سوال
میرے اور میرے شوہر کے درمیان جب بھی کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو وہ ایک جملہ بولتا ہےکہ ''تمہارے ساتھ میاں بیوی والا تعلق رکھوں تو اپنی ماں سے رکھوں'' اس جملہ کا شرعاً کیا حکم ہے ؟سائلہ الفت بی بی نیو کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائلہ اپنے بیان میں سچی ہے تو پوچھی گئی صورت میں مذکورہ جملے سے نہ کوئی طلاق واقع ہوئی ہے اور نہ ہی یہ جملہ ظہار کے حکم میں داخل ہے، بلکہ یہ محض لغو اور بے ہودہ جملہ ہے ایسے جملوں سے احتیاط اور بچنا بہتر ہے ۔
اس امر کی تفصیل یہ ہے کہ :
اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے ایسے الفاظ کا ہونا ضروری ہے جو طلاق کا احتمال رکھتے ہوں۔جبکہ مذکورہ صورت میں شوہر نے یہ جملہ کہا: "تمہارے ساتھ میاں بیوی والا تعلق رکھوں تو اپنی ماں سے رکھوں۔"یہ جملہ دراصل مشروط کلام ہے، یعنی اس نے "اپنی ماں سے رکھوں" کو اس شرط کے ساتھ معلق کیا ہے کہ "تمہارے ساتھ میاں بیوی والا تعلق رکھوں۔"اصولی طور پر جب شرط پائی جائے تو تعلیق کا حکم لاگو ہوتا ہے، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ الفاظ ایسے ہیں ہی نہیں ہیں جن سے طلاق کا حکم ثابت ہو سکے۔دوسری بات یہ کہ علیٰ سبیل التنزل اگر ان الفاظ کو ایسا مان بھی لیا جائے کہ ان میں طلاق کا احتمال پایا جاتا ہے، تب بھی ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ جملے میں "رکھوں" کا لفظ استعمال ہوا ہے، اور "رکھوں" صیغۂ انشاء نہیں بلکہ صیغۂ مستقبل ہے۔جبکہ طلاق کے وقوع کے لیے انشاءکا ہونا ضروری ہے، نہ کہ صرف وعدہ طلاق۔لہٰذا، اس جملے سے نہ صریح طلاق ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی کنایہ طلاق پر دلالت پائی جاتی ہے، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اور یہ ظہار بھی نہیں کیونکہ ظہار میں اپنی بیوی یا اس کے کسی جز کو جسے کل کے ساتھ تعبیر کی جاتا ہو ایسی عورت کے ساتھ تشبیہ دے دینا جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو لیکن اس جگہ کسی قسم کی کوئی تشبیہ نہیں دی گئی ۔
دلائل و جزئیات :
اس جملے سے ملتے ایک جملہ کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے ’’لو قال: إن وطئتك وطئت أمي فلا شيء عليه كذا في غاية السروجي. ترجمہ: اگر شوہر کہے کہ اگر میں نے تجھ سے (بیوی ) سے وطی کی تو میں نے ماں سے وطی کی تو اس حوالے سے شوہر پر کوئیچیز ثابت نہ ہوگی اسی طرح غایۃ السروجی میں بیان کیا گیا ہے ۔(فتاوی عالمکیری ، كتاب الطلاق وفيه خمسة عشر بابا، الباب التاسع في الظهار، دار الفكر بيروت وغيرها)۔
اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا فاضل بریلی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک مسئلہ کے متعلق پوچھا گیاکہ زید نے رات کے وقت اپنی زوجہ کو واسطہ صحبت کے بلایا تو بیوی کے انکار کرنے پر زید نے یہ قسم کھائی کہ اب میں تم سے صحبت کروں تو اپنی ماں سے زنا کروں،بعدہ زید بہت شرمندہ ہوا اور توبہ واستغفار کیا،اس معاملہ میں زید کو کیا کرنا چاہئے؟بالفرض اگر زید نے اسی شب بعد استغفار صحبت بھی کی تو کیا کرنا چاہیے ؟اس کا جواب دیتے ہوئے اعلٰحضرت عظیم البرکت فرماتے ہیں ’’ اس نے بر اکیا براکیا،توبہ و استغفار کے سوا اور کچھ لازم اس پر نہیں،صحبت کی تو کچھ حرج نہ ہوا،نہ اس سے نکاح پر کچھ حرف نہ آیا،کمایظھر بمراجعۃ الفتح والدر وغیرہما(جیسا کہ فتح اور در وغیرہ کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔( فتاوی رضویہ ،ج:13 ،ص289،رضا فاءنڈیشن )
علامہ علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ نے بعض الفاظ ذکر فرمائے اور ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ عرفاً یمین (قسم) نہیں۔ پھر یہ بات ذکر کی گئی کہ اگر اس قسم کے الفاظ پر عرف جاری ہو جائے، تو کیا ان کو یمین شمار کیا جائے گا؟ اس پر کہا گیا کہ کمال (ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ ) کے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ پھر بھی یہ الفاظ یمین نہ ہوں گے۔ اسی کی تائید کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ۔’’ أقول: ويؤيده ما في ظهار الهندية"، ص ١٧٥ (٤): (لو قال: إن وطئتك وطئت أمي أي: فلا شيء عليه كذا في "غاية السروجي ") اهـ. ترجمہ : میں کہتا ہوں اس معاملے کی تصدیق وہ جزئی کرتی ہے جو فتاوی ہندیہ میں باب الظہار سے ہے ج:4ص:175 میں کہ شوہر کہے کہ اگر میں نے تجھ سے (بیوی ) سے وطی کی تو میں نے ماں سے وطی کی تو اس حوالے سے شوہر پر کوئی چیز ثابت نہ ہوگی اسی طرح غایۃ السروجی میں بیان کیا گیا ہے ۔(جد الممتار علی رد المحتار ،کتاب الایمان ،ج:5ص:300،دار الکتب العلمیۃ)
طلاق کے لیے ان الفاظ کا ہونا ضروری ہے جو معنی طلاق کا احتمال رکھتے ہوں اس بارے ہدایہ میں ہے " فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة و طلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره " ترجمہ : پس صریح مرد کا قول کہ تو طلاق والی ہے یا مطلقہ ہے اور میں نے تجھے طلاق دی، پس ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے کیونکہ یہ الفاظ طلاق میں استعمال ہوتے ہیں غیر طلاق میں نہیں۔ (الهداية ، كتاب الطلاق ، باب ايقاع الطلاق، جلد: 1، صفحة: 225، دار احياء التراث العربي)۔
مستقل کے صیغے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے "فِي الْمُحِيطِ لَوْ قَالَ بِالْعَرَبِيَّةِ أُطَلِّقُ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إلَّا إذَا غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ لِلْحَالِ فَيَكُونُ طَلَاقًا "ترجمہ : محیط میں ہے اگر عربی میں کہا اطلق (طلاق دوں گا )طلاق واقع نہ ہوگی مگر جب زمانہ حال میں اس کا استعمال غالب ہو جائے (الفتاوی الهندیة، کتاب الطلاق ،جلد:۱ صفحة:۳۸۴،دار الفکر بیروت)
ظہار کب ہوگا اس کے متعلق فتاوی ہندیہمیں ہے ’’ الظهار هو تشبيه الزوجة أو جزء منها شائع أو معبر به عن الكل بما لا يحل النظر إليه من المحرمة على التأبيد ولو برضاع أو صهرية كذا في فتح القدير سواء كانت الزوجة حرة أو أمة أو مكاتبة أو مدبرة أو أم ولد أو كتابيةكذا في السراج الوهاج۔ترجمہ : بیوی کو یا بیوی کے کسی جز ء شائع کو یا ایسےجز کو جسے کل سے تعبیر کیا جاتا ہو اس شئی کے ساتھ تشبیہ دینا محرمات ابدیہ کے ساتھ جن کی طرف دیکھنا جائز نہیں اگرچہ یہ حرمت رضاعت کے یا مصاہرت ( یعنی عورت سے نکاح کے بعداس کے اصول و فروع کا حرام ہوجانا ) کے سبب سے ہو اسی طرح فتح القدیر میں ہے عام ہے کہ بیوی آزاد ہو،لونڈی ہو،مکاتبہ ہو،ام ولد ہو یا مکاتبہ ہو اسی طرح سراج الوہاج میں ہے ۔( الفتاوی العالمکیری ، كتاب الطلاق وفيه خمسة عشر بابا، الباب التاسع في الظهار،ج:1،ص:505، دار الفكر بيروت)
ظہار کے ثبوت کے لیے تشبیہ ضروری ہے اس بارے علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: وَاَلَّذِي فِي الْفَتْحِ: وَفِي أَنْتِ أُمِّي لَا يَكُونُ مُظَاهِرًا، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَكْرُوهًا، فَقَدْ صَرَّحُوا بِأَنَّ قَوْلَهُ لِزَوْجَتِهِ يَا أُخَيَّةُ مَكْرُوهٌ. وَفِيهِ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُد «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخَيَّةُ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ» وَمَعْنَى النَّهْيِ قُرْبُهُ مِنْ لَفْظِ التَّشْبِيهِ، وَلَوْلَا هَذَا الْحَدِيثُ لَأَمْكَنَ أَنْ يُقَالَ هُوَ ظِهَارٌ لِأَنَّ التَّشْبِيهَ فِي أَنْتِ أُمِّي أَقْوَى مِنْهُ مَعَ ذِكْرِ الْأَدَاةِ، وَلَفْظُ «يَا أُخَيَّةُ» اسْتِعَارَةٌ بِلَا شَكٍّ، وَهِيَ مَبْنِيَّةٌ عَلَى التَّشْبِيهِ، لَكِنَّ الْحَدِيثَ أَفَادَ كَوْنَهُ لَيْسَ ظِهَارًا حَيْثُ لَمْ يُبَيِّنْ فِيهِ حُكْمًا سِوَى الْكَرَاهَةِ وَالنَّهْيِ، فَعُلِمَ أَنَّهُ لَا بُدَّ فِي كَوْنِهِ ظِهَارًا مِنْ التَّصْرِيحِ بِأَدَاةِ التَّشْبِيهِ شَرْعًا،. ترجمہ : فتح القدیر میں ہے ایک جملہ بیوی کو کہنا کہ تو میری ماں ہے تو اس سے یہ ظہار کرنے والا نہیں مناسب یہ کہ یہ جملہ مکروہ ہے پس فقہاء نے تصریح کی کہ شوہر کا اپنی بیوی سے کہنا آئے بہن یہ مکروہ ہے اور اس معاملے میں حدیث مبارکہ ہے جس کو امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی سے یہ بات کہتے ہوئی سنی آئے بہن تو یہ کہنا نا پسندیدہ ہے اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منع فرمایا منع فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ ظہار سے مشابہت میں قریب ہیں ، اور اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ اسے ظہار قرار دیا جاتا، کیونکہ 'أنت أمي' (تو میری ماں ہے) کا تشبیہ کے ساتھ اور 'أنت' جیسے الفاظ کی موجودگی میں ظہار ہونا زیادہ قوی ہے۔جبکہ "آئے بہن " کا لفظ بلا شبہ ایک استعارہ ہے ، جو تشبیہ پر مبنی ہے۔لیکن حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہےکہ یہ الفاظ ظہار نہیں بنتے، کیونکہ اس میں کراہت اور ممانعت کے علاوہ کوئی اور حکم نہیں بیان کیا گیا پس یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار کے واقع ہونے کے لیے تشبیہ کے الفاظ کے ساتھ صراحت شرط ہے۔مثال کے طور پر اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے اے میری بیٹی یا " اے میری بہنوغیرہ، تو یہی حکم ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتـــــــــــــــــــــــــــــبه: محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 22ذو القعدہ 1446ھ/20مئی 2025ء