مرنے والے کی طرف سے حج کرنا
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 159

    سوال

    میرا نام محمد امان ہے میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور اُن پر حج فرض ہوگیا تھا مگر بیماری کیوجہ سے کر نہیں پائی ۔ میں انکی جگہ کسی کو حج پر بھیجنا چاہتا ہوں لیکن میں بہت زیادہ کنفیوز ہوں کیونکہ کافی بیان سنے ہیں جس میں اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ حج بدل وہی شخص کرسکتا ہے جس نے پہلے حج کیا ہوا ہو اور باقی ایک دو علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ حج بدل کیلئے اُس شخص کو بھیجا جا سکتا ہے جس نے پہلے حج نہ کیا ہو۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں مکمل دلائل کیساتھ اس مسئلہ کا جواب عنایت فرمادیں کہ حج بدل کیا وہی شخص کرسکتا ہے جس نے پہلے حج کیا ہوا ہو یا وہ بھی کرسکتا ہے جس نے پہلے حج نہ کیا ہوا ہو اور جس پر اپنا حج فرض نہ ہو ۔ سائل :محمد امان بھٹی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ والدہ کے حجِ فرض کے بدلے ان کی طرف سے آپ کا حجِ بدل کرانے کے لیے کسی اور کو بھیجنا شرعاً جائز اور بہت بڑے اجر کا کام ہے۔ اگر والدہ نے حجِ بدل کی وصیت نہ کی تو گناہ گار ہوئیں، لیکن اللہ پاک کی رحمت سے امید ہے کہ یہ حج ان کے حجِ فرض کا بدل ہو جائے گا اور ان کی طرف سے فرضِ حج ادا ہو جائے گا۔بہتر یہ ہے کہ جس شخص کو آپ حجِ بدل کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں، وہ شخص متقی و پرہیزگار، حج کے مسائل جاننے والا ہو، اور پہلے حج کر چکا ہو تاکہ حج کے ارکان مکمل اور صحیح طریقے سے ادا کر سکے۔البتہ ایسے شخص کو بھیجنا بھی جائز ہے جس نے پہلے حج نہ کیا ہو۔ مزید اس شخص کو بھیجیں جس پر حج فرض نہ ہوا ہو۔اگر ایسے شخص کو بھیجا جس پر حج فرض ہو چکا ہو اور اس نے ابھی تک ادا بھی نہ کیا ہو، تو جان بوجھ کر ایسے شخص کو حجِ بدل کے لیے بھیجنا مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے۔

    دلائل و جزئیات :

    حج کی وصیت کیے بغیر فوت ہوا تو گناہ گار ہے اس بارے 'فتاوی ہندیہ 'میں ہے :”مَن علیہ الحج اذا مات قبل ادائہ ، فان مات عن غیر وصیۃ یأثم بلا خلاف ، وان احب الوارث ان یحج عنہ حج وارجو ان یجزئہ ذلک ان شاء اللہ تعالٰی ، کذا ذکر اَبو حَنیفۃَ رَحِمَہُ اللہُ تعالی“ .ترجمہ:جس پر حج فرض ہو اور ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے، اگر(حج کی) وصیت کیے بغیر مرا، تو وہ بالاتفاق گنہگار ہے۔ اگر وارث اُس کی طرف سے حجِ بدل کرانا چاہے، تو کرا سکتا ہے اور امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا ہو جائے، اِسی طرح امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔۔(الفتاوی الهندیة،كتاب المناسك وفيه سبعة عشر بابا، الباب الرابع عشر في الحج عن الغير،ج:1،ص:257،دار الفكر بيروت )

    حج بدل کرنے والا شخص متقی و پرہیز گار، حج کے مسائل جاننے والا ہو ا، پہلے حج کر چکا ہو جیسا کہ "فتاوی ہندیہ ' میں ہے :’’ وَالْأَفْضَلُ لِلْإِنْسَانِ إذَا أَرَادَ أَنْ يُحِجَّ رَجُلًا عَنْ نَفْسِهِ أَنْ يُحِجَّ رَجُلًا قَدْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ، وَمَعَ هَذَا لَوْ أَحَجَّ رَجُلًا لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ يَجُوزُ عِنْدَنَا وَسَقَطَ الْحَجُّ عَنْ الْآمِرِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَفِي الْكَرْمَانِيِّ الْأَفْضَلُ أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِطَرِيقِ الْحَجِّ وَأَفْعَالِهِ، وَيَكُونَ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا، كَذَا فِي غَايَةِ السُّرُوجِيِّ شَرْحِ الْهِدَايَةِ‘‘. ترجمہ : "اور بہتر یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو اپنی طرف سے حجِ بدل کے لیےبھیجنا چاہے تو ایسے شخص کو بھیجے جو اپنی طرف سے حجِ اسلام ادا کر چکا ہو۔تاہم اگر اس نے ایسے شخص حج بدل کروایا جس اپنی طرف سے حجِ اسلام ادا نہیں کیا ، تو بھی ہمارے نزدیک یہ (حجِ بدل) جائز ہے، اور اس صورت میں بھی حج اُس حکم دینے والے کی جانب سے ادا ہو جائے گا۔ایسا ہی "المُحیط "میں مذکور ہے۔اور 'کرمانی' میں ہے کہ افضل یہ ہے کہ حجِ بدل کرنے والا شخص حج کے راستے اور مناسکِ حج کا علم رکھنے والا، آزاد، عاقل اور بالغ ہو۔ایسا ہی حکم 'غایۃ السروجی شرح الہدایہ 'میں ہے۔(الفتاوی الهندیة،كتاب المناسك وفيه سبعة عشر بابا، الباب الرابع عشر في الحج عن الغير،ج:1،ص:257،دار الفكر بيروت )

    جس پر حج فرض ہو چکا ہو اسے حج پر بھیجا مکروہ ہے اس بارے 'ارشاد الساری الی مناسک الملا علی قاری' میں ہے :’’ انّ الافضل کما قال فی البدائع ان یکون قد حج عن نفسه ای للخروجعن الخلاف الذی ہو مستحب بالاجماعو لانہ بالحج عن غیرہ یصیر تارکا لاسقاط الفرضعن نفسه ،فیتمکن فی ہذا الاحجاجضرب کراهة و لانه اعرف بالمناسک فکان افضل. ترجمہ : افضل یہ ہےجیسا کہ بدائع میں ہے کہ وہ شخص جس کو کسی کی طرف سے حج پر بھیجا جا رہا ہے، وہ پہلے اپنی طرف سےحج کر چکا ہو؛ کیونکہ اس طرح وہ خلاف سے نکل جاتا ہے،جو اجماعاً مستحب ہے ۔اور اس لیے کہ جب وہ اپنی طرف سے حج کیے بغیر دوسرے کی طرف سے حج کرتا ہے تو اس صورت میں وہ اپنے ذمے سے فرضِ حج کو ترک کرنے والا ہو جاتا ہے،لہٰذا ایسی حالت میں کسی دوسرے کی طرف سے حج کرانا کراہت سے خالی نہیں۔مزید یہ کہ جس نے خود حج کیا ہو وہ مناسکِ حج سے زیادہ واقف ہوتا ہے، اس لیے اس کا حج کرانا افضل ہے۔ (ارشاد السّاری الی مناسک الملا علی قاری،ص:638،المکتبۃ الامدادیة )

    اس بارے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”بہتر یہ ہے کہ حجِ بدل کے لیے ایسا شخص بھیجا جائے، جو خود حَجۃ الاسلام(حجِ فرض) ادا کر چکا ہو اور اگر ایسے کو بھیجا،جس نے خود نہیں کیا ہے، جب بھی حجِ بدل ہو جائے گا اور اگر خود اس پر حج فرض ہو اور ادا نہ کیا ہو، تو اسے بھیجنا مکروہِ تحریمی ہے۔“(بہارِ شریعت، ج:1، ص1203، 1204، مکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء 23 ربیع الثانی 1447ھ/17اکتوبر2025