وراثت کا مسئلہ مناسخہ اور ورثاء کا دعوٰی

    warasat ka masla manasakha aur warasa ka dawa

    تاریخ: 19 مئی، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1373

    سوال

    ہماری دادی کا ایک مکان تھا ۔ دادا کا انتقال دادی سے پہلے ہوا ۔ دادی کے انتقال کے وقت انکے ورثاء میں پانچ بیٹیاں(اقبال بیگم، سلطان بیگم، سرفرازی، شہزادی، اِچو) اور ایک بیٹا(صادق ) تھا ۔

    اسکے بعد یکے بعد دیگرے دو بیٹیوں(اقبا ل بیگم اور سلطان بیگم) کا انتقال ہوگیا ۔ یہ دونوں شادی شدہ تھیں لیکن انکی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ اور دونوں کے شوہروں کا انتقال بھی ان سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔

    بعد ازاں بیٹے(صادق)اور تینوں بیٹیوں(سرفرازی، شہزادی، اِچو)نے مکان محمد شعیب اور اویس کے نام کردیا۔(یہ دونوں، تینوں بیٹیوں کے بھتیجے اور صادق کے بیٹے ہیں اور جب انہیں ھبہ کیا گیا اس وقت دونوں بالغ تھے ۔)لیکن قبضہ محمد صادق کا ہی رہا اور یہ بیٹے ساتھ رہتے ہیں۔(مکان 80 گز کا ہے اورگراؤنڈ پلس فلور ہے۔)

    پھر اِچو کا انتقال ہوا۔ انکے شوہر کا بھی پہلے انتقال ہوا۔ انکی ایک بیٹی(رئیسہ) ہے، بیٹا کوئی نہیں ہے۔

    پھر سرفرازی کا انتقال ہوا، انکے شوہر کا بھی پہلے ہی انتقال ہوچکا ،ورثاء میں چار بیٹے (اقبال، دلشاد، شاہ نواز، عبدالباسط)تین بیٹیاں(بے بی، فرح، نور سبا)

    اسکے بعد سرفرازی کے ایک بیٹے (اقبال) کا انتقال ہو ا۔ اسکے ورثاء میں بیوی(ناہد)تین بیٹے(کامران، ذیشان،فرقان)اور دو بیٹیاں (نمرا،حرا) ہیں۔

    اس وقت شہزادی اور محمد صادق حیات ہیں۔

    محمد صادق کے ورثاء میں ایک بیوی (شاکرہ) دو بیٹے (شعیب اور اویس)اور چار بیٹیاں (آسیہ، شازیہ، عائشہ، سعدیہ)ہیں۔انکا کیا حصہ بنے گا۔

    سائلہ:سعدیہ:شاہ فیصل ٹاؤن:کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولا یہاں تنقیح طلب امر یہ ہے کہ مکان جوکہ صادق اور اسکی تینوں بہنوں نے ، شعیب و اویس کے نام کردیا اگر تو محض زبانی یا کاغذات میں نام کیااور دونوں کا حصہ الگ الگ کرکے انہیں قبضہ نہ دیاتو یہ ھبہ تام نہ ہوا اب یہ مکان خاص ھبہ کنندگان کی ملک میں ہی باقی رہے گا۔

    اور بالخصوص اس وقت کہ جب واہب خود بھی اس مکان میں رہتا رہا اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا رہا ،پھر یہ کہ اسی حالت میں ھبہ کنندگان میں سے بعض کا انتقال بھی ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔ لہذا اب یہ مکان انہی کی ملک ہے اور انکی وفات کے بعد انکے ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    بدائع الصنائع میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتِ الْمِلْكُ رَأْسًا۔ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔( بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م''سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ،جلد 5ص701)

    اب یہ مکان تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت یعنی مکان کے کل 14080 حصے کئے جائیں گے جس میں سے صادق کو 6336حصے ۔ شہزادی کو 3168 حصے، رئیسہ کو 1408حصے۔دلشاد، شاہنواز اور عبدالباسط میں سے ہر ایک کو الگ الگ 576 حصے۔بےبی،فرح اور نورسبا میں سے ہر ایک کو الگ الگ 288 حصے۔ناہید کو 72 حصے۔کامران، ذیشان اور فرقان میں سے ہر ایک کو الگ الگ 126 حصے۔ جبکہ نمرا اور حرا کو الگ الگ 63 حصے ملیں گے۔

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: مکان کی تمام رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (14080) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    نیز محمد صادق کو جو حصہ بنے کا وہ انکا ذاتی ہے انکے بیٹوں یا بیٹیوں میں سے کسی کو حق نہیں کہ ان سےزندگی میں اپنے حصے کا مطالبہ کریں۔البتہ اگر محمد صادق خود زندگی میں تقسیم چاہتا ہے تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ کہ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لیں،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام بیٹے اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرجنہیں جبکہ دوسرے کوضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئیزیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دین داریا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینامفتی بہ قول کےمطابق مکروہ ہے۔بزازیہ میں ہے:لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دےان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ درمختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07جمادی الاول 1442 ھ/23 دسمبر 2020 ء