مجھے طلاق دے دو ٹھیک ہے جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ
    تاریخ: 9 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 763

    سوال

    گھر میں معاشی و مالی وجہ سے ہماری کسی بات پر لڑائی چل رہی تھی تو بیوی نے کہا کہ ٹھیک ہے تم مجھے طلاق دے دو فارغ کر دو تو جواباً میں نے کہا ٹھیک ہے تم جہاں جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ اور میں حلفاً کہتا ہوں یہ سب کچھ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا بلکہ ٹالنا مقصود تھا ۔

    سائل : حزیفہ/کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں شوہر کا بیوی کے مطالبہ"تم مجھے طلاق دے دو فارغ کر دو" پر یہ کہنا " ٹھیک ہے تم جہاں جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ" اگر واقعی طلاق کی نیت سے نہیں تھا بلکہ ٹالنے کے لیے تھا تو اس سے طلاق نہیں ہوئی

    شوہر کی نیت کا جو اعتبار کیا گیا وہ اس وجہ سے ہے کہ جملہ" ٹھیک ہے"ہمارے ہاں جواب بننے کے علاوہ دیگر احتمالات بھی رکھتا ہے مقام کی مناسبت سے چند ملاحظہ فرمائیں:

    1:۔کلام کی تمہید میں مہمل استعمال ہوتا ہے۔

    2:۔ جیسے تم چاہو

    3:۔بجا کہا

    4؛۔مستقبل میں ارادہ کو ظاہر کرتا ہے یعنی ٹھیک ہے میں کروں گا ،سوچوں گا وغیرہا

    اسی طرح شوہر کا ٹھیک ہے کے ساتھ یہ بولنا"تم جہاں جانا چاہتی ہو چلی جاؤ"یہ جملہ کنایہ میں سے جو کہ رد کا احتمال رکھتا ہے لہذا غصہ کی حالت میں بھی اس لفظ سےطلاق کا ہونا نیت پر موقوف رہے گا ۔ اور سائل نے حلفاً کہا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔لہذا پوچھی گئی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    دلائل و جزئیات

    درمختار میں ہے:وَالْكِنَايَاتُ ثَلَاثٌ مَا يَحْتَمِلُ الرَّدَّ أَوْ مَا يَصْلُحُ لِلسَّبِّ، أَوْ لَا وَلَا (فَنَحْوُ اُخْرُجِي وَاذْهَبِي وَقُومِي) (يَحْتَمِلُ رَدًّا. ترجمہ:الفاظِ کنایہ تین طرح کے ہیں۔ بعض میں سَوال رد کرنے کا احتمال ہے، بعض میں گالی کا احتمال ہے اور بعض میں نہ یہ ہے نہ وہ( بلکہ وہ جواب کے ليے متعین ہوتے ہیں)جیسے نکل،جا ،کھڑی ہو۔ (الدر المختار مع تنویر الابصار،باب الکنایات،جلد 3 صفحہ298دار الفكر-بيروت)

    وہ الفاظ جو رد کا احتما رکھتے ہیں ان کے حکم کی بابت لکھتے ہیں :(وَفِي مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ) يَتَوَقَّفُ (الْأَوَّلُ فَقَطْ)۔ترجمہ:اور مذاکرۂِ طلاق میں صرف پہلی صورت (جس میں رد کا احتمال ہو تا ہے) طلاق کے سلسلہ میں نیت پر موقوف ہے۔(الدر المختار مع تنویر الابصار،باب الکنایات،جلد 3 صفحہ301دار الفكر-بيروت)

    علامہ ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْأَوَّلَ يَتَوَقَّفُ عَلَى النِّيَّةِ فِي حَالَةِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَالْمُذَاكَرَةِ۔ترجمہ:حاصل کلام یہ ہے پہلی صورت(جس میں رد کااحتمال ہے) تینوں حالتو ں خوشی ،غصہ اور مذاکرۂ طلاق میں طلاق، نیت پر موقوف ہو گی۔(رد المحتار علی الدر المختار،باب الکنایات،جلد 3 صفحہ301 دار الفكر-بيروت)

    فتح القدیر میں ہے: فِي شَرْحِ مُخْتَصَرِ الْكَرْخِيِّ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: لَا سَبِيلَ لِي عَلَيْك تَقَنَّعِي اسْتَتِرِي اُخْرُجِي اذْهَبِي قُومِي تَزَوَّجِي لَا نِكَاحَ لِي عَلَيْك يَدِينُ فِي الْغَضَبِ لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ تُذْكَرُ لِلْإِبْعَادِ، وَحَالَةُ الْغَضَبِ يَبْعُدُ الْإِنْسَانُ عَنْ الزَّوْجَةِ فِيهِ، ترجمہ: شرح مختصر کرخی میں ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: لَا سَبِيلَ لِي عَلَيْك تَقَنَّعِي اسْتَتِرِي اُخْرُجِي اذْهَبِي قُومِي تَزَوَّجِي لَا نِكَاحَ لِي عَلَيْك) غصہ کے وقت (ان الفاظ کے حوالے سے)خاوند کی تصدیق کی جائیگی کیونکہ یہ الفاظ دور کرنے کے لئے بولے جاتے ہیں اور غصّہ کی حالت میں انسان بیوی سے دور رہتا ہے۔(فتح القدیر فصل فی الطلاق قبل الدخول جلد 04 صفحہ 66 ، دار الفكر)

    علامہ سید ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ عقود وغیرہا میں الفاظ عرفیہ کی حجیت کے متعلق جامع الفصولین کے حوالے سے لکھتے ہیں: (مطلق الكلام فيما بين الناس ينصرف إلى المتعارف) انتهى. وفي فتاوى العلامة قاسم": التحقيق أن لفظ الواقف والموصي والحالف والناذر وكل عاقد يحمل على عادته في خطابه ولغته التي يتكلم بها وافقت لغة العرب ولغة الشارع أو لا.ترجمہ:لوگوں کے مابین مطلق کلام کو متعارف کی طرف پھیرا جائے گا ۔اور فتاوی قاسم قطلوبغا میں ہے:تحقیق یہ ہے کہ واقف ،موصی،حالف،ناذر اور ہر عاقد کے لفظ کو خطاب میں اس کے عرف و عادت پر محمول کیا جائے گا اور اس کی زبان جس میں وہ کلام کر رہا ہے لغتِ عرب و شارع کے موافق ہو یا نہ ہو۔ (رسم المفتی صفحہ 230 مطبوعہ دار النور)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27ربیع الاول1444 ھ/14اکتوبر 2023 ھ