اِستقبال قِبلہ میں جدید ٹیکنالوجی کی شرعی حیثیت
    تاریخ: 11 فروری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 768

    سوال

    میرے استاذ محترم جو کہ شافعی المذہب ہیں کا یمن سے سؤال ہے۔ وہ ہمارے حنفی مذہب پر فتوی دینا چاہتے ہیں، اس لئے ان کو بتانا ہے۔

    ان کے مذہب کے مطابق عین قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے، جبکہ ہمارے نزدیک جہتِ کعبہ غیر حرم والوں کے لئے کافی ہے۔ کیا اب GPS کے ذریعے یا کچھ ایپ موبائل میں آگئی ہیں، جس کی وجہ سے عین قبلہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ تو کیا اب عین قبلہ کو معلوم کرنا احناف میں واجب و ضروری ہے یا نہیں؟ جب کہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے، تو کیا اب بھی جہت قبلہ کی طرف نماز پڑھنا جائز ہے؟

    سائل: حافظ محمد ریحان (واٹس ایپ)۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولاً جاننا چاہئے کہ وہ شخص جو اپنی آنکھوں سے خانہ کعبہ کا مشاہدہ کر رہا ہے، یا کسی عارضی رکاوٹ کی وجہ سے نہیں کر پا رہا لیکن اگر وہ رکاوٹ ہٹ جائے تو مشاہدہ ممکن ہو، تو ایسے شخص پر عین کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے۔

    یہاں چونکہ بنیاد مشاہدے کو بنایا گیا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص (خواہ وہ آفاقی ہو یا مکی) خانہ کعبہ کا مشاہدہ نہ کر پا رہا ہو، تو اسے نماز میں عین کعبہ سے دائیں یا بائیں 45 ڈگری تک انتقال کی اجازت ہے۔ اس حد کے اندر اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ اگر رخ اس بیان کردہ حد (45 ڈگری) سے باہر ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ ایسے شخص کیلئے بھی عین کعبہ کی سمت رخ کرنا سنت و مستحب ہے۔

    اسی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جی پی ایس (GPS) یا کوئی بھی موبائل ایپلی کیشن مشاہدے کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ آج بھی ہم احناف کے نزدیک ایسے شخص پر (جو مشاہدہ نہ کر رہا ہو) عین کعبہ کی سمت فرض نہیں، بلکہ جہتِ کعبہ کافی ہے۔

    تکنیکی اعتبار سے بھی GPS یا موبائل کمپاس کے نتائج کو یقینی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ان میں میگنیٹک ڈیکلینیشن (Magnetic Declination) یعنی مقناطیسی اور حقیقی جغرافیائی قطب شمالی کے فرق، اور مقامی الیکٹرومیگنیٹک لہروں (جو عمارتوں کے سریے یا بجلی کے آلات سے پیدا ہوتی ہیں) کی وجہ سے 10 سے 20 میٹر تک کا فرق آ جانا، ایک مسلمہ حقیقت ہے؛ لہٰذا اسے عینِ کعبہ کی پہچان کیلئے قطعی ذریعہ نہیں مانا جا سکتا۔ سائنسی ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سگنلز کی دیواروں سے ٹکرا کر واپسی (Multipath Error) اور سینسرز کی حساسیت کی وجہ سے یہ آلات محض ایک تخمینہ فراہم کرتے ہیں۔

    امریکی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ GPS.gov جی پی ایس کی درستگی کے بارے میں لکھتی ہے:

    ”GPS-enabled smartphones are typically accurate to within a 4.9 m (16 ft.) radius under open sky. However, their accuracy worsens near buildings, bridges, and trees... Signals reflected off buildings or walls ('multipath') can degrade accuracy.”

    https://www.gps.gov/gps-accuracy-0

    ویکیپیڈیا کے مضمون ’’Magnetic declination‘‘ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ مقناطیسی سوئی اور حقیقی جغرافیائی سمت (جس پر قبلہ کا حساب ہوتا ہے) میں فرق کیوں آتا ہے، اقتباس یہ ہے:

    ”Magnetic declination or magnetic variation is the angle on the horizontal plane between magnetic north (the direction the north end of a magnetized compass needle points, corresponding to the direction of the Earth's magnetic field lines) and true north (the direction along a meridian towards the geographic North Pole). This angle varies with position on the Earth's surface and changes over time.”

    https://en.wikipedia.org/wiki/Magnetic_declination

    اسی طرح جی پی ایس سگنلز کی حدود اور ان کے دیواروں سے ٹکرانے (Multipath effects)کے بارے میں ویکیپیڈیا کے مضمون’’Error analysis for the Global Positioning System‘‘میں لکھا ہے:

    “GPS signals can also be affected by multipath issues, where the radio signals reflect off surrounding terrain; buildings, canyon walls, hard ground, etc. These delayed signals cause measurement errors that are different for each type of GPS signal due to its dependency on the wavelength.”

    https://en.wikipedia.org/wiki/Error_analysis_for_the_Global_Positioning_System#Multipath_effects

    استقبالِ قبلہ کے باب میں شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ اولاً صحابہ و تابعین کے تعمیر کردہ محراب دلیل بنیں گے، ان کی عدم موجودگی میں لوگوں سے پوچھا جائے گا، اور اگر جگہ ویران ہو تو علاماتِ فطرت جیسے قطب ستارہ وغیرہ سے سمت معلوم کی جائے گی، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو تحرّی (غالب گمان) کا حکم ہے۔ اس تمام عمل میں GPS کی حیثیت محض ایک ’’آلہِ تحرّی‘‘ کی ہے؛ لہٰذا اگر کسی کو اسے استعمال کرنے پر قدرت ہے، تو اس کیلئے تحرّی سے پہلے اس کا استعمال لازم ہوگا، کہ ظنِ غالب حاصل ہو سکے، لیکن اس کے باوجود آفاقی کیلئے حکمِ شرعی وہی رہے گا کہ اس پر عینِ کعبہ نہیں بلکہ جہتِ کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں: "وقِبْلةُ مَنْ بمكةَ إصابة عين الكعبة للمكي المشاهِدِ لها، لأنَّه الأصل، ولا حرج فيه".ترجمہ: اور جو شخص مکہ مکرمہ میں ہو اس کے لیے قبلہ (کی شرط) عینِ کعبہ پر نظر کا پڑنا ہے، اس مکی شخص کیلئے جو کعبہ کا مشاہدہ کر رہا ہو؛ کیونکہ یہی اصل ہے اور اس میں کوئی تنگی بھی نہیں۔ (فتح باب العناية بشرح النقاية ، کتاب الصلاۃ، 1/21، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    علامہ حسن بن عمار الشرنبلالی الحنفی(المتوفی:1069ھ) فرماتے ہیں: "واستقبال القبلة فللمكي المشاهد فرضه إصابة عينها ولغير المشاهد جهتها ولو بمكة على الصحيح".ترجمہ: قبلہ رخ ہونا؛ پس وہ مکی جو کعبہ کا مشاہدہ کر رہا ہو ، اس پر فرض ہے کہ وہ عینِ کعبہ کا سامنا کرے۔ اور جو مشاہدہ نہ کر رہا ہو ، اس کیلئے کعبہ کی جہت کا سامنا کرنا فرض ہے، اگرچہ وہ مکہ ہی میں کیوں نہ ہو، یہی قولِ صحیح ہے۔ (نور الایضاح، باب شروط الصلاۃ، ص82-83، المكتبة العصرية)

    علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(و) السادس (استقبال القبلة) حقيقة أو حكما كعاجز... (فللمكي) (إصابة عينها)... والمراد بقولي فللمكي مكي يعاين الكعبة (ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها... فتبصر وتعرف بالدليل؛ وهو في القرى والأمصار محاريب الصحابة والتابعين، وفي المفاوز والبحار النجوم كالقطب". ترجمہ: (اور) چھٹی شرط استقبالِ قبلہ (نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا) ہے، خواہ وہ حقیقتاً (بالکل سامنے) ہو یا حکماً جیسے کہ معذور شخص کا رخ کرنا۔چنانچہ مکی شخص کیلئے عینِ کعبہ کا سامنا کرنا ضروری ہے۔اور مصنف کا کہنا : میرے قول ’’مکی‘‘ سے مراد وہ مکی شخص ہے جو کعبہ کو دیکھ رہا ہو۔اور غیر مکی کیلئے یعنی وہ جو کعبہ کو دیکھ نہ رہا ہو، کعبہ کی جہت کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چہرے کی سطح کا کچھ حصہ کعبہ یا اس کے اوپر کی فضا کے سامنے رہے۔پس اس (سمتِ قبلہ) میں غور و فکر کریں اور اسے دلیل سے پہچانیں؛ اور وہ دلیل شہروں اور بستیوں میں صحابہ اور تابعین رحمہم اللہ کے بنائے ہوئے محراب ہیں، اور ویرانوں اور سمندروں میں ستارے جیسے کہ قطب ستارہ ہے۔(الدر المختار، 1/427-429، دار الفکر)

    خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "والحاصل أن المراد بالتيامن والتياسر الانتقال عن عين الكعبة إلى جهة اليمين أو اليسار لا الانحراف، لكن وقع في كلامهم ما يدل على أن الانحراف لا يضر؛ ففي القهستاني: ولا بأس بالانحراف انحرافا لا تزول به المقابلة بالكلية، بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة". ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ ’’تیامن اور تیاسر‘‘ (دائیں یا بائیں ہونے) سے مراد عینِ کعبہ سے ہٹ کر دائیں یا بائیں جانب منتقل ہونا ہے، نہ کہ (اپنا رخ) پھیرنا۔ لیکن فقہاء کے کلام میں ایسی باتیں بھی موجود ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ (معمولی) انحراف بھی نقصان دہ نہیں ہے۔ چنانچہ قہستانی میں ذکر ہے: اور ایسے انحراف میں کوئی حرج نہیں جس سے کعبہ کا سامنا کلی طور پر ختم نہ ہو، اس طور پر کہ چہرے کی سطح کا کوئی حصہ کعبہ کے سامنے باقی رہے۔(ردالمحتار، 1/429، دار الفکر)

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "اتفقوا على أن القبلة في حق من كان بمكة عين الكعبة فيلزمه التوجه إلى عينها. كذا في فتاوى قاضي خان ولا فرق بين أن يكون بينه وبينها حائل من جدار أو لم يكن. كذا في التبيين... حتى لو صلى مكي في بيته ينبغي أن يصلي بحيث لو أزيلت الجدران يقع استقباله على شطر الكعبة. كذا في الكافي... ومن كان خارجا عن مكة فقبلته جهة الكعبة وهو قول عامة المشايخ هو الصحيح هكذا في التبيين. وجهة الكعبة تعرف بالدليل والدليل في الأمصار والقرى المحاريب التي نصبها الصحابة والتابعون فعلينا اتباعهم فإن لم تكن فالسؤال من أهل ذلك الموضع وأما في البحار والمفاوز فدليل القبلة النجوم. هكذا في فتاوى قاضي خان... ولو كان بحضرته من يسأله عنها فلم يسأله وتحرى وصلى فإن أصاب القبلة جاز وإلا فلا". ترجمہ: فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہو، اس کے حق میں قبلہ عینِ کعبہ ہے، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ وہ بالکل کعبہ کی عمارت کی طرف رخ کرے۔ فتاویٰ قاضی خان میں اسی طرح ہے۔ اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس کے اور کعبہ کے درمیان دیوار وغیرہ کی کوئی رکاوٹ ہو یا نہ ہو۔ تبیین الحقائق میں بھی اسی طرح ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مکی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھے، تو اسے اس طرح رخ کر کے نماز پڑھنی چاہیے کہ اگر (درمیان سے) دیواریں ہٹا دی جائیں تو اس کا رخ کعبہ کے کسی حصے پر ہی پڑے۔ الکافی میں اسی طرح ہے۔اور جو شخص مکہ سے باہر ہو، اس کا قبلہ کعبہ کی جہت ہے؛ عام مشائخ کا یہی قول ہے اور یہی صحیح ہے۔تبیین میں اسی طرح مذکور ہے۔ کعبہ کی جہت دلیل سے پہچانی جاتی ہے، اور شہروں اور بستیوں میں دلیل وہ محرابیں ہیں جو صحابہ اور تابعین رحمہم اللہ نے تعمیر کی ہیں، لہٰذا ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔ اگر محرابیں نہ ہوں تو اس جگہ کے رہنے والوں سے سوال کیا جائے گا۔ رہے سمندر اور بیابان ، تو وہاں قبلہ کی دلیل ستارے ہیں۔ فتاویٰ قاضی خان میں اسی طرح ہے۔(الفتاوی الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث، الفصل الثالث، 1/63-64، دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’علمائے کرام کا حکم تو یہ ہے کہ جہت سے بالکل خروج ہو، تو نماز فاسد اور حدود جہت میں بلا کراہت جائز کہ آفاقی کا قبلہ ہی جہت ہے، نہ کہ اصابت عین۔ بدائع امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاسانی، پھر حلیہ امام ابن امیر الحاج حلبی میں ہے: "قبلتہ حالۃ البعد جھۃ الکعبۃ وھی المحاریب لاعین الکعبۃ". ترجمہ: کعبہ سے دوری کی صورت میں جہتِ کعبہ ہی قبلہ ہے اور وہ محرابِ مسجد ہے، نہ کہ عین قبلہ(انتہی)۔ ہاں حتی الوسع اصابت عین سے قرب مستحب۔ اس بارے میں ملتقط و حلیہ وغیرہما کے نصوص بعونہ تعالیٰ آگے آتے ہیں اور خیریہ میں فرمایا: "ھوافضل بلاریب ولامین" الخ. ترجمہ: وہ بغیر کسی شبہ کے افضل ہے(انتہی)... اور ترک مستحب، مستلزم کراہت تنزیہ بھی نہیں، کراہت تحریم تو بڑی چیز، بحر الرائق باب العیدین میں ہے: "لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃاذلابدلھامن دلیل خاص". ترجمہ: ترکِ مستحب سے کراہت لازم نہیں آتی، کیونکہ اس کے ثبوت کیلئے خاص دلیل کا ہونا ضروری ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 6/64)

    اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: ’’یہاں امر اہم اس کی معرفت ہے کہ دیوار محرابِ مسجد کو قبلہ تحقیقی سے کتنا انحراف ہے؟ اگر وہ انحراف ثمن دور یعنی 45 درجے کے اندر ہے، تو نماز محراب کی جانب بلا تکلف صحیح و درست ہے، اس انحراف قلیل کا ترک صرف مستحب ہے، خود سوال میں تجنیس ملتقط سے گزرا: "قال الامام السید ناصر الدین ،الاول للجواز والثانی للاستحباب". ترجمہ: امام ناصر الدین نے کہا: پہلی صورت میں جواز اور دوسری میں استحباب ہے(انتہی)۔ اسی طرح اُس سے اور نیز ملتقط سے حلیہ امام ابن امیر الحاج میں ہے: شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی و شرح الخلاصہ للقہستانی۔ پھر ردالمحتار میں وہی دو ثلث جانب راست اور ایک ثلث جانب چپ رکھنا بیان کرکے فرمایا: "ولولم یفعل ھکذا وصلی فیما بین المغربین یجوز". ترجمہ: اگر کسی نے اس طرح نہ کیا اور مغربین کے درمیان نماز پڑھ لی تو جائز ہوگی(انتہی)۔ جب تک 45 درجے انحراف نہ ہو نماز بلا شبہ جائز ہے اور یہ کہ قبلہ تحقیقی کو منہ کرنا نہ فرض نہ واجب، صرف سنتِ مستحبہ ہے، لہذا مسجد میں نماز بلا شبہ جائز ہے اور اس میں اصلاً نقصان نہیں، نہ دیوار سیدھی کرنا فرض، البتہ بہتر و افضل ہے۔ ردالمحتار میں ہے: "لو انحرف عن العین انحرافا لا تزول منہ المقابلۃ بالکلیۃ جاز ویؤیدہ ماقال فی الظھیریۃ اذاتیا من اوتیا سرتجوز". ترجمہ: اگر عینِ کعبہ سے اتنا منحرف ہوا کہ اس سے بالکلیہ مقابلہ ختم نہ ہو تو نماز جائز ہے، اس کی تائید ظہیریہ کی اس عبارت سے ہوتی ہے کہ جب وہ تھوڑا دائیں یا بائیں ہو جائے، تو نماز جائز ہوگی(انتہی)۔ حلیہ میں ملتقط سے: "ھذا استحباب والاول للجواز اھ یرید ان عدم الانحراف مھما قدرمستحب ،و الانحراف مع عدم الخروج عن الجھۃ بالکلیۃ جائز". ترجمہ: یہ استحباب کے لیے ہے اور پہلا جواز کے لیے ہے، اھ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی قدر بھی انحراف نہ ہو، یہ مستحب ہے اور اتنا انحراف کہ جہت کعبہ سے نہ نکلے یہ بھی جائز ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 6/56-58، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 19 رجب المرجب 1447ھ/9جنوری 2025ء