سوال
جامع جنت مسجد کے زیر انتظام مسجدسے متصل مدرسہ حنفیہ غوثیہ میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے اورعلاقے کے طلباء و طالبات مدرسہ ھذا میں قرآن کریم کی مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ مسافر طلبہ نہیں ہیں،لہذا سوال یہ ہے کہ مدرسہ ھذا میں زکوۃ و فطرہ اور قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم حیلہ شرعیہ کے بعد مدرسہ ھذا کے اخراجات میں استعمال کرنا کیسا؟
سائل: حافظ غلام مرتضی حسینی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قربانی کی کھالوں میں حیلہ شرعی کی حاجت نہیں کہ یہ صدقہ نافلہ ہے جسے ہر نیک کام میں خرچ کیا جاسکتا ہے اور ان میں تملیک ِفقیر کی بھی شرط نہیں ہاں زکوۃ وصدقات واجبہ بغیر حیلہ شرعی کے مدارس کی تعمیر یا اساتذہ کی تنخواہ یا دیگر اخراجات میں خرچ کرنا جائز نہیں۔البتہ ضرورت کے پانے جانے کے وقت بقدر ِضرورت حیلہ شرعی کر لیا جائے تو پھر مدرسہ کے اخراجات میں خرچ کر سکتے ہیں۔نیز مدرسے میں مسافر طلبہ کا نہ ہونا حیلہ شرعی کو مانع نہیں ہوگا۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ زکوۃ وصدقات واجبہ کے مصارف اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمادئیے ہیں ان کے علاوہ کسی مصرف میں مال زکوۃ خرچ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ. ترجمہ: زکوۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے محتاج، اور نرے نادار، اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں، اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے، اور گردن چھوڑانے میں،اور قرضداروں کو، اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہر ایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔(التوبۃ:60)
مذکورہ مصارف کے علاوہ مثلاًمدرسہ ومسجدوغیرہ میں زکوۃ وصدقات واجبہ صرف کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اوّلاًمصرف بذات خود قربت وکارثواب ہو ۔چنانچہ اُموردنیا جیسے اسکول اورکتب خانہ برائے تجارت کیلئے حیلہ شرعیہ کی اجازت نہیں کہ وہ بذات خودقربات سے نہیں ۔
ثانیاًاس کی حفاظت کے لیے نفلی صدقات کی فراہمی بقدرکفایت نہ ہوسکے تو بوجہ مجبوری بقدر ضرورت یہ اجازت ہے کہ زکوۃ کی رقم کاحیلہ شرعیہ کرکے مصرف خیر مثلاًمدرسہ میں صرف کیاجائے ۔
لہذا اگر مدرسہ کی کوئی ذریعہ آمدنی نہیں اور اس کے مصارف میں آنے والے اخراجات مدرسہ کی آمدنی سے پورے نہیں ہوتےاور اگر اخراجات کو مدرسہ کی آمدنی تک محدود کر دیا جائے تومدرسہ آباد نہیں رہے گا مثلاً مدرسہ میں کوئی معلم فی سبیل اللہ تعلیم دینے کے لئے میسر نہیں ہو گا۔یا معاملہ مدرسہ بند کرنے کے مترادف ہو گاتو یہ ضرورت ہے اور بقدر ضرورت جس سے مدرسہ کی ضرورت پوری ہو سکے اتنی زکوۃ کی رقم کو حیلہ شرعی کے ساتھ خرچ کر سکتے ہیں ۔
امام اہل سنت امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃاس سے ملتے جلتے سوال کے جواب میں فرما تے ہیں:’’زکوۃدہندہ نے اگر زرِ زکوۃ مصرف کو دے کراس کی تملیک کر دی تو اب اسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوۃ اس کی تملیک سے ادا ہو گئی یوں ہی اگرمزکی( زکوۃ اداکرنے والے)نے زر زکوۃ اسے دیا اور ماذون مطلق کیا کہ اس سے جس طور پر چاہومیری زکوۃ ادا کردو اس نے خود بہ نیت زکوۃ لے لیا ،اس کے بعدمسجد میں لگا دیا تو یہ بھی صحیح و جا ئز ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،10/267،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حیلہ شرعی کے طریقےکے متعلق فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’حیلہ شرعی کی ایک صورت یہ ہے کہ مال زکوۃ کا فقیر کو مالک بنادیں اس طرح کہ زکوۃ کی رقم اس کے ہاتھ میں رکھ دیں۔ اب وہ اپنی طرف سے ناظم مدرسہ کو صرف کرنے کا وکیل بنادے زکوۃ ادا ہوجائے گی‘‘۔(فتاوی فیض رسول،1/490،شبیر برادرز لاہور)
پھر اگرکبھی مدرسہ کی اپنی آمدنی اتنی ہو جائے جس سے احسن طریقے سے معاملات کو نمٹایا جاسکتا ہو تو پھر زکوۃ کی رقم کا حیلہ شرعی کر نا جا ئز نہیں ہے اس لئے کہ اس میں فقراء اور مستحقِ زکوۃ لوگوں کا حق مارنا اور باطل کرنا ہےجو کہ حرام ہے۔
چنانچہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے:"وهي ما يتوصل به إلى مقصود بطريق خفي وهي عند العلماء على أقسام بحسب الحامل عليها فإن توصل بها بطريق مباح إلى إبطال حق أو إثبات باطل فهي حرام".ترجمہ: حیلہ یہ ہے کہ جائز طریقے سے کسی مقصود تک پہنچنا۔ اور علماء کے نزدیک حیلہ کرنے والے کے اعتبار سے اس کی کئی اقسام ہیں: پس اگر جائز طریقے سے غیر کے حق ( خواہ اللہ کا حق ہو جیسے زکوۃ یا بندے کا حق)کو باطل یا باطل چیز (مثلاًسود، رشوت، پگڑی وغیرہ)کو حاصل کرنے کے لئے کیا جائے حرام ہے۔(فتح الباری لابن حجر،کتاب الحیل،12/326،دار المعرفۃ)
بلاضرورت ِشرعی حیلہ شرعی کرنا مسلمان فقیر اور مستحق ِزکوۃ کا حق باطل کرنا ہے جیسا کہ فتح الباری میں اسی صفحہ پر ہے:"وَإِنْ كَانَتْ لِإِبْطَالِ حَقِّ مُسْلِمٍ فَلَا بَلْ هِيَ إِثْمٌ وَعُدْوَانٌ".ترجمہ: اگر حیلہ شرعی سے کسی مسلمان کا حق باطل کرنا ہو تو یہ جائز نہیں بلکہ یہ گناہ اور زیادتی ہے۔(فتح الباری لابن حجر،کتاب الحیل،12/326،دار المعرفۃ)
قربانی کی کھالوں میں حیلہ شرعی کی حاجت نہیں،چنانچہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’چرم قربانی بغیر حیلہ شرعی کے مدرسہ میں دے سکتے ہیں اس لئے کہ چرم قربانی میں تملیک شرط نہیں‘‘۔(فتاوی فیض رسول،1/493،شبیر برادرز لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 ذوالقعدہ 1444 ھ/17 جون2023ء