Digar Wurasa Ki Ijazat Ke Baghair Ek Waris Ko Sab Dena
سوال
ایک شخص نے اپنی زندگی میں ایک گھر خریدنے کے لیے تقریباً 80,000 روپے ایڈوانس کے طور پر ادا کیے تھے، پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا بعد ازاں وہ ایڈوانس کی رقم واپس ہو کر اس کی بیوی کو مل گئی۔ اس بیوی نے یہ 80,000 روپے اپنے ایک بڑے بیٹے کو دے دیے، اس نیت سے کہ وہ ان پیسوں سے دکان خرید لے یا کاروبار شروع کرے، کیونکہ اس کے باقی دو بیٹے بھی اسی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ چنانچہ اس بیٹے نے دکان خریدی اور کچھ عرصہ تینوں بیٹے مل کر کام کرتے رہے۔ بعد میں بیٹوں کے درمیان معاملات الگ ہو گئے، اب یا تو وہ الگ الگ کام کر رہے ہیں یا باہمی شراکت ختم ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: وہ 80,000 روپے جو شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کو ملے تھے، شرعاً کس کی ملکیت شمار ہوں گے؟ کیا وہ رقم تمام بیٹوں میں برابر تقسیم ہونا ضروری تھی؟ کیا بیوی کا وہ رقم صرف ایک بیٹے کو کاروبار یا دکان کے لیے دینا درست تھا؟ اگر یہ تقسیم درست نہیں تھی تو کیا اب اس رقم کو دوبارہ تمام بیٹوں میں برابر تقسیم کرنا لازم ہے؟ یا جو صورتِ حال بن چکی ہے، اسی میں کوئی شرعی قباحت نہیں؟ بیوی اس رقم کو اپنے ذمے بوجھ محسوس کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ شریعت کے مطابق واضح حکم بتایا جائے کہ اب اس کے لیے کیا کرنا لازم ہے؟ برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس معاملے کا شرعی حکم بیان فرما دیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جو 80 ہزار روپے شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کو ملے، وہ شوہر کی ملکیت میں شمار ہوں گے، لہٰذا یہ رقم شوہر کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ جب مُورِث کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کا ترکہ، جب تک ورثاء میں تقسیم نہ کیا جائے، تمام ورثاء کے درمیان مشترک رہتا ہے۔ ایسے مشترک مال میں کسی ایک وارث کے لیے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا اگر بیوی نے دیگر ورثاء سے اجازت لیے بغیر یہ رقم ایک بیٹے کو دے دی، تو یہ عمل شرعی اعتبار سے درست نہیں، لہذا والدہ پر توبہ کرنا لازم ہے۔
اب بیوی پر لازم و ضروری ہے کہ ہر وارث کو اس کے شرعی حصے کے مطابق رقم ادا کرے۔ البتہ کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا، اس کے لیے تمام ورثاء کی مکمل تفصیلات درکار ہیں، جبکہ سوال میں ابھی معلومات نامکمل ہیں۔