سوال
گوشت یا مرغی جو گھر میں لاتے ہیں، پیکٹ بنا کر فریز کر دیتے ہیں۔ پھر جس دن پکانا ہو اس دن وہ پیکٹ نکال کر پانی میں بگھو دیتے ہیں تاکہ جلدی پگھل جائے تو کیا اس طرح کرنا درست ہے؟ جبکہ یہ امر واضح ہے کہ وہ گوشت بے دھلا ہوتا ہے اور بگھونے کی صورت میں پانی جذب کرلے گا اور ممکن ہے کہ اسکے اوپر کوئی خون لگا ہو یا کٹائی کے وقت کوئی نجاست لگی ہو ۔ کیا بِنا پکے گوشت میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ہے؟ دونوں صورتیں اگرچہ اسپر خون یا نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو، اسکو بگھونے کا کیا حکم ہے؟
سائل: عبد اللہ (واٹس ایپ)۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعتِ مطہرہ میں خون کی دو بنیادی اقسام بیان کی گئی ہیں جن کا حکم ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ پہلی قسم ’’دمِ مسفوح‘‘ (بہتا ہوا خون) ہے، جو ذبح کے وقت جانور کے جسم سے نکلتا ہے؛ یہ خون بالاتفاق ناپاک ہے اور اس کا دھونا لازم ہے۔ دوسری قسم ’’دمِ غیر مسفوح‘‘ ہے، یہ وہ خون ہے جو ذبح کے بعد گوشت کے ریشوں اور باریک رگوں کے اندر باقی رہ جاتا ہے؛ ایسا خون ناپاک نہیں ہوتا۔
جہاں تک گوشت میں مائع یا ناپاکی کے سرایت کرنے کا تعلق ہے، تو یہ ثابت ہے کہ گوشت بِنا پکائے مائع جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، ناپاکی کی یہ سرایت (تشرُّب) ہر حال میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کیلئے پانی کا ابلنے کی حد تک گرم ہونا اور گوشت کا اس میں دیر تک پڑا رہنا شرط ہے تاکہ مسام کھلیں اور پانی اندر داخل ہو۔ عام حالات میں، جیسے فریز کیا ہوا گوشت پگھلانے کے دوران، پانی اتنی دیر یا اس کیفیت میں نہیں ہوتا کہ وہ گوشت کے اندرونی حصوں تک پہنچ سکے۔
لہذا اگر گوشت فریز کرنے سے پہلے اس کی سطح پر بالفرض کوئی ناپاکی (مثلاً دمِ مسفوح) لگی ہوئی تھی، تو پگھلنے کے بعد بھی وہ ناپاکی صرف گوشت کی سطح تک ہی محدود قرار پائے گی کہ اتنی دیر میں وہ ناپاکی گوشت کے اندر سرایت نہیں کرے گی۔ ایسی صورت میں گوشت کو تین بار اچھی طرح دھونے یا بہتے پانی کے نیچے اتنی دیر رکھنے سے کہ پاک ہونے کا ظنِ غالب حاصل ہو جائے، گوشت مکمل طور پر پاک ہوجائے گا۔ اور اگر فریز کرنے سے پہلے گوشت پر کوئی ناپاکی لگی ہی نہ ہو، تو پگھلنے کے بعد نکلنے والے سرخ پانی کی وجہ سے وہ مطلقاً ناپاک نہیں کہلائے گا، کیونکہ وہ بہتا ہوا خون نہیں بلکہ گوشت کی اپنی نمی ہوتی ہے۔
دلائل و جزئیات:
مسئلہ تشرُّبِ نجاست کے بارے میں علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں: "ما في الظهيرية وفي فتح القدير ولو ألقيت دجاجة حال الغليان في الماء قبل أن يشق بطنها لتنتف أو كرش قبل الغسل لا يطهر أبدا لكن على قول أبي يوسف يجب أن يطهر على قانون ما تقدم في اللحم قلت: - وهو سبحانه أعلم - هو معلل بتشربهما النجاسة المتخللة بواسطة الغليان وعلى هذا اشتهر أن اللحم السميط بمصر نجس لا يطهر لكن العلة المذكورة لا تثبت حتى يصل الماء إلى حد الغليان ويمكث فيه اللحم بعد ذلك زمانا يقع في مثله التشرب والدخول في باطن اللحم وكل من الأمرين غير متحقق في السميط الواقع حيث لا يصل الماء إلى حد الغليان ولا يترك فيه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلى سطح الجلد فتنحل مسام السطح من الصوف بل ذلك الترك يمنع من وجوده انقلاع الشعر فالأولى في السميط أن يطهر بالغسل ثلاثا لتنجس سطح الجلد بذلك الماء فإنهم لا يحترسون فيه من المنجس، وقد قال شرف الأئمة بهذا في الدجاجة والكرش والسميط مثلهما".ترجمہ: جو کچھ ظہیریہ اور فتح القدیر میں ہے (وہ یہ ہے کہ) اگر ایک مرغی کو ابلتے ہوئے پانی میں اس کا پیٹ چاک کیے بغیر (تاکہ پَر آسانی سے اکھڑ سکیں) یا اوجھڑی کو دھوئے بغیر ڈال دیا جائے، تو وہ کبھی پاک نہیں ہوگی۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اسے پاک کیا جانا اسی قانون کے تحت واجب ہے جو گوشت کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے۔میں (ابن نجیم المصری رحمہ اللہ) کہتا ہوں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس (کبھی پاک نہ ہونے) کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ ابلنے کی وجہ سے وہ دونوں (مرغی و اوجھڑی) اس ناپاکی کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ بات مشہور ہو گئی کہ مصر کا ’’سمیط‘‘ (وہ گوشت جسے بالوں کی صفائی کیلئے گرم پانی میں ڈالا گیا ہو) نجس ہے اور پاک نہیں ہو سکتا۔لیکن یہ مذکورہ علت (ناپاکی کا جذب ہونا) تب تک ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ پانی کھولنے کی حد تک نہ پہنچ جائے اور گوشت اس میں اتنی دیر تک نہ رہے جس میں وہ ناپاکی گوشت کے باطن میں جذب ہو کر داخل ہو جائے۔ اور ’’سمیط ‘‘ میں یہ دونوں باتیں (ابلنا اور دیر تک رہنا) نہیں پائی جاتیں۔ کیونکہ پانی ابلنے کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی اسے اتنی دیر چھوڑا جاتا ہے، بلکہ صرف اتنا وقت دیا جاتا ہے کہ حرارت جلد کی سطح تک پہنچے اور مسام کھل جائیں تاکہ بال اکھڑ جائیں؛ بلکہ اگر اسے زیادہ دیر چھوڑا جائے تو بال اکھڑنے کے بجائے جم جاتے ہیں۔لہٰذا ’’سمیط‘‘ کے بارے میں بہتر قول یہ ہے کہ اسے تین بار دھونے سے وہ پاک ہو جائے گا، کیونکہ اس پانی کی وجہ سے صرف جلد کی سطح ناپاک ہوئی تھی (پانی کے ناپاک ہونے کی صورت میں)۔ شرف الائمہ رحمہ اللہ نے یہی بات مرغی اور اوجھڑی کے بارے میں کہی ہے، اور سمیط بھی انہی کی طرح ہے۔(البحر الرائق، باب الانجاس، 1/252، دار الکتاب الاسلامی)(فتح القدیر، باب الانجاس، 1/210، دار الفکر)
ہر خون ناپاک نہیں، علامہ شیخ ابراہیم الحلبی (المتوفی: 956ھ) فرماتے ہیں: "ما لزق من الدم السائل باللحم فهو نجس، وما بقي في اللحم والعروق من الدم الغیر السائل فلیس بنجس".ترجمہ: بہنے والے خون کا جو حصہ گوشت کے ساتھ لپٹ جائے (جم جائے) وہ ناپاک ہے، اور جو خون گوشت کے اندر اور رگوں کے اندر رہ جائے اور وہ بہنے والا نہ ہو، تو وہ ناپاک نہیں ہے۔ (غنیۃالمتملی (حلبی کبیر)، ص171، فصل فی الآسار، الشرط الثانی، مکتبۃ نعمانیۃ کوئٹہ) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:24 رجب المرجب 1447ھ/14جنوری 2025ء