سوال
سوشل میڈ یا پر فحاشی کو بنیاد کر ایسا سخت تو این آمیز مواد پھیلا یا جارہا ہے جسے دیکھ کر اس کی سنگینی کے کے باعث انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ہونے والی تو ہین کے حوالہ سے چند سوالات کے جوابات جلد از جلد مطلوب ہیں جن سے توہین کی نوعیت کا اندازہ آپ بخوبی کر سکتے ہیں:
1:۔اگر کوئی شخص نعوذ باللہ مذہبی مقدسات جیسے جائے نماز یا مصحف شریف کی توہین کا (پیشاب کرنے) Urination یا (استمناء)Semination کے ذریعے مر تکب ہو اور اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے گر فتا ر کر لیں تو :
کیا عدالت میں مصحف شریف یا جائے نماز کو جرم کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارنے کے وقت تک اسی حالت میں رکھنا شرعاً جائز ہے ؟ عموماً ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ تیس دنوں میں یا اگر پہلی ترجیحی بنیادوں پر اسے مکمل کیا جائے تو کم از کم ۴۸ گھنٹوں میں دی جاتی ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید کا اسی حالت میں کسی پیکنگ میں بند رہنا یا عدالتی کاروائی کے بعد اسی حالت میں مال خانہ میں جمع ہو جانا کیسا ہے ؟
2:۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی ذمہ دار فرد توہین کرنے والے شخص سے مصحف شریف یا جائے نماز حاصل کرتے ہوئے اگر فوری طور پر اس کو اس توہین سے پاک کرے اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی ویڈیو بنالیں اور بعد میں اس کا ڈیجیٹل فرانزک بھی کروالیا جائے تو کیا یہ ویڈیو جرم کو ثابت کرنے کے لیے شرعا کافی ہو گی جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے ذاتی اکاونٹس اور گروپس میں ہونے والی تو ہین اس کے جرم کی شناعت کو مزید واضح اور ثابت کرتی ہو؟
اگر ویڈیوز یا تصاویر کی صورت میں یہ متبادل طریقہ ثبوت جرم موجود نہ ہو تو محض مجرم کا جرم ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کو توہین کی اس حالت میں رکھنا شرعا حرام ہے ؟ یا کفر ہے ؟ یا جائز ہے ؟ یہ سوال حال میں گرفتار ہونے والے ایک شخص کے حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے پوچھا گیا ہے۔ جو نعوذ باللہ قرآن مجید کی اس انداز سے توہین کیا کرتاتھا۔ اس طرح کا یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نوعیت کی توہین کے متعدد واقعات پیش نظر رکھتے ہوئے یہ استفتاء آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔
2:۔کیا فحاشی پر مبنی تو ہین آمیز مواد کے ساتھ گستاخی کرنے والے شخص کی گرفتاری کے بعد اسے توبہ کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟ اور اگر وہ توبہ کرلے توگرفتاری کے بعد کی توبہ پر کیا شرعی احکامات مترتب ہوں گے ؟
3:۔کیا توہین آمیز مواد چاہے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے ہی ہو شئیر کرنا حرام ہے ؟ یا کفر ہے؟
4:۔۔ اگر توہین آمیز مواد فحاشی پر مبنی ہو ( جیسے نعوذ باللہ مقدسات کی تصاویر برہنہ عورتوں کے غلیظ حصوں پر لکھا ہوا ہونا ) تو کیا حصول لذت کے لیے اسے ڈاؤن لوڈ کرنا لائیک کرنا، اس پر مثبت تاثرات دینا، لذیت کے لیے دیکھنا یا نعوذ باللہ رضامندی کے ساتھ شئیر کر نا کفر ہو گا ؟
سائل: محمد عتیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پہلے سوال کا جواب
مصحف شریف یا جائے نماز پر لگی نجاست کی تحقیق کے لیے نجاست کومصحف شریف سے اتار کر قابلِ قبول محفوظ چیز میں منتقل کیا جا سکتا ہے اور یہ عمل کرتے وقت لوگوں کو گواہ بھی بنایا جا سکتا ہے ، اسی طرح ویڈیو بنائی جا سکتی ہے تاکہ بعد میں پیش کی جا سکے ۔لہذا مصحف شریف یا جائے نماز کو ،ڈی این اے ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارنے کے وقت تک اسی حالت میں رکھنے کی شرعاً قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی مسلمانانِ پاکستان اسے قبول کر سکتے ہیں !
جن مصاحف میں کلام باری تعالی لکھا گیا ہو ان کے حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہو تی ہے کہ مصحف شریف سے جتنے بھی امور تعلق رکھتے ہیں سب میں طہارت ہی طہارت کا ہونا لازمی ہے۔ تیاری کی مراحل میں اوراق کی طہارت ، دورانِ کتابت کاتبین کی طہارت ،تکمیل کے بعد جس جگہ رکھا جائے اس جزدان ،اس جگہ کی طہارت ،جس میں لپیٹا جائے اس غلاف کی طہارت ،جو ہاتھ چھوئیں ان ہاتھوں کا پاک ہونا فرض ہے ،اسی حفاظت کے پیشِ نظر مسلمانوں کو کافروں کے ان ملکوں میں مصحف لے جانے کی اجازت نہیں جہاں پر کفار مصحف کی توہین کی درپے ہوں ۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ، فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ، لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ،تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ :ترجمہ کنزالایمان: بےشک یہ عزت والا قرآن ہے ،محفوظ نَوِشْتَہ میں ،اسے نہ چھوئیں مگر باوضو ،اتارا ہوا ہے ،سارے جہان کے رب کا۔(واقعہ:77 تا 80)
مؤطا امام مالک میں عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم سے مروی ہے کہ جس مکتوب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر و بن حزم کے لیے لکھا اس میں یہ بھی مرقوم تھا کہ:ان لایمس القرآن الا طاہر۔ترجمہ: قرآن کو پاک شخص کے سوا کوئی نہ چھوئے ۔(موطا:رقم الحدیث2270)
جن لوگوں کو قرآن چھونے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی انہیں مطہرون کی صفت سے متصف فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ ناپاک لوگوں کو اس کے چھونے کی ہر گز اجازت نہیں خواہ وہ ظاہری طور پر ناپاک ہوں جیسے بے وضو مسلمان یا باطنی طور پر ناپاک ہوں جیسے مشرک ،یہودی عیسائی وغیرہ ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے دونوں (ظاہری و باطنی ناپاکی) پر مرتب ہونے والے احکام بیان فرمائے ہیں :
امام قرطبی آیت" لایمسہ الا المطہرون :کے تحت لکھتے ہیں : قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ) . وَقَالَتْ أُخْتُ عُمَرَ لِعُمَرَ عِنْدَ إِسْلَامِهِ وَقَدْ دَخَلَ عَلَيْهَا وَدَعَا بالصحيفة: (لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) فَقَامَ وَاغْتَسَلَ وَأَسْلَمَ۔ترجمہ :ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :قرآن کو اسی حالت میں چھوؤو جب تم پاک ہو۔جب حضرت عمر اپنی بہن کے ہاں آئے اور ان سے صحیفہ مانگا تو آپ کی بہن نے جواباًقرآن کی یہی آیت (لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ)پڑھی چناچہ جناب عمر کھڑے ہوئے غسل کیا اور اسلام لے آئے ۔ ( تفسير القرطبي (17 / 225)
امام فخر الدین الرازی لکھتے ہیں کہ بے وضو قرآن کو چھونے میں قرآن مجید کی اہانت ہے اس لیے ناپاک شخص کا قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔(التفسیر الکبیر،جلد 10،صفحہ 431دار الاحیاء التراث العربی )
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے: ويحرم على المحدث ثلاثة أشياءومس المصحف" القرآن ولو آية للنهي عنه في الآية "ترجمہ:بے وضو شخص کے لیے تین کام کرنا حرام ہیں :۔1 قرآن کو چھونا خواہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو ،کیونکہ آیت مبارکہ(لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) میں اس سے منع کیا گیا ہے۔( مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،باب الحیض والنفاس ،جلد 1 ص 148)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ومنھا حرمۃ مس المصحف لا یجوز لھما و للجنب والمحدث مس المصحف یعنی جو کام حیض و نفاس والی پر حرام ہیں ، ان میں قرآن پاک کو چھونے کی حرمت بھی ہے کہ حیض و نفاس والی کے لیے، جنبی اور بے وضو شخص کے لیے قرآن پاک کو چھونا، جائز نہیں( ملتقطاً از فتاوٰی عالمگیری،کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 39،38، مطبوعہ پشاور)
فتح القدیر میں ہے:”لا یجوز للجنب و الحائض ان یمسا المصحف بکمھما او ببعض ثیابھما لان الثیاب بمنزلۃ یدیھما“یعنی جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن شریف کو آستین سے چھونا یا پہنے ہوئے کپڑوں سے چھونا ،جائز نہیں، کیونکہ پہنے ہوئے کپڑے ہاتھ سے پکڑنے کے حکم میں ہیں۔( فتح القدیر، باب الحیض و الاستحاضۃ، ج 01، ص 149، مطبوعہ کوئٹہ)
توہین ِ قرآن کیا حکم شرعی اور اس کی سزا :جس طرح قرآن کی تعظیم و تکریم فرض ہے اسی طرح اس کی توہین و اہانت کفر اور موجبِ لعنت ہے ۔اگر کوئی مسلمان بقائم ہوش و حواس قرآن کی توہین کرے تو ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جائے گا ۔اور اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے کہ اس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے گا توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ ایسے شخص کوحداً قتل کر دیا جائے گا ۔اور اگر کوئی کافر ،کتابی ذمی وغیرہ توہین کا مرتکب ہو تو اس کے خلاف سخت سے سخت تعزیراتی کاروائی کی جائے گی ۔
امام نووی شافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:أجمع المسلمون على وجوب صيانة المصحف واحترامه،، فلو ألقاه والعياذ بالله في قاذورة: كفر ترجمہ:مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کی حفاظت اور اس کا احترام فرض ہے ۔پس اگر کسی نے العیاذ باللہ تعالی قرآن کو کوڑے میں پھینکا تو وہ کافر ہو جائے گا ۔( جزء فيه ذكر اعتقاد السلف في الحروف والأصوات جلد 1صفحہ 76مكتبة الأنصار للنشر والتوزيع)
قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :أعلم أن من استخف بالقرآن أو المصحف أو بشئ منه أو سبهما أو جحد حرفا منه أو كذب بشئ مما صرح به فيه من حكم أو خبر أو أثبت ما نفاه أو نفي ما أثبته وهو عالم بذلك أو يشك في شئ من ذلك فهو كافر بإجماع المسلمين۔(الشفا بتعريف حقوق المصطفى جلد 2 صفحہ 646 دار الفيحاء – عمان)
دوسرے سوال کا جوب
اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی ذمہ دار فرد توہین کرنے والے شخص سے مصحف شریف یا جائے نماز حاصل کرتے ہوئے اگر فوری طور پر اس کو اس توہین سے پاک کرے اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی ویڈیو بنالے تو یہ ویڈیو جرم کو ثابت کرنے کے لیے شرعا کافی ہو گی؟
ثبوتِ توہین
جس جرم سے حدود وقصاص لازم آئے اس کے ثبوت کے درج ذیل تین طریقے ہیں:
اقرار
شہادت
نکول
فتاوٰی خیریہ: حجج الشرع ثلثۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما صرح بہ فی الاقرار الخانیۃ۔ شرعی دلائل تین ہیں:گواہی یا اقراریا قسم سے انکار، جیسا کہ خانیہ کے باب الاقرار میں تصریح ہے۔( فتاوٰی خیریہ کتاب القضاء ۲ /۱۲ دارالفکر بیروت )
اسی میں ہے : القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول۔ترجمہ: قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے۔(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب القضاء دارالفکر بیروت ۲ /۱۹)
اقرار
اقرار وہ اعتراف ہے جو مقر کی طرف سے صادر ہو ،اور اس سے معاملہ بلکل ظاہر ہو جائے ،اور جس سے مقر لہ کا دل مطمئن ہو جائے ۔اقرار ثبوت ِ جرم کی سب سے اعلی دلیل ہے کہ اگر مجرم جرم کا اقرار کر لے تو قاضیِ شرع اقرار کے شرعی تقاضے پوے ہونے کے بعد ،فیصلہ سنا سکتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے شہادت یا کسی اور قرینہ کی حاجت نہیں رہتی (البحر الرائق میں ہے:لو اقر بعد البینۃ یقضی بہ لا بہا)اس لیے کہ اقرار از خود حجت شرعی ہے جو کہ قرآن و سنت اور اجماع ِ امت سے ثابت ہے۔
اقرار کی حجیت پر درج ذیل آیات سے استناد کیا جاتا ہے :
كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ۔ترجمہ: اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لیے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو۔(النساء: 135)
اس آیت مبارکہ میں شہادت علی النفس (اپنی ذات پر گواہی دینا ) کا حکم ہے اور اقرار شہادت علی النفس ہی ہوتا ہے کہ اس شہادت سے ظاہرًا مقر کا نقصان ہوتا ہے ۔
وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ۔ترجمہ: جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھاتا جائے ۔(البقرة: 282)
املاء کروانا بھی ایک طرح کا اقرار علی النفس ہے۔
صحیح بخاری و مسلم میں کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت انیس فرمایا:وَاغْدُ أَنْتَ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا۔ترجمہ:اے انیس چاشت کے وقت تم اس عورت کے پاس جانا اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دینا ۔(البخاری:6827)
اسی طرح نبی علیہ الصلاۃ والسام نے حضرت ماعز اور غامدیہ نامی خاتون کو جو رجم کیا وہ بھی اعتراف کی بنیاد پر تھا ۔
اقرار کی شرعی تعریف ہے: اعْتِرَافٌ صَادِرٌ مِنَ الْمُقِرِّ يَظْهَرُ بِهِ حَقٌّ ثَابِتٌ فَيَسْكُنُ قَلْبَ الْمُقَرِّ لَهُ إِلَى ذَلِكَ۔ترجمہ:وہ اعتراف جو مقر سے صادر ہو اور اس سے حق ظاہر ہو جائے اور مقر لہ کے دل کو اس سے تسکین ملے۔(الاختيار لتعليل المختار،کتاب الاقرار جلد 2 صفحہ 89دار الفیحاء)
شہادت
ثبوتِ جرم کا دوسرا طریقہ شہادت ہے کہ اگر مجرم کے خلاف شرعی گواہی آ جاتی ہے تو ایسی صورت میں بھی قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے گا ۔ حدود و قصاص میں صرف مردوں کی گواہی قبول ہے کہ حد زنا میں چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ میں دو گواہوں کافی ہیں جبکہ معاملات میں شرعی گواہی کا نصاب یہ ہے کہ دو مرد گواہی دیں یا پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں ۔ نصاب شہادت کے بعد قبولِ شہادت کا معیار یہ ہے کہ :شاہد عاقل ،بالغ ہو ،عادل ہو ،مدعی علیہ مسلمان ہو تو شاہد کا مسلمان ہو،اس کی یاداشت درست ہو ،نابینا نہ ہو اور مدعی علیہ پر اپنی گواہی کے ذریعے الزام قائم کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اور شاہد کی مدعی کے ساتھ ولادت یا زوجیت کے لحاظ سے کسی قسم کی قرابت نہ ہو اور نا ہی مدعی علیہ کے ساتھ کوئی دنیاوی دشمنی رکھتا ہو نیز اس گواہی کے ذریعے مال و متاع ،مفعت وغیرہ کا حصول بھی کار فرما نہ ہو۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَاسْتَشْہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحْدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰىہُمَا الۡاُخْرٰی ؕ ۔ترجمہ: اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں اُن گواہوں سے جن کو تم پسند کرتے ہو کہ کہیں ایک عورت بھول جائے تو اُسے دوسری یاد دلادے گی۔ (البقرة: 282)
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ۔ترجمہ:اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو۔(الطلاق: 2)
نصاب ِ شہادت کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: وَلَا يُقْبَلُ عَلَى الزِّنَا إِلَّا شَهَادَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَاقِي الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، وَمَا سِوَاهُمَا مِنَ الْحُقُوقِ تُقْبَلُ فِيهَا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ (ف) ، وَتُقْبَلُ شَهَادَةُ النِّسَاءِ وَحْدَهُنَّ فِيمَا لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ كَالْوِلَادَةِ وَالْبَكَارَةِ وَعُيُوبِ النِّسَاءِ۔ترجمہ:(الاختيار لتعليل المختار،کتاب الشہادات جلد 2 صفحہ 140دار الفیحاء)
شہادت کی تعریف کی بابت درمختار میں ہے: اخبار صدق لاثبات حق بلفظ الشہادۃ فی مجلس القاضی۔ترجمہ: کسی حق کو ثابت کرنے کےلئے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینا،(شہادت کہلاتا ہے)۔
نصاب ِ شہادت کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: وَلَا يُقْبَلُ عَلَى الزِّنَا إِلَّا شَهَادَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَاقِي الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، وَمَا سِوَاهُمَا مِنَ الْحُقُوقِ تُقْبَلُ فِيهَا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ (ف) ، وَتُقْبَلُ شَهَادَةُ النِّسَاءِ وَحْدَهُنَّ فِيمَا لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ كَالْوِلَادَةِ وَالْبَكَارَةِ وَعُيُوبِ النِّسَاءِ۔ترجمہ:شہادت کی شرائط کے متعلق ہے: شرطھا العقل الکامل والضبط والولایۃ فیشترط الاسلام لوالمدعی علیہ مسلما وعدم قرابۃ ولاد او زوجیۃ اوعداوۃ دنیویۃ اودفع مغرم اوجرمغنم۔ترجمہ: شہادت کی شرطیں یہ ہیں شاہد کا عاقل، بالغ صحیح یا دداشت والا اور مدعا علیہ پر ولایت رکھنے والاہونا چنانچہ اگر مدعی علیہ مسلمان ہو تو شاہد کا مسلمان ہونا شرط ہوگا(نیز یہ بھی شرط ہے کہ) شاہد کو مشہودلہ کے ساتھ ولادت یا زوجیت کے اعتبار سے قرابت حاصل نہ ہو اور نہ ہی کوئی دنیاوی عداوت ہو،اور شاہدکو اس گواہی سےدفعِ تاوان یا حصوِل منفعت جیسی سہولت بھی حاصل نہ ہوتی ہو۔ (۱؎ درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰)
نکول (قسم کھانے سے انکار کرنا)
آقا کریم خاتم النبیین علیہ الصلاۃ ولتسلیم نے قضا کا قاعدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : اَلْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِي،وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ :ترجمہ:گواہ مدعی پر گواہ پیش کرنا اور مدعا علیہ پر قسم لازم ہے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : 2514)
اگر مدعی اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ نہ پیش کر پائے تو پھر قاضی مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کرتا ہے ۔ اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے اور اگر قسم اٹھانے سے انکار کر دے تو قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے ۔مدعی علیہ کے قسم اٹھانے سے انکار کرنے کو نکول کہا جاتا ہے ۔
ثبوت جرم کی اقرارو شہادت اور نکول میں انحصار کی توجیہ
ثبوتِ جرم کو اقرار و شہادت اور نکول میں منحصر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ نظام و قیام ِعدل میں کوئی ظلم کا شائبہ نہ رہے ، کسی قسم کا شک وتردد نہ رہے، حق بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے تاکہ کسی بھی بے گناہ سے زیادتی نہ ہو ۔سو اس معیار کے لیے قرآن و سنت میں تین طریقے مقرر فرمائے گئے جو نظام ِعدل کے تقاضوں کو پورے کرنے کی کما حقہ صلاحیت رکھتے ہیں ۔
لیکن تاریخ میں ایسے نظائر بھی موجود ہیں جہاں پر اقرار و شہادت کے بر عکس قرائن کے ذریعے فیصلوں کا صدور ہوا جس سے قرائن قاطعہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی انہیں تائید و تقویت کے طور پر لیا گیا اوران تینوں کے معدوم ہونے کے وقت کبھی صرف قرائن کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا اس لیے کہ جو یقین و تیقن اقرار و شہادت اور نکول سے مقصود ہوتا ہے وہ ان قرائن ِقاطعہ سے حاصل ہوا۔
قرآن و سنت اور کتبِ فقہ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں!
1:۔حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا پیچھے سے پھٹنے کو براءت پر بطور قرینہ پیش کیا گیا ۔
2:۔حضرت یعقوب علیہ السلام کا جناب یوسف علیہ السلام کو زندہ سمجھنا اور بھائیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا : بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا (یوسف:18)یہ قمیص کے نہ پھٹنے کے قرینہ کی بنیاد پر تھا ۔
3:۔ – آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے بچے کی ولدیت کے بارے یہ فیصلہ دیا کہ اگراس کی شکل و صورت اور اعضا ایسے ہوں تووہ شریک کا بیٹا ہوگا اور اگر ایسے ہوں تو ہلال بن امیہ کا ۔ (ابوداؤد : السنن‘ کتاب الطلاق)
4:۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نعیمان یا ابن النعیمان نامی کو نشے کی حالت میں پیش کیا گیا ۔ آپ علیہ السلام نے اسے حد لگانے کا حکم دیا۔ (ابو داؤود: کتاب الحدود)
5:۔اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہو یا وہ شراب کی قے کرے تو اس کی بنیاد پر اسے سزا دی جائے گی۔
6:۔کوئی شخص خالی مکان سے چُھری لیے باہر نکلا جس پر انسانی خون تھا اور مکان میں ایک شخص مذبوح حالت میں پایا گیا۔
7:۔وہ عورت جو کسی کی منکوحہ نہیں اس کے پیٹ میں حمل کا پایا جانا اس حال میں کہ زنا بالجبر کی بھی نفی کو گئی تو ایسی عورت کو سزا دی جائے گی۔
8:۔ملزم سے مالِ مسروقہ کا برآمد ہونا ۔
فائدہ:قرائن پر مبنی فیصلوں کی مزید مثالوں کے لیے ابوالحسن علی بن خلیل طرابلسی کی معین الحکام ملاحظہ فرمائیں جس میں انھوں نے 24مسائل کا ذکر کیا ہے جن میں قرائن کی بنیاد پر فیصلے دیے ہیں اسی طرح علامہ ابن قیم نے بھی "الطرق الحکمیۃ "میں بھی متعدد مثالیں پیش کی ہیں۔
قرائن کے اثر کا دائرہ کار
امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیھما کے نزدیک صرف قرائن کی بنیاد پر حدو قصاص جاری نہیں ہو سکتی ،اس لیے کہ حدود و قصاص کی جزائیں اور سزائیں ، اور ان کے ثبوت کے طریقے بھی شارع کی طرف سے مقرر شدہ ہیں ان میں کسی قسم کی کمی یا اضافہ کرنے کا ہر گز ہم مجاز نہیں یہی وجہ ہے کہ حدود و قصاص میں حد درجہ احتیاط سے کام لینے کا حکم ہے۔ چناچہ وہ عورت جس کے بدکار ہونے کے بارے میں واضح قرائن موجود تھےآقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس پر حد کے متعلق فرمایا:لو کنت راجمًا اَحَدًا بغیر بینۃٍ لرجمت فلانۃً فقد ظھر فیھا الریبۃ فِی منطقھا وھئیتھا ومن یدخل علیھا ۔ترجمہ:اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کر سکتا تو فلاں عورت کو ضرور رجم کر دیتا کیونکہ اس کی باتوں سے‘ اس کی ہیئت سے اور جن لوگوں کی اس کے پاس آمدورفت ہے‘ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زانیہ ہے۔(ابن ماجہ‘ السنن‘ ابواب الحدود)
احناف کے نزدیک کسی شخص کے منہ سے شراب کی بدبو کے باعث اس پر حد جاری نہیں ہو گی اس کی دلیل میں علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : لِاحْتِمَالِ أَنَّهُ شَرِبَهَا مُكْرَهًا أَوْ مُضْطَرًّا فَلَا يَجِبُ الْحَدُّ بِالشَّكِّ، وَأَشَارَ إلَى أَنَّهُ لَوْ وُجِدَ سَكْرَانُ لَا يُحَدُّ مِنْ غَيْرِ إقْرَارٍ وَلَا بَيِّنَةٍ لِاحْتِمَالِ مَا ذَكَرْنَا أَوْ أَنَّهُ سَكِرَ مِنْ الْمُبَاحِ بَحْرٌ، لَكِنَّهُ يُعَزَّرُ بِمُجَرَّدِ الرِّيحِ أَوْ السُّكْرِ كَمَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 40)
جبکہ امام احمد بن حنبل کے دو قول ہیں ایک قول کے مطابق ثبوتِ قرینہ قطعیہ سے حد جاری ہو گی جبکہ دوسرا قول امام اعظم و شافعی کی مثل ہے ۔ تاہم تعزیر میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ۔
الشيخ محمود شلتوت: "ومما ينبغي المسارعة إليه، في هذا المقام، أن الناظر في كتب الأئمة، يرى أنهم مجمعون على مبدأ الأخذ بالقرائن في الحكم والقضاء، وأن أوسع المذاهب في الأخذ بها مذهبا المالكية والحنابلة، ثم الشافعية ثم الحنفية"[8].
وہ مقامات جہاں قرائن قاطعہ کا اعتبار نہیں کیا گیا ان کی بابت الشیخ وحبہ الزحيلي لکھتے ہیں : "ولعل السبب في عدم تصريح الفقهاء بالقرائن هو الاحتياط والتحرُّز، وسد الذرائع، لأن استعمال القرائن يحتاج إلى صفاء الذهن، وحدة الفكر، ورجحان العقل، وزيادة التقوى والصلاح والإخلاص، وإلا انحرَف بها صاحبها، وأصبحت أداة للظلم، ووسيلة للاضطهاد والتعسف"
خاتمۃ المحققین السید ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَالطَّرِيقُ فِيمَا يَرْجِعُ إلَى حُقُوقِ الْعِبَادِ الْمَحْضَةِ عِبَارَةٌ عَنْ الدَّعْوَى وَالْحُجَّةِ: وَهِيَ إمَّا الْبَيِّنَةُ أَوْ الْإِقْرَارُ أَوْ الْيَمِينُ أَوْ النُّكُولُ عَنْهُ أَوْ الْقَسَامَةُ أَوْ عِلْمُ الْقَاضِي بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَحْكُمَ بِهِ أَوْ الْقَرَائِنُ الْوَاضِحَةُ الَّتِي تُصَيِّرُ الْأَمْرَ فِي حَيِّزِ الْمَقْطُوعِ بِهِ فَقَدْ قَالُوا لَوْ ظَهَرَ إنْسَانٌ مِنْ دَارٍ بِيَدِهِ سِكِّينٌ وَهُوَ مُتَلَوِّثٌ بِالدَّمِ سَرِيعَ الْحَرَكَةِ عَلَيْهِ أَثَرُ الْخَوْفِ فَدَخَلُوا الدَّارَ عَلَى الْفَوْرِ فَوَجَدُوا فِيهَا إنْسَانًا مَذْبُوحًا بِذَلِكَ الْوَقْتِ وَلَمْ يُوجَدْ أَحَدٌ غَيْرَ ذَلِكَ الْخَارِجِ، فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ بِهِ وَهُوَ ظَاهِرٌ إذْ لَا يَمْتَرِي أَحَدٌ فِي أَنَّهُ قَاتِلُهُ، وَالْقَوْلُ بِأَنَّهُ ذَبَحَهُ آخَرُ ثُمَّ تَسَوَّرَ الْحَائِطَ أَوْ أَنَّهُ ذَبَحَ نَفْسَهُ احْتِمَالٌ بَعِيدٌ لَا يُلْتَفَتُ إلَيْهِ إذْ لَمْ يَنْشَأْ عَنْ دَلِيلٍ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 354)
مانحن فیہ مسئلہ میں
اثبات ِجرم میں
عصرجدید میں واقعات کی صحت و صداقت اور شہادتوں کی جانچ پڑتال اور پرکھنے کے لیے جوذرائع اور وسائل ایجاد ہو چکے ہیں‘ اثباتِ حق اور قیامِ عدل کے لیے ان سے استفادہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ شریعت کا مقصود و منشا ہی قیامِ عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج (الحدید ۵۷ : ۲۵) ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
اسلام کے قانونِ شہادت میں قرائن قاطعہ یا شہادت حالی (circumstancial evidence) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔فقہا نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
ایسی نشانی یا علامت جو حد یقین تک پہنچنے والی ہو (ابن الفرس: الفواکہ البدریہ‘ ص ۸۳‘ مجلہ الاحکام العدلیہ‘ ص ۳۵۳)
یہ ایسی ناقابل تردید شہادت ہوتی ہے جو حالات و واقعات سے اس طرح مستنبط ہوتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی اور نتیجہ نکالنا مشکل ہوتا ہے۔
جدید دور میں سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں قرائن میں بڑی وسعت پیدا ہو چکی ہے۔ مثلاً پوسٹ مارٹم‘ انگلیوں کے نشانات (finger prints) ‘پائوں کے نشانات‘ بالوں کا تجزیہ‘ ویڈیو اور آڈیو کیسٹ
کے ذریعے تصاویر اور آوازوں کی ریکارڈنگ‘ اشیا کا کیمیاوی تجزیہ‘ ایکس ریز‘ ڈی این اے (DNA)٭ ٹیسٹ‘ تحریروں کی شناخت‘ فوٹو اسٹیٹ کے ذریعے دستاویزات کی نقول وغیرہ ذرائع شہادت میں انتہائی موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا قرآن و سنت اور فقہا کی آرا کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا قرآن و سنت میں قرائن کی شہادت کو تسلیم کیا گیا ہے؟ اس سلسلے میں فقہا کی آرا کیا ہیں؟ موجودہ دَور میں سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے قرائن میں جو اضافہ ہوا ہے ان کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی گنجایش شریعت میں موجود ہے یا نہیں؟ کیا عینی شہادت میسّر نہ ہونے کی صورت میں محض قرائن کی بنیاد پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیاقرائن شریعت میں مستقل ذریعہ ء ثبوت ہیں یا ان کی حیثیت معاون ثبوت کی ہے کہ محض تقویتِ شہادت کے لیے ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوالات اہل علم اور محققین کے لیے انتہائی اہم اور غور طلب ہیں؟ راقم نے اس مقالہ میں قرآن و سنت اور فقہا کی آرا کی روشنی میں اپنا نقطہ ء نظرپیش کیا ہے جس کی حیثیت محض طالب علمانہ بحث کی ہے اور اہل علم کو اس سے اختلاف کا حق حاصل ہے۔ اس موضوع پر بحث و تحقیق ہی کے ذریعے کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
قرآن حکیم کی رُو سے: ۱- قرآن حکیم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السّلام کے کردار کی برأت کے لیے کوئی ظاہری شہادت موجود نہ تھی اس لیے قرائنی شہادت ہی کی تجویز پیش کی گئی۔
اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ o وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ o فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ o یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ ج اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ o (یوسف ۱۲ : ۲۶-۲۹) اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔ سو جب (شوہر نے) دیکھا کہ یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو کہنے لگا کہ یہ تم عورتوں کی چالاکی ہے۔ بے شک تمھاری چالاکیاں بڑے غضب کی ہوتی ہیں۔ اے یوسف! اس بات کو جانے دو اور اے عورت! تو اپنے قصور کی معافی مانگ‘ بے شک سرتاسر تو ہی قصوروار ہے۔
قرآن حکیم نے قرائنی شہادت کی بنیاد پر اس فیصلے کو درست تسلیم کیا۔
۲- حضرت یعقوب ؑنے حضرت یوسف علیہ السلام کی خون آلود قمیص دیکھ کر بغیر کسی چشم دید گواہ کے برادرانِ یوسف کو ملزم ٹھیراتے ہوئے فرمایا:بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ط (یوسف ۱۲ : ۱۸) بلکہ تمھارے دل نے ایک بات بنا لی ہے۔
قرطبی لکھتے ہیں: علما کا اس پر اتفاق ہے کہ یعقوب علیہ السّلام نے قمیص کے صحیح سالم ہونے کی وجہ سے ان کے جھوٹ پر استدلال کیا (قرطبی: الجامع لاحکام القرآن‘ ج ۹‘ ص ۱۵۰)
یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: بڑا صابربھیڑیا تھا کہ یوسف کو توکھا لیا مگر قمیص کو پھاڑا تک نہیں ۔ (ایضاً: ۹/۱۴۹)
شرائع سابقہ میں: صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ دو عورتوں کے درمیان ایک بچے کے بارے میں تنازعہ ہوا۔ ان میں سے ہر ایک اسے اپنا بیٹا جتلاتی تھی۔حضرت سلیمان علیہ السّلام کے سامنے ان کا مقدمہ پیش ہوا تو انھوں نے فیصلہ دیا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر کے ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا جائے۔ یہ سن کر حقیقی والدہ پکار اُٹھی کہ یہ بچہ دوسری عورت کا ہے‘ حضرت سلیمان علیہ السّلام سمجھ گئے کہ یہ بچہ اسی عورت کا ہے‘ چنانچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر کے بچہ اسے دلوا دیا۔ (مسلم: الجامع الصحیح‘ کتاب الاقضیہ) اس واقعہ میں بھی فیصلہ قرائن کی بنیاد پر کیا گیا۔
سنت نبویؐ میں: سنت نبویؐ میں متعددایسی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرائن کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا‘ مثلاً:
۱- ایک موقع پر ایک بچے کی ولدیت کے بارے میں آپ ؐنے یہ فیصلہ دیا کہ اگراس کی شکل‘ صورت اور اعضا ایسے ہوں تووہ شریک کا بیٹا ہوگا اور اگر ایسے ہوں تو ہلال بن امیہ کا ۔ (ابوداؤد : السنن‘ کتاب الطلاق)
۲- غزوئہ بدر میں معوذ ؓ اور معاذ ؓ دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک ابوجہل کو قتل کرنے کا مدعی تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قرائن کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا۔ ان سے آپ ؐنے سوال کیا کہ انھوں نے تلواریں تو صاف نہیں کیں؟ انھوں نے عرض کیا‘ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: انھیں لائو‘ تلواریں دیکھ کر آپ ؐنے ایک تلوار کے متعلّق ارشاد فرمایا: ھٰذا قتلہ (اس تلوار نے اسے قتل کیا ہے)۔ پھر ابوجہل کا سامان اس تلوار کے مالک کو دے دیا۔ (مسلم: الجامع الصحیح‘ کتاب الجہاد)
۳- عہد نبوتؐ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والے بچے کے متعلّق شبہ ظاہر کیا کہ وہ ولد الزنا ہے کیونکہ اس کی صورت سیاہ رنگ کی ہے جب کہ اس کے خاندان میں کوئی شخص بھی سیاہ رنگت کا نہیں‘ آنحضرتؐ نے پوچھا: ’’کیا تمھارے پاس اونٹ ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’جی ہاں!‘‘ آپؐ نے پوچھا: ’’ان کی رنگت کیا ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’سرخ رنگ کے ہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’کیا ان میں کچھ سیاہی مائل بھی ہیں؟ ‘‘اس نے عرض کیا: ’’جی ہاں‘‘۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’یہ کیسے ہو گیا؟‘‘ کہنے لگا: اراہ عرق نزعہ (میرا خیال ہے کسی رگ نے اسے اس طرف کھینچ لیا ہے)۔ آپؐ نے فرمایا:فلعل ابنک ھٰذا نزعہ عرق(بخاری : الجامع الصحیح‘ کتاب المحاربین) ‘ ممکن ہے تیرے لڑکے کو بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔
۴- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نعیمان یا ابن النعیمان اس حالت میں پیش کیا گیا کہ وہ نشے کی حالت میں تھا۔ آپؐ نے اسے حد لگانے کا حکم دیا۔ چنانچہ اسے چھڑیوں اور جوتوں سے مارا گیا اور چالیس ضربیں پوری کی گئیں ۔(ایضاً: کتاب الحدود) واضح رہے کہ شراب کی حد عموماً قرائن کی بنا پر لگتی ہے اور کسی شخص کا نشہ کی حالت میں ہونا شراب پینے کا ایک قرینہ ہے۔
فقہا کی نظر میں: متعدد مسائل میں فقہا قرائن کی بنیاد پر فیصلے کو درست قرار دیتے ہیں۔ ابوالحسن علی بن خلیل طرابلسی نے معین الحکام میں ایسے ۲۴ مسائل کا ذکر کیا ہے جن میں قرائن کی بنیاد پر فیصلہ دینے میں فقہا متفق ہیں۔(۱) علامہ ابن قیم نے بھی الطرق الحکمیۃ میں اس کی متعدد مثالیں پیش کی ہیں۔ (الطرق الحکمیۃ‘ ص ۶-۹) ان قرائن میں سے اہم یہ ہیں: مثلاً شراب کی بو‘ منہ سے آنا یا شراب کی قے یا نشہ‘ شراب نوشی کا واضح قرینہ ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے قرینہ ء ظاہرہ پر اعتماد کر کے اس شخص پر حد نافذ کرنے کا حکم دیا تھا جس کے منہ سے شراب کی بو آرہی ہو یا جس نے شراب کی قے کی ہو۔ (الطرق الحکمیۃ‘ ص ۶-۹) کسی ایسی عورت کا حمل ظاہر ہونا جس کا نہ کوئی شوہر ہو نہ آقا تو یہ زنا کے لیے واضح قرینہ ہے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے اور ان کے ساتھ دیگر صحابہ نے اس عورت کے رجم کا حکم دیا تھا جس کا حمل ظاہر ہو گیا تھا اور اس کا نہ کوئی شوہر تھا نہ آقا۔ (ایضاً)
ملزم سے مالِ مسروقہ کا برآمد ہونا بھی واضح قرینہ ہے جو ثبوت کی دیگر صورتوں میں گواہی اور اقرار دونوں کے مقابلہ میں قوی تر ہے‘ اسی طرح مقتول جو خون میں لت پت پڑا ہو اور ایک شخص اس کے سر پر چھری لیے کھڑا ہو۔ بالخصوص جب کہ وہ شخص مقتول کے ساتھ اپنی دشمنی کے لیے بھی مشہور ہو تو اس صورت میں اسی شخص کو قاتل ٹھیرایا جائے گا۔ قرینہ کی بنا پر حکم لگانے کی یہ مثال بھی فقہا نے ذکر کی ہے کہ اگر ہم کسی ایسے شخص کو جس کی عادت ننگے سر پھرنے کی نہیں‘ ننگے سر جاتے ہوئے دیکھیں‘ اس کے سامنے ایک اور شخص پگڑی باندھے ہوئے اور ایک پگڑی ہاتھ میں لیے بھاگ رہا ہو تو ہم یہ فیصلہ کر دیں گے کہ بھاگنے والے شخص کے ہاتھ میں جو پگڑی ہے وہ قطعی طور پر اس شخص کی ہے جو ننگے سر ہے۔ یہاں ہم قرینہء ظاہرہ کی بنا پر یہ فیصلہ دیں گے جو دوسرے ہر قسم کے ثبوت اور اعتراف سے کہیں زیادہ قوی طریقۂ ثبوت ہے۔ مدعا علیہ قسم اٹھانے سے انکار کر دے تو فیصلہ مدعی کے حق میں کیا جائے گا جسے ’’قضا بالنکول‘‘ کہا جاتا ہے‘ کیونکہ مدعا علیہ کا قسم سے انکار دعویٰ کی صداقت کا واضح قرینہ ہے جس کی بنا پر فیصلہ مدعی کے حق میں جائے گا۔(۲)
اگرچہ متعدد مسائل میں فقہا قرائنی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں مگر جمہور فقہا مثلاً شوافع‘ احناف اور حنابلہ حدود میں قرائن کو بطور دلیل تسلیم نہیں کرتے کیونکہ شریعت کا منشا یہ ہے کہ دم اور حدود کے معاملات میں احتیاط برتی جائے اور حدود شبہات کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں (ترمذی: الجامع‘ ابواب الحدود)‘ جیسا کہ شریعت کا اصول ہے۔ اس سلسلے میں وہ بعض احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں مثلاً ایک ایسی عورت کے متعلق جس کے بدکار ہونے کے بارے میں قرائن واضح طور پر شہادت دے رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لو کنت راجمًا اَحَدًا بغیر بینۃٍ لرجمت فلانۃً فقد ظھر فیھا الریبۃ فِی منطقھا وھئیتھا ومن یدخل علیھا (ابن ماجہ‘ السنن‘ ابواب الحدود) اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کر سکتا تو فلاں عورت کو ضرور رجم کر دیتا کیونکہ اس کی باتوں سے‘ اس کی ہیئت سے اور جن لوگوں کی اس کے پاس آمدورفت ہے‘ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زانیہ ہے۔
باوجود واضح قرائن کے آپؐ نے اس عورت پر حد جاری نہیں فرمائی۔
اسی طرح امام احمد اور امام ابودائود نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے شراب پی۔ وہ نشہ کی وجہ سے راستے میں جھوم رہا تھا۔ لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے چلے۔ جب وہ حضرت عباسؓ کے مکان تک پہنچا تو جان چھڑا کر ان کے گھر داخل ہو گیا اور ان کے پاس پناہ لے لی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیاگیا تو آپؐ ہنس پڑے اور فرمایا: افعلھا (کیا اس نے ایسا کیا تھا؟) پھر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ (معالم السنن: ۳/۳۳۷) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐنے قرینہ (نشہ) کے باوجود حد جاری نہیں فرمائی۔
حنابلہ میں سے ابن قیم اور ابن تیمیہ‘ احناف میں سے ابن الفرس (م ۸۹۴ھ) اور مالکیہ میں سے ابن فرحون اور ابن جزی حدود میں بھی قضاء بالقرائن کو درست سمجھتے ہیں اور مالکیہ کا بھی عموماً یہی مذہب ہے۔ احناف کے نزدیک بھی حدِّخمر دو شرائط کے ساتھ جاری کی جائے گی۔ ایک یہ کہ کوئی شخص نشے کی حالت میں ہو اور دوسری شرط یہ کہ اس کے منہ سے شراب کی بو بھی آرہی ہو۔(۳)
حدود میں قرائن کی شہادت کو درست سمجھنے والے فقہا ایسی عورت پر حد لگانے کے بھی قائل ہیں جو حاملہ ہو اور کسی کے نکاح یاملکیت میں نہ ہو۔ اسی طرح شراب کی بو‘ اور قے کی بنا پر حدِّخمر اورمالِ مسروق ملزم کے گھر سے برآمد ہونے کی بنا پر حدِّسرقہ کو درست سمجھتے ہیں۔(۴)
اس سلسلے میں ان کا استدلال قرآن حکیم میں مذکورہ قصّۂ یوسف ؑسے ہے جس میں حضرت یعقوب علیہ السّلام نے برادرانِ یوسف ؑ کے کذب پر یوسف ؑکی صحیح سالم قمیص سے استدلال کیا تھا اور عزیز مصر کی بیوی کے الزام سے ان کی برأت ایک قرینہ (یعنی پیچھے سے پھٹی ہوئی قمیص) سے ہوئی۔ نیز وہ بعض روایات و آثار سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت عمرؓ کا ایک شخص کو نشہ کی حالت میں دیکھ کر حد جاری کرنا اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا شراب کی بو سونگھ کر ایک شخص پر حد جاری کرنا وغیرہ۔(۵)
شہادت کی اہمیّت اور ابن قیّم وغیرہ کا مسلک: اسلامی قانونِ شہادت کی رُو سے زنا کے جرم کے ثبوت کے لیے چار گواہوںکی گواہی ضروری ہے ۔(النساء ۴:۱۵‘ النور ۲۴:۴)دیگر دیوانی اور فوجداری جرائم کے ثبوت کے لیے دو گواہ درکار ہیں (مثلاً وصیّت اور طلاق کے معاملے میں دو جگہ دو گواہوں کی گواہی کا ذکر ہے ۔(المائدہ ۵:۱۰۶‘ الطلاق ۶۵: ۲) اور مقدماتِ مالی میں دو مردوں یاایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کو کافی سمجھا گیا ہے۔ (البقرہ ۲:۲۸۲)
قرآن حکیم میں اگرچہ شہادت کا یہ نصاب مقرر ہے مگر بقول ابن قیم قرآن و سنت میں کہیں یہ حکم موجود نہیں کہ جب تک (زنا کے علاوہ) دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں نہ ہوں تو شہادت تسلیم ہی نہ کی جائے اور نہ نصوصِ قرآن وحدیث سے یہ لازم آتا ہے کہ اس سے کم ہونے کی صورت میں ان کی شہادت پر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ (اعلام الموقعین: ۱/۹۱-۹۲) جیسا کہ محض شراب کی بو‘ اور نشہ کی حالت کو حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے حد کے لیے کافی سمجھا ہے۔
عہد نبویؐ اور خلافت ِ راشدہ میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے جن میں گواہوں کی تعداد مقررہ نصابِ شہادت سے کم تھی‘ بعض مقدمات میں صرف ایک ہی گواہ دستیاب تھا۔ اس صورت میں آپؐ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر مقدمہ کا فیصلہ فرمایا اور قضاء بالیمین مع الشاھد کا اصول دیا۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے:اِنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم قضٰی بیمین وشاھد (مسلم ‘ کتاب الاقضیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی کی قسم اور ایک گواہی کی بنا پر فیصلہ فرمایا۔
اسی قانون کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ ‘ حضرت علیؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فیصلے کیے۔(۶)
فقہا کے نزدیک بوقت ضرورت ان شہادتوں کو بھی تسلیم کیا جائے گا جنھیں عام حالات میں قبول نہیں کیا جاتا۔ مثلاً خود قرآن حکیم میںاس کی اجازت ہے کہ دورانِ سفر اگر وصیّت ضروری ہو جائے تو بوقت ضرورت دو غیر مسلموں کی گواہی کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ (المائدہ ۵:۱۰۶) اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ بوقتِ ضرورت اثباتِ حق و اظہارِ حق کے لیے مقررہ معیارِ شہادت کے علاوہ کم معیار اور دیگر ذرائع کو بھی ملحوظ رکھا جا سکتا ہے۔ چونکہ شہادت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کی صداقت پر ثبوت واضح ہو جائے۔ اب اگر مقررہ نصابِ شہادت کے علاوہ کسی اورذریعے سے وہ ثبوت حاصل ہو جاتا ہے تو فقہا کے نزدیک اس کا اعتبارہے جیسا کہ زیلعی نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی ہے:
تنہا عورت کی گواہی صرف ان معاملات میں جائز ہے جنھیں مرد نہیں دیکھ سکتے۔ (شرح کنز ۴/۲۰۹)
تمام فقہی مذاہب میں اس گواہی کو بالاتفاق قبول کیا گیا ہے۔ مجلۃ الاحکام العدلیہ (جو فقہ حنفی کی قانونی دفعات کا اہم مجموعہ ہے) میں ہے کہ معاملاتِ مال میں ان چیزوں کے متعلق جنھیں مرد معلوم نہیں کر سکتے‘ تنہا عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘دفعہ: ۱۶۸۵‘ ص ۳۴۰)
ابن قیم کے نزدیک حقوق کے تحفظ اور دفعِ مظالم کے لیے قرائنی شہادت پر بھی فیصلہ دینا ضروری ہے۔ چاہے مقررہ نصابِ شہادت موجود نہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اگر قاضی قرائن کو بالکل نظرانداز کر دے تو بہت سے ایسے لوگوں کے حقوق برباد اور ضائع ہوجائیں گے جن کے پاس عینی گواہ تو موجود نہ ہوں لیکن قرائن اور واقعاتی شواہد ان کے حق میں ہوں۔ اگر قاضی بے احتیاطی کرے اور قرائن کی قطعیت اور ظنیت کا جائزہ لیے بغیر فیصلہ دے دے تو اس طرزِعمل سے ظلم و فساد کا اندیشہ ہے۔ (الطریق الحکمیۃ‘ ص ۳-۴)
آگے لکھتے ہیں: ’’اگر قاضی کو اللہ کی مقرر کردہ حدود کے علاوہ دوسرے مقدمات کے موقع پر گواہی کی سچائی معلوم ہو جائے تو وہ ایک مرد کی گواہی پر فیصلہ دے سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حکام پر یہ لازم قرار نہیں دیا کہ وہ بغیر دو گواہوں کے بالکل ہی فیصلہ نہ کریں۔ البتہ حق دار کا حق محفوظ رہنا ضروری ہے۔ یہ حق خواہ دو گواہوں کے ذریعے محفوظ ہو‘ خواہ ایک مرد اور دو عورتوں کے ذریعے‘ مگر اس حدبندی سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حاکم ایک گواہی پر فیصلہ نہیں دے سکتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم بلکہ صرف ایک گواہ کے ساتھ بھی فیصلہ فرمایا ہے۔ (الطرق الحکمیۃ ‘ ص ۶۶-۶۷)
وہ اپنی اس رائے کی تائید میں علامہ ابن تیمیہ کے اس قول سے بھی استناد کرتے ہیں کہ ’’قرآن حکیم میں دو مرد اوردو عورتوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ فیصلہ کرنے والے اس تعداد کے پابند ہیں‘ بلکہ صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ اتنے گواہوں سے حق دار کا حق محفوظ رہتا ہے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۷۰)
مزید لکھتے ہیں: ’’شارع نے حقوق کے تحفظ کا دارومدار صرف دو مرد گواہوں پر نہیں رکھا ہے‘ نہ خون کے معاملے میں ‘ نہ مال کے مقدمے میں اورنہ حد کے بارے میں‘ بلکہ خلفاے راشدین اور صحابہ کرامؓ نے حمل کی وجہ سے حدِّزناجاری کی اور صرف بو‘ اور قے کی بنا پر حدِّخمر لگائی‘ اسی طرح جب چور کے قبضے سے چوری کا مال جوں کا توں برآمد ہو جائے تو اسے حد لگائی جائے گی بلکہ یہ قرینہ حمل اور شراب کی بو‘ سے زیادہ ظاہر ہے۔ (اعلام الموقعین‘ ۱/۱۰۳)
ابن قیم گواہی کی اس تعریف کو راجح قرار دیتے ہیں کہ جو چیز حق بات کو ثابت کر دے وہی گواہی ہے۔ وہ حدیث البینّۃ علی المدّعی والیمین علیٰ المدعٰی علیہ (ترمذی‘ ابواب الاحکام) (ثبوت کا بار مدعی پر ہے اور مدعا علیہ پر قسم ہے) کی توضیح لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن حکیم‘ احادیث ِ رسول ؐاور کلام صحابہؓ میں بیّنہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جو حق کو ظاہر اور ثابت کر دے اور قرآن وحدیث میں اس سے یہی معنی مراد لیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ (الحدید ۵۷:۲۵) قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ (الانعام ۶:۵۷) وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنَۃُ (البینہ ۹۸:۴) اَمْ اٰتَیْنٰھُمْ کِتٰبًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ ج (فاطر ۳۵:۴۰) ان آیات میں لفظ ’’بینہ‘‘ یا ’’بینات‘‘ روشن دلیل یا ظاہرِ حق یادلیلِ حق کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدعی سے سوال کیا: ألَکَ بَیِّنَۃ؟ (کیا تمھارے پاس (دعویٰ کی سچائی پر) کوئی دلیل ہے؟) اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیّنہ سے مراد ہر وہ دلیل ہے جو دعویٰ کو ثابت کر دے خواہ اس کی حیثیت گواہ کی ہو یا کوئی دوسری چیز ہو (جس سے ثبوت ملتا ہو)‘ گویا ثبوتِ حق کسی ایک معیّن چیز پر موقوف نہیں ہے جیسا کہ فقہا نے اسے صرف دو گواہ یا ایک گواہ اور قسم کے ساتھ خاص کرد یا ہے‘‘۔ مزید لکھتے ہیں کہ: ’’عینی شہادت‘ تحریری شہادت‘ قسم‘ اقرار اور ہر قسم کی واقعاتی شہادت‘ غرض یہ سب چیزیں ’’بینہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک گواہ کے قائم مقام ہے۔ اس لیے اگر کسی مقدمہ میں عینی گواہوں کی مقررہ تعداد میں کمی ہو یا گواہ بالکل نہ ہوں تو اس وقت کسی بھی قسم کے بیّنہ کو جو یقین کا فائدہ دیتا ہو‘ قبول کر لیا جائے گا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ۔(اعلام الموقعین‘ ۱/۹۰-۹۱)
علامہ ابن قیم اپنی دوسری کتاب الطرق الحکمیۃ میں اسی مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’بیّنہ ہر اس دلیل کو کہتے ہیں جو حق کو واضح اور ظاہر کرتی ہو۔ جو لوگ اسے دو گواہوں یا چار گواہوں یا ایک گواہ کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں وہ اس لفظ کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ قرآن حکیم میں بینہ کا لفظ کسی جگہ بھی دو گواہوں کے معنی میں نہیں استعمال ہوا بلکہ حجت‘ دلیل اور برہان کے معنوں میں آیا ہے۔ خواہ کوئی چیز انفرادی طور پر دلیل ہو یا کئی چیزیں مل کر دلیل بنی ہوں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد البینہ علی المدّعی کا مطلب یہ ہے کہ مدّعی ایسی دلیل اور ثبوت پیش کرے جس سے اس کے دعویٰ کی صحت و صداقت ثابت ہوتی ہو۔ تاکہ اس کے حق میں فیصلہ ہو جائے۔ دو گواہ بھی بینہ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات گواہوں کے علاوہ دوسرے دلائل قوی تر ہوتے ہیں مثلاً مدعی کے صادق ہونے پر حالات و واقعات کی شہادت گواہ کی گواہی سے قوی تر دلیل ہے۔ (الطرق الحکمیۃ‘ ص ۱۱-۱۲)
عصر حاضر میں اہمیت اور شرعی حیثیت: قرآن حکیم ‘ احادیث نبویؐ ‘ روایات و آثار اور فقہا کی آرا سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی میں واقعات اور قرائن کے ذریعے شہادت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے اس کی بنیاد پر فیصلے کیے ہیں۔ آج سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے قرائن میں غیر معمولی وسعت پیدا ہو چکی ہے اور واقعات کی صحت‘ شہادتوں کی جانچ پرکھ‘ اثباتِ دعویٰ اور ردِّ دعویٰ میں ان کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے‘ بلکہ بعض اوقات ان کی شہادت عینی شہادتوں سے بھی زیادہ واضح‘ درست (authentic)قطعی اور یقینی ہو جاتی ہے‘ اس لیے شریعت کے اصولوں کی روشنی میں نہ صرف ان سے استفادہ ضروری ہے بلکہ عین منشاے شریعت ہے تاکہ حقوق کا تحفظ اور جرائم کا انسداد ممکن ہو سکے۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ بالخصوص حدود کے معاملے میں محض قرائن پر اکتفا کافی نہیں کیونکہ یہ عموماً مستقل اور فیصلہ کن ذریعہء ثبوت نہیں ہوتے اور حدود شبہات سے ساقط ہو جاتی ہیں‘ البتہ قرائن سے شہادت کو تقویت ملتی ہے جس سے عدل و انصاف کا حصول ممکن ہوجاتا ہے ‘ اس لیے ہماری رائے میں حدود کے معاملے میں اگر شہادت کا مقررہ نصاب مکمل نہ ہو مگر قرائنی شہادت دستیاب ہو تو جرائم کے انسداد کے لیے ضروری ہے کہ تعزیری سزا ضرور دی جائے اور جہاں قرائن انتہائی قطعی اور یقینی ہوں وہاں حد جاری کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض احادیث وآثار میں قرائن کے اعتبار اور عدمِ اعتبار سے متعلق اختلاف کی وجہ ان قرائن کی قطعیت و ظنیّت ہے۔ جہاں قرائن کی دلالت قوی ہوتی ہے اور وہ قطعی اور یقینی ذریعہء ثبوت ہوتے ہیں وہاں شارع نے ان کا اعتبار کیا ہے‘ جیسے شراب کی بو اور نشہ وغیرہ۔ جہاں قرائن کی دلالت ضعیف ہوتی ہے ‘ وہاں محض ظن حاصل ہوتا ہے‘ اس لیے ان کا اعتبار نہیں کیا گیا‘ جیسا کہ مدینہ کی بدکار عورت کے متعلق آپؐ نے قطعی اور یقینی ثبوت میسّر نہ آنے کی وجہ سے محض ظن کی بنیاد پر حدِّرجم جاری نہیں فرمائی (کیونکہ معاملہ حدود کا تھا)۔ فقہا قرائن سے ایسی دلالت مراد لیتے ہیں جو ظنِّ قوی کا فائدہ دیتی ہو یا ایسی علامت جو حدِّ یقین تک پہنچنے والی ہو۔ (جاری)
حواشی
۱- طرابلسی‘ معین الحکام فی مایترددّبین الخصمین من الاحکام‘ ص ۱۶۱-۱۶۲۔ ابن القیم‘ الطریق الحکمیۃ فی السیاسۃ الشرعیہ‘ بیروت‘ دارالکتاب العلمیۃ (س-ن)‘ ص ۶-۹۔ عبدالقادر عودہ‘ التشریع الجنائی الاسلامی‘ القاہرہ‘ مکتبہ دارالتراث‘ ج ۲‘ ص ۳۳۹-۳۴۱)
۲- دیکھیے معین الحکام ‘ ص ۱۶۱-۱۶۲‘ ابن قدامہ‘ ا لمغنی‘ ۱۰/۶ ۔’’النکول عن الیمین وردّہا‘‘ کی بحث کے لیے دیکھیے: التشریح الجنائی‘ ۲/۳۲۹-۳۴۱)
۳- ابن ہمام‘ شرح فتح القدیر‘ بولاق‘ مصر‘ مطبع الکبریٰ الامیریہ‘ ۱۳۱۵ھ‘ ج ۴‘ ص ۱۷۸-۱۸۱۔ نیز التشریح الجنائی‘ ۲/۵۱۱-۵۱۲۔
۴- ابن قیم‘ اعلام الموقعین‘ بیروت‘ دارالجیل‘ ۱۹۷۷ء‘ ج ۱‘ص ۱۰۳
۵- الطرق الحکمیۃ‘ ص ۶۔نیز المنتقی بشرح المؤطا ‘ ۳/۱۴۱
۶- تفصیل کے لیے دیکھیے‘ مالک‘ مؤطا ‘ کتاب الاقضیہ‘ باب القضاء بالیمین مع الشاہد۔ ترمذی‘ابواب الاحکام‘ باب ماجاء فی الیمین مع الشاہد۔ ابوداؤد‘ باب ماجاء فی الیمین مع الشاہد۔سیوطی‘ تنویرالحوالک شرح علیٰ مؤطا مالک‘ قاہرہ‘ مکتبہ ومطبعہ المشہد الحسینی‘ ج ۳‘ ص ۲۰۱۔ عینی‘ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘ بیروت‘ دارالفکر‘ ج ۱۳‘ ص ۲۴۴۔ معین الحکام‘ ص ۱۱۰-۱۱۸
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21محرم الحرام 1444 ھ/10اگست2023 ھ