سوال
- وہ اشیاء جنہیں انسان پورے سال میں استعمال نہیں کرتا، مثلاً کپڑے، برتن اور دیگر ضروریاتِ زندگی جو ضرورت سے زائد ہوں، کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ اگر واجب ہو تو کیا ان اشیاء کی قیمت کا اندازہ لگا
- کر اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی یا نہیں؟
- اسی طرح، وہ سامان جو کوئی شخص اپنی بیٹی، بھائی یا بیٹے کے لیے جہیز کے طور پر سالہا سال سے رکھے ہوئے ہو، کیا اس پر بھی زکوٰۃ لازم آئے گی یا نہیں؟ نیز، وہ کتب جو کسی کے پاس موجود ہوں لیکن وہ انہیں نہیں پڑھتا، کیا ان پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی؟
- اس کے علاوہ، اگر کسی کے پاس خالی پلاٹ پڑے ہوں یا دکانیں تعمیر شدہ ہوں، تو کیا ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں؟
- کیا کسی کے پاس چار یا پانچ جانور، جیسے بکریاں، گائیں یا بھینسیں ہوں، تو ان پر زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کچھ جانور کیٹل فارم پر نسل بڑھانے کے لیے رکھے جاتے ہیں، کچھ عیدالاضٰحی پر فروخت کرنے کے لیے، اور بعض دودھ کے کاروبار کے لیے گائیں اور بھینسیں رکھی جاتی ہیں۔ تو ان پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟
براہ کرم ان تمام اُمور پر تفصیلی تحقیق فرما کر شرعی حکم بیان کر دیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ سائل : مولانا مجاہد سواگی صاحب لیہ پنجاب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ان سوالات کے جوابات دینے سے پہلے چند تمہیدی و ضروری باتوں کا جاننا لازم ہے، جو درج ذیل ہیں:
- وہ اموال جن پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، تین قسم کے ہیں :
- مالِ تجارت یعنی وہ سامان جو خرید و فروخت کے لیے رکھا جائے۔
- سائمہ جانور وہ مویشی جو سال کا اکثر حصہ چر کر گزاریں۔
- ثمن یعنی سونا یا چاندی (چاہےروپے کی صورت میں ہو یا زیورات کی شکل میں)۔
- غنی کی تین قسمیں ہیں:
- وہ غنی جس پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے یعنی جس کے پاس نصابِ زکوٰۃ کے برابر مال ہو اور اس پر سال گزر جائے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
- وہ غنی جس پر زکوٰۃ لازم نہیں، مگر صدقہ لینا حرام ہو جاتا ہے ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہو جاتی ہے۔
- وہ غنی جس پر سوال کرنا حرام ہو جاتا ہے، لیکن لینا حرام نہیں یعنی وہ خود سوال نہیں کر سکتا، مگر اگر کوئی از خود دے تو لینا جائز ہے۔
اب پوچھی گئی صورتوں کے جوابات بالترتیب مندرجہ ذیل ہیں :
- وہ اشیاء جنہیں انسان پورے سال میں استعمال نہیں کرتا، جیسے کپڑے، برتن اور دیگر ضروریاتِ زندگی، جو حاجتِ اصلیہ اور ضرورت سے زائد ہوں، ان پر کسی قسم کی زکوٰۃ لازم نہیں؛کیونکہ زکوٰۃ کے لازم ہونے کے لیے مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ صرف اموالِ ثلاثہ (مالِ تجارت، سائمہ جانور، اور ثمن یعنی سونا و چاندی) پر فرض ہوتی ہے۔ لہٰذا، کپڑے، برتن اور دیگر گھریلو اشیاء جو محض سجاوٹ کے لیے رکھی گئی ہوں، نہ کہ تجارت کی غرض سے، ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔البتہ صدقہ فطر اور قربانی کے نصاب میں ان کا اعتبار کیا جائے گا۔یعنی حاجتِ اصلیہ سے زائد کپڑے، برتن وغیرہ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے، اور اگر ان کی مجموعی مالیت 52.5 تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس صورت میں اس شخص پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہوگا۔
- بیٹی یا بہن کو جہیز میں دی جانے والی گھریلو استعمال کی اشیاء، جیسے فرنیچر، برتن، کپڑے، فریج، واشنگ مشین وغیرہ پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ البتہ، اگر جہیز میں دیے گئے زیورات اگر بیوی کی ملکیت میں دے دیا گیا یا نقدی رقم ہے تو شرائط زکوٰة (مثلاً نصاب کا مکمل ہونا، ملکیتِ کاملہ، حولانِ حول یعنی سال گزرنا، اور قرض سے زائد ہونا) پائے جانے کی بنیاد پر اس بیٹی یا بہن پہ پر زکوٰۃ لازم ہوگی، چاہے وہ زیورات استعمال میں ہوں یا نہ ہوں۔ اگر بیٹی یا بہن کو مالک نہیں بنایا گیا تو جو بھی اس کا مالک ہوگا والد ہو یا بھائی ہو اسی پر زکوٰة لازم ہوگی ۔
کتابوں پر بھی زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، کیونکہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق یہ اموالِ زکوٰۃ میں سے نہیں ہیں، بشرطیکہ وہ تجارت کے لیے نہ ہوں۔ البتہ اگر کتابیں ایسے شخص کے پاس ہوں جو ان کا اہل نہ ہو، یعنی غیر عالم ہو، تو پھر اس کے لیے دوسروں سے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔ قربانی اور صدقہ فطر کے نصاب میں بھی ان کتب کا اعتبار کیا جائے گا۔
- اگر کسی کے پاس خالی پلاٹ یا تعمیر شدہ دکانیں ہوں، تو ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔ اگر وہ دکانوں یا پلاٹوں کو کرائے پر دے تب بھی ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ البتہ، ان سے حاصل ہونے والا کرایہ، اگر تنہا یا دیگر مال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے اور زکوٰۃ کی شرائط پائی جائیں، تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
- پہلی بات تو یہ ہے کہ، جس طرح تمہید میں بیان کیا گیا، وہ جانور "سائمہ" ہونے چاہئیں۔ جو جانور عموماً گھروں میں رکھے جاتے ہیں، وہ سائمہ نہیں کہلاتے۔دوسری بات یہ ہے کہ سائمہ جانوروں کے لیے نصاب متعین ہے۔ کم از کم 30 سے 39 گائیوں پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھیا زکوٰۃ میں واجب ہوتی ہے، اور اگر بکرے، بکری، بھیڑ یا دنبہ چالیس کی تعداد کو پہنچ جائیں تو 40 سے 120 تک میں ایک بکری زکوٰۃ میں واجب ہوگی۔
جہاں تک دوسرے مسئلے کا تعلق ہے، تو دودھ فروشی کے لیے رکھی گئی بھینسوں اور گائیوں پر زکوٰۃ نہیں، کیونکہ وہ سائمہ کے زمرے میں نہیں آتیں اور نہ ہی یہ مال تجارت ہیں کہ ان جانوروں کو نہیں بیچا جاتا ۔ لیکن تجارت کی غرض سے رکھے گئے (مثلاً عید الاضحیٰ میں فروخت کرنے کے )تمام جانور مالِ تجارت شمار ہوں گے، اور ان کی زکوٰۃ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ادا کی جائے گی۔نصابِ زکوٰۃ پورا ہونے پر تمام جانوروں کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی، خواہ ہر جانور پر سال مکمل نہ ہوا ہو۔
دلائل وجزئیات :
وہ اموال جن پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، تین قسم کے ہیں اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے ’’ (وَمِنْهَا كَوْنُ النِّصَابِ نَامِيًا) حَقِيقَةً بِالتَّوَالُدِ وَالتَّنَاسُلِ وَالتِّجَارَةِ أَوْ تَقْدِيرًا بِأَنْ يَتَمَكَّنَ مِنْ الِاسْتِنْمَاءِ بِكَوْنِ الْمَالِ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِ نَائِبِهِ۔ ترجمہ : اور ان (شرائط) میں سے یہ بھی ہے کہ نصاب نامی (بڑھنے والا) ہو، حقیقی طور پر توالد و تناسل (پیدائش و افزائش) یا تجارت کے ذریعے، یا تقدیراً، یعنی اس طرح کہ وہ اسے بڑھانے پر قدرت رکھتا ہو، مثلاً مال اس کے اپنے قبضے میں ہو یا اس کے نائب کے قبضے میں ہو۔( الفتاوی الهندیة،کتاب الزکاة ،ج:1،ص:386،مکتبہ رشیدیہ )
اس حوالے سے حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے ’’ الأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكي بنية التجارة عند العقد۔ قاعدہ یہ ہے کہ سونے، چاندی اور چرائی کے جانوروں کے علاوہ میں ، بوقت عقد تجارت کی نیت سے ہی زکوۃ ہو گی۔(حاشیة الطحطاوي على مراقي الفلاح ، كتاب الزكاة ،ج:1،ص:718،دار الكتب العلمية بيروت – لبنان)
اسی طرح مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اس حوالے سے فرماتے ہیں ’’خلاصہ یہ کہ زکاۃ تین قسم کے مال پر ہے۔ (۱) ثمن یعنی سونا چاندی۔ (۲) مال تجارت۔ (۳) سائمہ یعنی چرائی پر چھوٹے جانور( بہار شریعت ،جلد:1حصہ پنجم ، ص:888،المدینة العلمیہ )
غنی کی اقسام ثلاثہ کے متعلق علامہ علاؤ الدین سمر قندیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ ثم الغنى أنواع ثلاثة أحدها الغنى الذي يتعلق به وجوب الزكاة وهو أن يملك نصابا من المال الفاضل عن ا لحاجة الموصوف بالنماء والزيادة إما بالأسامة أو التجارةوالثاني الغنى الذي يتعلق به حرمان الصدقة ويتعلق به وجوب صدقة الفطر والأضحية دون وجوب الزكاة وهو أن يملك من الأموال الفاضلة عن حوائجه ما تبلغ قيمته مائتي درهم بأن كان له ثياب وفرش ودور وحوانيت ودواب زيادة على ما يحتاج إليه للابتذال لا للتجارة والأسامة والثالث الغنى الذي يحرم به السؤال ولا يحرم الأخذ ولا الدفع من غير سؤال۔ ترجمہ: پھر مالداری کی تین قسمیں ہیں:پہلی قسم وہ مالداری ہے جس کے ساتھ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی ضروریات سے زائد ہو اور نمو یعنی بڑھنے کی صفت رکھتا ہو، چاہے وہ مال چوپایوں کی شکل میں ہو یا تجارت کے ذریعے بڑھتا ہو۔دوسری قسم وہ ہے جس کے ساتھ صدقہ سے محرومی لازم آتی ہے اور اسی کے ساتھ صدقۂ فطر اور قربانی واجب ہوتی ہے، مگر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ اور وہ یہ ہے کہ کسی کے پاس اپنی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو جس کی قیمت دو سو درہم کے برابر ہو، خواہ وہ زائد مال کپڑوں، بستر، گھروں، دکانوں اور سواری کے جانوروں کی صورت میں ہو، بشرطیکہ وہ نہ تو تجارت کے لیے ہو اور نہ ہی مویشیوں (چوپایوں) کی شکل میں ہو۔تیسری قسم وہ غنا ہے جس کے ساتھ سوال کرنا حرام ہو جاتا ہے، مگر بغیر سوال کے کسی سے لینا یا کسی کو دینا حرام نہیں ہوتا۔ (تحفة الفقهاء،کتاب الزکاة ،:ج:1،ص:301/2،دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)۔
عورت کے جہیز فرنیچر ،کپڑے برتن وغیرہ کے متعلق علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: قُلْت: وَسَأَلْت عَنْ الْمَرْأَةِ هَلْ تَصِيرُ غَنِيَّةً بِالْجِهَازِ الَّذِي تُزَفُّ بِهِ إلَى بَيْتِ زَوْجِهَا؟ وَاَلَّذِي يَظْهَرُ مِمَّا مَرَّ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أَثَاثِ الْمَنْزِلِ وَثِيَابِ الْبَدَنِ وَأَوَانِي الِاسْتِعْمَالِ مِمَّا لَا بُدَّ لِأَمْثَالِهَا مِنْهُ فَهُوَ مِنْ الْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ مِنْ الْحُلِيِّ وَالْأَوَانِي وَالْأَمْتِعَةِ الَّتِي يُقْصَدُ بِهَا الزِّينَةُ إذَا بَلَغَ نِصَابًا تَصِيرُ بِهِ غَنِيَّةً، ثُمَّ رَأَيْت فِي التَّتَارْخَانِيَّة فِي بَابِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ: سُئِلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَمَّنْ لَهَا جَوَاهِرُ وَلَآلِي تَلْبَسُهَا فِي الْأَعْيَادِ وَتَتَزَيَّنُ بِهَا لِلزَّوْجِ وَلَيْسَتْ لِلتِّجَارَةِ هَلْ عَلَيْهَا صَدَقَةُ الْفِطْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ إذَا بَلَغَتْ نِصَابًا. ترجمہ : میں نے کہا اور میں نے اس بارے میں پوچھا کہ کیا وہ سامان جس کے ساتھ عورت کو اس کے شوہر کے گھر رخصت کیا جاتا ہے، اسے غنی (مالدار) بنا دیتا ہے؟جو کچھ گزرا ہے، اس سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ کہ گھر کا فرنیچر، بدن کے کپڑے، اور روزمرہ استعمال کے برتن، جن کی اس جیسے لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے، وہ بنیادی ضرورت (حاجتِ اصلیہ) میں شمار ہوں گے۔لیکن جو زیورات، برتن اور دیگر سامان جو زینت کے لیے رکھا گیا ہو، اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے تو عورت کو غنی بنا دیتا ہےپھر میں نے "تتارخانیہ" میں باب "صدقۂ فطر" کے تحت یہ پایا:حسن بن علی سے پوچھا گیا کہ اگر کسی عورت کے پاس جواہرات اور موتی ہوں، جنہیں وہ عید کے مواقع پر پہنتی ہو اور شوہر کے لیے زینت کے طور پر استعمال کرتی ہو، اور وہ تجارت کے لیے نہ ہوں، تو کیا اس پر صدقۂ فطر لازم ہوگا؟انہوں نے جواب دیا: ’’ہاں، اگر وہ نصاب کو پہنچ جائیں‘‘( رد المحتار ، كتاب الزكاة،باب مصرف الزكاة والعشر، مَطْلَبٌ فِي جِهَازِ الْمَرْأَةِ هَلْ تَصِيرُ بِهِ غَنِيَّةً،ج:2،ص:348، دار الفكر بيروت )۔
کتابوں پر زکوۃ لازم نہیں اس بارے علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة۔ ترجمہ : اور گھر کا سامان، سواری کے جانور اور اہلِ علم کے لیے علمی کتب، کیونکہ ان کے ہاں جہالت ہلاکت کے برابر ہے۔ پس اگر کسی کے پاس درہم موجود ہوں، جنہیں ان ضروریات میں خرچ کرنا واجب ہو، تو وہ (درہم) نہ ہونے کے برابر ہو جائیں گے۔( رد المحتار ، كتاب الزكاة،ج:2،ص:262، دار الفكر – بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: مکانات پر زکوٰۃ نہیں اگر چہ پچاس کروڑ کے ہوں کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہوگااس پر زکوٰۃ آئے گی اگر خود یا اور مال سے مل کر قدر نصاب ہو ۔ (۲)برتن وغیرہ اسبابِ خانہ داری میں زکوٰۃ نہیں اگرچہ لاکھوں روپے کے ہوں ، زکوٰۃ صرف تین۳ چیزوں پر ہے:سونا ، چاندی کیسے ہی ہوں، پہننے کے ہوں یا برتنے کے ، سکّہ ہو یا ورق۔ دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور۔ تیسرے تجارت کا مال۔ باقی کسی چیز پر نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم ۔( فتاوی رضویہ ،کتاب الزکوٰة ج:10،ص:25،رضا فاونڈیشن )
زکوة کےلیے جانور کا سائمہ ہونا ضروری ہے اس بارے بدائع الصنائع میں ہے ’’ وَأَمَّا صِفَةُ نِصَابِ السَّائِمَةِ فَلَهُ صِفَاتٌ مِنْهَا أَنْ يَكُونَ مُعَدًّا لِلْإِسَامَةِ وَهُوَ أَنْ يُسِيمَهَا لِلدَّرِّ وَالنَّسْلِ لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ مَالَ الزَّكَاةِ هُوَ الْمَالُ النَّامِي وَهُوَ الْمُعَدُّ لِلِاسْتِنْمَاءِ، وَالنَّمَاءُ فِي الْحَيَوَانِ بِالْإِسَامَةِ إذْ بِهَا يَحْصُلُ النَّسْلُ فَيَزْدَادُ الْمَال۔ ترجمہ : اور جہاں تک سائمہ (چرنے والے مویشیوں )کے نصاب کی صفات کا تعلق ہے تو اس کی کئی صفات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ چرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دودھ اور افزائش نسل کے لیے چرایا جائے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ زکاۃ کا مال وہ ہوتا ہے جو (نامی )بڑھنے والا ہواور وہی مال زکاۃ کے قابل ہوتا ہے جو افزائش کے لیے مقرر ہو۔ اور جانوروں میں افزائش چرائے جانے سے ہوتی ہے، کیونکہ چرائے جانے سے ان کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے اور مال بڑھتا ہے۔ ( بدائع الصنائع ،كتاب الزكاة، زكاة السوائم، فصل صفة نصاب السائمة،ج:2،ص:30،دار الكتب العلمية)
زکوٰة میں تیس سے انتالیس کی تعداد میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھیادیں گے اس بارے علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: (نِصَابُ الْبَقَرِ وَالْجَامُوسِ).. (ثَلَاثُونَ سَائِمَةً) غَيْرَ مُشْتَرِكَةً (وَفِيهَا تَبِيعُ) لِأَنَّهُ يَتْبَعُ أُمَّهُ (ذُو سَنَةٍ) كَامِلَةٍ (أَوْ تَبِيعَةٌ) أُنْثَاهُ . ترجمہ: تیس (30) چرنے والے (سائمہ) گائیوں یا بھینسوں كا نصاب اس حال میں کہوہ مشترکہ ملکیت میں نہ ہوں، تو ان میں زکاۃ کے طور پر ایک نر بچھڑا دینا لازم ہوگا، کیونکہ وہ اپنی ماں کے تابع ہوتا ہے۔نر بچھڑاجو ایک سال مکمل کر چکا ہو۔یا مادہ بچھیادینا بھی جائز ہے ۔( رد المحتار ، كتاب الزكاة،باب زكاة البقر ،ج:2،ص:280، دار الفکر بیروت )
بکریوں کےنصاب کے بارے فرماتے ہیں’’وَأما نِصَاب الْغنم فَلَيْسَ فِي أقل من أَرْبَعِينَ شَاة شَيْءفَإِذا بلغت أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاة وَلَيْسَ فِي الزِّيَادَة شَيْء حَتَّى تبلغ مائَة وَعشْرين ۔ ترجمہ : اورباقی رہا بکریوں کا نصاب تو چالیس (40) سے کم میں کوئی زکاۃ واجب نہیں۔ پس جب بکریاں چالیس (40) تک پہنچ جائیں تو ان میں ایک بکری بطور زکاۃ واجب ہوگی۔ اور اس کے بعد اضافہ پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ وہ ایک سو بیس (120) تک نہ پہنچ جائیں۔( تحفة الفقهاء، كتاب الزكاة، باب زكاة السوائم،ج:1،ص:285، دار الکتب العلمیة)
جانور اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان پہ زکوة ہے اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان پہ زکوة ہے س بارے علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:لكن في البدائع لو أسامها للحم فلا زكاةفيها كما لو أسامها للحمل والركوب ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة۔ترجمہ : لیکن "البدائع" میں ہے کہ اگر کسی نے مویشیوں کو گوشت کے لیے چرایا تو ان میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے کہ اگر انہیں بوجھ اٹھانے یا سواری کے لیے چرایا جائے، تب بھی زکاۃ واجب نہیں البتہ، اگر انہیں تجارت کے لیے رکھا جائے تو پھر ان میں تجارت کی زکاة واجب ہوگی۔( رد المحتار ، كتاب الزكاة،باب زكاة البقر ،ج:2،ص:276، دار الفکر بیروت)
اسی طرح صدر الشرعیہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ’’ اگر تجارت کا جانور چرائی پر ہے تو یہ بھی سائمہ نہیں، بلکہ اس کی زکوٰة قیمت لگا کر ادا کی جائے گی۔( بہار شریعت ، زکاة کا بیان ،ج:1،حصہ پنجم ،مکتبہ المدینہ )
و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:05 رمضان المبارک1446ھ/06مارچ 2025