنُوعَ عَنْهُ لُبْسُ الْمَخِيطِ اللبْسَ الْمُعْتَادَ۔ترجمہ:جس لباس سے منع کیا گیا ہے وہ لبسِ مخیط لبسمعتاد ہے۔ (رد المحتار،جلد 02صفحہ289 دار الفکر بیروت)
البدائع الصنائع میں ہے:منع المُحْرِمُ مِن لُبْسِ المَخِيطِ إذا لَبِسَهُ عَلى الوَجْهِ المُعْتادِ.فَأمّا إذا لَبِسَهُ لا عَلى الوَجْهِ المُعْتادِ فَلا يُمْنَعُ مِنهُ، بِأنْ اتَّشَحَ بِالقَمِيصِ أوْ اتَّزَرَ بِالسَّراوِيلِ۔ترجمہ:محرم کو سلے ہوئے لباس سے اس وقت روکا جائے گا جب اسے عادت کے مطابق پہنے۔لہذا جب عرف و عادت کے خلاف پہنے تو ممنوع نہیں جیسے قمیص (کندھوں پر )لٹکا دے یا شلوار تہبند کی طرح باندھ لے۔( البدائع الصنائع،جلد 02صفحہ184 دار الكتب العلمية)
در مختار میں ہے:ویجوز ان یرتدی بقمیص وجبّۃ ویلتحف بہ فی نوم وغیرہ اتفاقا ترجمہ: بالاتفاق یہ جائز ہے کہ محرم قمیص اور جبّہ کو بطور چادر استعمال میں لائے یا اِنہیں سونے وغیرہ کی حالت میں لحاف بنا لے۔(الدر المختار،جلد02صفحہ289 دار الفکر بیروت)
درج بالا جزئیات کی روشنی میں انڈر ویئر / پیمپر کی فقہی تکییف:
زیر جامہ لباس انڈر ویئر تو درحقیقت سلا ہوا ہوتا ہے اور پیمپر اگرچہ بظاہرسلا ہوا نہیں ہوتا لیکن یہ لبس ِ مخیط میں داخل ہے کہ اس کے دونوں یا چاروں کونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چپکایا جاتا ہے۔اور محرم ان دونوں (انڈر ویئر اور پیمپر ) کو ویسے ہی استعمال کرتا ہے جیسے عام طور پر کیا جاتا ہے ۔
اشکال:
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے لنگوٹ کو مطلقا لبس مخیط سے خارج کیا ہے چناچہ آپ لکھتے ہیں : احرام میں لنگوٹ باندھنا مطلقاً جائز ہے سلانہ ہوکہ ممانعت لبس مخیط بروجہ معتاد سے ہے یاسر اور منہ کے چھپانے سے اور نادو ختہ لنگوٹ میں دونوں باتیں نہیں۔(فتاوی رضویہ جلد 10صفحہ664،رضا فاؤڈیشن لاہور)
اور پیمپر بھی لنگوٹ کی طرح ہے لہذامحرم کے لیے اس کی بھی اجازت ہونی چاہیے ؟؟؟
ازالۂِ اشکال:
لنگوٹ اور پیمپر میں دو اعتبار سےفرق ہے :
1:۔پیپمپر میں لصق (چپکانا) ہےجبکہ لنگوٹ میں اڑسنا یا عقد (گرہ لگانا)ہے۔
2:۔پیمپر میں تکلفنہیں جبکہ لنگوٹ میں تکلف ہے۔
پیمپر چپکا کر باندھا جاتا ہے اور صاحبِ لباب ، ملا علی قاری وغیرہما کی تصریح سے واضح ہو چکاکہ لصق بھی خیاطت ہی کی ایک قسم ہے۔جبکہ اڑسنایا عقد(گرہ لگانا) نہ خیاطت ہے نہ خیاطت کے تحت داخل ہے ۔ اسی طرح لبسِ مخیط کے تحت جو لباس آتا ہے اس میں بلا تکلف رکنے کی صلاحیت ہوتی ہے ، یہ عنصر پیمپر میں تو ہے کہ جب ایک مرتبہ باندھ لیا تو اس کے کھلنے کا خوف ختم ہو جاتا ہے جبکہ لنگوٹ میں معاملہ برعکس ہے کہ کہیں نہ کہیں دھیان کھلنےکی طرف رہتا ہی ہے ۔
امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے جو لنگوٹ کی اجازت مرحمت فرمائی وہ کسی بھی طرح لبسِ مخیط میں داخل نہیں ، اس میں نہ ظاہری سلائی ہوتی ہے،نہ باندھنا بٹن کے ساتھ ہوتا ہے نہ چپکا کر ہوتا ہے بلکہ اس کا باندھنا اڑسنے کے طور پر ہوتا ہے جسے بلا عذر باندھنے کی بھیامام اہلسنت علیہ الرحمہ نے اجازت دی ہے ۔اگر کسی نے لنگوٹبلا عذر اڑسنے کی بجائے گرہ لگا کر باندھا تو یہ اگرچہ فی الحقیقیت لبس ِ مخیط نہیں لیکن مکروہ ہے اور اگر دھاگے کی چھوٹی باریک رسیوں سے ،یا بٹن لگا کر یا چپکا کر باندھاتو اب اس پر بھی لبسِ مخیط کا اطلاق ہو گا ۔ پیمپر کا معاملہ اس طیلسان کی طرحہے جسے بٹن لگا کر باندھا گیا ہو ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 شعبان المعظم 1444 ھ/10 مارچ2023 ء