سوال
میرے شوہر دبئی میں جاب کرتے ہیں اور وہیں مقیم ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مجھ سے رابطہ کم کرتے کرتے بالکل ختم کر دیا ہے اور اس بات کو تقریباً ڈیڑھ سال ہونے والا ہے۔ اس دوران انہوں نے کوئی نان نفقہ بھی ادا نہیں کیا۔ انہوں نے آخری بار میسج پر یہ کہا تھا کہ وہ نہ آئیں گے اور نہ بلائیں گے، مجھے اسی انتظار میں رہنا ہوگا۔میرے بھائی نے، میں نے اور ابو نے کئی دفعہ ان کو کال کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کال دیکھ کر کاٹ دیتے ہیں اور دوبارہ کال کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ مجھے کہا تھا کہ میں چار مہینے بعد بلا لوں گا یا خود آ جاؤں گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، نہ وہ خود آئے نہ مجھے اپنے پاس بلایا۔ مجھے وہاں سے جھوٹ بول کر بھیجا گیا تھا۔ ان کے اوپر پانچ کروڑ کا الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنی کو دھوکہ دیا ہے، جس کی وجہ سے کمپنی نے ان کو جاب سے نکال دیا ہے۔میرا وہ گولڈ جو شادی پر ان کے والدین نے دیا تھا اور جو میرے والدین نے دیا تھا، وہ سب سیل (فروخت) کر دیا گیا ہے جس میں میری کوئی اجازت نہیں تھی۔ میں دبئی سے کراچی اپنی مرضی سے نہیں آئی ہوں، انہوں نے مجھے خود زبردستی بھیجا ہے اور یہ کہہ کر بھیجا کہ ’’دفع ہو جاؤ، اپنی شکل نہ دکھانا‘‘۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں واپس نہ جاؤں، ان کے پاؤں تک پڑ گئی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے میرا ویزہ ختم کر کے مجھے کراچی بھیج دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہے۔ میری شادی کو پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں جس میں ہم تین سال ساتھ رہے، اس دوران ازدواجی معاملات نہ ہونے کے برابر تھے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ ’’میں بیمار ہوں، میں کرنے سے قاصر ہوں‘‘ اور اپنا زیادہ تر وقت موبائل میں صرف کرتے تھے۔ شادی کی رات بھی کوئی معاملات ادا نہیں کیے تھے۔ ان کی رپورٹس بھی ٹھیک نہیں آئی تھیں، پھر دوبارہ رپورٹ کروائی تو معمولی سا فرق آیا تھا مگر ازدواجی معاملات وہی رہے، کوئی فرق نہیں آیا۔ اب وہ یہ بہانہ بناتے تھے یا حقیقت میں بیمار ہیں، اللہ بہتر جانتا ہے۔ان کے موبائل میں نازیبا تصاویر بھی نظر آئیں اور کچھ خواتین کے ساتھ رابطہ بھی تھا جو ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کے باوجود بھی میں نے نبھانے کی مکمل کوشش کی اور ہر دفعہ ان کو معاف کیا۔ کافی عرصے سے میں خاموشی سے سب کچھ سہتی چلی آ رہی ہوں، مگر اب جب شوہر نے مکمل طور پر رابطہ ختم کر دیا ہے تو میری برداشت ختم ہو رہی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کی بیوی کس حال میں ہے۔ اولاد نہ ہونے کے طعنے الگ اور ان کی ازدواجی معاملات میں عدم دلچسپی الگ اذیت دیتی رہی۔ میں ان سب معاملات سے مطمئن نہیں ہوں اور نہ کبھی وہ مجھے مطمئن کر سکتے ہیں۔ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔ میں ڈپریشن میں جا رہی ہوں، ہر وقت ذہن الجھا رہتا ہے اور نیند نہیں آتی۔ ہر ممکن کوشش کے باوجود میری کاوشیں ناکافی لگتی ہیں۔ میری خودداری اور میری عزتِ نفس ہر دن زخمی ہوتی ہے، پھر بھی دل سے چاہتی ہوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ میں کب تک ان کا انتظار کرتی رہوں؟ میرا دل، جسم اور دماغ سب تھک چکے ہیں اور اس انتظار کی اذیت اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی، میں بیمار رہنے لگی ہوں۔ مجھے اس مسئلے کا حل بتا دیں اور فتویٰ بھی دیں، اس صورت میں مجھے مزید کتنا انتظار کرنا ہوگا؟ یاد رہے ان کے امی ابو کا سلوک مجھ سے کبھی ٹھیک نہیں رہا، میری عزت میرے سسرال میں محفوظ نہیں ہے جس کی وجہ سے امی ابو کے گھر رہتی ہوں مجبوری کے تحت۔ اگر میں خلع کا کیس کورٹ میں دائر کرتی ہوں لیکن تین سماعتوں میں میرا شوہر دستخط کرنے نہیں آتا نہ مجھ سے کوئی رابطہ کرتا ہے، تو ایسی صورت میں کورٹ کی طرف سے خلع ہو جاتی ہے؟ اس پر شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ اور ایک دو چیزیں جو میرے پاس گولڈ کی صورت میں ہیں جو تحفے کے طور پر شوہر نے دی تھیں، کیا مجھے ان کو واپس کرنی ہوں گی؟ اس کا بھی بتا دیجیے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بر تقدیرِ صدقِ سائل (یعنی سائل کے سچا ہونے کی صورت میں یہ جواب ہے) پوچھی گئی صورت میں میاں بیوی کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، شوہر کی ازدواجی حقوق سے کنارہ کشی اور نان و نفقہ کی عدم ادائیگی جیسے سنگین مسائل کی موجودگی میں شریعتِ مطہرہ عورت کو معلق رہنے پر مجبور نہیں کرتی۔ اگر شوہر نہ صلح کیلئے تیار ہو اور نہ ہی طلاق دے کر آزاد کر رہا ہو، بلکہ دانستہ طور پر اذیت دینے کیلئے معلق چھوڑ ے، تو ایسی صورت میں مفتی بہ قول کے مطابق عورت کو اختیار ہے کہ وہ عدالت میں ’’فسخِ نکاح‘‘ کا مقدمہ دائر کرےاورخلاصی حاصل کرے (تفصیل آگے آرہی ہے)۔
رہی بات شوہر کی طرف سے دیے گئے زیورات کی، تو واضح رہے کہ یہ معاملہ ’’فسخِ نکاح‘‘ کا ہے نہ کہ ’’خلع‘‘ کا کہ جو مال کے بدلے میں ہو۔ فسخِ نکاح میں عورت پر کوئی مالی بدلہ دینا لازم نہیں ہوتا۔ پس جب شوہر نے بیوی کو سونا ہبہ کر دیا تھا (یعنی محض عارضی طور پر پہننے کیلئے نہیں دیا تھا بلکہ اسے مکمل مالک بنا دیا تھا کہ عورت اس کے ساتھ جو چاہے کرے)، تو شرعاً عورت اس مال کی مالکہ ہو چکی ہے۔ لہٰذا فسخِ نکاح کی صورت میں عورت پر یہ زیورات شوہر کو واپس کرنا شرعاً ضروری نہیں ہوگا۔
تفصیلِ مسئلہ:
یہاں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ سائلہ عدالت میں اپنا دعویٰ ’’فسخِ نکاح‘‘ کی بنیاد پر کرے، نہ کہ ’’خلع‘‘ کی بنیاد پر۔ عام طور پر عدم توجہ کی وجہ سے خلع کا دعویٰ دائر کر دیا جاتا ہے، جبکہ شرعی اعتبار سے خلع ایسا معاملہ ہے جو فریقین (میاں بیوی) کی باہمی رضامندی پر موقوف ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ-فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ .ترجمہ:پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔(البقرۃ:229)
اگر شوہر خلع پر راضی نہ ہو اور صراحتاً یا دلالۃً سندِخلع پر رضا مندی ظاہر نہ کرے (صراحتًا رضا مندی جیسے: عدالت میں حاضرہوکر خلع پررضامندی ظاہر نہ کرے یا اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے اپنا کوئی وکیل نہ کرے یا عدالت سے جاری ہونے والی خلع کی ڈگری پر نہ دستخط کرے ۔اور دلالۃً رضامندی جیسے: جہیز کا سامان واپس کرنے پر رضامند نہ ہو) ؛ تو محض عدالت کی یکطرفہ ڈگری سے شرعی خلع واقع نہیں ہوتی اور عورت بدستور نکاح میں رہتی ہے، کیونکہ یہاں عدالت ازروئے شرع فضولی کی حیثیت رکھتی ہے اور فضولی (عدالت) کا طلاق دینا شوہر کی قولی یا فعلی اجازت پر موقوف ہے۔
اس کے برعکس، ’’فسخِ نکاح‘‘ قاضی (جج) کی طرف سے ایک شرعی فیصلہ ہوتا ہے جو مخصوص شرائط (جیسے نان و نفقہ نہ دینا) کے تحت شوہر کی مرضی کے بغیر بھی نافذ ہو جاتا ہے۔ جب عورت عدالت میں شرعی گواہوں سے یہ ثابت کر دے گی کہ شوہر نان و نفقہ نہیں دے رہا ، تو عدالت شوہر کو طلب کرے گی۔ اگر شوہر عدالت کے بلانے پر حاضر نہیں ہوتا یا حاضر ہو کر حقوق ادا کرنے سے انکار کرتا ہے، تو قاضی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر کی رضامندی کے بغیر (اور بعض خاص صورتحال میں غیر موجودگی میں) بھی نکاح کو فسخ کر دے۔ عدالت کی طرف سے کیا گیا یہ فسخ شرعاً معتبر ہوگا، جس کے بعد عورت اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے کیلئے مکمل آزاد ہوگی۔
موجودہ پاکستانی قانون کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو ’’مسلم میرجز ایکٹ 1939ء‘‘ کے مطابق عدالت کو فسخِ نکاح کا واضح اختیار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں 23 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ کے دو رُکنی بنچ (جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس نعیم اختر افغان) نے ڈاکٹر سیما حنیف خان اور وقاص خان کے کیس (CPLA No. 3268)میں پشاور ہائی کورٹ اور فیملی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ایک اہم نظیر قائم کی ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے اس غلط عدالتی رواج کا سدِباب کیا گیا ہے جہاں نچلی عدالتیں اسبابِ فسخ موجود ہونے کے باوجود فسخِ نکاح کے مقدمے کو یکطرفہ طور پر ’’خلع‘‘ میں تبدیل کر دیتی تھیں تاکہ شوہر کو مہر کی ادائیگی سے بچایا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فیملی کورٹس ایسے مقدمے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں جہاں خاتون قانون کے تحت فسخِ نکاح کی خواہاں ہو، کیونکہ فسخ اور خلع کے قانونی و مالی نتائج (خصوصاً مہر کی واپسی) بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر واقعتاً شرعی وجوہات پائی جائیں تو عورت خلع کے بجائے فسخِ نکاح ہی کا دعویٰ دائر کرے۔
• Article(1):https://voicepk.net/2025/10/sc-bars-family-courts-from-granting-khula-without-wifes-consent-in-dissolution-cases/#:~:text=SC%20bars%20family%20courts%20from,in%20dissolution%20cases%20%E2%80%93%20Voicepk.net
• Article(2):https://www.thenews.com.pk/latest/1353643-family-courts-must-rely-on-evidence-not-patriarchal-notions-justice-ayesha
• Court Judgment(CPLA-3268):https://www.supremecourt.gov.pk/judgement-search/
وجوہِ فسخ نکاح کی تفصیل:
ہم احناف کے نزدیک اگرچہ اصل موقف یہی ہے کہ محض نفقہ نہ دینے پر یا نکاح کے بعد ایک بار جماع کر لینے کی صورت میں قاضی تفریق کا اختیار نہیں رکھتا، بلکہ وہ شوہر کو ادائیگی پر مجبور کرنے یا قید کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تاہم، دین اسلام میں ہر ایک فریق کو ضرَر سے بچایا جاتا ہے۔ اور قرآنِ حکیم میں مردوں کو ’’امساک بالمعروف‘‘کا حکم ارشاد ہوا ہے، یعنی مرد اپنی ازواج کو بھلائی کے ساتھ رکھے ۔ پس اگر کسی صورت میں بھلائی کے ساتھ روکنا نہ پایا گیا تو ’’ تسریح بالاحسان‘‘ یعنی بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا لازم آئے گا۔اور موجودہ دور کے بگاڑ اور عورتوں کیلئے عفت و عصمت کی حفاظت میں درپیش دشواریوں کے پیشِ نظر، فقہاء نے اس مسئلے کا حل ایک اہم شرعی اصول کی روشنی میں نکالا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ کسی مسئلے میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف ہو اور قاضی (یعنی ایسا غیر مجتہد قاضی جس پر کسی ایک فقہی مذہب پر فیصلہ کرنا لازم نہیں) کسی ایک مؤقف پر اپنی قضاء نافذ کر دے، تو وہ معاملہ متفق علیہ ہو جاتا ہے، کیونکہ قضائے قاضی اختلاف کو اٹھا دیتی ہے۔چونکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کے نزدیک نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر قاضی کو تفریق کا اختیار حاصل ہے، لہٰذا جب موجودہ عدالت کا جج (جس پر فیصلہ کرنے میں کسی ایک فقہی مذہب کی پیروی لازم نہیں) نفقہ کی عدم ادائیگی یا معلق رکھنے کی بنیاد پر نکاح فسخ کرنے کا فیصلہ صادر کرتا ہے، تو اس شرعی اصول کے تحت وہ فیصلہ ہم احناف کے نزدیک بھی نافذ اور معتبر تسلیم کیا جائے گا۔ اس طریقے سے عورت کو اس معلق رہنے کی اذیت سے شرعی خلاصی مل جاتی ہے اور جج کا فیصلہ اس اختلافی معاملے میں حتمی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔الحمد للہ یہ شرعی حل امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی پیروی میں دیا گیا کہ آپ رحمہ اللہ نے اپنے دور میں یہ حل پیش کیا تھا کہ حنفی قاضی اپنا معاملہ کسی شافعی المذہب قاضی کے سپرد کر دے، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نفقہ نہ دینے پر تفریق جائز ہے۔ چونکہ موجودہ نظام میں الگ سے شافعی قاضی میسر نہیں، لہٰذا ’’قضائے قاضی‘‘ کا مذکورہ بالا اصول دورِ حاضر میں اس مسئلے کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔
دلائل و جزئیات:
بیویوں سے متعلق قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ. ترجمہ: پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔(البقرۃ: 229)
سورۃ النساء میں ارشاد باری تعالی ہے: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ. ترجمہ: اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ (النساء 19)
اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد ہوا: فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ. ترجمہ: یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو اَدھر(درمیان)میں لٹکتی چھوڑ دو۔ (النساء: 129)
سورۃ البقرۃ ہی میں ارشاد ہوا: لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ.ترجمہ: نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔ (البقرۃ: 279)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ ہے: "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ". ترجمہ: نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان برداشت کرو۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب من بنی فی حقہ ما یضرّ بجارہ، 2/784، الرقم: 2340، دار إحياء الكتب العربية) (المعجم الاوسط، 1/307، الرقم: 1033، دار الحرمین، قاھرہ)
شریعت نے شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ہے۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖؕ-وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُؕ-لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَاؕ-سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠. ترجمہ : مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے، وہ اُس میں سے خرچ کرے جو اُسے خدا نے دیا، اﷲ (عزوجل) کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُتنی ہی جتنی اُسے طاقت دی ہے، قریب ہے کہ اﷲ(عزوجل)سختی کے بعد آسانی پیدا کر دے۔( الطلاق:7)
سنن ابی داود کی روایت ہے:"عن جدہ معاویۃ القشیری قال أتیت رسول اللہ ﷺ قال فقلت ما تقول فی نسائنا ؟ قال أطعموھن مما تأکلون و اکسوھن مما تکتسون و لا تضربوھن و لا تقبحوھن". ترجمہ: حضرت معاویہ قشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےپاس آیا اور عرض کی کہ آپ ہمیں ہماری بیویوں کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو تم کھاتے ہوانہیں بھی کھلاؤ کماتے ہو انہیں اس مال سے کپڑے پہناؤ ،انکو مارپیٹ مت کرو اور برا بھلا مت کہو۔( ابو داود شریف ، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ،الرقم: 2144)
صحیح مسلم کی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:« إذا أعطى الله أحدكم خيرا فليبدأ بنفسه وأهل بيته».ترجمہ:جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے۔(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش... إلخ، الرقم: 1822)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”بالجملہ عورت کو نان ونفقہ دینابھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی (دیانتاً) واجب، جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو، اور اسے معلقہ کردینا حرام، اور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائز‘‘ ۔ (فتاوی رضویہ،13/446،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
قاضی ِ شرع کو صرف فسخِ نکاح کا اختیار ہے،علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"فَإِذَا امْتَنَعَ نَابَ الْقَاضِي مَنَابَهُ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَا بُدَّ مِنْ طَلَبِهَا لِأَنَّ التَّفْرِيقَ حَقُّهَا وَتِلْكَ الْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ".ترجمہ: جب شوہر طلاق دینے سے رُک جائے توقاضی خود اس شوہر کا قائم قام ہوکر دونوں میں تفریق کردے اور عورت کا مطالبہ کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ بیوی کا حق ہے، اور یہ تفریق و تنسیخ طلاق بائن ہوگی۔(الہدایہ،2/273،دار احیاء التراث العربی)
اسی طرح الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"إنْ اخْتَارَتْ الْفُرْقَةَ أَمَرَ الْقَاضِي أَنْ يُطَلِّقَهَا طَلْقَةً بَائِنَةً فَإِنْ أَبَى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا... وَالْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ".ترجمہ: اگر بیوی جدائی چاہتی ہے تو قاضی شوہر کو طلاق بائن دینے کا حکم دے۔اگر شوہر انکار کرے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے یہ فرقت طلاق بائن ہوگی۔(الفتاوی الہندیۃ،1/524،دار الفکر)
خلع کی تعریف میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضا ئے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے تنہا زوجہ کے کیئے نہیں ہو سکتا ‘‘۔(فتاوی رضویہ 13/264،رضافاؤنڈیشن لاہور)
طلاق وخلع دینے کا اختیار شریعت مطہرہ نے شوہر کو دیا ہے ، سورۃ البقرۃمیں فرمایا :بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ. ترجمہ: جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔( البقرۃ:237)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ)رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:’’معلوم ہوا کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے طلاق کا اس کو حق ہے عورت کو نہیں نہ خلع میں نہ بغیر خلع۔یعنی خلع میں طلاق مرد کی مرضی پر موقوف ہوگی آج کل عوام نے جو خلع کے معنی سمجھے ہیں کہ عورت اگر مال دے دے تو بہر حال طلاق ہوجائے گی خواہ مرد طلاق دے یا نہ دے یہ غلط ہے‘ ‘۔ (کنزالایمان مع تفسیر نور العرفان ،ص: 60،تحت آیت مذکورہ مطبوعہ پیر بھائی کمپنی لاہور)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے بواسطہ اپنے دادا کے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:" وَلِيُّ عَقْدِ النِّكَاحِ الزَّوْجُ". ترجمہ:عقدِ نکاح کا ولی شوہر ہے۔(السنن الکبری للبیہقی،باب من قال الذي بيده عقدة النكاح الزوج،7/410،رقم:14454،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فضولی (عدالت) کا طلاق دینا شوہر کی قولی یا فعلی اجازت پر موقوف ہے، علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"فَكَمَا أَنَّ نِكَاحَ الْفُضُولِيِّ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ عَلَى الْإِجَازَةِ بِالْقَوْلِ أَوْ بِالْفِعْلِ فَكَذَا طَلَاقُهُ... وَالْإِجَازَةُ بِالْفِعْلِ يُمْكِنُ أَنْ تَكُونَ بِأَنْ يَدْفَعَ إلَيْهَا مُؤَخَّرَ صَدَاقِهَا بَعْدَمَا طَلَّقَ الْفُضُولِيُّ".ترجمہ: جس طرح فضولی کا نکاح صحیح ہے اور وہ قول یا فعل کے ساتھ اجازت پر موقوف ہے طلاق بھی اسی طرح ہے (یعنی طلاق بھی قول و فعل کی اجازت پر موقوف رہے گی)۔ فعل کے ساتھ اجازت کی صورت یہ ہے کہ وہ فضولی کی جانب سے طلاق کے بعد مہر مؤجل بیوی کو دے دے۔ (رد المحتار،کتاب الطلاق،مطلب فی تعریف السکران،3/242،دار الفکر بیروت)
عدم نفقہ کی صورت میں ہم احناف کے مؤقف کو بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ قال اﷲ سبحانہ وتعالٰی فامسکوھن بمعروف اوسرحوھن بمعروف (اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے فرمایا:)عورتوں کویاتو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو۔ (القرآن الکریم ۲ /۲۳۱) وقال تعالٰی فامساک بمعروف او تسریح باحسان (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)یا بھلائی کے ساتھ رکھنا یا نکوئی کے ساتھ چھوڑدینا۔ (القرآن الکریم ۲ /۲۲۹) وقال تعالٰی وعاشروھن بالمعروف (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)عورتوں سے اچھے برتاؤ کے ساتھ زندگانی کرو۔ ( القرآن الکریم ۴ /۱۹ ) وقال تعالٰی اسکنوھن من حیث سکنتم من وجد کم ولاتضاروھن لتضیقوا علیھن (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھواپنے مقدور کے قابل اور انہیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔ (القرآن الکریم ۶۵ /۶) وقال تعالٰی فلاتمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) پورے ایک طرف نہ جھک جاؤ کہ عورتوں کو یوں چھوڑکر جیسی ادھر میں لٹکتی۔ (القرآن الکریم ۴ /۱۲۹)۔ بالجملہ عورت کو نان ونفقہ بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو، اور اسے معلقہ کردینا حرام، اور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائز، اور بعد نکاح ایک بار جماع تو بالاجماع بالاتفاق حقِ زن ہے کہ اسے بھی ادا نہ کرسکے تو عورت کے دعوی پر قاضی مرد کو سال بھر کی مہلت دے گا اگر اس میں بھی جماع نہ ہوتو بطلبِ زن تفریق کردے گا، مگر ایک بار کے بعد پھر جبری تفریق کا قاضی کو اختیار نہیں،نہ ہمارے نزدیک نفقہ نہ دینے پر تفریق ہوسکتی ہے، ہاں قاضی اعانت ضعفاء و مددِ مظلومین کے لئے مقرر ہوا ہے، تو اس پر لازم کہ جس طرح ممکن ہودفع ظلم کرے،ردالمحتار میں ہے: قال فی الفتح اعلم ان ترک جماعھامطلقا لایحل لہ صرح اصحابنا بان جماعھا احیانا واجب دیانۃ لکن لایدخل تحت القضاء والالزام الاالوطأۃ الاولٰی ولم یقدروافیہ مدۃ، ویجب ان لایبلغ بہ مدۃ الایلاء الا برضاھا وطیب نفسھا بہ اھ ویسقط حقھا بمرۃ فی القضاء ای لانہ لولم یصبھا مرۃ یؤجلہ القاضی سنۃ ثم یفسخ العقد امالواصابھا مرۃ واحدۃ لم یتعرض لہ لانہ علم انہ غیرعنین وقت العقد بل یأمرہ بالزیادۃ احیانا لو جوبھا علیہ الالعذرمرض او عنۃ عارضۃ او نحوذٰلک وسیأتی فی باب الظہار ان علی القاضی الزام المظاھر بالتکفیر دفعاللضرر عنھا بجس او ضرب الی ان یکفر اویطلق اھ.مختصرا. فتح القدیر میں فرمایا: واضح ہوکہ بیوی سے جماع مطلقاًترک کردینا حلال نہیں، ہمارے اصحاب نے تصریح فرمائی ہے کہ دیانۃً گاہے گاہے بیوی سے جماع کرنا واجب ہے لیکن اس پر قاضی کو کاروائی کا حق نہیں کہ وہ خاوند پر لازم قرار دے تاہم نکاح کے بعد پہلا جماع خاوند پر قاضی لازم کرسکتا ہے اور فقہاء کرام نے اس جماع کے لئے مدت کا تعین نہیں کیا کہ کتنہ مدت کے اندر واجب ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ وقفہ ایلاء کی مدت (چار ماہ) تک نہ پہنچنے پائے الایہ کہ بیوی کی رضا مندی اور خو ش طبعی سے جتنا وقفہ ہو اھ ایک دفعہ جماع کرلینے سے قضاءً بیوی کا حق ساقط ہوجائےگا یعنی اگردوران نکاح ایک مرتبہ بھی جماع نہ کیا ہوتو بیوی کے مطالبے پر قاضی خاوند کو ایک سال کی مہلت دے گا اور اس مدت میں جماع نہ کرنے پر قاضی نکاح کو فسخ کردے گا، اور ایک مرتبہ جماع کرلیا ہو تو پھر قاضی مداخلت نہ کرے کیونکہ معلوم ہوچکا ہے کہ خاوند نکاح کے وقت نامرد نہ تھا تاہم قاضی خاوند کو مزید جماع کا مشور دے گا کیونکہ خاوند پر حقوقِ زوجیت واجب ہے لیکن مریض ہویا عارضی مردمی کمزوری یا کوئی اور وجہ ہوتو واجب نہیں اور ظہار کے باب میں بیان رہا ہے کہ قاضٰ پر ضروری ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے ظہار کرنے والے خاوند کو کفارہ ظہاردینے پر قید اورجسمانی سزا کے ساتھ مجبور کرے تاکہ وہ کفارہ دے یا طلاق دے ،اھ، مختصراً ( ردالمحتار باب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۹۸) بحرالرائق میں ہے: قالو وللمرأۃ ان تطالبہ بالوطأ وعلیھا ان تمنعہ الاستمتاع حتی یکفر، وعلی القاضی ان یجبرہ علی التکفیردفعا للضرر عنھا بحبس فان ابی ضربہ ولا یضرب فی الدین ولو قال قد کفرت صدق مالم یعرف بالکذب وفی التتارخانیۃ اذا ابی عن التکفیر عزرہ بالضرب والحبس الی ان یکفراویطلق۔فقہاءِ کرام نے فرمایا ہے کہ عورت کو حق کہ خاوند سے جماع کا مطالبہ کرے، اور ساتھ ہی اس پر لازم ہے کہ کفارہ دینے تک خاوند کو جماع سے روکے، اورقاضی کو حق ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے خاوند کو قید کرکے کفارہ دینے پر مجبور کرے اور اگر خاوند انکار کرے تو اس کو جسمانی سزادے جبکہ قرض کے معاملہ میں قاضی جسمانی سزا نہیں دے سکتا، اور اگر خاوند بتائے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو قاضی اس کی تصدیق کرے جب تک اس کا جھوٹ واضح نہ ہو، اور تاتارخانیہ میں ہے کہ اگرکفارہ دینے سے انکار کرے تو قاضی خاوند کے کفارہ ادا کرنے یا طلاق دینے تک اسے جسمانی تعزیر اور قید کرسکتا ہے۔ (بحرالرائق باب الظہار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۹۷ ۔ ۹۶)۔ جب یہ اصول معلوم ہوگئے حکمِ مسئلہ واضح ہوگیا پاس نہ بلانا ترکِ جماع کو مستلزم اور نفقہ نہ دینے کو بھی محتمل، ترکِ جماع اگر رأسا ہے یعنی بعد نکاح اس کے پاس گیا ہی نہیں تو قاضیِ شرع اس پر جبر کرے گا کہ پاس جائے، اگر ظاہر ہوگا کہ اسے اس عورت سے مجامعت پر قدرت نہیں تو بعد دعوٰی عورت وہی مسائل عنین و مہلت یکسال و تفریق جبری بطلبِ زن جاری ہوں گے، اور اگر باوصفِ قدرت نہیں جاتا خواہ ابتداءً خواہ ترک مطلق کا ارادہ کرلیا ہے اور عورت کو اس سے ضرر ہے تو قاضی مجبور کرے گا کہ جماع کرے یا طلاق دے، اگر نہ مانے گا قید کرے گا اگر نہ مانے گا مارے گا یہاں تک دوباتوں سے ایک کرے، وذٰلک رفعا للمعصیۃ ودفعا للضرر وقد نصواکمافی البحر والد وغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھاففیھا التعزیر۔یہ تعزیر اس لئے ہے کہ خاوند گناہ ختم کرے اور بیوی کی پریشانی دور کرے، اور فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ وہ جرم جس پر حد نہیں ہے تو اس میں تعزیر ہوگی جیسا کہ بحر اور در وغیرہما میں مذکور ہے۔ ( درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۷) وفی ردالمحتار قولہ وعلی القاضی الزامہ بہ، اعتراض بانہ لافائدۃ للاجبار علی التکفیر الاالوطئ والوطئ لایقضی بہ علیہ الامرۃ، قال الحموی و فرض المسئلۃ فیما اذالم یطأھا قبل الظہار ابدا بعید، اوقد یقال فائدۃ الاجبار رفع المعصیۃ اھ ای ان الظہار معصیۃ حاملۃ لہ علی الامتناع من حقھا الواجب علیہ دیانۃ فیأمرہ برفعھا لتحل لہ کما یأمر المولی من امرأتہ بقربانھا فی المدۃ اویفرق بینھما لدفع الضرر عنھا اھ۔مختصرا۔اور ردالمحتار میں ہے کہ درمختار کا یہ بیان کہ قاضی پر لازم ہے الخ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ خاوند کو کفارہ دینے پر مجبور کرنے کا مقصد صرف بیوی سے جماع ہے جبکہ جماع کے معاملے میں قاضی خاوند کو نکاح کے بعدف ایک سے زائد مرتبہ پر مجبور نہیں کرسکتا تو حموی نے کہا اور جواب کےلئے یہ فرض کرنا کہ ظہار سے قبل خاوند نے ایک مرتبہ بھی جماع نہ کیا ہوتو تب قاضی مجبور کرسکتا ہے، تویہ بعید سی بات ہے، یا جواب میں یوں کہا جائے گا کہ خاوند کو مجبور کرنے کا مقصد خاوند کے جرم کا ازالہ ہے اھ، یعنی ظہار کرنا جرام ہے جو خاوند کو بیوی کے اس حق کی ادائیگی سے روکتا ہے جو دیانۃً ہر خاوند پر واجب ہے تو اس لئے قاضی اس کو جرم کے ازالہ کا حکم دے گا تاکہ بیوی حلال ہوسکے، جیسے مولیٰ اپنے غلام کو ظہارکی مدت میں بیوی سے جماع کرنے یا طلاق دینے کاحکم کرسکتا ہے تاکہ بیوی کی پریشانی دور ہوسکے۔اھ مختصراً ( تنویرالابصار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۷۶) اور نفقہ نہ دینے پر اگر ادائے نفقہ پر قادر ہے تو قاضی بقدر مناسب عورت کے لئے نفقہ مقرر کرے گا اور شوہر کو اس کے ادا کا حکم دے گا اگر نہ مانے گا قید کرے گا اور اس مدت میں اس سے نہ پانے کے سبب جو کچھ عورت قرض لے کر خواہ اپنے مال سے اپنے نفقہ میں صرف کرے گی سب شوہر پر دین ہوگا اور اس سے دلایاجائیگا مگر یہاں تفریق کردینے یا طلاق پر جبر کرنے کی صورت نہیں،اقول : اور وجہ فرق ظاہر ہے جماع ونفقہ دونوں کی طرف عورت محتاج اور ان کے نہ ملنے میں اس کا ضرر ، اور دفعِ ضرر جس طرح ممکن ہوواجب ، اور طرقِ دفع میں آسان ترکالحاظ لازم کہ طرف ثانی کا بھی اضرار نہ ہو، جماع ایسی چیز ہے کہ غیر شوہر سے اس کا ملنا محال، تو طریق دفع اس میں منحصر کہ شوہر جما ع کرے یا طلاق دے کہ وہ دوسرے سے نکاح کرسکے بخلاف نفقہ کہ یہ حاجت اپنے مال سے خواہ دوسرے سے قرض لے کر بھی مندفع ہوسکتی ہے، عورت کا ضرر یوں دفع ہوگیا کہ حاجت رواہوئی اورجواٹھاوہ بعد فرضِ قاضی شوہر پر قرض رہا تو یہاں طلاق پر مجبور کرنے میں شوہر کا ضرر زائد ہے جس کی طرف عورت سے دفعِ ضرر میں حاجت نہیں۔تنویر میں ہے: لایفرق بینھما بعجزہ عنھا ولابعدم ایفائہ حقھا ولوموسرا۔اھ۔مختصرا۔نفقہ سے عاجز ہوجانے پر اور امیرہوتے ہوئے بھی بیوی کو پورا حق نہ دینے پر قاضی دونوں کی تفریق نہ کرے گا، اھ مختصراً۔ ( درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی ۱ /۲۶۹) ردالمحتار میں ہے: بل یفرض لھا النفقۃ علیہ ویأمرھا بالاستدانۃ۔ بلکہ قاضی خاوند کے ذمہ بویی کا نفقہ کردے گا اور بیوی کو خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا فیصلہ دے گا۔ (ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۶) درمختار میں ہے: وبعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلاامرقاض۔ اس کے بعد بیوی خرچ کیلئے نفقہ کو خاوند سے وصول کرے گی جو بیوی نے خرچ کیا ہو خواہ اس نے پانے ہی مال سے قاضی کے حکم کے بغیر خرچ کیا ہو۔ ( درمختار باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۰) شامیہ میں بدائع سے ہے: یحبس فی نفقۃ الاقارب کالزوجات۔ قریبیوں کے نفقہ میں قید کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بیویوں کے نفقہ میں قید کیا جاسکتا ہے۔ ( ردالمحتار بحوالہ البدائع باب النفقۃ ۲ /۶۸۷و فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۲۲)۔ اور اگر شوہر فقیر ہے کہ نفقہ نہیں دے سکتاجب بھی حکم یہی ہے کہ تفریق نہیں اور محتانی معلوم ہوتو قید بھی نہیں بلکہ قاضی نفقہ مقرر کرکے عورت کو قرضاً صرف کرنے کا حکم دے جو کچھ حسب قرار داد قاضی خرچ ہوتا رہے ذمہ شوہر دین ہواکرے گا یہاں تک کہ زمانہ اس کو تونگری کی طرف پلٹالے، اس وقت سب وصول کرلیا جائے مگراگر قاضی دیکھے کہ عورت کواس امید پر قرض نہیں ملتا تو شوہر کو سمجھائے کہ طلاق دے دے، اگر نہ مانے تو قاضی جبکہ نائب مقرر کرنے کا اختیار ہو باختیار خود ورنہ بحکم والی مسلم مقدمہ کسی شافعی المذہب کے سپرد کردے کہ ان کے یہاں جب کہ شوہر کا نفقہ دینے سے عاجز ہو تفریق کرادیتے ہیں وہ فریقین کو بلا کر بعد سماع مقدمہ و ثبوت عجز تفریق کردے، یہ حکم جب قاضی حنفی کے حضور پیش ہواسے نافذ کردے کہ شوہر جب حاضر ہوتو حاکم شافعی کا ایسا حکم ہمارے نزدیک لائق تنفیذ مانا جاتا ہے، یوں عورت اس بلاسے خلاصی پاسکتی ہے۔درمختار میں ہے: جوزہ الشافعی باعسار الزوج، ولو قضی بہ حنفی لم ینفذ نعم لو امر شافعیافقضی بہ نفذ۔ خاوند کے تنگدست ہوجانے پر نفقہ کی وجہ سے تفریق کو امام شافعی نے جائز قرار دیا ہے، اور اگر حنفی قاضی یہ فیصلہ دے تونافذ نہ ہوگا، ہاں حنفی قاضی اگر شافعی قاضی کو فیصلہ دینا سپرد کردے پھر شافعی قاضی فیصلہ دے تو اس کا فیصلہ دے تو اس کافیصلہ نافذ ہوجائے گا۔ (درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۹) ۔ردالمحتار میں ہے: قولہ نعم لوامر شافعیا، ای بشرط ان یکون ماذونا لہ بالاستنابۃ، خانیۃ، قال فی غررالاذکار ثم اعلم ان مشائخنااستحسنوا ان ینصب القاضی الحنفی نائبا ممن مذھبہ التفریق بینھما اذاکان الزوج حاضرا و ابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانۃ اذالظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وغنی الزوج ماٰلا امرمتوھم فالتفریق ضروری اذاطلبتہ وان کان غائبا لایفرق لان عجزہ غیرمعلوم حال غیبتہ وان قضی بالتفریق لاینفذ قضائہ لانہ لیس فی مجتہد فیہ لان العجزلم یثبت۱؎اھ وتمامہ فیہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ ماتن کا کہنا کہ’’ہاں اگر شافعی کوکہے‘‘ یعنی بشرطیکہ ہو حنفی قاضی دوسرے کو فیصلہ سپرد کرنے کا مجازہو،خانیہ غررالاذکار میں کہا ہے کہ واضح ہو کہ ہمارے مشائخ نے یہ پسند کیا ہے حنفی قاضی کسی ایسے شخص کو اپنا نائب قرار دے جس کا مذہب یہ ہو کہ خاوند اور بیوی میں نفقہ کی وجہ سے تفریق جائز ہے، توجب خاوند حاضر ہو اور طلاق دینے سے انکاری ہوتو وہ نائب بیوی کے مطالبہ پر تفریق کردے کیونکہ نفقہ کی دائمہ حاجت قرض لینے سے حل نہیں ہوتی جبکہ ظاہر یہی ہے کہ بیوی کسی قرض دینے والے کو نہیں پاتی اور خاوند کا بعدمیں کسی وقت امیر ہونا موہوم معاملہ ہے لہذا بیوی کے مطالبہ پر تفریق ضروری ہے، اور اگر خاوند غائب ہوتو پھر تفریق نہ کرے کیونکہ غیر موجود گی کی وجہ سے خاوند کا نفقہ سے عاجز ہونا معلوم نہیں ہے تو اس صورت میں اگر تفریق کی تو نافذ نہ ہوگی کیونکہ غائب ہونے کی صورت میں عجز ثابت نہ ہونے پر مسئلہ اجتہادی نہ رہے گا، مکمل بیان ردالمحتار میں ہے(ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۶)، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ، 13/446-451، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
قضائے قاضی اختلاف کو اٹھا دیتی ہے، علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم(المتوفی:1005 ھ) فرماتے ہیں: "فكل مسألة اختلف فيها الفقهاء فإنها تصير محل اجتهاد، فإذا قضى قاضٍ بقول ارتفع الخلاف... قال أبو الليث: رواية محمد أن كل شيء اختلف فيه الفقهاء فقضى به قاض جاز ولم يكن لغيره أن يبطله ولم يذكر فيه الاختلاف وبه نأخذ".ترجمہ: ہر وہ مسئلہ جس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہو، وہ محلِ اجتہاد بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی قاضی ان میں سے کسی ایک قول کے مطابق فیصلہ سنا دیتا ہے، تو وہ اختلاف ختم ہو جاتا ہے (یعنی وہ فیصلہ نافذ العمل قانون بن جاتا ہے)۔ امام ابو الليث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام محمد رحمہ اللہ کی روایت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہو، پھر قاضی اس کے مطابق فیصلہ کر دے، تو وہ جائز (نافذ) ہو جائے گا، اور کسی دوسرے (قاضی یا مفتی) کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ اس فیصلے کو باطل قرار دے۔ انہوں نے اس میں (فیصلے کے بعد) کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا، اور ہم اسی قول کو اختیار کرتے ہیں۔ (النهر الفائق، کتاب القضاء، باب کتاب القاضی الی القاضی، 3/627، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اسی وجہ کر مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:’’وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے ’’فسخِ نکاح‘‘ کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں:(۱)شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہوتو(ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)‘‘۔ (تفہیم المسائل،3/269، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 15 شعبان المعظم 1447ھ/4فروری 2026ء