warasat ka masla ek biwi paanch bete aath betiyan
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا، اسکی دو شادیاں ہیں ، ورثاء میں دو بیویاں ، 5 بیٹے اور 8 بیٹیاں ہیں۔ جس میں سے ایک بیوی، ایک بیٹے اور ایک بیٹی کا اس سے پہلے انتقال ہوگیا۔ اس وقت ایک بیوی، 4 بیٹے اور 7 بیٹیاں حیات ہیں۔ ترکہ میں ایک مکان ہے جسکی قیمت 80 لاکھ ہے ، ترکی کی تقسیم کیسے ہوگی ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا۔ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
سائل: مسرور احمد : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ مرحوم کے ورثاء میں سے جو وقتِ وفات حیات تھے وہ اپنے اپنے حصوں کے مطابق وراثت کے شرعی حقدار ٹھہرے ہیں اور جن ورثاء کا مرحوم سے پہلے انتقال ہوا ،انکو مرحوم کی وراثت سے کچھ حصہ نہ ملے گا۔ کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) : أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)
البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں تو اس مرحوم بیٹے کے ورثاء کو وراثت میں سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ ان کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ، ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل جائیداد کے 120 حصے کیے جائیں گے، جس میں سے بیوی کو15 حصے، ہر بیٹے کو الگ الگ 14 حصے اور ہر بیٹی کو الگ الگ 7 حصے دیئے جائیں گے۔
رقم کی تقسیم : کل رقم 80 لاکھ
بیوی : 1000000/=
ہر بیٹے کا حصہ: 933333/=
ہر بیٹی کا حصہ: 466666/=
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے:بیویوںکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06 ذوالحج 1443 ھ/06 جولائی 2022 ء