سوال
میرا نکاح(ستمبر 2019) کو ہوا ہے ،میرے شوہر نکاح کے بعد باہرملک چلے گئے،اور مجھے پاکستان ہی چھوڑ گئے ۔اس دوران نہ مجھے بلایا نہ وہ خود آئے۔تو کیا اتنا عرصہ دور رہنے سے نکاح پر کوئی اثرپڑھا کہ نہیں ؟دوسرایہ بتائیں ان کے ساتھ باقی کی زندگی گزار نا بہتر ہے یا نہیں ؟
سائل:آمنہ مجید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ اپنے شوہر کے نکاح میں ہیں ،خواہ ساریزندگی اسی حالت میں گزرجائے ۔جب تک شوہر زندہ ہو ،اور اس کی طرف سے طلاق ،خلع واقع نہیں ہو جاتی یا پھر قاضی شرع کی جانب سے فسخِ نکاح نہیں ہو جاتا ، نکاح برقرار رہتاہے ،ختم نہیں ہوتا ۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر شوہر بامر مجبوری واپس نہیں آ یا یا آ پ کو بلانا اس کے لیے مشکل ہے ،اور آنے کا ارادہ رکھتا ہے تو آپ کو یہ رشتہ قائم رکھنا چاہیے ۔اور اگر آپ کا بغیر شوہر کے ایک ایک ،دو دو سالتنہا رہنا مشکل ہے یعنیایسی حالت میں رہنے سے آپ کے گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ ہےتو پھر گھر کے سربراہان کو چاہیے کہ وہ دونوں کے مابین تصفیہ کریں ۔ اگر بالفرض شوہرنہ مانے ، بلائے نہ آئے،اور باقی زندگی بھی اسی طرحگزرنے کے آثار نظر آتےہوں تو آپ کے لیے طلاق لینا جائز ہے ۔
قرآن پاک میں ہے :وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ. ترجمۂ کنزالایمان:’’اور عورتوں کے لیے بھی شریعت کے مطابق مردوں پر ایسے ہی حق ہے، جیسا عورتوں پر ہے۔( البقرۃ :228)
بیو ی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے متعلق قرآن پاک میں ہے :﴿وَعَاشِرُوۡہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّیَجْعَلَ اللہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا﴾ ترجمۂ کنزالایمان:’’اور ان سے اچھا برتاؤ کرو، پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں ،تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے۔ (النساء ،:19)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’بالجملہ عورت کو نان ونفقہ دینا بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سےجماع کرنا بھی واجب ،جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہواور اسے معلقہ کردینا حرام اور بے اس کے اذن و رضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذرصحیح شرعی ناجائز۔(فتاوی رضویہ ،جلد13،صفحہ446 ،رضا فاؤنڈیشن، لاھور) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:24ذی قعدہ 1443 ھ/24جون 2022